تعلیم و تربیت

بچوں کی تربیت کا مسئلہ – نزاکتیں اور ذمہ داریاں (3)

تحریر: ڈاکٹر بشریٰ تسنیم     ترتیب:عبدالعزیز

تیسرا مرحلہ : ولادت، رضاعت، ابتدائی چند سال
نومولود ، اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کو بچہ جننے کی تکلیف برداشت کرنے پر بے حساب اجر و ثواب کی بشارت سنائی ہے۔ اگر ایمان و ایقان کی کھیتی شاداب ہو اور اس پورے عمل کو اللہ اور رسول کی رضا کا وسیلہ سمجھا جائے تو پھر درد کی ہر لہر کو برداشت کرنے پر بے حد و حساب ثواب ملتا ہے۔ اگر ’’مسلمان عورت زچگی کے دوران زندگی کی بازی ہار جائے تو شہادت کا درجہ پائے گی‘‘۔
نومولود لڑکا ہو یا لڑکی، خوشی کا اظہار فطری ہے۔ لڑکی اللہ کی طرف سے رحمتوں کا پیغام لے کر آتی ہے، جس عورت کے ہاں صرف لڑکیاں پیدا ہوں اور وہ اللہ تعالیٰ سے شکوہ نہ کرے ، دل میں تنگی و ناگواری نہ لائے تو اس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ جنت میں داخل ہونے کی خوش خبری سنائی ہے۔
اسلامی طریقہ زندگی، بچے کو دنیا میں آتے ہی اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا سبق سکھاتا ہے۔ اس لئے اذان و تکبیر کو محض رسم کے طور پر نہ نبھایا جائے بلکہ اس میں روح بلالی شامل ہونی چاہئے۔ جو بچہ پیدائش سے پہلے رحم میں مادی خوراک کے ساتھ ساتھ روحانی غذا بھی حاصل کرتا رہا ہو، وہ دنیا میں آتے ہی اس کی طرف ایک قدم اور بڑھاتا ہے۔ اذان و تکبیر کی آواز اسے روحانی فرشتے سے منسلک رکھتی ہے۔ پیدائش کے بعد بچے کا حق : بامعنی نام رکھنا، عقیقہ کرنا اور بال اُتروانا ہے۔
نام: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اپنے بچوں کو اچھے نام دو۔ ’عبداللہ، عبدالرحمن‘ اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ نام ہیں‘‘۔ انبیاء علیہم السلام کے ناموں پہ بچے کا نام رکھنے کی تلقین کی گئی یا پھر معنی کے لحاظ سے پسندیدہ، بامعنی، خوبصورت خوشی، کامیابی، سکون و وقار والے ناموں کا اہتمام کرنا سنت نبویؐ ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض ناپسندیدہ ناموں کو بدل دیا تھا۔ خود حضورؐ کا یہ طریقہ تھا کہ کسی بھی مہم پہ صحابہ کرامؓ کو بھیجتے تو کامیابی اور خوشی کے معنی والے نام کے صحابی کو منتخب کرتے تھے۔ بچے کا نام ہی اس کی پہچان ہے۔ نام ہی کسی بھی انسان کی پہلی ذاتی ملکیت ہوتا ہے، جو ہر کسی کو بے حد پیاری ملکیت لگتی ہے۔ غرض یہ کہ والدین کو اپنے بچے کی تربیت کی پہلی اینٹ صحیح اور مناسب جگہ پہ رکھنی چاہئے۔ روحانی و نفسیاتی طور پر نام کے اثرات ہی شخصیت کا حصہ ہوتے ہیں۔
لڑکے یا لڑکی کا جو بھی نام منتخب کیا جائے، اس کو پورے شعور کے ساتھ دل کی گہرائی سے احساس کرتے ہوئے پکارا جائے کہ یہ نام نہیں حقیقت میں ایک دعا ہے۔ ایک آرزو ہے، تمنا ہے، آئیڈیل ہے جس کو پانا ہے۔ ’’عبداللہ‘‘ ہے یا ’’عبدالرحمن‘‘۔ وہ اللہ کا بندہ بن کر رہے۔ ابوبکرؓ، عمرؓ ہے یا عثمانؓ و علیؓ، عائشہ ہے یا اسماءؓ، فاطمہؓ ہے یا خدیجہؓ یا کسی اور صحابیؓ یا بزرگ کے نام جیسان نام ہے تو اس اعلیٰ شخصیت کا پرتو، اپنے بچے میں دیکھنے کی تمنا اور دعا لئے ہوئے پکارا جائے۔ تمام رشتہ دار، خصوصاً والدین جب اپنے بچے کو پکاریں گے اور ہمیشہ دل سے وہ دعا کی صورت میں اظہار ہوگا اور کسی بھی خوب صورت معنی والے نام کو جب لکھا، بولاجائے گا، دعا کا خزانہ دل کی گہرائیوں سے نچھاور ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ساتھ امید کی جاسکتی ہے کہ بچہ روشن شخصیت کا حامل ہوگا۔ اس لئے بچوں کو پیار ہی پیار میں بے معنی ناموں سے پکارنے اجتناب کرنا چاہئے۔
یہ اسلام کے نظام تعلیم و تربیت کا حصہ ہے کہ شروع دن سے بچے کو اس کے نام کی مناسبت کا احساس دلایا جائے اور اس شخصیت کو خصوصی آئیڈیل کے طور پر پیش کیا جاتا رہے۔ اگر ماں کو اس شخصیت کے بارے میں تفصیلی علم ہوگا اور اس کی زندگی کے واقعات معلوم ہوں گے تو ہر معاملے میں بچے کی رہنمائی کی جاسکے گی۔ غرض کہ نچے کے قلب و ذہن میں یہ راسخ ہوجانا چاہئے کہ اس نے خود کو اسم بامسمّٰی بنانا ہے۔
رضاعت: پیدائش کے فوراً بعد ہر جان دار مخلوق کا نومولود اپنی ماں کی طرف کشش رکھتا ہے، چاہے اس کا انڈوں سے ظہور ہو یا رحم مادر سے۔ دودھ پلانے والے جانداروں میں مشاہدات کرنے والے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بچہ اپنی ماں کو اور ماں اپنے بچے کو، ایک دوسرے کی بو (smell) سے پہچانتے ہیں۔ انسانی بچے کوبھی اللہ تعالیٰ نے پیدائش کے وقت بہت کم قوت بینائی عطا کی ہوتی ہے اور نو زائیدہ بچہ کافی عرصے تک ایک فٹ فاصلہ سے زیادہ نہیں دیکھ سکتا۔ اس لئے پیدا ہونے کے بعد قرین قیاس ہے کہ وہ اپنی ماں کو چھاتی کی مہک سے پہچاننا شروع کرتا ہوگا۔ عام مشاہدہ ہے کہ ننھا بچہ کسی اور عورت کا دودھ پینا پسند نہیں کرتا۔ دودھ پلانے کے دوران ماں اور بچے کا تعلق مضبوط ہوتا ہے۔ ماں اور بچے کی برقی لہریں ایک دوسرے کو توانائی اور سکون مہیا کرتی ہیں۔
قدرت نے نو زائیدہ شیر خوار بچے کی ساری کائنات ماں کی گود اور ماں کے دودھ سے وابستہ کر دی ہے۔ بچے کو شروع سے ہی ماں کا قرب نصیب ہونا چاہئے۔ آج کل بچے کو ہسپتالوں میں ماں سے دور نرسری میں رکھا جاتا ہے جس سے ماں اور بچہ ایک دوسرے کو مخصوص بو اور تعلق سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ماں کو دو سال تک دودھ پلانے کی ہدایت کی ہے۔ یہی دو سال کا عرصہ بچے میں تعلیم حاصل کرنے کی قوت اور ذہنی دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت کو بڑھا سکتا ہے۔ اگر کسی مجبور کی بنا پر ماں اپنا دودھ نہ پلا رہی ہو تو فیڈر سے دودھ پلانے کیلئے بھی ماں اپنے بچے کو گود میں لے کر سینے سے لگاکر پلائے۔ اللہ تعالیٰ نے دودھ پلانے والی ماں کو خصوصی اجر سے نوازا ہے۔ جو مسلمان عورت اپنے بچے کو دودھ پلاتی ہو، اللہ تعالیٰ اسے ایک ایک قطرے کے بدلے ایک نیکی عطا کرتا ہے۔ بچہ رات کو بھوک سے روئے اور ماں اپنی نیند کی قربانی دے کر پوری محبت اور خوش دلی سے دودھ پلائے تو فرشتے اس کوجنت کی بشارت دیتے ہیں۔
