تنویر منیار- اردو میڈیم کا مایہ ناز طالب علم

73

تحریر: محمد اسحاق … ترتیب: عبدالعزیز

   15 ستمبر 1997ء کو گلبرگہ میں Human Age Association کی جانب سے ایک سیمینار ’’اردو میڈیم کے مسائل اور ان کا حل‘‘ رکھا گیا تھا۔ یہ سمینار کیا تھا ایک شاندار جلسہ تھا، جس میں اردو میڈیم اسکولوں کے ایک ہزار سے زائد ٹیچرز شریک تھے، علاوہ ازیں قریب سات سو برقعہ پوش خواتین ٹیچرز ضرور رہی ہوں گی جو مسلسل پانچ گھنٹوں تک بیٹھی رہیں۔ اس سمینار میں شرکت کی دعوت پر شولا پور کے ایک اردو میڈیم اسکول کے طالب علم تنویر منیار اور ان کے والد عثمان منیار بھی شریک تھے جو وہاں ایک پرائمری اردو میڈیم اسکول کے ٹیچر ہیں۔ سال گزشتہ تنویر کی شہرت اخباروں کے ذریعہ سارے ملک میں پھیل گئی تھی، اس لئے اس سے ملنے کی تمنا تھی، جس ہیرے کی تلاش تھی وہ خود سامنے آگیا۔ اس کو دیکھنے اور پرکھنے کا موقع مل گیا۔ تنویر منیار ابتدا ہی سے ’’سوشل اردو ہائی اسکول‘‘ شولا پور (مہاراشٹر) کے طالب علم رہے ہیں جنھوں نے 1997ء میں میٹرک کے امتحان کے 14 لاکھ امیدواروں میں کامیاب امیدواروں کی فہرست میں پہلا مقام حاصل کیا۔ جملہ 96.4 فیصد نشانات حاصل کرکے سب کو حیرت زدہ کر دیا۔ نصف صدی کے دوران اردو میڈیم اسکولوں اور طلبہ کا جو حال سارے ملک میں ہوچکا ہے وہ سب پر عیاں ہے۔ اردو میڈیم کے نام سے ہی پست معیارِ تعلیم کا داغ لگا ہوا ہے جس میں خود اردو یا طلبہ کا کوئی قصور نہیں بلکہ اس سارے عرصہ میں حکومتوں کی اردو دشمنی کی کھلی پالیسیاں اس صورت حال کی پوری طرح ذمہ دار ہیں۔

   اس مایوس کن گھٹا ٹوپ اندھیرے میں کسی مسلمان اردو کے طالب علم کا لاکھوں امیدواروں پر سبقت لے جاکر اول مقام حاصل کرنا نہایت حیرت انگیز کرشمہ ہے۔ محکمہ تعلیمات کے عہدہداروں اور حکومت کے ذمہ داروں نے ضرور اس کے پرچوں کی دوبارہ جانچ کروائی ہوگی۔ انھیں یہ معلوم کرکے تعجب ہوا ہوگا کہ وہ ایک اردو کے پرچہ میں نہیں بلکہ پانچ مضامین میں ساری ریاست میں سر فہرست ہے۔ اردو میں 94فیصد، انگلش میں 95 فیصد، ہندی و مراٹھی میں 93 فیصد، سوشل سائنس میں 98 فیصد (150/148)، جس کے بعد عہدہ داروں کو یقین ہوگیا کہ یہ تو کھرا سونا ہے تو پھر نتیجہ کا اعلان کر دیا گیا۔ یہاں پر خود ان عہدہد اروں کو مبارکباد دینے کو جی چاہتا ہے جنھوں نے تعلیم میں انصاف پسندی سے کام لے کر کسی امتیاز کو خاطر میں نہ لاکر نتیجہ کا اعلان کرکے علم کی شان اور اپنے وقار کو بلند کرلیا۔ کسی اور طرح یہ ممکن بھی نہیں تھا۔ عام طور پر دوسرے نمبر پر ایک آدھ نمبر یا اعشاریہ کے عدد کے فرق کی وجہ سے بعض امیدوار اس اعلیٰ پوزیشن سے محروم ہوجاتے ہیں لیکن تنویر منیار کے بعد والے طالب علم کے نشانات 34 کم تھے۔ اس کو چھونے کی کوئی امید بھی نہیں تھی۔

