تعلیم و تربیت

اسلام میں اخلاق حسنہ کی فضلیت واہمیت

عبدالباری شفیق 

ہر طرح کی تعریف و تو صیف کبریائی و بڑائی اور بزرگی وبرتری اس اللہ و حدہ لا شریک خالق کائنات مالک ارض و سماء کے لئے ہے جوہم سب کا خالق و مالک اور مربی و پالنہار ہے جس نے ہم تمام بنی نو ع انسان کودنیاکی تمام مخلو قات میں اشرف و معززبنایااور اشرف المخلو قات کے لقب سے سر فراز فرمایا ، اور اپنی ہر قسم کی نعمتو ں سے مالا مال کیا ، نیز ہمیںاس دار فانی کے اند ر اچھی اور بہتر ین زندگی گذارنے کا طریقہ اور گر سکھلایا ۔ اور ہمارے مابین اپنے نبیو ں اور رسولوں کو بھیج کر انہیں صحیفوں اور کتابوں سے نواز ا۔ جس کے اندر ہمار ے رشد و ہدایت کا سامان مہیا فرمایا ،اور خاص طورسے دو جہا ں کے سردار خاتم النبین شفیع المذنبین رحمت عالم ﷺ کو ہمارے درمیا ن بھیج کر کے ہمارے اوپر مزید احسان کیا ہے ۔ جن کے ذریعہ سے ہمیں دین کی تعلیمات ملیں اور اچھے برے کی تمیز ہوئی ۔ جن کے اخلاق حسنہ اور اوصاف حمیدہ کے ذریعہ سے ہم امت محمدیہ اور غرضیکہ دنیاکے تمام لوگ مستفید ہو تے ہیں ، اور آپ کی تعلیمات حسنہ پر خلو ص و للہیت سے عمل پیراہو کر اپنی دنیاوی زندگی کو راہ راست پر گامزن کر تے اور اخر وی زندگی کے لئے زادراہ اکٹھا کرتے ہیں۔
آپ کی بلندپایہ تعلیمات اور اخلاق حسنہ ہی کا نتیجہ اور ثمرہ تھا کہ بڑے بڑے ظالم و جابر اور سنگدل انسان مذہب اسلام کو قبو ل کرنے پر مجبوراوردیکھتے ہی دیکھتے اسلام کی صاف شفاف تعلیمات کے ذریعہ سے اپنے قلو ب و اذہان کو منور کر لیا ،اور مشرف بہ اسلام ہو گئے ، اس لئے کہ اللہ رب العالمین نے اپنے حبیب کو شریں کلام، فصاحت وبلاغت اور جوامع الکلم سے نوازاتھااور ایسے بلند و بالا اخلاق پر فائزکیاتھا کہ دوست تو کیا دوشمن بھی آپ کی تعریف و توصیف بیان کرنے پر مجبور ہوجایاکرتے تھے، اور کیو ں نہ ہوجب کہ اللہ رب العا لمین اپنے حبیب کے اوصاف حمیدہ اور اخلاق حسنہ کے متعلق اپنے مقدس و آخری کتاب میں ارشاد فرماتا ہے کہ ’’ و انک لعلی خلق عظیم ‘‘ (القلم :4) ترجمہ :۔ اے نبی ﷺ یقیناآپ اخلاق کے اعلی قدروںپر فائزہیں ۔اور ایک حدیث میں نبی کر یم ﷺ نے اپنی بعثت کا مقصد بیان کر تے ہوئے ارشاد فرمایاکہ ’’ انی بعثت لاتمم مکارم الاخلاق ‘‘ ( صحیح الجامع الصغیر : 2833)یعنی مجھے مکارم ( اعلٰی) اخلاق کی تکمیل کے لئے ہی مبعوث کیا گیا ہے ۔ اور نبی کریم ﷺ نے اچھے اور عمدہ اخلاق والے شخص کو مو من قرار دیا ہے ،آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’ اکمل المومن ایمانا احسنھم خلقا ‘‘ ( ابو داؤد : 4682، ترمذی :1162) یعنی اہل ایمان میں سے سب سے کا مل ایمان والا وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں ۔ اور دوسری جگہ نبی کریم ﷺ نے حسن خلق والے اشخاص کو روزہ دار او رتہجد گذار سے افضل قرار دیاہے جیساکہ حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’ان المومن لیدرک بحسن خلقہ درجۃ الصائم القائم ‘‘ ( ابو داؤد : 4798)ترجمہ : بیشک ایک مو من اپنے عمدہ اخلاق کی بدو لت روزہ دار اور تہجد گذار کا درجہ پالیتا ہے ۔ اس کے علاو ہ ا ور بہت ساری حدیثیں ہیں جو اخلاق حسنہ کی اہمیت و فضیلت کو اجاگر کر تی ہیں اور ہمیں یہ تعلیم دیتی ہیں کہ ہم بھی اپنے اخلاق کو سدھاریں اور اپنے اعزہ واقرباء ، دوست واحباب ،چھوٹے بڑے غرضیکہ ہر ایک کے ساتھ اچھے اور عمدہ اخلاق سے پیش آیئں اور جب بھی کسی سے ملاقات کریں تو سلام کرنے میں پہل کریں اور خوش اخلاقی سے ملیں اس لیے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اپنے ساتھی سے خوشی اور ہنس کر ملنابہترین صدقہ ہے اور اسی حسن خلق کی اہمیت و فضیلت کے پیش نظرنبی کریم ﷺنے اخلاق حسنہ کو نیکی اور بھلائی کا درجہ دیا ہے جیساکہ حضر ت نو اس بن سمعان ؓ سے مروی ہے کہ رسو ل اللہ نے فرمایا کہ ’’البر حسن الخلق ‘‘ ( مسلم : 2553)یعنی نیکی عمدہ اخلاق کا نام ہے ۔ اسی لئے جس کے اخلاق اچھے اور بہتر ہوتے ہیں ان کو لو گ پسندکرتے اوران کی عزت کر تے ، ان سے قربت اختیار کر تے ہیں اور ان سے بحث ومباحثہ کرتے اور ان کی باتوں کو بغو ر سماعت فرماتے ہیں اور اس پر عمل بھی کرتے ہیں ،لیکن جو لوگ بداخلاق ،بد تمیز،پھوہڑ،لفاظ ،گالی گلوچ دینے والے اور غیبت و چغلخوری کرنے والے ہو تے ہیں تو ایسے افراد سے لو گ گفت وشنیداو ربحث و مباحثہ کرنے سے بھاگتے او ر دور رہنا ہی پسند کر تے ہیںاور ان سے کنارہ کشی ہی میں اپنی بھلائی اور عافیت سمجھتے ہیں ۔ ایسے لوگ دنیا ہی میں ذلیل و رسواء رہتے ہیں اور اپنی زبان درازی و لفاظی کے ذریعہ سے آخرت میں بھی ذلیل و رسواء اور اللہ رب العالمین کے تیارکردہ عذاب عظیم کے مستحق اور حقدار ہو ں گے ۔ اسی لئے نبی کریم ﷺ نے ہم تمام مسلمانو ںکے لئے اخلاق حسنہ وقبیحہ کے فضائل و مناقب کواچھی طرح واضح کر دیا ہے اور اسکا عملی نمونہ پیش کر کے دکھا بھی دیا ہے، چنانچہ نبی کریم ﷺ کے اخلاق حسنہ کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عمرؓبیان کر تے ہیں کہنے کہ ’’لم یکن رسول اللہ ﷺ فاحشاولا متفحشا ،انہ کان یقول : ان خیارکم احسنکم اخلاقا‘‘(بخاری :6035، مسلم: 2321) ترجمہ :۔بیہو دہ گوئی رسو ل اکرم ﷺ کی نہ عادت تھی اور نہ ہی آپ اس کی کو شش کر تے تھے اور آپ فر مایا کرتے تھے ، تم میںسب سے بہتر وہ ہے جوسب سے اچھے اخلاق والا ہو ۔اور اسی طرح ام المومنین حضرت ام صفیہ بنت حیی ؓ آپ ﷺ کے اخلاق حسنہ کے بارے میں بیان کرتی ہیںکہ ’’ما رائت احدا احسن خلقا من رسول اللہ ﷺ ‘‘ یعنی میں نے رسو ل اکرم ﷺ سے زیا د ہ اچھے اخلاق والا کسی کو نہیںدیکھا‘‘(فتح الباری :6۔