تعلیم و تربیت

اسلامی اسکول: اہمیت اور ضرورت

عبدالعزیز

  اسلامی اسکول اور غیر اسلامی اسکول کے فرق اور مراتب کو الگ الگ اگر بیان کیاجائے تو آسانی سے سمجھا اور سمجھایا جا سکتا ہے کہ اسلامی اسکول کی اہمیت کیا ہے؟ اس کی افادیت سے کیا مراد ہے؟ اس کے قیام اور تشکیل پر کیوں زور دینا چاہئے۔

 اسلامی اسکول حقیقت میں اسے کہاجا سکتا ہے جہاں بچے اور بچیوں یا لڑکے اورلڑکیوں کو وہ تعلیم دی جائے یا وہ علم سکھایا اور بتایا جائے جو فطرت سے متصادم نہ ہو، نیچر سے ٹکرائو نہ ہو۔ سادگی اور سچائی مجروح نہ ہو، حیا سوزی کا شائبہ نہ ہو انسانیت کی گراوٹ اور اخلاق میں بگاڑ پیدانہ ہو بلکہ بچے بچیوں ، لڑکے لڑکیوں میں تہذیب و شائستگی پیدا ہو۔ عقل و دانش کو جلا ملے۔ سیرت و کردار کی تعمیر ہو چھوٹوں میں بڑوں کا احترام پیدا ہو اور بڑے چھوٹوں پر شفقت و محبت سے پیش آئیں ۔

غیر اسلامی اسکول مذکورہ اسکول سے مختلف ہوتا ہے۔ آج جو اسکول گلی گلی کوچے کوچے میں نظر آرہے ہیں وہ غیر اسلامی اسکولوں کی عکاسی اور نمائندگی کررہے ہیں اس میں زبان سیکھتے ہیں ، ریاضی کے علم سے بھی فیضیاب ہوتے ہیں تاریخ اور جغرافیہ سے بھی بہرہ مند ہوتے ہیں جو میٹری بھی پڑھائی جاتی ہے مگر اخلاق ومذہب کا وہاں گزر نہیں ہوتا اور نہ ہی خدائی ہدایت کی بات کی جاتی ہے اورنہ آخرت زیر بحث آتا ہے، بچوں کی معصومیت زائل ہوتی ہے۔ سادگی اور سچائی پر حرف آتا ہے۔ جھوٹ لالچ، سنگدلی، بے رحمی اور بے ایمانی جیسے رزائل سے بھی بچ نہیں پاتے۔

موجودہ تعلیم

 آج جو کچھ اسکولوں ، کالجوں اوریونیورسیٹیوں میں دیا جا رہا ہے اس سے جو کچھ مل رہا ہے وہ دنیا پر روز بروز ظاہر ہو رہا ہے۔ دنیا اندھیروں کی طرف، جہالت کی طرف دن بدن بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ موجودہ علمی دھماکے جس تیز رفتاری سے ہو رہے ہیں اسی تیز گامی کے ساتھ دنیا تباہی اور بگاڑ کی طرف قدم بڑھا رہی ہے۔ پہلے کے مقابلے میں لوگوں میں جھوٹ، منافقت، بے ایمانی، دغابازی بازی، دھوکہ دہی، جرم  کی عادت، بری عادتوں سے بگاڑ، ٹینشن، گھبراہٹ، قتل و غارت گری، چوری اور چوربازاری اسکینڈل پر اسکینڈل ہوتے چلے جا رہے ہیں اور سب میں پڑھے لکھے لوگوں کا ہاتھ پایاجاتا ہے جو اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں ۔ اکبر الہ آبادی نے اس تعلیم کے انجام یا رزلٹ سے دنیا کو سوسال پہلے آگاہی دی تھی۔

