تعلیم و تربیت

 بغیر اجازت!

شیخ خالد زاہد، نیو کراچی

بچپن میں ہاتھی کہ پیر میں ایک زنجیر ڈال دی جاتی ہے اور اسے باندھ دیا جاتاہے۔ ہاتھی کا بچہ بہت زور آزمائی کے باوجود اس زنجیر سے نجات حاصل نہیں کر پاتا۔ آہستہ آہستہ وہ اس زنجیر کا عادی ہو جاتا ہے اور اس سے چھٹکارا پانے کی کوشش دم توڑ دیتی ہے۔ ایک وقت آتا ہے جب وہ بچہ جسکا تقریباً 200kg وزن ہوتا ہے بڑا ہو جاتا ہے اور اسکا وزن تقریباً 7000kg ہوجاتا ہے۔ لیکن زنجیر توڑنے کی جسارت نہیں کرتا کیونکہ اسکی طرف سے وہ دلبرداشتہ ہوکر قید رہنے کو ہمیشہ کیلئے ترجیح دے چکا ہوتا ہے۔

بچوں کی تربیت ہر معاشرے میں ایک اہم ذمہ داری سمجھی جاتی ہے۔ کیونکہ یہی بچے مستقبل کا معمار ہوتے ہیں۔ انکی پرورش درحقیقت آنے والے کل کی پرورش ہوتی ہے۔ تربیت کی بنیادی اکائی کہنا یا بات کا ایک دفعہ میں سنناہے۔ لیکن اجازت اور بغیر اجازت تربیت میں بہت اہم جز ہے۔ بچپن سے ہی اس بات پر زور دیا جاتاہے کہ بغیر اجازت کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگانا۔ بغیر اجازت کچھ نہیں کھانا۔ بغیر اجازت کہیں نہیں جانا۔ بغیر اجازت کسی سے نہیں ملنا۔ بغیر اجازت کوئی بات نہیں کرنا۔ وغیرہ وغیرہ۔ یہ اجازت ہمارے ذہنوں میں ثبت کردی جاتی ہے۔ زمانہ بہت تیزی منفی سوچوں کو پروان چڑھا رہا ہے۔ تو بغاوت جنم لے ہی لیتی ہے۔ بچوں کی اکثریت اس اجازت کی بدولت روزانہ یا ہفتہ وار والدین کی زد میں آہی جاتے ہیں۔

یہ اجازت کی عادت یا لت کوئی کوئی اپنے ساتھ باندھ لیتا ہے۔ اور شائد کوئی کہیں راستے میں ہی چھوڑ آتا ہے۔ یہ اجازت ایسی بلا ہے کہ آپ کسی سے کچھ کہنا چاہیں تو کوئی نہ کوئی ٹوک دیتا ہے۔ اپنے محلے کی میونسپل کمیٹی کے دفتر کوئی شکایت لے کہ جانا ہو تو لوگ کہتے ہیں ایسا نہ کرو یہ ٹھیک لوگ نہیں ہیں پہلے فلانے سے اجازت لے لو یا اسکو کم از کم بتا دو۔ دفتر میں کسی معاملے پر کوئی رائے دینی ہو یا باس کو کچھ بتانا ہو تو وہی لوگ پھر کھٹرے ہوجاتے ہیں۔ یہ بغیراجازت، ایک قابل اور ذہین ماتحت کو ماتحت رہنے پر مجبور کرتا ہے۔ اور کرتا رہتاہے۔ ایک سپاہی مجرم کو پکڑنے سے قاصر ہے۔ راستے میں کسی کو کچھ بتانا چاہوتو کوئی نا کوئی ہر جگہ موجود ہے۔ آپ کو یہ بتانے کیلئے کہ بغیر اجازت ایسا نہیں کرنا۔ منہ نہیں کھولنا۔ یہ نہیں کرنا۔ ایسے نہیں کرنا۔ ویسے نہیں کرنا۔