575) اور دوسری جگہ اللہ کے رسول ﷺ نے سب سے اچھا شخص(مومن )اسکو کہاہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہو ں چنانچہ آپﷺنے فرمایا کہ’’ اکمل المو منین ایمانااحسنھم خلقا، و خیارکم خیارکم لنسائھم ‘‘( ترمذی : حسن ، صحیح ) ترجمہ :۔ سب سے زیادہ کامل ایمان والے وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں میں سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے ہیں اور تم میں سے سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو تم میں اپنی عورتو ں کے حق میں سب سے بہتر ہیں ۔ اور اللہ کے رسو ل ﷺ نے اپنے اخلاق کے بارے میں فرمایا کہ ’’ بعثت لاتمم مکارم الخلاق ‘‘یعنی میں اعلی اخلاق کے لئے پیداہی کیا گیاہوں اور اسی طرح کسی صحابئی ؓ رسول نے ام المومنین حضر ت عائشہ ؓ سے نبی کریم ﷺ کے اخلاق کریمہ کے بارے میں پو چھا تو حضرت عائشہ ؓ نے جواب دیا کہ کیا تم قرآن کی تلاوت نہیں کرتے ’’کان خلقہ القرآن ‘‘پورا قرآن تو آپ کا اخلاق تھا ۔( مسند احمد) ۔ اس طرح معلوم ہو اکہ نبی محترمﷺ قرآن کی عملی تصویر تھے اور آپ کی پوری زندگی قرآن کے بتائے ہو ئے احکامات پر ہی گزری ۔ اور اسی طرح آپ کے بلند وبالا اخلاق کے بارے میں خادم رسو ل حضرت انس بن مالک ؓ بیان کر تے ہیں کہ ’’لم یکن رسول اللہ ﷺسبابا ، ولا فحاشا ، ولالعانا،کان یقول لاحدناعندالمعتبۃ:مالہ ترب جنینہ ‘‘( البخاری :6031)ترجمہ:۔ نبی کریمﷺنہ کسی کو برا بھلاکہتے تھے ، نہ ہی بیہودہ گفتگو کرتے اور نہ لعنت بھیجتے تھے۔ اورآپ ہم میں سے کسی کو ڈانٹنا چاہتے تو زیادہ سے زیادہ یہی فرماتے کہ اسے کیا ہو گیا ہے اسکی پیشانی خاک آلو دہو۔ اسی طرح حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیںکہ رسول اکرمﷺلوگوں میںسب سے اچھے اخلاق کے حامل تھے ، آپ نے ایک دن مجھے کسی کام سے بھیجاتو میںنے زبان سے کہاکہ میں نہیں جاؤں گالیکن میرے دل میںیہ تھا کہ میں نبی کریم ﷺ کے حکم کے مطابق جاؤں گا ۔ چنانچہ میں روانہ ہو گیا اور جب میںکچھ بچو ں کے پاس سے گذراجو بازار میں کھیل رہے تھے ( تو میں بھی ان کے ساتھ کھیلنے لگا ) اچانک نبی کر یم ﷺ تشریف لائے اور میر ے پیچھے سے میری گردن کو پکڑ لیا ، میں نے آپ کی طر ف دیکھاتو آپ ہنس رہے تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا ’’ یا انیس ، اذھب حیث امر تک ؟ ‘‘ اے پیارے انس !تم وہا ں گئے تھے جہاں میں نے تمھیں جانے کا حکم دیا تھا؟ میں نے کہا جی ہاں ! اے اللہ کے رسول میںابھی جارہاہو ں ۔ ( مسلم : کتاب الفضائل ، باب کان رسو ل اللہ ﷺ احسن الناس خلقا ‘‘ )۔