یوں قتل سے بچوں کے بدنام نہ ہوتا

افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی

 کالج کی جگہ آپ اسکول بھی کہہ سکتے ہیں ۔

علامہ اقبال نے جو مغربی علوم سے آراستہ تھے اس کی ایک ایک چیز سے واقف تھے۔ دنیا کو مارچ۱۹۰۶ میں یعنی ایک صدی سے پہلے آگاہ کیاتھا کہ مغربی علوم یا تہذیب کا کیا حشر ہونے والا ہے۔

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کرے گی

جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا

  اسی نظم کا ایک شعر اور ملاحظہ فرمائیے:

گزر گیا وہ دور ساقی کہ چھپ کے پیتے تھے پینے والے

بنے گا سارا جہاں میخانہ ہر کوئی بادہ خار ہوگا

مثال

  یہاں گنجائش نہیں ہے کہ تفصیل سے اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں کیا ہو رہا ہے اور کیسے لڑکے اور لڑکیاں پڑھ کر نقل کرر ہی ہیں وہ بتایا جائے۔ بہار کے ایک ضلع میں میڈیکل کالج سے اس کے ایک نیک اور صالح طالب علم، نیک اور صالح اس لئے کہہ رہے ہیں کہ گھریلو ماحول اور اپنی ذاتی کوشش سے وہ ماحول سے متاثر نہیں ہوئے بلکہ ماحول کو متاثر کررہے ہیں اور داعی کا فرض انجام دے رہے ہیں انہوں نے چند ماہ پہلے دوران گفتگو بتایا کہ ان کے کلاس میں ایک سو بیس لڑکے اور لڑکیاں ہیں دو کے علاوہ سب کے سب شراب کے عادی ہیں اس میں ان کے علاوہ چارمسلم طلبہ و طالبات بھی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جو اس عادت سے دور ہیں انہیں یہ لوگ دقیانوسی اور تاریک پسند تصور کرتے ہیں ۔ یہ ہے میڈیکل کالجوں کا حال جہاں اسکول سے فارغ ہوکر لڑکے لڑکیاں میڈیکل کالج کی ڈگریاں حاصل کرنے والے ہیں یہ ہمارے معالج اور طبیب ہوں گے۔

  علامہ اقبال نے اسی جدید تعلیم پر سوسوال پہلے فرمایا تھا

خوش تو ہم بھی ہیں جوانوں کی ترقی سے مگر

لب خنداں سے نکل جاتی ہے فریاد بھی

ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم

کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ

گھر میں پرویز کے شریں تو ہوئی جلوہ نما

 لے کے آئی ہے مگر تیشہ فرہاد بھی ساتھ

 اپنی نظم ’’دین و تعلیم ‘‘ میں کھل کر وہ بات کہی ہے جو آج تک جاری ہے

اور یہ اہل کلیسا کا نظام تعلیم

ایک سازش فقط دین و مروت کے خلاف

 علامہ اقبال نے ’’عورت و تعلیم ‘‘ پر جو بات کہی وہ بھی سننے کے لائق ہے:

