تعلیم و تربیت

تعلیم: یہ شئے نایاب ہے انمول عالم تاب ہے

ابراہیم جمال بٹ
آج کے اس دور میں جہاں مادّی منفعت اور خود غرضی کی بنا پر ہر رشتہ اور تعلق کی اہمیت مفقود ہوتی جارہی ہے، وہیں تعلیم حاصل کرنے کے دوران استاد اور شاگرد کے مبارک روحانی رشتہ کی اہمیت کم اور اس کاتقدس بھی پامال ہوتا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں اساتذہ سے اپنا مقام ومرتبہ سمجھنے میں کوتاہی ہورہی ہے ا ورطلبہ بھی ان کی قدر ومنزلت سے ناواقف ہوتے جا رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے آئے دن طلبہ اپنے اساتذہ کے تئیں بدتمیزی اور گستاخی کے مرتکب بھی ہورہے ہیں۔ اگرچہ اس بارے میں آج پوری دنیا کے ذی حس لوگ فکر مندتو ہیں مگر یہ روگ ہے کہ اس میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا جا رہاہے۔نتیجہ یہ کہ پورا تعلیمی ڈھانچہ اس قدر متاثر ہوا ہے کہ تعلیمی ادارے اور ان سے فارغ طلبہ بہت ساری خرابیوں کے موجب بن رہے ہیں۔ اگرچہ تعلیمی اداروں سے طلبہ عملاً مشین تو بن جاتے ہیں لیکن جس مقصد کے لیے تعلیم دی جاتی تھی وہ مقصد ان طلبہ میں نہیں پایا جاتا۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے: ’’ تعلیم ایک ہنر ہے جس سے ماہرانِ خصوصی نہیں بلکہ انسان بنائے جاتے ہیں‘‘۔ چنانچہ آج اسی صورت حال کا سامنا ہے، ماہرینِ خصوصی یعنی ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر اور سیاست دان تو تیار ہو رہے ہیں لیکن انسان کی اصل تعمیر نہیں ہو پارہی ہے۔ روح کے سکون کا ایک ذریعہ تعلیم بھی ہے ، اور اگر صحیح معنوں میں یہ تعلیم ایک طالب علم کو نہ ملے تو انسان جانوروں سے بدتر صورت اختیار کر سکتا ہے، جس کا عملی نمونہ آج ہم خود بنے بیٹھے ہیں۔ ایک جگہ ایڈیسن لکھتا ہے : ’’سنگ مر مر کے ٹکڑے کے لیے جس طرح سنگ تراشی ہے ویسے ہی انسانی روح کے لیے تعلیم ہے‘‘۔ ایک اور جگہ پر فروبل لکھتا ہے کہ: ’’تعلیم کا مقصد انسان کو کھری، پُر خلوص، بے عیب اور پاک وصاف زندگی بسر کرنے کے قابل بنانا ہے‘‘۔
غرض تعلیم اگر صحیح معنوں میں ایک طالب علم کو دی جائے تو یہ واضح ہے کہ طلبہ کے ذریعے سے وہ عملی انقلاب آئے گا جس کا آج ذی حس انسان متمنی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ آج کیا کچھ پڑھایا جا رہا ہے اور اس پڑھائی کے نتیجے میں کیا کچھ حاصل ہو رہا ہے۔۔۔؟پڑھائی کا مقصد کیا بن چکا ہے۔۔۔؟ اور مقصد کے حصول کے لیے کیا کیا عملی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔۔۔؟ ان جیسے سوالات کا اگر آج کے تعلیمی نظام کی روشنی میں جواب طلب کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ تعلیم بس ماہرانِ خصوصی بنانے کے لیے دی جارہی ہے اور وہ بھی ایسے ماہرین تیار کئے جا رہے ہیں جن سے انسان نام کی چیز اس دنیا میں رہنا مشکل دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں استاد اگرچہ موجود ہیں لیکن استاد کے معنی کیا ہیں، استاد کا مقام کیا ہے، اور اس کے حقوق طلبہ اور طلبہ کے حقوق اساتذہ پر کیا ہیں، اس سے آج کے طالب علم اور استاد دونوں کا دور دور کا کوئی واسطہ نہیں رہا۔ اس کی لا پرواہی یا آزاد خیالی نے اس قدر تعلیمی نظام اور اس سے جڑے لوگوں کا کام ختم کر دیا کہ آج حقیقی معنوں میں نہ ہی کوئی اُستاد ہے اور نہ ہی کوئی شاگرد، یہ رشتہ کب کا اس دنیا سے نابود ہوچکا ہے۔ چنانچہ یہ رشتہ مثلِ باپ بیٹے کا جیسارشتہ تھالیکن آج اس رشتہ کو ختم کر کے اس عظیم اور پاک رشتہ کی جگہ آزاد خیالی کے نام پر ایک دوسرا رشتہ قائم کیا جا چکا ہے جس کے موجدبھی ہم خود ہی ہیں۔ آج زندگی کے دوسرے تمام شعبوں کی طرح تعلیم کے بارے میں بھی مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔ کوئی آزاد خیالی کے علمبرداروں کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر صرف اور صرف اپنے ذہن و گمان کو ہی جگہ دیتے ہو ئے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے اور کوئی آج کے اس نام نہاد دورِ جدید کا سہارا لے کر اپنے آپ کو ایک عملی مشین بنانے کی دوڑ میں لگ کر اسی مشین کی طرح اپنی زندگی کی گاڑی کو چلانا چاہتا ہے۔ تیسری جانب کوئی اس قدر تعلیم میں مست ومگن ہو چکا ہے کہ اسے صرف اور صرف اپنی فکر اور اپنے سوچ کی بالادستی کا خیال رہتا ہے۔ دین ومذہب کا انسانی زندگی میں کیا مقام ہے اس جانب یہ سارے طبقہ ہائے طلبہ کم ہی دیکھتے ہیں۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ انسان اس قدر مذاہب اور دین کو بالائے طاق رکھ کر اس تعلیمی نظام کی رنگینیوں میں مست ہوچکے ہیں کہ وہ ڈاکٹر اور انجینئر تو بن رہے ہیں، وہ سائنس دان اور سیاست دان بھی بن رہے ہیں، پروفیسر اور فلاسفر بن رہے ہیں، لیکن ایک انسان، جو تعلیم کا اصل مقصد تصور کیا جاتا تھا نہیں بن پا رہا ہے۔ آج تعلیمی اداروں میں دھنگے فساد ہو رہے ہیں، یہاں تک کہ قتل وغارت گری بھی ہو رہی ہے ،یہ نتیجہ ہے کہ تعلیم کے اصل مقصد کو پس پشت ڈال کر اپنی ’’آزاد خیالی‘‘ کابھرم قائم کر نے کا۔ شاگرد اگرچہ آج بھی طالب علم اور شاگرد (Student) ہی کہلاتا ہے لیکن ان دونوں کے درمیان جو رشتہ قائم ہونا چاہیے تھا وہ مقدس رشتہ آج کی دنیا میں لگ بھگ کہیں نہیں پایا جاتا۔ اُستاد جو روحانی باپ کے مرتبہ پر فائز تھا، اسے چند روپیوں کے عوض ایک ملازم تصور کر کے اس سے ملازمت کروائی جاتی ہے۔ دوسری جانب اساتذہ بھی اپنے مقصد اور مرتبہ سے اس قدر دور نکل چکے ہیں کہ وہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ ’’کس طرح کہاں سے پیسہ آتا ہے ، وہ اپنے آپ کو ملازم ،اور شاگرد کو پیسے دینے والا مالک بنا دینے میں ہی اپنی بھلا سمجھتے ہیں۔جس کے نتیجے میں آزاد خیال طالب علم نہ تو گھر کا ہو پاتے ہیں اور نہ ہی اساتذہ کے۔گھروں میں اپنے ماں باپ کا سہارا بننے کے بجائے یہ طالب علم ان کو ایک مقام پر بوجھ تصور کرتے ہیں اور انہیں اپنے ہی گھروں سے دھکے مار مار کر یا تو نکال باہر کر دیتے ہیں یا انہیں اس طرح جینے پر مجبور کر دیتے ہیں ،وہ نہ تو اپنے گھر کے رہتے ہیں اور نہ ہی گھر کے لوگوں کے۔ اسی طرح ایک استاد بھی اس معاشرے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا رہا ہے ، وہ بھی نہ تو اس تباہی سے خود بچ پاتا ہے اور نہ ہی اپنے زیر تربیت طلبہ کو بچا پاتا ہے۔ یہی سوچ ہے جو آج کی اس دنیا میں پنپ رہی ہے اور اسی سوچ کے نتیجے میں آج ہم اپنے گھر اور معاشرے کی تباہی کا نظارہ کر رہے ہیں۔ بایں ہمہ اس میں ایک گہری تبدیلی آسکتی ہے لیکن پہلے اپنی سوچ کو تبدیل کرنا ہو گا۔ طریقہ تعلیم اور نظام تعلیم کو بدلنا ہو گا، ہر ایک شخص کو وہ مقام دینا ہو گا جو اس کا ازل سے ابد تک متعین ہے، اور ہر اس محدودو لایعنی خیال سے اپنے آپ کو آزاد ہو کر اس لامحدودہستی کو بسر وچشم تسلیم کرنا ہو گا جس کی لامحدودیت میں ہی انسان اور انسانیت کی بقا اور کامیابی کا راز مضمر ہے۔ اور یہ سب کچھ آج بھی مذہبی اور دینی تعلیمات میں موجود ہے۔ اصلاح احوال کی مخلصانہ نیت ہو تو اس جانب توجہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ دین و دنیا کی تفریق ختم کر کے ایک ایسا تعلیمی نظام کا قیام ضروری ہے جس سے انسان کی تعمیر سیرت ہو سکے، ہنر مندی کے ساتھ ساتھ دیانت داری اور امانت پسندی کا ایک نمونہ قائم کیا جاسکے، جس سے ایک ’’دھوکہ باز سیاست دان‘‘ کے بجائے ایک ’’باکردار اور باادب سیاست دان ‘‘پیدا ہو جائے، ایک ایسا ڈاکٹر اور انجینئر پیدا ہوسکے جو لوگوں کا علاج اور ان کی تعمیر وترقی نہ صرف اپنا ذریعہ معاش بنائے بلکہ اس کے لئے اس کا ہر کام عبادت کا مرتبہ پا جائے۔ استاد اپنے شاگردوں کا روحانی باپ جیسا بن کر ان کی روحانی تربیت کا ذریعہ بن جائے اور اس طرح اپنی تعلیم سے شاگرد کو آراستہ کر دے کہ وہ شاگرد ماہر بھی بن جائے اور انسان بھی باقی رہے۔چنانچہ اس ضرورت کے پیش نظر سب سے پہلا کام معلّم کا ہے، معلم صحیح تعلیمات سے آراستہ ہو گا تو طالب علم بھی صحیح تعلیم کے نور سے منور ہو پائیں گے اور اگر استاد ہی اصل اور حقیقی روحانی تعلیم سے نابلد ہو تو اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ہماری تربیت کے بجائے ہماری تباہی کے ہتھیار ہی بن جائیں گے۔ حق یہ ہے کہ اسلام ایک ایسادین ہے جس کا اپنا ایک نظام تعلیم ہے۔ اس سسٹم اور طریقہ کار کے نتیجے میں کس قدر لوگوں کا جنم ہو چکا ہے اس سے تاریخ کے اوراق سنہرے الفاظ سے بھرے پڑے ہیں۔ اسلام کے اس تعلیمی نظام میں معلم کا اپنا ایک درجہ ہے۔ وہ طلبہ کا روحانی باپ ہے اور ملت کا معمار بھی۔ آئندہ نسلوں کی سیرت سازی اسی کے ذمہ ہے اور مستقبل کے شہریوں کا بننا اور بگڑنا بہت حد تک اسی کی کوششوں اور فکر پر منحصر ہے۔ چنانچہ اس اہم منصب کے لحاظ سے ایک معلّم کے اعلیٰ اوصاف ہونے چاہئیں۔ معلم کے اوصاف اعلیٰ ہوں گے تو طلبہ کے اوصاف پر ان کی چھاپ پڑے گی اور اگر معلم اوصافِ حمیدہ سے خالی ہوں تو طالب علموں کی کھیپ سے اعلیٰ اوصاف کا حامل انسان نکل آنا مشکل ہے۔ معلم اعلیٰ سیرت وکردار کا حامل ہونا چاہیے، اس میں علمی لیاقت اور تدریسی صلاحیت کے ساتھ ساتھ بچوں کی نفسیات اور طریقِ تعلیم سے واقفیت بھی ہونی چاہیے۔ ایک معلم میں صبر وتحمل، معاملہ فہمی ، قوتِ فیصلہ، طلبہ سے فکری لگاؤ، خوش کلامی اور مؤثر اندازِ بیان ہونا چاہیے۔ اس کام میں اخلاص اور لگن، ہمدردی اور دل سوزی اور اصلاح کے جذبہ کے ساتھ ساتھ نظم وضبط قائم کرنے کی صلاحیت بھی ہونی چاہیے۔ یہ صفات اور لوازمات لازم وملزوم ہیں اور یہ وہ ضروری اوصاف ہیں جنہیں ہر معلّم کو اپنے اندر پروان چڑھانے کی ضرورت ہے کیونکہ ان کے بغیر اصل اور حقیقی تعلیم وتربیت جیسا کام نتیجہ خیز ہو ہی نہیں سکتا۔
سبق پھر پڑھ صداقت کا، شجاعت کا، عدالت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

مزید دکھائیں

ابراہیم جمال بٹ

کشمیر کے کالم نگار ہیں

متعلقہ

Close