تم میرے بعد کس کی عبادت کروگے؟

اللہ تعالی نے والدین کے ذمہ اولاد کی دین تعلیم وتربیت کی گراں بار ذمہ داری ڈالی ہے ،اور اس بات کا حکم دیا ہے کہ وہ اپنی اولاد کی دینی فکر میں رہا کریں ،کسی لمحہ بھی ان کی تربیت سے غفلت سنگین نتائج کا سبب ہوسکتی ہے ۔اولاد کا حصول جہاں ایک عظیم نعمت ہے وہیں اس کی صحیح نگہداشت اور پرورش بھی ایک بڑا اور کڑاامتحان ہے ،اس کے ذریعہ اللہ تعالی ماں باپ کو آزماتا ہے اور اولاد کی حقیقی محبت کو جانچتا ہے ۔اولاد سے سچی محبت صرف یہی نہیں ہے کہ ان کے کھانے پینے ،رہنے سہنے اورلباس و پوشاک کا بہتر انتظام کریں،تعلیم کے لئے اچھے اسکولوں کا انتخاب کریں اور بے فکر ہوجائیں،بلکہ حقیقی محبت اور سچی فکر یہ ہے کہ وہ جس طرح دنیا میں ان خوش حال زندگی کے آزرو مند رہتے ہیں اسی طرح آخرت میں بھی ان کی بھی بھر پور کامیابی کی فکر ان کو سوار ہو ،یہ بے چینی طاری ہو کہ وہ یہاں کی اعلی نعمتوں کے جہاں حق دار بنیں وہیں آخرت کی ابدی نعمتیں بھی ان کو حاصل ہو ،اس کے لئے ان کے ایمان کی فکر کرنا اور ایمانی تقاضوں کے مطابق ڈھالنا یہ اہم ترین کام اور ذمہ داری ہے ۔اس کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور عظمت کو بتانے کے لئے اللہ تعالی نے قرآن کریم میں اپنے نبیوں کے واقعات اور ان کی فکر مندیوں کا تذکرہ فرمایا ہے ،تاکہ انسانوں کو اس بات کا احساس ہو کہ ایک نبی اور خدا کا مقرب بندہ اپنی تمام تر کوشش وفکر کو کھپادینے کے باجود اپنے آخری لمحہ تک بھی کس قدر اولاد کی فکر میں رہتا ہے،تربیتِ اولاد میں کسی قسم کا کسر باقی نہ رکھنے کے باوجود بھی ان کے سلامتئ ایمان کی فکر ا ن کو لاحق ہوتی ہے ۔چناں چہ قرآن کریم میں جن انبیا ء کرام کے واقعات کو بیان کیا گیا ہے ان میں حضرت یعقوب ؑ بھی ہیں کہ جب بسترِ مرگ پر آچکے اور دنیا سے رخصتی کا وقت قریب ہوچکا تو اپنی اولاد کو بلا کر پوچھا کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟ ۔بیٹوں نے اطمینان دلاتے ہوئے اور باپ کی تسلی کا سامان کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کی موجودگی جس طرح دین پر قائم رہیں اور ہمارے آباء واجداد سیدنا ابراہیم ؑ و اسماعیل ؑ اور اسحق کے پرودگار کی عبادت کرتے رہیں اسی طرح آپ کے بعد بھی ہم اسی رب العالمین کی بندگی کریں گے جس کی تعلیم وتلقین ہمارے بڑوں کی ۔قرآن میں اس کو اس طرح پیش کیا گیا :أم کنتم شھداء اذ حضر یعقوب المو ت اذ قال لبنیہ ماتعبدون من بعدی قالو ا نعبد الھک والہ أبائک ابراھیم و اسمعیل و اسحق الھا واحدا ونحن لہ مسلمون ۔(البقرۃ :133)کیا تم اس وقت خود موجود تھے جب یعقوب کی موت کا وقت آیا تھا ،جب انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا تھا کہ تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے ؟ان سب نے کہا کہ ہم اسی ایک خداکی عبادت کریں گے جو آپ کا معبود ہے اور آپ کے با پ دادوں ابراہیم ، اسماعیل اور اسحاق کا معبودہے ،اور ہم صرف اسی کے فرماں بردار ہیں۔