تعلیم و تربیت

ایمان کے ساتھ عمل صالح کی بھی ضرورت

حافظ محمد ہاشم قادری صدیقی مصباحی

اہلِ اسلام کے عقائد و ایمان کی بنیاد وحدت الٰہ اور نبوت محمد رسول اللہ ہے ۔ یعنی ہماری دینی اساس کلام اللہ اور حدیثِ رسول ہے،بس۔ اللہ نے اپنے رسول سے فرمایا:(ترجمہ)میں نے تم پر دین مکمل کردیا اور اپنی نعمتیں تمام کردیں اور تم سے دینِ اسلام پر راضی ہوا۔ (القرآن سورہ مائدہ، آیت3) اللہ کی عطا کردہ بے شمار نعمتوں میں ایمان وعلم وعمل بہت بڑی نعمتیں ہیں۔ اللہ جس کو جتنا نواز دے ۔ایمان جیسی دولت سے نواز کر ہم بندوں پر احسان عظیم فرمایا۔ ہم پر فرض ہے کہ ہم اس کی بندگی کریں اور اس کے رسول کے حکم کی پابندی کریں۔
صوفیا کے نزدیک بندگی کے معنی بہت وسیع ہیں۔ اصل نچوڑیہ ہے کہ اللہ کی رضاجوئی کے لئے نیک عمل کئے جائیں۔ سونا، جاگنا، کھانا، پینا سب اس کے حکم کے مطابق ہو یہی نیکی اور بندگی ہے۔ بندہ ہونا کوئی معمولی بات نہیں ہے ۔ یہ بہت بڑا کام ہے۔ سات سو ہزار سال شیطان نے عبادت کی لیکن ایک لمحہ کے لئے بندہ نہ ہوسکا، راندہ بارگاہ کر دیا گیا۔(صوفی بزرگ یحیٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ مکتوبات صدی، جلد 2، صفحہ 169، مطبوعہ جسیم بکڈپو، دہلی)
آجکل بے عملی شباب پر ہے۔ رٹی رٹائی چند ہی موضوع پر کم علم و بے عمل مقررین بار بار یہ پیغام دے رہے ہیں کہ عقیدہ عقیدہ ،ایمان ایمان۔ ایمان نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ نمازو روزہ سب بیکار ، ایمان صحیح ہے تو عمل کے بغیر بھی بیڑا پار ہے۔ اس طرح کی تقریر وں سے کچھ مقررین عوام کا ذہن خراب کررہے ہیں لوگوں کا دل سخت ہوگیا اور بے عملی کی تہہ دل پر جم گئی ہے۔ جلسوں کا مزاج بدل گیا گھن گرج کرنے والے ،لطیفہ گوئی کرنے والے، حضرات نہ تو عوام کو صحیح پیغام دے رہے ہیں نہ ہی دین اسلام کی صحیح تصویر پیش کررہے ہیں۔ اچھے بزرگ علمی حضرات کو جلسے کے آخر میں بیٹھا یا جاتاہے ۔ آدھی سے زیادہ عوام جاچکی ہوتی ہے۔ حال ہی میں جمشیدپور شہر میں اصلاحِ معاشرہ کانفرنس کے نام سے جلسہ ہوا ۔ حضور مفتی مطیع الرحمٰن پورنوی صاحب کوتب وقت ملا جب آدھی سے زیادہ عوام جا چکی تھی۔ اس حمام میں ذمہ دارانِ جلسہ اور گھن گرج کرنے والے مقررین حضرات دونوں نہا رہے ہیں۔ اللہ خیر فرمائے۔
اللہ رب العزت اپنے محبوب رسول ﷺ کو اور ایمان والوں کو حکم دے رہا ہے(1):اُتْلُ مَااُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃ ط اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُْنکَرْ ط وَلِذِکْرُاللّٰہِ اَکْبَرط وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْن۔(القرآن ، سورہ العنکبوت، آیت 45)ترجمہ: اے محبوب!پڑھو جو کتاب تمہاری طرف وحی کی گئی اور نماز قائم فرماؤ، بے شک نماز منع کرتی ہے بے حیائی اور بری بات سے اور بے شک اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔ (کنز الایمان)قرآن کریم کی تلاوت کرتے رہیں اور نماز وں کی نگہبانی کریں پابندی سے پڑھیں ۔ نماز انسان کو ناشائستہ کاموں اور نالائق حرکتوں سے باز رکھتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ جس نمازی کی نماز نے اسے گناہوں سے دور نہ کیا اور سیاہ کاریوں سے باز نہ رکھا وہ اللہ سے بہت دور ہوجاتا ہے۔ ارشاد باری ہے(2): یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْلَا تُلْھِکُمْ اَمْوَالُکُمْ وَلَا اَوْلاَدُکُمْ عَنْ ذِکْرَ اللّٰہ ج وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَاُوْلٰءِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْن۔