تہذیب فرنگی اگرمرگ امومت ہے

 ہے حضرت انسان کے لئے اس کا ثمر موت

جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نا زن

کہتے ہیں اسی علم کو ارباب نظر موت

بیگانہ رہے دین سے اگر مدرسہ زن

ہے عشق و محبت کے لئے علم و ہنر موت

علم کی حقیقت

حقیقت یہ ہے کہ علم محض معلومات کے ملغوبے کانام نہیں ۔ فلسفیانہ نقطہ نظر سے معلومات و آراء کو جب واضح تصورات کی شکل میں مرتب کرلیاجائے تب علم وجود میں آتا ہے اس ذخیرۂ علم میں سے دراصل وہ علم حقیقی علم کہلاتا ہے جو حقیقت مطلقہ تک رسائی میں مدد دے۔ باقی جو کچھ ہے وہ ذخیرۂ معلومات ہے علم نہیں ۔ اسلامی نقطہ نظر سے حقیقت مطلقہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور حقیقی علم وہ ہے جو اللہ کی ذات و صفات اور اس کی رضا کی معرفت میں مدد دے۔ باقی جو کچھ ہے وہ معلومات کے درجے مین قابل توجہ ہوسکتا ہے لیکن اس میں شرط ہے کہ وہ حقیقی علم سے نہ ٹکرائے اگر وہ حقیقی علم سے ٹکرانے لگے یعنی معرفت الٰہی کے راستہ میں رکاوٹ بننے لگے تو ظاہری شکل میں وہ خواہ کتنی ہی دلکش معلومات و اکتشافات کا مجموعہ ہو لیکن حقیقت میں وہ علم کے بجائے نری جہالت ہوگی یہی وجہ و کیفیت تھی جس کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور کے ایک بہت بڑے دانشور Intelectuall عمر بن ہشام کو ابوجہل کا لقب دیا تھا یعنی جہالت کا مجسمہ

 جگر مرادآبادی نے اہل عقل کی جہالت کو اپنے شعر میں یوں بیان کیا ہے:

جہل خرد نے کیا دن دکھلائے

گھٹ گئے انساں بڑھ گئے سائے

عقل

 اسلام عقل انسانی کو ایک مفید ذریعہ علم قرار دیتا ہے چنانچہ قرآن حکیم اولوالالباب، اولولابصار، الذین یعلمون، الذین یتفکرون و قوم یعقلون وغیرہ کے نام سے اہل عقل و دانش کو ہدایت الٰہی اور حقیقت مطلقہ کی جستجو کو اہل قرار دیاگیا ہے مثلاً سورہ البقرہ میں ارشاد ہے کہ

’’بلاشبہ زمین و آسمان کی تخلیق، رات دن کے ادل بدل میں کشتی وہ سامان اتھاکر دریا میں چلتے ہیں جن سے لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ اس مال میں جسے اللہ آسمان سے نازل کرتا ہے اور اس طرح کے چوپائے زمین میں پھیلا دیتا ہے اہل عقل کے لئے بڑی نشانیاں ہیں ۔‘‘

قرآن میں غور و فکر کی دعوت

علامہ اقبال نے عقل کو اسی لئے چراغ راہ کہا مگر یہ بھی کہاہے کہ یہ منزل نہیں ہے۔ اللہ نے اپنی کائنات کی چیزوں پر غور و خوض کرنے کے لئے زور دیا بلکہ ترغیب و ترہیب کی ہے۔ حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کائنات کی بناوٹ اور صناعی پر ایک گھنٹہ غور کرنا ستر سال کی نفل عبادت سے بہتر ہے۔

عقل کو اگر واقعی اخلاص کے ساتھ استعمال کیاجائے تو آدمی کو کائنات میں اللہ تعالیٰ کی توحید کی بے شمار نشانیاں نظر آئیں گی۔

جہالت کا مکمل خاتمہ

 اسلام جہالت کو کس نقطہ نظر سے دیکھتا ہے یہ جاننا ضروری ہے۔ اسلام جہالت کا مکمل خاتمہ چاہتا ہے کیونکہ علم کی ضد جہالت ہے۔ علم روشنی ہے اور جہالت تاریکی۔ روشنی آتے ہی تاریکی دور ہوجاتی ہے۔ علم و ایمان لازم و ملزوم ہیں اسی طرح جہالت و کفر لازم و ملزوم ہیں ۔ قرآن نے جہالت کے انہی تباہ کن نتائج کی بنا پر اس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے جہالت اور ایمان کو ایک دوسرے کی ضد قرار دیتے ہوئے یہاں تک کہا ہے کہ جاہلوں کے پاس اگر فرشتے بھیج دئیے جاتے اورمردے ان سے باتیں کرنے لگتے اور تمام موجودات کو ان کی آنکھوں کے روبرو لاکر جمع کردیا جاتا تب بھی وہ ایمان نہ لاتے ( ۶؛۱۱۱)