مفتی شفیع صاحب ؒ آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ :انبیا ء ؑ کے اس طرز خاص میں عام انسانوں کیلئے یہ بھی ہدایت ہے کہ وہ جس طرح ان کی دنیوی پرورش اور ان کے دنیوی آرام و راحت کا انتظام کرتے ہیں اسی طرح بلکہ اس سے زیادہ ا ن پر لازم ہے کہ اولاد کی نظری ،فکری ، عملی ، اور اخلاقی تربیت کریں ،برے راستوں اور دیگر برے اعمال و اخلاق سے ان کو بچانے میں سعی بلیغ کریں کہ اولاد کی سچی محبت اور اصلی خیر خواہی یہی ہے ۔( معارف القرآن :1/350)اسی طرح قرآن کریم میں بہت سی جگہوں پر حضرت ابراہیم ؑ کی دعاؤں کو نقل کیا گیا ہے جن میں حضرت ابراہیم ؑ نے اللہ تعالی سے اپنی اولاد کی دیندادی اور اطاعت و فرماں برداری کے لئے خصو صی اہتمام سے دعائیں مانگی ہیں اور جس طرح منشائے رب کو پورا کرنے میں آپ ؑ ہر وقت پیش پیش رہتے اپنی اولاد اور اہلِ خانہ کو بھی اس میں آگے رکھنے کی کوشش فرمائی ہے ۔آپ ؑ کی بہت ساری دعائیں ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے :رب الجعلنی مقیم الصلوۃ ومن ذریتی ربنا وتقبل دعاء۔(ابراھیم :40)یا رب ! مجھے بھی نماز قائم کرنے والابنا دیجئے اور میری اولاد میں سے بھی ( ایسے لوگ پیدا فرمادیجئے جو نماز قائم کریں)۔
حضرت یعقوب علیہ السلام کو اپنے آخر وقت یہ فکر بے قرار کئے جارہی تھی کہ میرے بعد میری اولاد نہ جانے کس راستہ پر چل پڑے گی اور عبادت و بندگی کے معاملہ میں کہیں سیدھے راستہ سے بھٹک تو نہیں جائے گی اس لئے انہوں نے اپنی تسلی اور اور اولاد کی دینی فکر مندی کے لئے معلوم کیاکہ "ماتعبدون من بعدی” کہ تم میرے بعد کس کی عبادت کروگے؟مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی ؒ اس جملہ کی اہمیت اور عظمت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:اگر مجھ سے کوئی پوچھے کہ ملت کے لئے صرف ایک پوسٹر بناناہے ،اور صرف ایک جملہ کی گنجائش ہے ،اور اس کے علاوہ کچھ نہیں تو میں کہوں گا کہ” ماتعبدون من بعدی” لکھ دو ،پوسٹر کے نیچے لکھو کہ ہر مسلمان اپنی اولاد سے دنیا سے جانے سے پہلے سوا ل کرے اور جب تک دنیا میں ہے اپنا جائزہ لے ،محاسبہ کرے کہ اس کے نزدیک اس کی اہمیت ہے یا نہیں ؟وہ اپنے بچوں کے لئے اپنی آئندہ نسلوں کے لئے یہ اطمینان کرنا ضروری سمجھتا ہے یانہیں کہ "ماتعبدون من بعدی” میرے بعد تم کس کی عبادت کروگے؟میں آپ سے کہتا ہوں کہ ہم اور آپ سب اپنے اپنے دلوں کو ٹٹولیں اور یہ دیکھیں کہ واقعی اس سوال کی ہمارے یہاں اہمیت ہے یا نہیں ؟اور یہ سوال افراد کے پیمانے پر ، خاندان کے پیمانے پر ،برادری کے پیمانے پر ،معاشرہ کے پیمانے پر ،محلہ کے پیمانے پر ،قصبہ کے پیمانے پر ،اور آخر میں میں کہتا ہوں کہ ملت کے پیمانے پر اور ملت ہندیہ اسلامیہ کے پیمانے پرہمارے دلوں پر نقش ہے یا نہیں ؟ہماری آئندہ نسل ہمارے بعد کس راستہ پر چلے گی ، وہ کس گروہ وملت کی پیروہوگی؟کس کی پرستش کرے گی ؟کن عقائد کو مانے گی؟یہ سب سے بڑا اطمینا ن ہے ، ا س کے بغیر میں سمجھتا ہوں کہ مسلمان مسلمان نہیں رہ سکتا جب تک وہ کسی درجہ اطمینان نہ کرلے کہ میری نسل اسلام کے صحیح راستہ پر رہے گی ،خواہ اس کے لئے کتنی ہی قربانیاں دینی پڑیں!۔(آئندہ نسلوں کے ایمان کی ذمہ داری:22)
