تعلیم و تربیت

تدریس: ایک پیمبرانہ پیشہ

یاسرعرفات طلبگار

تدریس سے انسان کی تعمیر ہے ممکن

تعمیر سے تقدیر کی تسخیر ہے ممکن     

 (طلبگار )

اس امر میں کسی کو اختلاف نہیں کہ تدریس ایک متبرک اور مقدس پیشہ ہے، چاہے کوئی کسی مدرسے میں اس کارِ عظیم کو انجام دے یا کسی سکول یا دانشگاه میں بہر صورت اس کا تقدس اپنی جگہ مسلم ہے۔ تدریس روز اول سے آج تک مسلسل قائم و دائم ہے اور اس میں بال بھر بھی تعطل یا جمود واقع نہیں ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علم روز بروز ترقی کے مختلف مراحل طے کر رہا ہے جو ہماری زندگی کے تمام شعبہ جات حاوی ہے۔

انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی خالق کائنات نے اس کی تعلیم و تربیت کا بھی اعلیٰ انتظام فرمایا اور اس کام کے لئے سب سے پہلے حضرت جبریل علیہ السّلام کو مامور کیا۔  چنانچہ بابا آدم علیہ السلام کو اللہ کے اذن سے تعلیم دی جس کا اولین فرمان خداوندی یہ تھا کہ”

وَقُلْنَا يَٰٓـَٔادَمُ ٱسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ ٱلْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ ٱلشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ۔

پھر ہم نے آدمؑ سے کہا کہ "تم اور تمہاری بیوی، دونوں جنت میں رہو اور یہاں بفراغت جو چاہو کھاؤ، مگر اس درخت کا رُخ نہ کرنا، ورنہ ظالموں میں شمار ہو گے”(البقرہ 35)۔

گویا انسانی نفس کی تربیت کے لئے ایک خاص انتظام عمل میں لایا گیا۔  اس کے بعد مختلف انبیاء کرام مختلف علاقوں کی قوموں میں مبعوث کئے گئے تاکہ وہ معاشرے کے بگاڑ کو توحید و آخرت کی تعلیم سے درست کریں۔  چنانچہ قرآن کریم کچھ انبیائے کرام کی اس مربیانہ و مدرسانہ روش کو ان الفاظ میں نقل کرتا ہے۔

” بلاشبہ ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا اس نے کہا اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں یقیناً میں تمہیں ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈراتاہوں۔”الاعراف۔59

"اور ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالحؑ کو بھیجا اُس نے کہا "اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو، اُ س کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے وہی ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے اور یہاں تم کو بسایا ہے لہٰذا تم اس سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ، یقیناً میرا رب قریب ہے اور وہ دعاؤں کا جواب دینے والا ہے”(هود 11:61)

اور مدین والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیبؑ کو بھیجا اس نے کہا "اے برادران قوم، اللہ کی بندگی کرو، اُس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے تمہارے پاس تمہارے رب کی صاف رہنمائی آ گئی ہے، لہٰذا وزن اور پیمانے پورے کرو، لوگوں کو اُن کی چیزوں میں گھاٹا نہ دو، اور زمین میں فساد برپا نہ کرو جب کہ اس کی اصلاح ہو چکی ہے، اسی میں تمہاری بھلائی ہے اگر تم واقعی مومن ہو۔ )اﻷعراف 7:85)

اس کے علاوہ بھی قرآن کریم میں متعدد مقامات پر انبیاء کرام کے اس کردار کو بیان کیا گیا ہے۔  قرآن مجید کے علاوہ نبیؐ کی احادیث مبارکہ میں بھی اس عظیم پیشہ کے حوالے سے بہت جامع انداز میں روشنی ڈالی گئی ہے۔ اختصار کے ساتھ چند احادیث ملاحظہ ہوں۔ ۔مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے "(ابن ماجہ۔229)

"تم میں سے بہتر شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سیکھائے۔(بخاری۔ 5027)

یعنی خاتم الانبیاء ﷺنے معلّم کو انسانوں میں بہترین شخصیت قرار دیا ہے جو انسانیت کو صحیح تعلیم دے کر اسے حیوانات غیر ناطق سے ممیّز کرتا ہے۔  تدریس کے اس مبارک پیشہ کے حوالے سے دنیا کے دیگر مذاہب میں بھی کافی مواد موجود ہے جس کا ذکر یہاں طوالت کا باعث ہوگا لہذا صرف نظر کرنا درست معلوم ہوتا ہے۔

زمانہ کوئی بھی ہو اس پیشے کی افادیت اور اہمیت میں کبھی کمی واقع نہ ہوئی ہے اور نہ ہو پائے گی۔ یہ پیشہ اصحابِ صفہ نے بطور خاص لوگوں کی بلا اجرت تعلیم و تربیت کے لئے اختیار کیا تھا اور ان سے بہت سارے اصحاب رسول صلی الله عليه وسلم علم دین سیکھتے تھے۔  اسی طرح سے ایمہ فقہ اور ایمہ حدیث نے بھی تدریس کے فریضے کی انجام دہی کے لئے اپنی زندگیاں وقف کردی اور علم نسل در نسل منتقل ہوتا رہا۔