ہمارے لئے قابل تقلید بزرگوں کی مائیں اپنے بچوں کو باوضو ہوکر دودھ پلاتی تھیں۔ ساتھ ساتھ کانوں میں کوئی بہترین پیغام اور آیاتِ الٰہی، لوری کی صورت میں سناتی تھیں۔ بے شک سماعت کو اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قابل تاثیر بنایا ہے اور سماعت کی قوت کو پہلے پیدا فرمایا اور قرآن پاک میں آنکھ اور دل سے پہلے سماعت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ محاسبہ کے متعلق فرمایا: ’’یقیناًآنکھ، کان اور دل سب ہی کی باز پرس ہوگی‘‘ (بنی اسرائیل 36:17)۔
بعض لوگوں کا مشاہدہ ہے کہ نوزائیدہ بچے کو چالیس دن کے اندر اندر قرآن پاک کی تلاوت سنادی جائے تو اس کے بہت سے مثبت اثرات سامنے آتے ہیں۔ اس زمانے میں بچہ زیادہ تر سویا رہتا ہے۔ ماں بھی اکثر کاموں سے فارغ ہوتی ہے اور زیادہ تر بچے کے قریب ہی رہتی ہے۔ گھر کی ذمہ داریاں جب دوسرے ادا کر رہے ہوں، اس دوران کیسٹ کے ذریعہ ہلکی آواز میں قرآن مجید کی تلاوت بچے کے سرہانے لگا دی جائے۔ سوتے جاگتے بچے کو قرآن کی تلاوت مانوس کیا جائے۔
بچہ بولنے کی کوشش کرنے لگے تو سب سے پہلے ’’اللہ‘‘ کا نام سکھایا جائے۔ اذان کی آواز پر متوجہ کیا جائے۔ کلمہ طیبہ، بسم اللہ، الحمدللہ، السلام علیکم جیسے بابرکت کلمات سے بچے کی زبان کو تر کیا جائے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بچے کی زبان کھل جائے تو بچہ کو سورہ فرقان کی یہ آیت یاد کروائی جائے‘‘۔
’’وہ جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے، جس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا ہے، جس کے ساتھ بادشاہی میں کوئی شریک نہیں ہے، جس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کی ایک تقدیر مقرر کی‘‘ (الفرقان:2:25)۔
ابتدائی چند سال: پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ ’’صرف موروثی اثرات ہی مزاج بنانے میں اہم کردار کرتے ہیں‘‘ مگر اب سائنس دان یہ تحقیق کر رہے ہیں کہ ’’بچپن کا ماحول بھی بچہ کے مزاج کو ڈھالنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے‘‘۔ اور عصبیاتی تحقیقات (neurological stidies)کی روشنی میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ ہیومن ڈیویلپمنٹ کے اسٹیفین سومی نے ثابت کیا ہے کہ ’’نوزائیدہ بچے کے دماغ کے خلیات میں سائنافسز (synapses) شروع کے چند ماہ میں بیس گنا بڑھ جاتا ہے اور دو سال کی عمر کے ایک بچہ میں ایک بڑے آدمی کے مقابلے میں یہ سائنافسز دوگنے ہوجاتے ہیں۔
بچے کا والدین سے تعلق، اس کے دماغ کے ان حصوں کی بناوٹ پر زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر شروع کے دو تین سال بچے کو والدین، خصوصاً ماں کی بھر پور توجہ، شفقت نہ ملے اور خصوصی باہمی تعلق پیدا نہ ہوتو ساری زندگی غیر معمولی جارحانہ پن، منفی اندازِ فکر، ذہنی پراگندگی پیدا ہوسکتی ہے۔ ماں اور بچے کے درمیان ہر عمر میں قربت قائم رہنی چاہئے۔ بچہ چند دن کا ہو، چند سال کا یا جوان، حتیٰ کہ جوانی کی حد سے نکل جانے والے ’’بچے‘‘ بھی ماؤں کی گود میں سر رکھ کر سکون محسوس کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ماں کی قربت میں ایک انمول کش رکھ دی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔ جو مائیں اپنی سستی، کوتاہی، یا کسی مجبوری کی بنا پر ہی سہی اپنے بچوں کے ساتھ ایسا تعلق پیدا نہیں کرسکتیں، ان کے بچے ساری عمر ماں کی محبت میں کمی اور تشنگی کو محسوس کرتے رہتے ہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بچپن کے تجربات پتھر پہ لکیر ہوتے ہیں‘‘۔ مثبت اور خوش گوار مشاہدات، جذبات و احساسات کا حامل بچہ اپنے لاشعور سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ اس میں قوتِ اعتماد، قوت فیصلہ اور سمجھ بوجھ زیادہ پائی جاتی ہے۔
دماغ کے ماڈل کو دیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ دماغ کے پہلے حصے (Primitive) شروع کے تین سال کی عمر میں مکمل ہوجاتے ہیں۔ کارٹیکس (cortex) کے وہ حصے جو احساس و حرکت سے تعلق رکھتے ہیں، ان میں سب سے زیادہ تبدیلیاں آتی ہیں۔ ان حصوں پر لمبِک (limbic) حصے کی طرح بچپن میں مشاہدات اور اثرات کا سب سے زیادہ اثر ہوتا ہے۔ فرنٹل کارٹیکس (frontal cortex) جس کا تعلق پلاننگ اور قوت فیصلہ سے ہے ۔۔۔اور سیری بلم (cerebellum) جو حرکت کا مرکز ہے، جزئیات سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ حصے سات سال کی عمر تک نہیں بڑھتے۔
نو سے گیارہ سال کی عمر میں دماغ میں تبدیلی آتی ہے۔ دماغ کوئی پتھر کا ٹکڑا نہیں ہے بلکہ اس میں مستقل تبدیلی آتی رہتی ہے۔ عمر کے ساتھ ساتھ تعلیم و تربیت، ماحول، جذبات و احساسات، تجربات و مشاہدات اس کی نشو و نما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ دماغ کے پہلے سے بہتر مطالبات ہوتے ہیں۔ گویا انسانی مشینری ہمہ وقت اور بھرپور توجہ کی متقاضی ہے۔ یہ کوئی جامد چیز نہیں ہے کہ بس ایک الگ بندھے طریقے سے چلتی رہے گی۔
دنیا میں آنکھ کھولنے کے بعد بچے کو اچھا انسان اور بہترین مسلمان بننے کیلئے بہترین ماحول چاہئے۔ شخصیت کی صحت مندانہ نشو و نما کیلئے ایک صحت مند تصور ذات اسے والدین اور اہل خانہ ہی فراہم کرسکتے ہیں۔ اگر والدین بچے کی عزت نفس اور اس کی شخصیت کی نفی کا رویہ اختیار کریں گے تو اس کے ذہن میں یہی نقوش ثبت ہو جائیں گے۔ اور وہ کبھی اپنے والدین یا اہل خانہ کے بارے میں مثبت اندازِ فکر نہیں اپنا سکے گا۔ الا یہ کہ اس کی ذہنی نشو و نما کے ساتھ ساتھ اس کے بارے میں اس منفی رویہ کو خود بدل لیا جائے۔ بہر حال جو اثرات ایک مرتبہ قائم ہوجائیں وہ ختم تو نہیں ہوتے، البتہ بعد کے حالات اس میں تبدیلی ضرور لاسکتے ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہر بچہ دین فطرت پر پیدا ہوتا ہے لیکن ماحول اسے یہود و نصاریٰ بنا دیتے ہیں‘‘۔
اس کی سادہ سی مثال یہ ہے کہ ایک پانی کا چشمہ اپنے فطری بہاؤ کے ساتھ فطری راستے پر بہہ رہا ہو۔ اگر اس راستے میں کوئی رکاوٹ کھڑی کر دی جائے تو پانی فطری راستے کی بجائے مختلف اطراف میں بہنا شروع کر دے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close