حضرت نوح علیہ السلام کے علمی و عقلی دلائل جب ان کی قوم پر کوئی اثر نہ ہواتو انہوں نے اس کا سب سے بڑا سبب یہی بیان کیا کہ مجھے نظر آرہا ہے کہ تم وہ لوگ ہو جو جہالت میں مبتلا ہو (۱۱:۳۹)

 حضرت لوط علیہ السلام کی قوم بھی جہالت کی وجہ سے ایمان لانے سے قاصر رہی تھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے کفر پر جمے رہنے کا سبب ان کی جہالت بیان کیا تھا (۳۷-۱۱۷) جہالت اتنی تباہ کن اور خوفناک چیز ہے کہ شعور لاشعور میں بھی اس سے ہوشیار رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا  فلاتکون من الجاھلین (۶-۳۵)

’’دیکھو ان میں سے نہ ہوجائو جو حقیقت کا علم نہیں رکھتے ‘‘

 جہالت کی انہی تباہ کاریوں کا نتیجہ تھا کہ حضرت موسیٰ جیسے جلیل القدر پیغمبر جہالت سے پناہ مانگتے تھے (۲-۹۷)

 قرآن سے یہ بات صریحاً واضح ہوجاتی ہے کہ جہالت کفر سے بھی بری چیز ہے اسلئے اکثر جگہوں پر جاہلوں کو لاعلاج قرار دیتے ہوئے ان سے اعراض کرنے کی ہدایت کی گئی ہے (واعرض من الجاھلین ) (۷:۱۹۸)

قرآن مجیدنے جہالت کی شدید مذمت اس لئے بھی کی ہے اس کی موجودگی میں ایمان کا حصول تو درکنار عام انسانی سطح کا حصول بھی ناممکن ہے۔ قرآن نے علم و عقل سے بیگانہ لوگوں کو حیوان سے بد تر قرار دیا ہے بلکہ یہاں تک کہا کہ وہ حیوانوں میں سے بد ترین قسم کے حیوان ہیں ۔ (۸-۲۲)

  قرآن نے بتایا کہ جو لوگ اسلام کی بالادستی قبول کرلیتے ہیں لیکن عقل کے کورے ہوتے ہیں علم سے نسبت نہیں رکھتے۔ ’’جاہل گنوار کہتے ہیں ہم ایمان لائے۔آپ فرما دیجئے کہ تم ایمان تو نہیں لائے لیکن یوں کہو کہ ہم نے مخالفت چھوڑ کر اسلام کی بالادستی قبول کرلی ہے ایمان ہمارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے۔ (الحجرات۴۹-۱۴)

  اس نظریہ کی اللہ نے قرآن مجید میں مزید وضاحت یوں فرمائی ہے:

 ’’ جاہل گنوار کفرو نفاق میں بہت ہی سخت ہیں اور ان کی حالت اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ وہ ان حدود کی حکمتوں کو نہ سمجھیں جنہیں اللہ نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے۔(۹:۹۷)

حرف آخر

 آخر میں اس حقیقت کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ علمی دھماکوں کے اس دور سے اہل ایمان کو خاص طور سے متاثر اور مرعوب ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے ہم اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ کامل حقیقی اور غیر محدود علم صرف اور صرف اللہ تعالیٰ تعالیٰ کی ذات مبارکہ کو حاصل ہے (انما العلم عنداللہ)

  سر آئزک نیوٹن جسے اسحاق نیوٹن بھی کہاجاتا ہے جو بابائے سائنس(Father of Science) بھی کہلاتے ہیں کہاتھا

           I seem to myself like a child before the knowledge of the occean collecting pebbles and shells at the seashore, what I know is very little  and what do not know is very much

  میں بحرمعلومات کے سامنے ایک ایسے بچے کے مانند ہوں جو سمندر کے کنارے بیٹھ کر سیپ اور گھونگھے چن رہا ہو اور بحرمعلومات کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہا ہواور حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ میں جانتا ہوں وہ بہت کم ہے اور جو نہیں جانتا ہوں وہ بہت زیادہ ہے۔‘‘