نبی کریم ﷺ نے اولاد کے سلسلہ میں ماں باپ کو متنبہ بھی فرمایا کہ کل روزِ قیامت ان سے اولاد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔چناں چہ ارشاد ہے :تم سے ہر شخص راعی ہے نگہبا ن اور ذمہ دار ہے اور ہر شخص سے قیامت کے دن اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔۔۔۔۔مرد اپنے گھروالوں کا نگران ہے اور قیامت کے دن اس کے بارے میں سوال ہوگا۔( بخاری :849)قرآن کریم میں فرماگیا کہ : یا ایھا الذین اٰ منوا قوا انفسکم واھلیکم نا را وقود ھا الناس والحجارۃعلیھا ملائکۃ غلاظ شداد لایعصون اللہ ما امرھم ویفعلون مایؤمرون(التحریم :6)ائے ایمان والو! اپنے آپ کو او ر اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسا ن اور پتھر ہوں گے۔اُ س پر سخت کڑے مزاج کے فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے کسی حکم میں اُ س کی نافرمانی نہیں کرتے ،اور وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے ۔حضرت عمرؓ نے پوچھا تھا کہ یا رسول اللہ اپنے آپ کو تو جہنم سے بچانا سجھ میں آگیا لیکن گھر والو ں کو کیسے بچائیں تو آپ نے فرمایا کہ جس سے تم کو منع کیا گیاان کو منع کرواور جن کاتم کو حکم دیا گیا ان سے ان کو بھی روکو۔اسی طرح آپ کا ارشاد ہے کہ : قیامت کے دن سب سے سخت عذاب میں وہ ہوگا جواپنے گھر سے بے خبر رہا۔( روح المعانی:28/156)
اگر اولاد دین دار ہوگی تو یہ ماں باپ کے لئے صدقہ جاریہ بنے گی اور والدین کے رفعِ درجات کا سبب ہوگی ،چناں چہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اذا مات الانسان انقطع عملہ الامن ثلثۃ الا من صدقۃ جاریۃ أ و علم ینتفع بہ أو ولد صالح یدعو لہ ۔( مسلم : حدیث نمبر؛3092)جب انسان مر جاتا ہے تو اس سے اس کے عمل کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے،مگر تین قسم کے عمل ایسے ہیں جن کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا۔(۱)صدقہ جاریہ (۲)ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جاسکے ۔( ۳)ایسانیک لڑکا جو اس کے لئے دعا کرتا رہے۔
موجودہ حالات میں اولاد کی دینی تعلیم و تربیت کا اچھا انتظام کرنا والدین کی اہمیت ترین ذمہ داری ہے ،نئی نسل کے ایمان کی حفاظت کی فکر اگر نہیں کی گئی اور دینی ماحول میں ان کو پروان نہیں چڑھایا گیا تو پھر کوئی ماں باپ اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتے ہے کہ آنے والے دنوں میں ان کی اولادیں دینِ حق پر قائم و دائم رہیں گی۔کیوں کہ اس وقت فتنوں اور آزمائشوں کی بھر مار ہے ۔حالات دن بدن خراب ہوتے جارہے ہیں ،اسلامی تعلیمات سے ناواقفیت اور لاعلمی کے نتیجہ میں قسم قسم کے فتنوں کا لوگ شکار ہورہے ہیں۔اور مسلم گھرانوں سے تعلق رکھنے والے افراد اسلام کے خلاف طرح طرح کی باتیں کررہے ہیں ،جیسا کہ گذشتہ دنوں کیرالا ہائی کورٹ کے جج کمال پاشاہ نے کہا کہ:مرد کو جب چار عورتوں سے شادی کرنے کا اختیار ہے تو پھر عورت کو بھی چار مردوں سے شادی کرنے کی اجازت ہونی چاہیے ۔یہ بات کوئی غیر مسلم نہیں کہہ رہا ہے اور نہ کوئی ناخواندہ یا جاہل بلکہ ایک پڑھا لکھا اور ہائی کورٹ کا ایک جج ۔جب کہ پیشۂ وکالت سے وابستہ افراد کو چاہے وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو ان کو اسلامی قوانین اور شرعی تعلیمات کا اچھا خاصا علم ہوتا ہے اس کے باجود ایک مسلم جج کہلانے والے نے نہایت جہالت کا ثبوت دیتے ہوئے اس طرح کا اظہار کیا ،ا س سے قبل یہی بات گستاخ تسلیمہ نسرین نے بھی کہی تھی ۔