   یہ کہاں تک صحیح ہے جس کی ہمیں تصدیق نہ ہوسکی کہ گزشتہ پچاس برسوں میں ہندستان کی ساری ریاستوں میں میٹرک کے امتحان میں کسی امیدوار نے 96.4 فیصد نشانات حاصل نہیں کئے ہیں۔ یہ ایک خود شاندار تاریخی ریکارڈ ہے۔ یہ اعزاز ریاست مہاراشٹر ہی کو نہیں بلکہ سارے ملک کے مسلمانوں اور اردو میڈیم ایجوکیشن کو حاصل ہوا ہے۔ مہاراشٹر کے ہر زبان کے اخبار نے مبارکباد دی۔ انگریزی پریس نے بھی کھل کر داد دی۔ بال ٹھاکرے کا اخبار ’’سامنا‘‘ نے پہلے صفحہ پر تنویر کی تصویر مبارکباد کے ساتھ شائع کی۔ سینکڑوں کی تعداد میں مختلف سطح کے جلسوں میں تنویر کو کیسہ زر پیش کئے گئے۔ شولا پور ضلع کی ایک سوشل تنظیم ’’رام لنگویشور شکشا پرسارک منڈل اینڈ کریڈ اسمتھا‘‘ کے صدر مہادیو چکو (سابق ایم ایل اے) نے ایک بڑے جلسہ میں تنویر کو ایک لاکھ روپیہ کا نقد کیسہ زر پیش کرتے ہوئے کہاکہ ’’تنویر تم نے شولا پور کا نام سارے ملک میں روشن کر دیا‘‘۔ بمبئی کی کئی انجمنوں نے اعزازات سے نوازا ہے۔ انجمن اسلام کے ڈاکٹر اسحاق جمخانہ والا نے پانچ ہزار روپئے کا کیسہ زر پیش کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ وہ تنویر کے آئندہ تعلیمی پروگرام میں مالی مدد کریں گے۔ تنویر کے والد عثمان منیار پرائمری اسکول کے ٹیچر ہیں۔ ان کی والدہ محترمہ امام بی بھی ٹیچر ہیں جو 1971ء میں ایس ایس سی کے امتحان میں پورے ضلع شولا پور میں ٹاپ آئی تھیں۔ ماں، باپ، اسکول کے اساتذہ کو اندازہ ہوچکا تھا کہ تنویر ایک دن نام روشن کرے گا۔

   محکمہ تعلیمات کی پریس کانفرنس: 27جون 1997ء کو بمبئی میں پریس کانفرنس ہوئی جس میں ایس ایس سی بورڈ کے چیئر مین بھی شریک تھے۔ ریڈیو اور ٹی وی پر بھی تنویر کا انٹرویو لیا گیا۔ اخباری نمائندوں کے سوالات کیا کچھ ہوتے ہیں وہ تو آپ جانتے ہیں۔ چند سوالات اور جوابات آپ بھی سن لیں۔

س:      تنویر؛ ضرور تمہیں اردو میڈیم میں تعلیم حاصل کرنے سے بہت سی مشکلات پیش آئی ہوں گی؟

ج:       آپ کا سوال الٹا ہے۔ میری مادری زبان اردو ہے۔ اردو میڈیم میں پڑھنے سے ہی آج ٹاپ کرسکا۔

س:      کیوں، انگریزی میڈیم کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے؟

ج:       انگریزی میڈیم کے طلبہ کو سمجھنے سے زیادہ رٹنا پڑتا ہے اور طالب علم احساس کمتری کا شکار ہوجاتا ہے۔

س:      تم نے ایک عرصے سے اچھے ٹیوشن لے کر تیاری کی ہوگی؟

ج:       میں نے آج تک کسی جماعت یا کسی مضمون میں ٹیوشن نہیں لیا۔ ٹیوشن سے دماغ مقفل ہوجاتا ہے۔ دماغ دوسروں کے قبضہ میں رہتا ہے۔ طالب علم خود نہیں سوچتا اور خود کسی مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ اس لئے کہ ٹیوٹر حاضر جواب ہے۔

س:      تمہیں یہ حوصلہ کہاں سے ملا؟

ج:       قرآن شریف سے۔

س:      قرآن کا میٹرک کی تعلیم سے کیا تعلق؟

ج:       قرآن شریف کی پہلی آیت ہی پڑھنے، لکھنے، زبان اور قلم سے متعلق ہے۔ علم کی اہمیت اس سے بڑھ کر کیا ہوسکتی ہے کہ ہمارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سے برس پہلے فرمایا کہ علم اگر چین میں بھی ملتی ہو تو وہاں جاکر حاصل کرو۔ بزرگوں، میرے والدین، میرے ٹیچرس اور ہیڈ ماسٹر صاحب کی ہمت افزائی اور بے حساب ہمدردی کا نتیجہ ہے۔