(القرآن سورہ منافقون، آیت 9)ترجمہ: اے مسلمانو! تمہارے مال تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کردیں اور جو ایسا کریں وہ بڑے ہی زیاں (نقصان) اٹھانے والے لوگ ہیں۔(کنزالایمان)تفسیر خزائن العرفان میں عن ذکر اللہ کی تفسیر نماز پنجگانہ اور ذکر و تلاوت سے کی گئی ہے ۔ اولاد ،مال ودولت اگر عبادتِ الٰہی سے باز رکھیں تو یہ ہلاکت و بربادی ہے۔ اور اگر بلا مصروفیت محض کاہلی و بے پرواہی بندہ کو بندگی سے دور رکھے تو اس سے دونوں جہاں کا نقصان ہے۔
ایمان کے بغیر اعمال کی کوئی اہمیت نہیں:یہ تو صحیح ہے کہ ایمان کے بغیر اعمال کی کوئی اہمیت نہیں۔ مگر یہ سوچ کیونکر پیدا ہوئی کہ ایمان کے بعد عمل کی کوئی خاص ضرورت نہیں۔ یہ انتہائی عجیب بات ہے۔ قرآن کریم سے اس پر کوئی دلیل نہیں دی جاسکتی ہے اور نہ ہی احادیثِ مبارکہ اس کی شہادت پیش کرتی ہیں،نہ ہی صحابہ کرام ، تابعین ، اولیائے کرام کے ارشاداتِ عالیہ اس خیالِ باطل کی تائید کرتے ہیں اور نہ ہی فقہائے کرام اس کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔بلکہ ایمانی تقاضہ تو یہ ہے کہ انسان جتنا ایمان میں پکا ہوگا اسی قدر وہ اچھی اور بری باتوں میں تمیز رکھے گا اور اس پر عمل کرے گا۔ صراطِ مستقیم پر قدم جما کر چلے گاجیسا بزرگانِ دین اورصوفیائے کرام نے کیا۔ فرائض واجبات تو ہر حال میں ادا کئے بلکہ سنن و نوافل کے ساتھ مستحبات تک کوچھوڑناگناہ سمجھتے تھے۔ قرآن مجید و احادیث میں ایمان کے ساتھ عمل ضروری بتایاگیا ہے۔ بہت سی احادیث پاک و آیاتِ کریمہ موجود ہیں، پڑھیں اور بے عملی کے گرداب میں پھنسی ہماری جماعت کے عوام جو ترکِ صوم و صلوٰۃ کے عام طور پر عادی ہوتے جارہے ہیں ۔ عام مزاج بن گیا ہے اسے دور کرنے کے لئے علمائے کرام و ذمہ داران توجہ کے ساتھ ، خوشدلی اور ذمہ داری و حکمت سے پیغام دیں ۔ کوشش فرمائیں انشاء اللہ مثبت نتائج برآمد ہوں گے ورنہ رب کے حضور جواب دہ بن کر حاضر ہونا ہوگا۔
عمل کی ضرورت و اہمیت: حدیث پاک مطالعہ فرمائیں اور غور فرمائیں کہ عمل کی کتنی اہمیت ہے۔ایک مرتبہ حضرت معاذ بن جبل رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اے معاذ! میں نے عرض کیا، حاضر ہوں یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے (دوبارہ)فرمایا ، اے معاذ! میں نے عرض کیا حاضر ہوں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے سہ بارہ فرمایا، اے معاذ! میں نے عرض کیا حاضر ہوں اے اللہ کے رسول! تین بار ایسا ہوا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص سچے دل سے اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ اس پر(دوزخ کی ) آگ حرام کر دیتا ہے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ! کیا اس بات سے لوگوں کو باخبر نہ کردو ں تاکہ وہ خوش ہوجائیں۔آپ ﷺ نے فرمایا (اگر تم یہ خبر سناؤگے ) تو لوگ اس پر بھروسہ کر بیٹھیں گے (اور عمل چھوڑ دیں گے) حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے انتقال کے وقت یہ حدیث اس خیال سے بیان فرمادی کہ کہیں حدیث رسول چھپانے کے گناہ پر ان سے آخرت میں مواخذہ نہ ہو۔ (بخاری شریف، راوی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ، اسحاق بن ابراہیم، معاذ بن ہشام حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ، حدیث نمبر128) رسول اللہ ﷺ کے فرمان عالیشان کو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے انتقال کے وقت بتایا تاکہ حدیث چھپانے کے مجرم نہ ہوں اورآقا ﷺ کے حکم کی پاسداری فرمائی ۔ لوگ عمل چھوڑ دیں گے اور وہ بھی خیرالقرون صحابہ کے زمانہ ،اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ایمان عمل کے ساتھ ہی کامل و اکمل ہوتاہے۔ عملِ صالح کی ضرورت ہر حال میں اور ہر شخص کو ہے۔
