تعلیم و تربیت

تعلیم اور اس سے مسلمانوں کی بے حسی

صادق جمیل تیمی

مراکش کے قرویین میں 859 عیسوی میں عالمِ اسلام کی اولین یونیورسٹی قائم ہوئی۔ پھر 14 رمضان المبارک 359 ھ مطابق 971 عیسوی میں "جامع الازھر "کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔ چار سال بعد 975 عیسوی میں اس وقت کی فاطمی حکومت کے قاضی القضاۃ عبد الحسن النعمان نے رافضی فقہ پر لکچر دیا اور اسی دن جامع الازھر کے نام سے جو ادارہ معرضِ وجود میں آیا، وہ مسلم دنیا کی دوسری سب سے پہلی یونیورسٹی بن گیا۔ اس کی عمر بروقت 1046 سال ہے اور اس میں تعلیم و تعلم کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ زیادہ تر لوگ اسے ہی عالمِ اسلام کی اولین یونیورسٹی سمجھتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ 1046 سال کی اس لمبی مدت میں ہم نے کتنی یونیورسٹیاں قائم کیں ؟ اور بروقت عالمِ اسلام میں کل کتنی یونیورسٹیاں ہیں ؟ جواب آئندہ سطور میں مل ہی جاے گا لیکن اس سے پہلے ہم آپ کو کچھ تلخ باتیں بتانا چاہیں گے :

   1526 عیسوی میں ہندستان میں مغلیہ حکومت قائم ہوئی اور 181 سال تک قائم رہنے کے بعد 1857 میں فنا ہو گئی۔ اس دوران میں نصیر الدین ہمایوں کی بیوہ حمیدہ بانو بیگم نے ہمایوں کا مقبرہ تعمیر کرانے میں آٹھ سال لگاے۔ یہ مقبرہ دہلی میں آج بھی قائم ہے اور مغربی افق کی اوٹ میں سورج کے منہ چھپاتے ہی دیوانگانِ نظریہِ فرائڈ کی محفوظ و خاموش پناہ گاہ بن جاتا ہے۔ پھر کچھ دنوں بعد جلال الدین اکبر نے فتح پور سیکری آباد کیا اور اس کی دھرتی پر قلعہ تعمیر کروایا جس کے حصار میں اکبر کی طلاق شدہ رانیوں کے شیش محل بھی تعمیر ہوے۔ پھر بادشاہ سلیم الدین جھانگیر نے اپنے ایک محبوب ہرن کی یادگار میں "ہرن مینار "بنوایا۔ پھر بادشاہ شہاب الدین محمد شاہجہان نے اپنی محبوب ترین رانی ارجمند بانو بیگم کے پہلو میں بعدِ مرگ بھی جگہ پانے کے لیے تاج محل تعمیر کروایا جس میں 22000 مزدوروں نے مسلسل 23 سال تک کام کیا، تب جاکر وہ تاج محل تیار ہوا جسے تاجِ محبت کھا جاتا ہے۔ اسی تاج محل نے مغلیہ سلطنت کا دیوالیہ نکال دیا اور عوام پر اس قدر ٹیکس لاگو کر دیا گیا کہ ان کی جان پر بن آئی۔ اورنگزیب عالمگیر کی صورت میں اسے سنبھالا تو ملا لیکن اکیلا چنا بھاڑ نہیں پھوڑتا۔

حیرت کی بات ہے کہ ان 181 سالوں میں ایک بھی یونیورسٹی قائم نہیں کی گئی۔ کیا مغلیہ سلطنت کو یونیورسٹی کے قیام سے امریکیوں یا برطانویوں نے روکا تھا؟

موجودہ دور کی بات کریں تو دنیا بھر کے ایک ارب چالیس کروڑ مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم "آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس "کے ممبران ممالک کی تعداد 57 ہے۔ ان کل 57 ممالک میں 604 یونیورسٹیاں ہیں یعنی 20 لاکھ مسلمانوں کے لیے صرف ایک یونیورسٹی جب کہ ایک یہودی ملک اسرائیل میں 25 یونیورسٹیاں ہیں یعنی ہر ڈھائی لاکھ یہودیوں کے مجموعہ کے لیے ایک یونیورسٹی۔

