تعلیم و تربیت

استاد – مقام و مرتبہ اور ذمہ داری

 مفتی محمد صادق حسین قاسمی کریم نگری

     دنیا میں اس وقت مختلف تاریخوں میں مختلف دن منانے کا عام رواج چل پڑا ہے، صرف اسی ایک تاریخ میں اس دن سے منسوب شخصیت کے احترام و عقیدت کے گن گائے جاتے ہیں، اور اظہار ِ خوشی و مسرت کیا جاتا ہے۔ چناں چہ ہمارے ملک میں ۵ ستمبر کو ’’یوم ِ اساتذہ ‘‘ کے نام سے منایا جاتا ہے۔ استاذ بلاشبہ عظیم ہستی اور انسانیت کی محسن ذات ہے، استادکی بڑی شان اورعظمت ہے، دنیا نے چاہے استاد کی حقیقی قدر ومنزلت کا احساس کیا ہو یا نہ ہولیکن اسلام نے بہت پہلے ہی اس کی عظمت کو اجاگر کیا، اس کے مقام ِ بلند سے انسانوں کو آشنا کیا اور خود اس کائنات کے عظیم محسن سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے طبقہ ٔ اساتذہ کو یہ کہہ کر شرف بخشا کہ : انما بعثت معلما۔ ( سنن دارمی:353) کہ میں معلم بناکر بھیجا گیا ہوں۔ اور قرآن کریم میں آپ کے مقاصد ِ بعثت کو بیان کرتے ہوئے فرمایاگیا:لقد من اللہ علی المؤمنین اذبعث فیھم رسولا من انفسھم یتلوا علیھم ایتہ ویزکیھم ویعلمھم الکتب والحکمۃ  وان کا نوا من قبل لفی ضلال مبین۔ ( اٰل عمران :164)’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مؤمنوں پر بڑا احسان کیا کہ ان کے درمیان انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کے سامنے اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرے، انہیں پاک وصاف بنائے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے، جب کہ یہ لوگ اس سے پہلے یقینا کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا تھے۔ ‘‘

     اسلام میں استاد کا مقام ومرتبہ بہت اونچا ہے، تعلیم وتعلم کو اسلام میں ایک عظیم ذمہ داری کے طور پر پیش کیا ہے اور جو لوگ اس پیشہ سے وابستہ ہوتے ہیں اور قوم کو زیور ِ علم سے آراستہ کرتے ہیں انہیں حد ِ درجہ تعظیم و تکریم کے مقام ِ بلند پر فائز کیا گیا ہے۔ استاد کی اہمیت اور اس کے مقام کا انداز حضرت علی ؓ کے اس قول سے لگایا جاسکتا ہے، آپ ؓ نے فرمایا: انا عبد من علمنی حرفا واحدا، ان شاء باع، وان شاء استرق۔ ( تعلیم المتعلم:78)یعنی میں اس شخص کا غلام ہوں جو مجھے ایک حرف بھی سکھادے، اگر وہ چاہے تو مجھے بیچ دے اور چاہے آزاد کردے۔ نبی کریم ﷺ نے اس استاد کی عظمت کو بیا ن کرتے ہوئے فرمایا: تواضعوالمن تعلموا۔ (الجامع لاخلاق للخطیب824)یعنی جس سے علم حاصل کرتے ہو اس سے تواضع اختیار کرو۔ چناں چہ اسلاف کے ادب و احترام اور تعظیم کے بے شمار واقعات ہیں جس سے انداز ہ ہوتا ہے ان کے دلوں میں استاد کی اہمیت کیا تھی۔ آج بھی مدارس کی فضا میں احترام باقی ہے، اساتذہ کے ساتھ عزت وعظمت کا سلوک کیا جاتا ہے، اور طلبائے مدارس کے ذہن و دل پر یہ نقش ہے کہ اساتذہ کی شان میں معمولی درجہ کی بے ادبی نعمت ِ علم سے محرومی اور سعادت ِ دارین سے دوری کا سبب ہوگی، چناں چہ حتی المقدور ان کا احترام کیا جاتا ہے او ر مقام ِ مرتبہ کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔

      لیکن عصر ی اسکولس اور کالجس میں تعلیم جب سے تجارت بن گئی اور درس گاہیں تجارت کی منڈیوں میں تبدیل ہوچکے، اس وقت سے یقینا ’’استاد‘‘ جیسی عظیم ہستی کی قدر ومنزلت بھی وہاں گھٹ کر رہ گئی، قوم کے معمار وں اور سرمایہ ٔ ملت کے محافظوں کے ساتھ ناورا سلوک شروع ہوگیا، اور آج کل اسکولوں میں اساتذہ کے ساتھ بدتمیزی اور بے ادبی کے واقعات روز رونماں ہوتے ہیں۔ ایک طرف معاشرہ میں اور بالخصوص عصری جامعات میں اساتذہ کے گھٹے ہوئے معیار کو بلند کرنے کی ضرورت ہے، طلباء کے دلوں میں ان کی عظمت و اہمیت کو بٹھانے کی ضرورت ہے وہیں ساتھ میں اساتذہ کو بھی اپنی ذمہ داریوں کو نبھانا اور اپنے فرائض کو بحسن وخوبی انجام دینا اشد ضروری ہے۔

    استاد کو اللہ تعالی نے یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ قوم کے مستقبل کو تعمیر کرتا ہے، ملک وملت کے سرمایہ کی حفاظت کرنے والا ہوتا ہے، ان کے ہاتھوں میں افراد کی زندگیاں ہوتی ہیں، انسان آنے والے طلباء میں اچھے، سمجھ دار بھی ہوتے ہیں، بداخلاق اور ناسمجھ بھی، استاد اپنی فکر مندی اور جذبہ ٔ خلوص کے ساتھ پتھروں کو تراش کر ہیرے بناتا ہے اور لعل و جوہر تیا رکرتا ہے، اگر وہ اپنی ذمہ داری کو فراموش کردے اور تن پروری اس کا بھی مقصد بن جائے تو پھر نتیجہ یہ ہوگا کہ انسانیت کے لئے خیرخواہ افراد کا ملنا اور محبتوں کے پیکروں کا فراہم ہونا مشکل ہوجائے گا۔ طلباء کی شکل میں ان کے سامنے میں ملک کا مستقبل ہوتا ہے اورملت کا جگمگاتا ہوا چہرہ ہوتا ہے وہ اگر چاہیں تو اس کو روشن بنانے کی تگ ودو کرسکتے ہیں اور چاہیں تو تیرہ و تاریک۔ ا س دنیا میں آنے والا ہر انسان کچھ نا کچھ خوبی اور کمال کو لے کر دنیا میں آتا، اس کمال کو نکھار اور اس کو خوبی کو جوہر بنانایہ استاد کا کام ہوتا ہے، ماں کے گود کے بعد استاد ہی عظیم مربی اور مشفق مزکی ہوتا ہے۔ ہمارے نبی ﷺ کے سیرت میں ایسے بے شمار واقعات ہیں کہ آ پ ﷺ نے چھوٹوں کے حوصلوں کو بلند کیا، خوبیو ں والوں کی تعریف کرکے ان کے اندر ایک امنگ اور شوق پیداکیا۔ بلاشبہ ہمارے نبیﷺ نے دنیا میں ایک بہترین معلم بن کر بھی آئے اور آپ ﷺ نے اپنی فراست، حکمت اور تعلیمات کی روشنی میں ایسی انسانوں کو تیار کیا کہ اس سے بہتر دنیا کی آنکھ نے لوگوں کو نہیں دیکھا، علم کے زیور سے ایسے آراستہ کیا کہ آج جن کے اقوال کی تشریحات میں کتابیں بھرپڑی ہوئی ہیں۔ انسانوں کی نفسیات سمجھنے والے اور افراد کے ذوق کے لحاظ کام والے ہمارے نبی ﷺ بے مثال تھے، یہی وجہ ہے کہ آپ کی تربیت یافتہ اور صحبت پانے والوں نے دنیا میں علم کے چراغ جلائے۔