؎ مذکورہ تمام حدیثوں میں اخلاق حسنہ کی اہمیت و فضیلت کو و اضح کیا گیا ہے ، اس کے علاوہ اور بہت ساری حدیثیں و قرآنی آیات ہیں جو اخلاق حسنہ کی اہمیت کو و اضح کرتی ہیں ، لیکن آج کے اس مادہ پرستی و پرآشوب اور ترقی یافتہ دورمیں لوگ نیک اور اچھا اس شخص کو سمجھتے ہیں جو زہد و تقوی ٰ اور عبادت و ریاضت میں ممتازہو ، نفلی روزوں و نماز وں کا خاص طور سے اہتمام کر تاہو ،لیکن اگر آپ حدیثو ں کا تببع کریں گے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ سب سے زیا دہ اچھا آدمی وہ ہے جو باخلاق اور ملنسار ہو اور اسکے اخلاق اچھے ہو ں ، اور وہ لوگوں سے پیار و محبت اور خوش اخلاقی سے ملتا ہو اور اپنے اعزہ و اقربا ء اور دوست و احبا ب اور رشتے داروں کے حقوق کو اچھی طرح اداکر تا ہو ، اورہر معاملے و پر یشانی کو خوش اسلو بی سے نمٹاتاہو اور لوگوں سے خندہ پیشانی سے ملتااور نرم خوئی کا مظاہر ہ کرتاہو ، اور کسی کی غیبت و برائی اور چغلخو ری نہ کرتاہو، اور سب و شتم ، گالی گلوچ اور الزام و بہتان تراشی وغیرہ سے اپنے دامن کو پاک و صاف رکھتاہو اور ظلم و زیادتی ، دھو کہ دھڑی اور مکر و فریب کا ارتکاب نہ کرتاہو ، ایسے ہی لوگ اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک محبوب وپسندیدہ ہیں اور اللہ رب العالمین ایسے لو گوں کو پسند نہیں کرتاہے جن کے اخلاق اچھے نہ ہو ں جیساکہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’ احب عباد اللہ الی اللہ احسنھم خلقا‘ ترجمہ :۔ اللہ کے بندوں میں سے اللہ کو سب سے زیادہ محبوب و پسندیدہ وہ لوگ ہیں جو ان میں سب سے زیادہ باخلاق ہوں ۔ اور اسی طرح بد اخلاق و برے لو گوں کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ ’’ما من اثقل فی میزان المو من یو م القیامۃ من حسن الخلق و ان اللہ یبغض الفاحش البذی ‘‘ ( ترمذی )ترجمہ :۔ قیامت والے دن مومن بندے کی میزان میں حسن اخلاق سے زیادہ بھاری چیز کو ئی نہیں ہو گی اور یقینا اللہ تعالی بد زبان اور بے ہو دہ گوئی کرنے والو ں کو پسند نہیں کر تا ہے ۔اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ ’’مامن یوضع فی المیزان اثقل من حسن الخلق ‘‘ ( ابو داؤد:4799، ترمذی :2003)ترجمہ:۔ بندے کی میزان میں حسن اخلاق سے زیادہ وزنی کوئی عمل نہ ہو گا۔
مذکو رہ تمام قرآنی آیات و احادیث نبو یہ کے ذ ریعہ سے ہمیں معلو م ہوا کہ لو گو ں میں سب سے بہترین اور اچھا و ہ شخص ہے جسکے اخلاق سب سے اچھے ہوں اور سب سے بڑا اور ناپسندیدہ وہ شخص ہے جسکے اخلاق اچھے نہ ہوں ۔