تعلیم و تربیت

اعلی تعلیم کی راہ میں دو رکاوٹیں: فکری انحطاط اور غربت

عبدالرحمن عالمگیر

یہ بات کسی سے مخفی نہیں کہ ہندوستانی مسلمان فکری محکومی کی زندگی گزار رہے ہیں، جس کی بنیادی وجہ اعلی تعلیم کا فقدان ہے۔ سب سے زیادہ جس دین نے تعلیم و تعلم پر زور دیا تھا آج اسی دین کے پیروکار تعلیمی میدان میں سب سے پیچھے کھڑے ہیں، ان کے ذہن و دماغ میں غیر محسوس طریقے سے یہ خیال گھر کر گیا ہے کہ بس کسی حد تک ابتدائی تعلیم حاصل کر لی جائے تاکہ کہیں اسناد دکھانے کے لیے کا م آسکے۔ اس فکر نے سماج کے اندر تعلیم کے وسیع مفہوم کو نہایت ہی تنگ کر دیا ہے۔ جس کے نتیجہ میں نئی نسل رسمی طور پر دسویں یا بارہویں کلاس کے بعد مادہ پرستی کی ہوس میں خلیجی ممالک کی لُوَر کلاس ڈیوٹی (Lower class duty) اور کار ڈرائیونگ کو زندگی کی سربلند چوٹی تصور کرنے لگی ہے۔ اس کے پس پردہ بہت سارے وجوہات اور اس سے در آنے والے نقصانات ہو سکتے ہیں۔ لیکن ہر ایک کا سرا اخیر میں جاکر فکری بے راہ روی اور غربت سے مل جاتاہے اسی لیے جب غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والا طالب علم خواب وخیالات کی دنیا میں بھٹکتے ہوئے غلطی سے اعلی تعلیم کا سنہرا خواب دیکھ لیتا ہے تو گھر کی پریشانی اور والدین کی غربت و لاچاری کے پیش نظرادھیڑبن کی طیلسان کو چاک کر کے اپنے کسی قریبی کو آئیڈیل بنانے پر مجبور ہو جاتا ہے اور ا س کی فکری اڑان ایک چھوٹے موٹے ملازم سے آگے نہیں بڑھ پاتی۔ اسی طرح اس کی ناخواندگی یا تعلیمی قناعت پسندی سلسلہ وار متعدی نفسیاتی مرض کے روپ میں نسل در نسل منتقل ہوتی چلی جاتی ہے۔

        بعض تعصبانہ رویہ کے خوف سے مسابقہ جاتی امتحانات میں شرکت سے قبل ہی اپنی ناکامی کا فیصلہ کر لیتے ہیں، بعض نکمے اور نا اہل تو تعلیم کو قسمت سے جوڑ دیتے ہیں اور اسے نجومیوں کے مایا جال اور طوطے کی فال میں تلاشتے ہیں، اس سے بڑی محرومی اور کیا ہو گی کہ کوئی شخص خود کو یا اپنے بچوں کو تعلیم سے دور رکھے اوراپنی ضمیر کو جھوٹی تسلی دے کہ تعلیم ہمارے مقدرمیں تھی ہی نہیں ! میں ایسے لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ اپنی ناکامی کا ٹھیکرا دوسرے کے سر پھوڑنے کے بجائے تعصب کا مقابلہ قابلیت و صلاحیت سے کریں یا حالات کی ناچاکی کو محنت کے حسن سے سنواریں۔ اگرآپ کے مقابل دوسرا شخص دن کے بارہ گھنٹے پڑھائی کرتا ہے تو آپ روزانہ پندرہ گھنٹے علم کی جستجو میں صرف کریں اور ایک اصول یاد رکھیں مولانا ابوالکلام آزاد نے کہا تھا کہ تعلیم اور رزق دونوں الگ الگ چیز ہے کسی ایک کا دوسرے سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔

        راہِ علم و معرفت کی رکاوٹ دور کرنے کے لیے لازمی ہے کہ عوام کی ذہن سازی کی جائے اور انہیں فکری و روحانی غذا بہم پہنچائی جائے نیز انہیں باور کرایا جائے کہ تعلیم ہی کے ذریعے غربت سے نجات پایا جا سکتا ہے۔ لہذا نو نہالان ملت کو محنت و مزدوری کے بجائے اعلی سے اعلی تعلیمی زیور سے آراستہ کریں، ممکن ہے کہ سر پرست حضرات دوہرے اخراجات یعنی بچوں کی جانب سے آنے والی آمدنی پر روک اور ان کے تعلیم پر خرچ ہونے والی قیمت سے گھبرائیں گے، لیکن اگر وقتی فائدے کے خمار میں مدہوش ہو کر کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا گیا تو اس مسابقتی دور میں مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والا کوئی باقی نہیں رہے گا۔ یہ لکھتے ہوئے بڑی ندامت کا احساس ہورہا کہ آخر ہم کب تک اغیار کے محتاج بنے رہیں گے۔ آج تلاش بسیار کے باوجود بھی کوئی اچھا مسلم ڈاکٹر یا انجینئر نہیں ملتا، عدالت میں ہمارے خانگی معاملات سے لے کر شرعی مسائل تک کی وکالت کوئی غیر مسلم ہی کرتا ہے، مدارس و مساجد تک کے تعمیراتی نقشے کوئی کافر ہی بناتا ہے، ہماری مسجدوں کے لیے چٹائی اور ٹوپی ملک چین تیار کرتا ہے۔

        اگر عوام میں تعلیمی بیداری پیدا کر دی جائے تو ان میں ذاتی استحکام اور خود اعتمادی درجۂ اتم کو پہنچ سکتی ہے اور مسلمانوں کو چو طرفہ یلغار، بے روزگاری، معاشی بدحالی، غریبی، محتاجگی، ملکی معاملات میں بے وقعتی اور تعصب و طرفداری کی وباسے نجات مل سکتی ہے۔ ان شاء اللہ

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close