    والدین اپنی اولاد کو اسکول اور مدرسہ کے حوالہ کرتے ہیں یہ گویا کہ ایک امانت ہے، اساتذہ اور ادارہ ان کا امین ہوتا ہے اگر وہ امانت کے سلسلہ میں کوتاہی کریں گے تو یقینا مجرم قراردئیے جائیں گے۔ آج تجارت والی ذہنیت نے دماغوں سے یہ تصور ہی نکال دیا ہے، اخلاق و کردار جہاں ڈھلنے چاہیے اور تہذیب وسلیقہ جہاں سکھایاجانا چاہیے اب وہیں بدتمیز ی اور بدتہذیبی کو بے لگام چھوڑدیا گیا ہے۔ تعلیم تو برائے نام آہی جارہی ہے لیکن تہذیب کا جنازہ نکل رہا ہے اور شرافت وحیاماتم کررہی ہے لیکن ملت کے محافظ آنکھیں چرائے بیٹھے ہیں۔

    ایک استاد کے لئے بنیادی طور جن اوصاف کو اختیارکرنا چاہیے ان میں چند یہ ہیں ٭:استاد کے لئے لازم ہے کہ وہ ا پنے ادارے کے تعلیمی معیار کو بلند کرنے دل سوزی اور لگن کے ساتھ کام کرے تاکہ ہر بچہ کی تعلیم صحیح ہواور ہربچہ کے اخلاق اچھے ہوں۔ ٭آپس میں محبت اور خیر خواہی کو فروغ دیں تاکہ طلباء کو یقین ہو کہ یہ ہمارا ہمدرد وخیرخواہ ہیں۔ ٭استاد کو تدریس اور تربیت میں مستقل مزاج ہونا چاہیے، کیوں کہ کسی بھی مقصد میں کامیابی کے لئے عز م ِ مصمم، مضبوط قوتِ ارادی اور مستقل مزاجی ضروری ہے۔ ٭وہ ایک مشنری ہوتا ہے، محض روزی کمانے کے لئے تو اور بھی بہت سے کام کئے جاسکتے تھے، استاد تدریس کو پیشہ، ہنر نہ سمجھیں بلکہ اپنی زندگی کا مشن تصور کرے کہ جو علم، تہذیب، اخلاق اگلوں سے ملے ہیں ان کو صحیح شکل میں عمدگی اور پوری دیانت کے ساتھ اگلی نسل تک پہنچا نا ہے۔ ٭ایک اچھا استاد اپنے طالب علموں کے دلوں میں اپنے مقصد اور نصب العین سے لگن پیدا کرتا ہے اور ان کو بے کار مشاغل سے اجتناب کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ٭ایک کامیاب استاد کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے شاگردوں کو محنت کا عادی بنائے۔ آج کاہلی، سستی، وقت کا زیاں، اور کام کو ٹالنے کی عادت ہماری امتیازی خصوصیت بن چکی ہے، اور اسی وجہ سے تعلیم کا معیار بہت گرچکاہے، چناں چہ شاگردوں کے دلوں میں محنت کی عظمت راسخ کرنا اور جان فشانی سے کام کرنے کی عادت ڈالنا استادکے لئے ضروری ہے۔ ٭ وہ نت نئے تجربات اور قدرت کی نعمتوں کو انسان کی فلاح وبہبود کے لئے استعمال کرنے میں سب سے آگے ہو۔ ٭اچھا استاد وہ ہے جو تخلیقی قوت رکھتا ہو اور یہی تخلیقی قوت اپنے شاگردوں کو منتقل کرے، ایک تخلیقی ذہن رکھنے والا استاد اسباب ووسائل نہ ہونے کے باوجود مسلسل محنت سے اپنے کام میں لگا رہتا اور پھر اپنے شاگردوں میں بھی یہ عادت راسخ کرتا ہے۔ ٭استاد کو اپنے پروفیشن بلکہ مشن سے بہت محبت ہونی چاہیے، اس کے لئے اپنے مطالعہ کو اپ ٹو ڈیٹ رکھنا، عالمی تعلیمی رجحانات اور موثر ابلاغ کے نئے نئے اسلوبوں سے آگاہ رہنا ہوگا۔ ( تلخیص از: استاد ملت کا محافظ)

    لہذا ضروری ہے کہ استاد اپنے مقام ومرتبہ کو ملحوظ کرتے ہوئے عائد ہونے والی ذمہ داریوں کو اداکرنے والا بنے، اور قوم وملت کے مستقبل کو اپنے ہاتھوں تباہ ہونے سے بچائیں، اپنی فکر وتڑپ سے ایک ایسا جہاں آباد کریں جس کا ہر فرد ملک وملت کے جان ودل نچھاور کرنے والا اور تہذیب و اقدا ر کا علمبرار ہو۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close