اس لئے ہم تمام مسلمانو ں کو اپنے دو سرے مسلمان بھائیوں سے اچھے اخلاق کے ساتھ ملنااور ان سے اچھا بر تائو کر نا چاہئے ، اور دو سروں کو بھی اچھے اخلاق سے پیش آنے کی تلقین کرنا چاہئے ، یقینا اگر ہم اپنے اند ر اخلاق حسنہ پیداکر لیں اور ہم اپنے زبان و شر مگاہ کی حفاظت کرلیںتو یقینا اللہ رب العالمین ہمیں جنت میں داخل کر دیگا ، اسلئے کہ اللہ کے حبیب دو جہاں کے سردار خاتم النبین جناب محمد مصطفی ﷺ کا ارشادگرامی ہے کہ ’’جو شخص ہمیں اپنے زبان و شرمگاہ کی ضمانت دیدے تو میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہو ں ۔
اس کے علاوہ ہمارے یہاں ( معاشرے و سماج ) میں ایک مثل مشہو ر و معروف ہے کہ زبان ہی آدمی کو پان کھلاتی ہے اور زبان ہی آدمی کو جو تااور چپپل کھلاتی ہے ، اور اسی زبان کی وجہ سے انسان معاشرے میں اچھا مقام و مر تبہ پاتاہے اور اسی زبان ہی کی وجہ سے اعلی ٰ و ارفع مقام سے نیچے گر جاتا ہے ۔
اخلاق حسنہ صرف یہی نہیں ہے کہ لوگو ں سے خوش اسلو بی سے ملاجائے اور ان کی خرخیر معلو م کی جائے بلکہ مذکو رہ تمام چیزوں کے علاوہ اخلاق حسنہ میں اور بہت ساری چیزیں داخل ہیں مثلا عمدہ ایمان ، نیک عقیدہ ،توحیداو ر نمازروزہ کی پابندی ، اچھے ونیک اعمال ، اچھے عادات و اطوار ، لوگوں کے معا ملات میںسچائی و صفائی ،چھو ڑوں کے ساتھ شفقت ومحبت اور بڑوں کا ادب و احترام ، والدین کی خدمت گذاری اور ان کے ساتھ حسن سلوک ، پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤاور اعزہ واقرباء دوست و احباب اور رشتے داروں کے ساتھ حسن سلوک ،لوگوں کے معاملات میں عدل و انصا ف ، آخرت کی فکر تلاوت قرآن مجید ، ارکان اسلام پر شدت سے پابندی ، حقوق العباد کی ادائیگی ، اور بے ایمانی و ناانصافی اور کذب و افتراء پر دازی سے دوری ، حرام کمائی ،بیوہ و یتیم کا مال کھانے سے بے حد دور رہنا وغیرہ یہ سب چیزیں اخلاق حسنہ میں داخل و شامل ہیں ، وہ لوگ جو اخلاق حسنہ کے پیکر مجسم ہیں اور ہر طرح کی بد کراری و بد اخلاقی سے دور رہتے ہیں وہی لوگ اللہ کے مقرب بندے ہیں ، چنانچہ ان سب چیزوں کو نبی کریم ﷺ نے احادیث صحیحہ کے اندر صاف او ر واضح طور پر ذکر کیا ہے ۔
اس لئے ہم تمام مسلمانوں کو خلوص وللہیت کے ساتھ مذکورہ تمام نصوص صحیحہ پر عمل کر کے اپنے اعمال و نفس کا محاسبہ کر نا چاہئے ، اگر آج مسلم قوم اخلاق حسنہ کے ان صاف شفاف تعلیمات سے متصف ہو جائے اور اسلامی اصول و ضوابط کو اپنی زندگی کے لیل و نہا ر میں شامل کرلے تو ان شاء اللہ العزیز مسلم معاشرہ برائیو ں سے پاک صاف ہو جائے گا ۔
اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ مو لائے کر یم ہمیں اخلاص حسنہ کے اوصاف سے متصف فرمااور دنیاؤی خرافات و بد خلق لوگوں سے دور رہنے کی تو فیق عطافرما ۔ آمین ۔

مزید دکھائیں

عبدالباری شفیق

مضمون نگار ماہنامہ مجلہ ’’النور‘‘ (ممبئی) کے ایڈیٹر ہیں۔

متعلقہ

Close