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی * یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری
عمل کی تاکید و حکم:عمل کی اہمیت کا اندازہ اسی سے ہوتا ہے کہ اللہ رب العزت نے نہ صرف ایمان والوں کو بلکہ دوسرے اہلِ کتاب کو بھی دیا۔(3):(القرآن سورہ بقرہ، آیت 62) ترجمہ: مسلمان ہوں، یہودی ہوں، نصاریٰ ہوں، یا صابئی ہوں جو کوئی بھی اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے ان کے اجر ان کے رب کے پاس ہیں ۔ ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ اداسی۔(4): یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُو اتَّقُو اللّٰہَ وَالْتَنْظُرْ نَفْسُ مَّاقَدَّمَتْ لَغَدْ۔(القرآن سورہ الحشر، آیت 18) ترجمہ: اے ایمان والو!تم اللہ سے ڈرتے رہواورہر شخص کو دیکھتے رہنا چاہئے کہ اس نے کل (قیامت) کے لئے آگے کیا بھیجا ہے، اور تم اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ ان کاموں سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔ تفسیر خزائن العرفان کی صراحت کے مطابق کل سے مراد روزِ قیامت ، اور آگے بھیجنے سے مراد اعمالِ صالحات ہیں، جن پر آخرت کی کامیابی اور بخشش و نجات کا دارومدار ہے۔ علما فرماتے ہیں کہ ایک گناہ گار شخص جس کی پوری زندگی کبائر میں ڈوبی ہوئی ہے۔ اللہ رب العزت اپنے کرم سے اسے جنت میں بھیج دے تو یہ اس کا فضل ہے۔اور ایک عابد جس کی ساری زندگی عبادت میں گزری اللہ اسے جہنم میں ڈال دے تو یہ اس کا عدل ہے ، یہ اس کی قدرت ہے۔ یہاں بات عمل صالح کی ہے۔(5): فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَالْمُحْسِنِیْنط بے شک جو پرہیزگاری اور صبر کرے تو اللہ نیکو ں کا نیگ (اجر) ضائع نہیں کرتا۔ اصولِ قرآن اور قانون قدرت یہی ہے۔ اس میں کہیں گنجائش نہیں ہے کہ ایمان درست ہے تو بس بیڑا پار ہے۔ وہ ایمان ہی صحیح کیوں کر ہوسکتا ہے جس میں جوش بندگی نہ ہو، عبادت کا مزہ نہ ہو ، جذبہ اطاعت بندگی نہ ہو۔رب تبارک و تعالیٰ تو اطاعت و بندگی پر انعام کا اعلان فرما رہاہے۔(6): اِنَّ الَّذِیْنَ آمَنُوْ وَ عَمِلُو الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلاًط (القرآن سورہ کہف، آیت 30) ترجمہ:بے شک جو ایمان لائے اور نیک کام کئے ہم ان کے نیگ(اجر)ضائع نہیں کرتے جن کے کام اچھے ہوں۔(کنز الایمان)(7): وَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَالْمُؤمِنِیْنْ ط اور یہ کہ اللہ ضائع نہیں کرتا اجر مسلمانوں کا۔(8)ُ:وَالْعَصْرِ اِنَّ اْلِانْسَاْنَ لَفِیْ خُسْرْ ط اِلَّاالَّذِیْنَ آمَنُوْ وَعَمِلُو الصّٰالِحَاْت ط (سورہ العصر) ترجمہ: اس زمانہ محبوب کی قسم! بے شک آدمی ضرور نقصان میں ہے ۔مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے ۔ یہاں ٹوٹے اور گھاٹے سے استثناء کے لئے ایمان کی شرط کے ساتھ عمل صالح کی قیدبھی لگائی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہواکہ ایمان کا دعویٰ اتباع رسول کے بغیر فضول ہے۔ آخرت عاقبت اچھی ہو کہ طلب گار سمجھ لیں کہ عبادت کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔(9):اِنَّ الَّذِیْنَ آمَنُوْ وَعَمِلُو الصّٰلِحٰتِ کَانَتْ لَھُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلاَط (القرآن سورہ کہف، آیت 106) ترجمہ:بے شک جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے یقیناًان کے لئے فردوس کے باغات کی مہمانی ہے۔ یہاں بھی جنت الفردوس جو سب سے اچھی اور بلند اور عرش الہٰی کے نیچے ہے اس کی بشارت بھی ایمان کے ساتھ عمل کی قید کے ساتھ دی گئی ہے۔ اعمال اگر ایمان و محبت مصطفی ﷺ کے بغیر اکارت (بے فائدہ) ہیں تو دعویِٰ ایمان بھی تو ادائے اطاعت و بندگی کے بغیر لغو(واہیات، نامعقول) اور مہمل (نکما) ہے۔ قرآن کی بہت ساری آیات مبارکہ لکھی جا سکتی ہیں ۔ عمل کرنے والوں کے لئے یہی کافی ہونی چاہئے۔ احادیث میں عملِ صالح کا ذکر باربار آیا ہے اور ایمان کو جلا بخشنے والی حدیث پاک آپ اوپر پڑھ چکے ہیں اور مطالعہ فرمائیں۔ ان لنبی صلی علیہ و سلم قال یا علی ثلث لا تؤ فر ھا الصلوٰۃ اذا اتت ولجنا زۃ اذ حضرت ، والا یم اذوجدت لھاکفواً۔(ترمذی) مولیٰ علی نے بیان کیا کہ مجھ سے سرکار دوعالم نے فرمایا اے علی! تین کاموں میں کبھی دیر نہ کرنا۔ایک نماز، جب اس کا وقت آجائے دوسرے جنازہ، جب اس کی تیاری ہوجائے ۔ تیسرے بیوہ کا نکاح جب کفو مل جائے۔ حدیث پاک میں جو تین احکام بیان کئے گئے ہیں ان میں نماز کا حکم مقدم کیا گیا اس سے ام الفرائض کی اہمیت ظاہر ہے۔ جنازہ میں جلدی کرنے کا حکم اس لئے دیا کہ آقا ﷺ کومعلوم تھا کہ ایک زمانہ وہ بھی آئے گا کہ امریکہ اور سعودیہ فون کر دیا گیا ہے ۔ اس چکر میں جنازہ تین دن چار دن روک کررکھا جائے گا۔ بیوہ کے نکاح کی تاکید اس لئے کی گئی کہ غیب داں نبی کو معلوم تھا کہ سماجی طور پر عار تصور کرکے جوان بیوہ کے نکاح میں کبھی میکہ اور کبھی سسرال کی طرف سے رکاوٹیں کھڑی کی جائیں گی۔ فرمانِ الہٰی و ارشادات مصطفوی سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ دین اسلام میں ایمان کی اہمیت عملِ صالح کے ساتھ ہے۔آج ہم ترک نماز،تر کِ صوم اور عدول حکم الہٰی و رسول کے عادی ہوتے جارہے ہیں اس کا ہم کو احساس بھی ختم ہوتا جارہاہے یہ اور زیادہ خطرناک وافسوس ناک ہے۔ رب تبارک و تعالیٰ رحیم و کریم ہے۔ بے شک اللہ رب العزت نے بخشش کا وعدہ نیک کام کرنے پر فرمایا ہے۔ (10):وَعْدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ وَعَمِلُو الصّٰلِحٰتِ مِنْھُمْ مَغْفِرَتَ وَّ اَجْر اً عَظِیْمَا۔(القرآن سورہ فتح ، آیت 29) ترجمہ: اللہ نے وعدہ کیا ہے ان سے جو ان میں ایمان اور اچھے کاموں والے ہیں بخشش اور بڑے ثواب کا (کنز الایمان)(11):اطیعو اللہ واطیعوالرسول اطاعت کرو اللہ اور اس کے رسول کی جو شخص دعویٰ کی زبان لمبی رکھتاہے۔ اور اپنے دعویٰ پر دلیل نہیں دے سکتا۔ قیامت کے دن عدالت الہٰی میں سارے کھوکھلے دعوے مسترد کر دئے جائیں گے اور اس دن سارابھرم کھل جائے گا۔
روز محشر کہ جاں گدازبود * اولیں پرشش نماز بود۔ سب سے پہلے نماز کا سوال ہوگا۔
لاریب تیری روح کو تسکین ملے گی * تو قرب کے لمحات میں قرآن پڑھا کر
آجائے گا تجھے اقبال جینے کا قرینہ * تو سرور کونین کے فرمان پڑھاکر
اللہ کا لاکھ لاکھ شکر واحسان ہے کہ ہم کو ایمان جیسی دولت سے نوازا۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس کی قدر کریں اور عمل کرنے کی پوری کوشش کریں تاکہ ایمان مکمل ہو۔ اللہ سے دعا ہے کہ ایمان کے ساتھ ہمیں عمل صالح کی بھی توفیق عطا فرمائے ۔ ایمان پر خاتمہ نصیب فرمائے۔ آمین،آمین ثم آمین

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close