س:      آئندہ چل کر کیا بنو گے؟

ج:       آئی اے ایس(IAS)۔

س:      اس فیلڈ کا انتخاب کیوں؟

ج:       ہمارے ملک کو ایماندار افسروں کی ضرورت ہے۔ اگر ہم ایمانداری سے ملک کی خدمت کریں تو ایڈمنسٹریشن میں ہم چین اور جاپان کو پیچھے کرسکتے ہیں۔

س:      تم اپنا آئیڈیل کس کو مانتے ہو؟

ج:       کس زاویہ سے؟

س:      زندگی میں؟

ج:       میں زندگی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا آئیڈیل مانتا ہوں۔

س:      آئی اے ایس بننے کے بعد کس طرح کام کروگے؟

ج:       ایڈمنسٹریٹیو سروس میں حضرت عمر فاروقؓ  کو اپنا آئیڈیل مانتا ہوں۔

س:      کس لئے؟

ج:       کیونکہ انھوں نے باوجود ایک بہت بڑی مملکت کا خلیفہ ہونے کے بہت سادہ زندگی بسر کی۔

س:      اچھا اگر تم کلکٹر بن گئے اور تمہارے والدین یا رشتہ دار کسی جرم میں تمہارے سامنے آئیں تو کیا کروگے؟

ج:       میں حکومت کا وفادار ہوں، انھیں معاف نہیں کروں گا۔

س:      اچھا بتاؤ کہ تم اپنی قوم کیلئے کیا کروگے؟

ج:       ہماری قوم تعلیم میں بہت پیچھے رہ گئی ہے۔ تعلیمی بیداری ضروری ہے۔ اس جانب خاص توجہ دوں گا کیونکہ میری قوم ہی میرا سرمایہ ہے۔

   طلباء کے کام کی چند باتیں : تنویر منیار آپ ہی کے جیسا ایک ذہین طالب علم ہے۔ وہ آج کل اردو میڈیم فرسٹ ایئر انٹرمیڈیٹ کا طالب علم ہے۔ اس سے باتیں کرتے وقت خیال آیا کہ ہمارے طلبا کے کام کی باتیں نہ ہوں تو یہ سارا مضمون نامکمل رہ جائے گا۔ باتوں باتوں میں بہت سی باتیں ہوئیں۔ آپ کے کام کی باتیں بھی سن لیں۔

   تنویر نے بھی چوتھی جماعت سے بمبئی کا اردو اخبار ’’انقلاب‘‘ پابندی سے پڑھنا شروع کیا۔ پانچویں جماعت ہی میں اس نے اپنی زندگی کا نصب العین (گو یہ لفظ بڑا ہے) مقرر کرلیا کہ وہ آئندہ چل کر آئی اے ایس کیڈر کا بڑا عہدہ دار بنے گا۔ اس کیلئے جو تیاری اور جدوجہد ضروری ہے اس کیلئے اس نے خاموشی سے تیاری شروع کر دی۔

   ٹی وی پر وہ صرف خبریں، معلوماتی پروگرام اور کرکٹ کا کھیل دیکھتے ہیں۔ روزانہ آٹھ گھنٹے اپنے ہوم ورک، مطالعہ اور اسٹڈیز کیلئے مختص کر رکھے ہیں۔

   اپنی جنرل نالج بڑھانے کیلئے میگزین اور کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔ وہ انگریزی زبان کے پرچہ میں ریاست بھر میں فرسٹ ہیں۔ ڈکشنری ان کی اچھی دوست ہے۔ ان کے ہاں انگریزی الفاظ کا بہت ذخیرہ ہے۔ وہ انگریزی میں گفتگو بے تکلف کرسکتے ہیں۔ دنیا کے پچاس ممالک میں ان کے قلمی دوست (Pen Friends) ہیں۔ انگریزی میں خطوط لکھتے رہنے سے انھیں اپنی انگریزی کی مشق ہوتی رہی۔ اس کا دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ ان کے ہاں مختلف ممالک کے چھ ہزار ڈاک ٹکٹ کے البم ہیں۔ یہ البم تنویر کی Hobby کا ایک شاندار ریکارڈ ہے۔ مختلف قسم کے عطریات بھی جمع کرنے کا شوق ہے۔

   امتحان سے قبل روزانہ دس گھنٹے اسٹڈی میں رہتے ہیں اور قریب ایک سو ماڈل پرچے ہر مضمون کے وہ حل کرچکے تھے۔ ع

’’کمی نہیں قدرداں کی اکبرؔ کرے تو کوئی کمال پیدا‘‘

’’کہیں پھول چھپتا ہے کانٹوں میں نہاں ہوکر ‘‘

   ’’پس اس ملک میں کامیابی کا یہ راز معلوم ہوا کہ تعصب کا اندھیرا جتنا بھیانک ہے، محنت اور لگن کا اجالا اس سے بڑھ کر ہے‘‘۔

تبصرے