آپ کو معلوم ہوگا کہ ان 604 یونیورسٹیوں میں سے کسی ایک نے بھی ایک بھی ایسا ساینس داں پیدا نہیں کیا جس کو اعترافِ خدمات کے طور پر ساینس کے لیے نوبیل انعام ملا ہو۔ ویسے بھی اب تک صرف دس مسلمانوں کو نوبیل انعام ملا ہے۔ مصر کے انور السادات، فلسطین کے یاسر عرفات، ایران کی شیریں عبادی، مصر کے محمد البرادعی، بنگلہ دیش کے محمد یونس اور یمن کے توکل کرمان کو امن کا، مصر کے نجیب محفوظ اور ترکی کے اورہان پامک کو ادب کا، اور پاکستان کے عبد السلام کو فزکس کا اور ترکی کے احمد زویل کو کیمسٹری کا نوبیل انعام ملا ہے۔

سچ ہے کہ 1999 میں احمد زویل کو کیمسٹری میں عظیم خدمات انجام دینے کے لیے نوبیل انعام ملا لیکن یہ بھی یاد رہے کہ انھوں نے کیمسٹری میں پہلی ڈگری تو یقینا اسکندریہ یونیورسٹی سے حاصل کی لیکن جس تحقیقاتی پیپر پر انہیں یہ انعام ملا، وہ ترکی میں نہیں،  کیلی فورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی میں تیار ہوا۔

1979 میں پاکستان کے عبد السلام کو (معلوم رہے کہ یہ قادیانی تھے) فزکس کا نوبیل انعام ملا۔ درست اور بالکل درست!!! لیکن اسے کیا کہا جاے کہ فزکس میں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے تو کیا لیکن نوبیل انعام کا مستحق جس کام نے انہیں ٹھہرایا، اسے انہوں نے اٹلی اور انگلینڈ کی یونیورسٹیوں میں انجام دیا۔

 تعلیم کے بارے میں دوسری اقوام عالم کی حساسیت اور ہماری بے حسی کا یہ کتنا حیرت انگیز شاخسانہ ہے کہ جب ہم تاج محل کی صورت میں ایک مقبرے کی تعمیر کر رہے تھے، اسی دوران وہ لوگ ہارورڈ یونیورسٹی قائم کر رہے تھے۔ وہی ہارورڈ جس کے 40 خوشہ چینوں کو اب تک، نوبیل انعام مل چکا ہے۔

 جب تک ہم ممتاز محل کی تعمیر سے فارغ ہوتے، انہوں نے 48 یونیورسٹیاں قائم کر لی تھیں۔ ان کی کسی بھی یونیورسٹی میں آج تک الوھیتِ عیسی علیہ السلام زیرِ بحث نہیں آئی لیکن ہماری اولین یونیورسٹی الازھر میں ہر زمانے میں مسلکی جنگ برپا رہی۔ بروقت تو اس کی حالت یہ ہے کہ اس کا نصابِ تعلیم علما و فضلا نہیں بناتے، پارلیمنٹ بناتی ہے اور پروفیسرز کا تقرر بھی سیاست کے گلیاروں میں ہونے کے بعد وہاں نافذ ہوتا ہے۔ موجودہ شیخ الازھر کا حال یہ ہے کہ 25 فروری 2017 میں بوسنیا ہرزے گووینا کے شہر گروزنی میں منعقد ہونے والی عالمی صوفی کانفرنس میں،  جس میں صحیح العقیدہ مسلمانوں کو اہلِ سنت و الجماعت کے گروپ سے نکال باھر کیا گیا، نہ صرف بہ نفسِ نفیس شرکت فرماتے ہیں بلکہ مذکورہ اندھے ظلم پر لب کشائی تک کی زحمت گوارا نہیں فرماتے۔ وہی یہ ازھر ہے جس کے افتا خانے سے کبھی یہ فتوی بھی صادر ہوا تھا کہ ہوائی جھاز سے سفر کرنا مسلمانوں کے لیے اس لیے جایز نہیں ہے کہ جھاز قبرستان کے اوپر سے بھی گزر سکتا ہے اور اس سے قبروں کی بے حرمتی کا گناہ سرزد ہوگا۔

 ایک بار پھر ہندستان آئیے اور دیکھیے کہ برادرانِ وطن کی تعلیمی حساسیت کس قدر شدید اور ہماری بے حسی کس قدر اندوھناک ہے!! یو جی سی کی آفیشیل سایٹ کے مطابق، ہمارے ملک میں 789 یونیورسٹیاں، 37204 کالجز اور 11443 بڑے نجی تعلیمی ادارے ہیں یعنی ہمارے 57 ملکوں کی یونیورسٹیوں کی مجموعی تعداد کے مقابلے میں 185 یونیورسٹیاں اس ایک ملک میں زیادہ ہیں۔

اس سے صاف جھلکتا ہے کہ تعلیم میں ہمارا گراف عالمی طور پر کس قدر گرا ہوا ہے!!!