پوری دنیا مل کر آج بھی کل بھی یہی کہنے پر مجبور ہے جسے اسحاق نیوٹن نے اپنی زندگی کے آخری زمانے میں کہا تھا۔

  انسان نے جو کچھ  حاصل کیا ہے یا آئندہ حاصل کرے گا وہ سب اللہ تعالیٰ کا عطیہ (Delegated) ہے۔ انسان کو جو محدود ذرائع حاصل ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کے عطا کردہ ہیں ۔ سماعت و بصارت اور تفکر کی قوتیں اسی نے دی ہیں ۔ انسان کے علم کے مطابق یہ واضح کردی گئی ہے کہ وہ صدیوں سے حاصل کردہ ترقیوں کے باوجود مستقبل میں ہونے والے انکشافات سمیت بہت ہی محدود ہے۔ خدا کے علم کامل کے سامنے رکھتے ہوئے انسان کی علم کی وہ نسبت بھی نظر نہین آتی جو قطرہ کو سمندر سے ہے۔ جب انسان کو صحیح معنوں میں اپنے علم قلیل کی محدودیت کا اندازہ ہوجائے تو لازمی طورپر طلب علم پیداہوگی پھر وہ علم کامل کے سرچشمہ سے استفادہ کرنے کے لئے کوشاں ہوگا اور اسی سے استفادہ کا وسیلہ تلاش کرے گا۔اپنے علم کی محدودیت کا شعور انسان کو اس جسارت بے جا سے روکنے کا ذریعہ ہے اپنی ناقص اور مشکوک معلومات پر نت نئے نظاموں اور تمدنوں کے غیرمتوازن ڈھانچہ کھڑے کرنے اور اس پر اندھا دھند انسانی قربانیوں اور محنتوں کی بھاری مقداریں صرف کرے اور پھر یکے بعد دیگرے خوفناک تباہی کے ساتھ توٹ ٹوٹ کر گرتے رہیں ۔

 اسلام کا تصور علم بتاتا ہے کہ انسانی علم کائنات میں خدائی اور کارفرمائی کا پارٹ ادا کرنے کے لئے کافی نہیں بلکہ اس علم کی محدود یت گواہ ہے کہ انسان بندگی و نیابت کے مقام پر وہ کسی بالاتر ہستی کے زیر ہدایت کام کرنے کے لئے پیداکیاگیا ہے۔

  انتہائی کم وقت میں اسلام کے تصور علم پر مختصراً روشنی ڈالنے پر اکتفا کرتا ہوں مگر مجھے اس کا احساس ہے کہ حق ادا نہیں ہوگا، جب تک وہ علم جو جہالت، قیاس یا سائنسی تحقیقات پر مبنی ہے جس میں خدا بیزاری، آخرت سے انکار اور رسالت سے گریز کا فلسفہ پایاجاتا ہے اس پر نہ روشنی ڈالی جائے کیونکہ یہی چیزیں رائج ہیں جسے ہم رات دن دیکھ رہے ہیں ، محسوس کررہے ہیں بلکہ اس کا تلخ گھونٹ سمجھ کر پی رہے ہیں اس لئے بغیر بیان کئے ہوئے بھی ہم سمجھ سکتے ہیں ، اسلامی اسکول کا تصور اسلامی نظامِ تعلیم یا اسلامی تصورِ علم سے ماخوذ اورمرتب ہوتا ہے۔ بندۂ رب کو اچھا اورصالح انسان بننے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اسلامی اسکول کا قیام بڑے پیمانے پر کریں ۔ اس میں کوتاہی کریں گے تو شاید ہی اللہ ہمیں معاف کرے کیونکہ ہم اچھی طرح اسلام اورجہالت سے واقف ہیں ۔ اس موقعے پر یہی کہاجا سکتا ہے

یک لحظہ غافل گشتم وصدسالہ ہم دور شد

 (اگر ایک لحظہ ہم غافل ہوئے تو صدیوں پیچھے چلے گئے)