اس طرح کے واقعات اہل ایمان کو جھنجھوڑدینے کے لئے کافی ہیں کہ مسلم طلباء و طالبات اسکولوں اور کالجوں میں کس طرح کی تعلیم پارہے ہیں ،اور ان کے ایمان و عقیدہ کو بگاڑنے اور تعلیماتِ دین سے برگشتہ کرنے کی کیسی سازشیں کی جارہی ہیں جس کا ایک ثبوت مذکورہ واقعہ ہے کہ ایک مسلمان کہلانے والا جج نے بے دریغ اس بات کا اظہار کرتا ہے جو اسلام اور انسانیت کے خلاف ہے اور شرعی تعلیمات کے بالکل خلاف ہے ۔اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اسکولوں کے نظام و نصاب میں تبدیلی لانے اور اپنے افکار و نظریات کو تھوپنے کی مکمل کوششیں کی جارہی ہیں ۔ایسے حالات میں ہمیں اپنی اولاد کی دین کی بنیادی تعلیم کا نظم کرنا اور دینی تربیت سے آراستہ کرنا نہایت ضروری ہے ورنہ ایمان و عقیدے کے لالے پڑجائیں گے ،شہر و اطراف میں غیر اسلامی تحریکی بھی زور و شور سے نوجوانوں کو بہکانے اور گمراہ کرنے کی محنتوں میں لگی ہوئی ہیں اور خاص کر ان کا نشانہ کالجوں اور یونی ورسیٹیوں میں پڑھنے والے طلباء ہیں ،جیسا کہ گزشتہ دنوں شہر حیدرآباد کی مشہور مسجد میں چند نوجوانوں کو پکڑا گیا "جو شکیل بن حنیف "کے فتنہ کی تبلیغ میں لگے ہوئے تھے ،شکیل بن حنیف جو اس وقت کا ایک تازہ فتنہ ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ مہد ی اور مسیح ہے ۔ چوں کہ ہماری نوجوانوں کو دین کی بنیادی اور اہم تعلیمات کا علم نہیں ہے ،انہیں نہیں معلوم کہ احادیث مبارکہ میں قرب قیامت کی نشانیوں کو کس طرح بیان کیا گیا اور حضر ت مہدی کی شخصیت کا کیسے تعارف کروایا گیا ،ان باتوں سے لاعلم ہونے کے نتیجہ میں وہ بڑی آسانی کے ساتھ نہ صرف فتنوں کا شکار ہورہے ہیں بلکہ اس کی تبلیغ میں بھی مصروف ہورہے ہیں ۔اس لئے گرد و پیش کا جائزہ لیں اور حالات کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے اپنے نسلوں کے ایمان کی حفاظت کی فکر کریں ۔
اس وقت ہمارے ملک کی صورت حال بھی ہمارے سامنے ہے ،ملک کو خاص رنگ میں رنگنے اور یہاں کی مشترکہ تہذیب و ثقافت کو ختم کرکے یکساں نظام کو قائم کرنے کوشش کی جارہی ہے ،اسکولوں میں یوگا ،سوریہ نمسکار ،وندے ماترم ،وغیرہ کو ضروری قرار دینے کی بھی سعی چل رہی ہے ،اور عقیدۂ توحید کو متزلزل کرنے والے نظریات اور افکار کو عام کرنے کی مستقل جد وجہد جاری ہے ،آنے والے دنوں میں مذموم عزائم کی بنیاد پر وطن عزیز کا نقشہ بدلنے کے خواہاں ہیں ،ایسے پرُ خطر حالات میں ہماری ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ ہم آنے والی نسلوں کی فکر کریں ،ایمان و اسلام کی امانت کو ان تک پہنچانے میں کسی قسم کی لاپرواہی کا مظاہر ہ ہونے نہ دیں ،ورنہ نظام و نصاب کی تبدیلیاں کہیں ایمان و عقیدہ کو تباہ کرنے والی نہ بنیں۔