تدریس کا پیشہ اگرچہ پیمبرانہ ہے اور اس کی افادیت و اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے لیکن وقتی تطور و تبدیلی کے پیش نظر اس میں بہت ساری عادتیں اور ناروا چیزیں بھی شامل ہوگئیں ہیں جس کی وجہ سے یہ پیشہ بہت سی تنقید و تنقیص کا بھی مرکز بنا ہوا ہے اور متعدد غیر ذمہ دار مدرسین کی لاپرواہی کی وجہ سے عوام و خواص کی نظر میں داغ دار ہو رہا ہے۔ کچھ اساتذہ سرکاری ملازمت بھی کرتے ہیں اور نجی ٹیوشن سینٹرز پر بھی اس کام کو انجام دیتے ہیں۔ یہ ٹیوشن مراکز چلانے میں سرکاری اساتذہ پیش پیش ہیں۔  سکولوں اور کالجوں میں تدریس کا کام کسی حد تک بہتر بھی ہے اور کہیں کہیں اس میں اساتذہ کی طرف سے کلاس لیکچر کے دوران تساہل بھی برتا جاتا ہے۔ یہ تساہل ان ٹیوشن سینٹرز کو مستحکم بنانے میں شاہ کلید کا کام دیتا ہے۔ کلاس میں منتخب مضامین کو ادھورا رکھ کر استاد طلبہ کے اندر ٹیوشن کی ضرورت کو جنم دیتا ہے اور بالآخر وہ اس استاد کے دام تزویر میں پھنس جاتا ہے۔ اس طرح سے یہ پیمبرانہ پیشہ دوکانداری کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور طالب علم ضرورت سے مجبور تعلیم کا گاہک بن جاتا ہے۔ بے چارہ طالب علم استاد کے اس دوکاندرانہ رویے کی کسی طرح بغاوت کرنے سے قاصر ہونے پر وافر مقدار میں رقومات کی ادائیگی کرتا رہتا ہے۔

اس پیشہ کو پھر وہی وقار و عزت دلانے میں مختلف حیثیتوں میں ہم سب کو اپنا اپنا کردار نبھانا ہے۔

1۔ سب سے پہلے ہر استاد کو اپنے اندر فرض منصبی کی حق ادائی کے جذبہ کو پیدا کرنا ہوگا اور پوری کوشش کر کے طلبہ کو تعلیم سے آراستہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے،  ٹیوشن کے بجائے کلاس کو ترجیح دینے کو اپنا اصول بنانا نا گزیر ہے، عوامی روابط کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ طلبہ کی سہولیات سے متعلق مشکلوں کا ازالہ آسانی سے ہو پائے۔

2۔ حکام اور متعلقہ محکمہ کے اعلیٰ عہدیداروں کو بھی اس میں اپنا کردار نبھانا ہوگا۔  سکولوں اور کالجوں کے اساتذہ کو تحقیقی اور علمی کاموں پر مامور کرنا ہوگا تاکہ تدریس کے معیار میں پختگی واقع ہو سکے۔  وقتاً فوقتاً شہر اور دیہاتوں میں اچانک ان ٹیوشن سینٹرز کی خبر لینی ہوگی تاکہ  اس پیشہ کو دوکانداری کے داغ سے بچایا جا سکے۔  دور دراز علاقوں میں تعینات اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جانا کیا جانا چاہئے تاکہ استاد کی مالی پریشانی کا بھی ازالہ ہو سکے۔ جو اساتذہ کسی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں ان کا فی الفور نوٹس لیا جانا چاہئے تاکہ تدریس کا کام بہتر انداز میں انجام پا سکے۔

3۔ والدین کا اس کام میں اہم ترین کردار ہے۔ ان کو اساتذہ سے سکولوں میں جاکر ملاقاتیں کرنی چاہئے تاکہ ٹیچر پیرنٹ رابطہ مضبوط ہو۔ جس سے ایک تعلیم و تدریس کا خوشگوار ماحول قائم ہو سکے۔والدین کو اپنے بچوں کے بارے میں اساتذہ سے تفصیلی گفتگو کرنی چاہیے تاکہ بچے کی صلاحیت ہر طرح سے فروغ پا سکے۔

ہمیں یاد رہے کہ یہ پیشہ عظیم الشان ہے۔ اس پیشہ نے آج تک کئی برگزیدہ نفوس کو پیدا کیا ہے جن کا نام دنیا میں نہایت ادب و احترام سے لیا جاتا ہے۔  ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیہم السلام اور ان کے نیک پیروکار، تابعین، تبع تابعین، ایمہ حدیث و فقہ،  جید فلسفی،  منطق کے استاد،  سائینس کے بڑے محقیقین، دانشور،  جدید علوم کے مؤجدین، فلسفہ و حکمت کے لامثال متبعین، ریاضی کے ماہرین، معاشیات کے نکتہ سنج،  جغرافیہ کے شہسوار، بری و بحری علوم کے مسافرین وغیرھم اسی مقدس پیشے کی پیداوار ہیں جو رہتی دنیا تک انسانی زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے میں اپنی خدمات سے نوازتے رہیں گے۔  جس قوم کے اندر تدریس کا معیار اعلیٰ رہا ہے اس نے اپنے گردوپیش کو ہر طرح سے متاثر کیا ہے جس کی مثالیں تاریخ کے اوراق پر سنہرے حروف میں لکھی ہوئی ملتی ہیں۔  اس کار نبوت پر لگے داغ کو ایک استاد ہی صاف کر سکتا ہے بشرط وہ استاد ہو۔ ورنہ آج استاد سب کچھ کرتا ہے مگر اپنا اصلی کام کرنے میں ہچکچاتا ہے۔ یہ ایک المیہ ہے۔  ہر استاد کو اپنے رویے میں تبدیلی لانی ہوگی اور اپنی خدمات تن دہی کے ساتھ انجام دینی ہو گی تبھی جاکر

ہاتھ آئے گی ہمارے پھر وہی عظمت جو تھی 

قوم بھی حاصل کرے گی پھر وہی رفعت جو تھی. 

(طلبگار )

مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close