وہ لوگ جو اس اجازت نامی بلا کو کہیں راستے میں بھٹکا کر چھوڑ آئے ہوتے ہیں۔ انہیں معاشرہ باغی بھی کہتا ہے۔ یہی وہ افراد ہوتے ہیں جو حشر بپا کر دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ غلط یا صحیح اس بحث میں جانا نیا موضوع کھول دیگا۔ مگر دنیا ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے۔ کیونکہ دنیا کا عجیب مزاج ہے کہ یا بہت اچھے لوگوں کو یاد رکھتی ہے یا بہت برے۔ ان کے بیچ والوں سے اس دنیا کا کچھ لینا دینا نہیں ہوتا۔

ان باتوں کو اگر ہم خاطر میں رکھتے ہوئے آگے بڑہیں۔ جن میں سب سے اہم بات مستقبل کہ معمار وں کی تربیت ہے۔ جنہیں آنے والے کل کی باگ دوڑ سنبھالنی ہے۔ انہیں اس اجازت کہ چنگل سے کچھ ایسی آزادی دیں کہ وہ دنیا کو اپنی قابلیت اور اہل ہونے کا پتہ دیں۔ صحیح اور غلط میں فرق بتاناہے۔ انہیں اچھے برے کی تمیز سیکھانی ہے۔ لیکن ایک مختلف اور مثبت فریم آف مائنڈ کے ساتھ۔ جس سے انکے اندر یہ اجازت کا احساس ختم ہوجائے۔ کتابوں کی تعلیم میں غرق رہنے والے کتنے بچے شوق سے ایسا کرتے ہیں۔ یقینا کرتے ہیں۔ مگر دو، تین یا چار فیصد۔ اصل اثاثہ تو باقی ماندہ ٹہرے۔ ہم سب اپنے بڑوں کہ تجربات سے نہیں سیکھنا چاہتے۔ شائد ہمارے بڑوں کا سوچنا بھی ایساہوگا۔ اور شائد انکے بڑوں کا بھی۔ ہم خود سمندر میں جاکر اس کی گہرائی ناپنے کہ لئے بے تاب رہتے ہیں۔ ہم سب اپنے تجربوں سے اخذ کرنا چاہتے ہیں۔

آنے والے کل کو بدلنا ہے تو ہمیں ایسا کچھ سوچنا پڑے گا۔ زمانہ ہم سے بہت آگے جا رہا۔ معاشرے میں بغاوت کا علم بلند ہوچکا ہے۔ یہ بغاوت سوشل نیٹورک کا شٹل کاک پہنے ہمارے معاشرے میں بہت تیزی سے سرائیت کر رہی ہے۔ معاشرتی قدروں کے بخئے ادھیڑ رہی ہے۔ اسے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں اپنے رویوں میں مثبت تبدیلی لانی ہوگی۔ اس مضمون میں آپکو یقینا مغربی تہذیب اور ثقافت کی بو آرہی ہوگی۔ مگر ہمیں کچھ انکے رویوں سے لینا ہوگا۔ اور اسے لینے کیلئے ہمیں کسی کی اجازت نہیں چاہئے۔ ۔ کیونکہ آپکے گھر میں وہ رویے درانداز ہوچکے ہیں۔ انکی شکل فیس بک، ٹوئٹر، گوگل، واٹس ایب، وائبر وغیرہ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اب یہ گھر کے بیچ رکھے پرسنل کمپیوٹر سے نکل کر۔ ایک عام اور سادے سے موبائل سے استعمال ہو سکتے ہیں۔

ہم اشرف المخلوقات ہیں۔ ہاتھی کے بچے یا ہاتھی نہیں۔ سچ جانئے تو فیصلے کی گھڑی نکل چکی ہے۔ اب تو سدِ باب کرنے کا بھی وقت ہاتھ سے ریت کی مانند سرکے جا رہا۔ اور یہ سب بغیر اجازت ہو گیا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close