دینی تعلیم کا حصول وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ،اسلامیات سے گہری وابستگی رکھنے والے افراد کی تیاری اور اعلی دنیوی تعلیم کے ساتھ دینی مزاج کے حامل نوجوانوں کی تیاری وقت کا اہم تقاضا ہے ۔اعتدالِ فکر ، سلامتئ مزاج اور دینی ذوق سے مزین نوجوان اگر میدان عمل میں آئیں گے تو پھر ان شاء اللہ دینِ حق کی صحیح ترجمانی ہوگی اور دشمنوں کی ہزار کوششیں بھی ہماری نسلوں کا کچھ بھی نہیں بگاڑ پائیں گی۔چناں چہ اس کے لئے وقت کا ایک تقاضا یہ ہے کہ اس وقت جو گرمائی تعطیلات ملی ہوئی ہیں ان کا صحیح استعمال کیا جائے ،گرمائی دینی کلاسس سے بھر پور فائدہ اٹھا یا جائے اور ہمارے بچے جو سال بھر غیر دینی ماحول میں رہے ا ن کو ایک مکمل دینی ماحول فراہم کرنے کی کوششش کی جائے۔چھٹیوں کو ضائع ہونے بچائیں اور اوقات کو لایعنی مشاغل میں گزرنے سے روکیں۔دین کی بنیادی تعلیمات کے حصول کے لئے ان ایام کو غنیمت جانیں ، دینی تعلیم و تر بیت کا منظم انتظام کریں اورموسم گرما میں چھٹیوں کے پیشِ نظر چلائے جانے والی سمر کلاسس سے بھر پور فائدہ اٹھا کر قرآن و سنت کی تعلیمات اور دین کی بنیادی معلومات حاصل کرنے کا راستہ ہموار کریں تو انشاء اللہ جہاں ان کی چھٹیاں صحیح مصرف میں لگیں گی وہیں والدین اپنی اولاد کی تعلیم وتربیت کے معاملہ میں کوتاہی کرنے سے بچنے والے ہوں گے ، کیوں کہ سال بھر ہمارے بچے جن اسکولوں اور انگریزی تعلیم گاہوں میں تعلیم پاتے ہیں وہاں تو دینی تعلیم وتربیت کا نظام نہیں ہوتا اور سال بھر بچے غیر دینی ماحول میں رہتے ہیں اس کے اثرات بھی ان کے ذہن و دل پر چھا ئے ہوئے ہوتے ہیں ایسے میں اسلامی تربیت اور اخلاقی ماحول مہیا کرنا انتہائی ضروری ہے ۔کیوں کہ رفتہ رفتہ ہر چیز کا اثر مضبوطی اختیا ر کرلیتا ہے جب غیروں کی تہذیب و کلچر اور ان کی روایات کے اثرات اگر مسلمان بچے کے ذہن و دل میں نقش کر جائیں تو پھر والدین اور معاشرہ دونوں کے لئے تباہی کا سبب ہوگا۔اور جو کچھ ہم کو نوجوانوں میں بگاڑ نظر آرہا ہے اس میں دونوں کا دخل ہے اسکولوں کے ماحول اور والدین کی لاپرواہی کا۔جس لگن اور تڑپ سے ہم ان کے دنیوی مستقبل کے بارے میں سوچتے ہیں ،کیا کبھی ہم نے ان کے دین کے بارے میں اسی فکر کا اظہار کیا ہے ؟جس طرح ان کی ظاہری کامیابی سے ہم خوش ہوتے ہیں کیا ہم ان کی دینی ترقی اور نیک مزاجی کے لئے بھی کوشاں رہے ہیں؟ ان کے لئے بہترین نظامِ زندگی فراہم کرنے کے لئے ہم نے اپنی توانائیوں کو صرف کردیا توکیا ہم نے ان کے ایمان و اسلام کی سلامتی کے لئے بھی کچھ جد وجہد کی ہے؟ اولاد اگر پڑھائی چور ہو یا بے روزگا رہو تو ہم کس قدر واویلا مچاتے ہیں ،پریشان ہوتے ہیں ،کیا ہم ان کے بے دینی کو دیکھ کر بھی کچھ درد اور ٹیس اپنے دل میں محسوس کرتے ہیں؟بحیثتِ مسلمان یہ احساس اور فکر ہمارے دلوں میں جاگزیں ہو کہ "ماتعبدون من بعدی”کہ تم میرے بعد کس کی عبادت کروگے ؟



⋆ مفتی محمد صادق حسین قاسمی

مفتی محمد صادق حسین قاسمی

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

غریبِ شہر تو فاقے سے مرگیا

ہم کم از کم اپنی دعوتوں میں بچا ہوا کھانا ضائع کرنے کے بجائے غریبوں میں تقسیم کریں، اپنے گھر میں بچاکر سڑادینے یا نالیوں میں پھینک دینے کے بجائے غریبوں تک پہنچائیں، اس کی وجہ سے جہاں ہماراکھاناضائع نہیں ہوگا، ہمیں ثواب ملے گا وہیں کتنے گھروں میں کچھ راحت آئے گی،فاقہ زدہ چہرہ پر زندگی کی بہارآئے گی اوربھوک مٹے گی، بالخصوص ایسے گھروں کو تلاش کریں جہاں مرد نہ ہو اور بیوہ عورت اپنے بچوں کی پرورش کرنے میں لگی ہو،یا ایسے معذور مرد جو کام کاج سے بالکل محروم ہوں تو یقینا اس سے عظیم خدمت بھی انجام پائے گی،