مزید دکھائیں

صادق جمیل تیمی

جامعہ ابن تیمیہ سے 2015میں فارغ التحصیل ہوں۔ صحافت میں خاصی دلچسپی ہے درس و تدریس کے مشغلہ میں منہمک ہوں

3 تبصرے

  1. ہم مسلمانوں کو اپنی تاریخ کا علم ہونا ضروری ہے، آج ہم نے دینی اور جدید سائنسی تعلیم کو الگ الگ کردیا ہے جس وجہ سے آجکل کے مسلمان کنفیوژن کا شکار ہیں… یہ دینی اور جدید سائنسی علوم کو الگ الگ کیے تقریباً دو سو سال کا عرصہ ہوا ہوگا اس سے پہلے یہ علوم الگ نہیں ہوا کرتے تھے، تاریخ گواہ ہے کہ جتنے بھی بڑے سائنس دان گزرے ہیں وہ مسلمان تھے.. اور ان میں سے اکثر حافظ قرآن ہوا کرتے تھے..
    چلیں تاریخ میں جھانکتے ہیں اور اس سے سبق حاصل کرتے ہیں…
    عہدِ خلافت میں جب بحری جنگوں کی ضرورت پیش آئی تو مسلمانوں نے بحری بیڑے ایجاد کیے جس سے سمندری جنگوں کا مسئلہ حل ہوا آج مختلف ملکوں کے پاس جو وسیع و عریض بحری بیڑے موجود ہیں یہ اسی کی ترقی یافتہ شکلیں ہیں۔
    عہدِ اموی کے ابتدائی دور میں خالد بن ولید بن یزید بن معاویہ عالمِ اسلام کا پہلا سائنس داں گزرا ہے جس نے علمِ کیمیاء اور علمِ ہیئت پر خاص توجہ دی ۔ اس نے مصر اور اسکندریہ سے کئی اہلِ علم بلوائے اوران سے علمی مسائل پر بحث ومباحثہ کرتا تھا اور ان حکماء اور اصحابِ علم سے کئی علمی کتابوں کے ترجمے کروائے، سائنس کی دنیا میں یہ اس دور کا سب سے پہلا ترجمہ تھا۔ اسکے علاوہ اس نے اپنے ہاتھوں سے ایک کرہ (گیند) تیار کیا تھا، کاغذ سازی کا عمل اسی عہد میں مسلمانوں نے شروع کیا۔
    آٹھویں صدی عیسوی میں دوسرے عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے بغداد میں ایک لائبریری کی بنیاد رکھی اور دنیا بھر سے علماء اور اہل ہنر افراد کو بغداد میں اکٹھا کیا__انہیں تحقیق و تراجم کا کام سونپا گیا____دنیا کی قدیم تہذیبوں، جیسا کہ یونان، مصر، میسپوٹیمیا (عراق) اور فارس وغیرہ سے کتب جمع کی گئیں____زیادہ تر کتب یویانی، فارسی، لاطینی، چینی اور سنسکرت زبانوں سے عربی میں مترجم ہوئیں____775ء کو ابو جعفر کی وفات کے بعد اس جانشین مھدی نے اس کام کو جاری رکھا____
    خلیفہ ہارون الرشید کے دور میں ترجمے کے ساتھ ساتھ تحقیق (ریسرچ) کا بھی آغاز ہوا____اس نے بیت الحکمت کے نام سے ایک سرکاری ادارہ قائم کیا__جو بیک وقت مدرسہ بھی تھا، کالج بھی تھا__اور تجربہ گاہ (لیبارٹری) بھی تھا نیز دنیا کا سب سے بڑا کتب خانہ بھی کہلایا____ہارون الرشید کے دونوں بیٹوں، امین اور مامون نے یہیں تعلیم حاصل کی____