اکبر الہ آبادی اور علامہ اقبال دنیا کی ان نابغۂ روزگار ہستیاں تھیں جنہوں نے اسلام کی زبردست خدمات کی تھیں اور قوم و ملت کے لئے اپنے قلم کی پوری طاقت لگادی مگر جب دیکھا کہ مغربی سیلاب رک نہیں پا رہا ہے۔ کچھ لوگ کچھ بھی تو کہہ رہے ہیں تو پھر انہیں سراہنا شروع کیا۔

اکبر نے کہا   ؎

میری باتیں ہی باتیں ہیں سید کام کرتا تھا

خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں

 ملت کے نوجوانوں سے بھی کہا    ؎

شوق سے کالج میں پھلو پارک میں پھولو

جائزہے غباروں میں اڑو چرخ کو چھولو

بس ایک سخن بندۂ عاجز کا رہے یاد

اللہ کو اور اپنی حقیقت کو نہ بھولو

علامہ اقبالؒ نے بھی اسی عبوری راستے (Transitive Period) کو اپناتے ہوئے اپنے بیٹے جاوید اقبال اور ملت کے دیگر نوجوانوں کو آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کی تعلیم دی    ؎

جوہر میں ہو لا الٰہ تو کیا خوف

تعلیم ہو گو فرنگیانہ

شاخ گل پر چہک و لیکن

کر اپنی خودی میں آشیانہ

(ایک تقریر جو آئی ٹی (IT) کے طلبہ کے زیر اہتمام ایک تعلیمی کانفرنس کے دوران ہوئی تھی۔ کانفرنس کا انعقاد ۱۶؍ اکتوبر کوسینٹ زیوئیرس کالج کے ہال میں ہوا تھا)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

ایک تبصرہ

  1. مولوی طبقہ نے ہمارے اندر ایسے جاہلانہ عقائد کی ترویج کی ہے ۔جس باعث رحیم و کریم خالق کائنات کا عجیب سا تصور ہمارے اندر قائم ہے ۔ مولویانہ تصور کے مطابق نعوذ بااللہ جو خدا ذہن میں آتا ہے وہ قیامت کے دن سخت غصے میں انسانوں سے سوال کرے گا کہ تم انشاء اللہ کی بجائے ان شا اللہ کیوں کہتے تھے ؟ فون پہ ایک دوسرے کو ہیلو کہتے تمہیں شرم نہیں آتی تھی تمہیں کیوں خبر نا ہوئی کہ ہیلو جہنمی کو کہتے ہیں ؟ بادلوں پہ اللہ لکھا والی پوسٹ شئیر کیوں نہیں کی تھی ؟ اسلام علیکم کہتے ہوئے الف کا مخرج زور دار کیوں ادا نہیں تھا ؟لفظ اللہ بولتے ہوئے ہ کو لمبا کیوں نہیں کیا کرتے تھے ؟ کبھی بوتل پہ لکھے کوکا کولا کو الٹا کر کے کیوں نہیں پڑھا کہ وہ لا مکہ لا محمد بنتا تھا ؟
    اللہ کی قسم رحیم خالق کی ذات کی عجیب منظر کشی کرتے ہیں یہ ۔ کہ رب انسانوں کو ان گناہوں پہ اٹھا اٹھا آگ میں پھینکتا جائے گا۔
    آہ بخدا مولوی یہ نہیں بتاتے کہ انسانوں کے خالق نے انسان کو دیگر انسانوں کے درمیان بھیجا اور روز محشر اسی بابت سوال ہونگے کہ دیگر انسانوں سے معاملات کیسے کیے ۔ معاشرہ کے دیگر افراد کے لیے کیا آسانیاں پیدا کیں ۔تمارے ساتھ وابستہ افراد معاشرہ کو تمہارے وجود سے کیا راحت ملی ۔سوالات یہ ہونگے ۔میزان ان معاملات پہ قائم ہوگا.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close