    مامون الرشید کو اسلامی سائنسی تہذیب کا بانی تصور کیا جاتا ہے____اپنے دور خلافت میں اس نے دنیا پہ اسلامی تہذیب کی برتری قائم کر دی____دار الحکمت میں دور دراز علاقوں، ہندوستان، چین و یونان سے کتابیں منگوا کر رکھی گئیں____
    وقائع نگاروں کے مطابق سو سے زائد اونٹوں پہ مشتمل قافلے دنیا بھر سے کتابیں بغداد منتقل کیا کرتے____
    طالبعلموں کی سہولت کے پیش نظر حنین ابن اسحاق العبادی کی سربراہی میں ایک علیحدہ ڈیپارٹمنٹ "دیوان الترجمان” تشکیل دیا گیا____یہ ڈیپارٹمنٹ صرف کتابوں کا ترجمہ کیا کرتا تھا__خلیفہ کے تعلیمی لگاؤ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دیوان الترجمان ہر کتاب کے عوض اس کے وزن کے برابر سونا وصول کیا کرتا لیکن خلیفہ نے کبھی اس پہ اعتراض نہیں کیا____
    سائنس اپنے وجود کی بقا اور ترقی کے لیے ہمارے آبا واجداد کی صدیوں تک مرہونِ منت رہی ہے، بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ انکے گلی کوچوں میں کاسہ گداگری وکشکول لیے تحقیقات اور انکشافات کی بھیک مانگتی رہی ہے۔ لیکن افسوس صد افسوس آج وہ ہمارے لیے متاعِ گمشدہ ہے۔
    جبکہ آج دینی تعلیم الگ ہو گئی ،(جدید تعلیم) کالج یونیورسٹی الگ ہو گئی، اور مسلمان اپنی قدر کھو بیٹھے اور اہل مغرب ہم پر حاوی ہو گئے..
    ہمیں اپنا تعلیمی نظام تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور پھر سے دینی اور جدید سائنسی علوم کو ایک کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم پھر سے اپنا عروج پا سکیں

  2. جناب صادق جمیل تیمی صاحب ۔ آپ اگر اپنی کم علمی اور دانشوری کو اپنے تک محدود رکھتے تو بہتر ہوتا۔ پوری قوم تو کم سے کم آپ کی اس کم علمی کے عذاب سے بچے رہتی۔ تعلیم‘ جس کے بارے میں آپ نے اپنی کم علمی کو صرف ِ قلم کیا ہے اس کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے ’خوشحالی‘ ۔ تعلیم صرف ایک ذریعہ ہوتی ہے منزل نہیں۔ منزل ’خوشحالی‘ ہی ہوتی ہے ۔ آپ نے تعلیم کو ہی منزل سمجھ لیا ہے ۔

    اب اس خوشحالی کے بارے میں بھی اپنے علم میں اضافہ کیجئے ۔ اور اپنے مضمون میں جن مغلوں اور مسلم حکمرانوں پر آپ نے تبرا بھیجا ہے ذرا ان کے دورِ حکومت میں ہندوستان میں خوشحالی ، معاشی صورتحال ، جی ڈی پی وغیرہ کے بارے میں بھی اپنے علم میں اضافہ کرلیجئے ۔

    آپ کی اطلاع کیلئے صرف ایک ہی سطر پیش ہے کہ
    مغلوں کے دور میں ہندوستان کی جی ڈی پی ، عالمی جی ڈی پی کا ۲۷؍فیصد تھا (اگر وہ جاہل اور تعلیم کے تئیں غافل تھے، تو میرے خیال سے وہ غفلت کروڑوں درجہ بہتر تھی کیونکہ تعلیم ذریعہ ہے منزل نہیں)

    اور جن انگریزوں کی مدح سرائی میں آپ نے زمین و آسمان کے قلابے ملا دئیے ہیں وہ انگریز جب یہاں سے گئے تب ہندوستان کی جی ڈی پی عالمی جی ڈی پی کا ۳؍فیصد تھی۔

    کم از کم ظالم کو ظالم لکھنا سیکھئے اور اپنی قوم کو لعنت ملامت کرنے کے شوق پر قابو پائیے۔

  3. ندیم عبد القادر صاحب! آپ کی بات بالکل درست ہے آیندہ ان شاءالله مسلمانوں کے کارہائے نمایاں پر خامہ فرسائی کیا جائے گا..
    مذکورہ مضمون پر مشتمل مواد و فکر مضمون نگار کی ذاتی رائے ہے اس سے دوسرے کا اتفاق ضروری نہیں

متعلقہ

Close