حاصل مطالعہ 

 منورعلی مصباحی رام پوری

مطالعہ کیا ہے؟

مطالعہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی  پڑھنے اور جائزہ لینے کے ہیں ، فن مطالعہ کے ماہرین کے مطابق : مطالعہ مصنف کی مراد سے آگاہ ہونے کا نام ہے۔یا یوں کہیے کہ  مطالعہ  تحصیل علوم و معارف  کے  لیے   تفصیلی،تحقیقی، تجزیاتی اور فکری عمل  کانام ہے۔

مطالعہ کی اہمیت:

    مطالعہ  کی اہمیت سے  انکار نہیں کیا  جاسکتا۔ مطالعہ  ذہنی  و  علمی ترقی  کا  باعث ہے۔ مشہور انگریزی مفکر  لارڈ بیکن   کے مطابق   مطالعہ انسانی شخصیت کی تکمیل کا سبب ہے۔  مطالعہ کو  روح کی  غذا بھی کہاگیا ہے۔ کیونکہ جس طرح   غذا سے  انسانی جسم کی نشو ونما ہوتی ہے اسی طرح مطالعہ سے روحانیت کی   نشو ونما ہوتی ہے۔ ذاتی مطالعہ ہی  انسانی  گفتگو کا  محور ہوتاہے،انسان جو کچھ بولتاہے وہ  اس کے  مطالعہ کا  آئینہ دار ہوتاہے،کسی  بھی مفکر  کے افکارو نظریات  اس کی  سالہا سال کی محنت شاقہ  کا نتیجہ ہوتے  ہیں ۔ مطالعہ کی اہمیت  کے لیے اتنا ہی کافی ہے  کہ  دنیا کا   کوئی بھی مفکر اور  دانشور  اس سے بے  نیاز نہیں ہے۔

مطالعہ کے آداب:

(۱)آداب مطالعہ کے  سلسلے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ مطالعہ کے لیے  پرسکون اور  خوشگوار  جگہ کا انتخاب  کیا جائے۔

(۲) مطالعہ کے لیے ایک ایسی  شاندار ٹیبل   یا ڈیسک کا انتظام ہو جس پر تمام ضروری  کتب دستیاب ہوں تاکہ دوران  مطالعہ  باربار  اٹھنے کی  حاجت نہ پڑے۔

(۳) اس  کے بعد سب سے  پہلے کتاب کی فہرست کا  ایک  دوبا ر بغور مطالعہ  کیا جائے۔ پھر  جو خاص لگے اس  کا مطالعہ کریں ۔

(۴)  بعد ازاں  باقاعدہ  کتاب   کا  مطالعہ شروع  کردیں اوردرمیان  مطالعہ  پیش آنے  والی عمدہ تعبیرات اورنئے افکارو نظریات  پر خط  کھینچ دیں ۔

(۵) اگر  کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو اسے چھوڑ کر  آگے  بڑھ جائیں اور  بعد   میں  کسی عالم سے رجوع کرکے  حل کرلیں ،مگر  ایسے مقامات  کو   خط  کشیدہ کرنا نہ بھولیں ۔

(۶) مطالعہ مکمل  کرنے کے بعد  خط کشیدہ   عبارتوں پر نظر ثانی  کرلیں ۔ اس سے  مطالعہ     مزید  محفوظ  ہوجائے گا۔

(۷) مطالعہ میں تنوع  پیدا کریں ، گھنٹوں  تک  مسلسل  ایک ہی کتاب  یا فن کا  مطالعہ نہ کریں بلکہ فن وار  مناسب اوقات  کی  تنظیم  کاری  کے ساتھ کتابوں   کا مطالعہ کریں ۔جس  وقت  دماغ   تازہ دم ہو،اس وقت مشکل کتابوں کا مطالعہ  کریں ۔

مطالعہ کس  کتاب کا کیا  جائے؟

فن  مطالعہ کے ماہرین کا کہنا  ہے کہ   ماہرین  فن اساتذہ یا  مربیوں کے مشورے  کےبغیر   مطالعہ  کی  شروعات  نہ کریں ۔لہذا  اس سلسلے میں کسی فنکار اور  مخلص جانکار  کو اپنا مشیر یا  نگران مطالعہ  بنالیں  تا کہ   صحتمند  مطالعہ  تک رسائی  ممکن  ہو۔ لیکن نگران مطالعہ یا مشیر مطالعہ کے  مشوروں کی  مخالفت ہرگز نہ کریں ۔یہ طریقہ مبتدی قارئین کے لیے ہے رہے تجربہ کار اور ماہرین  تو  وہ اس سے مستثنی  ہیں۔

مطالعہ کا شوق  کیسے پیدا  کیا جائے؟

قارئین مطالعہ کو  اپنی  ذاتی، سماجی اور ملی ضروریات  کی  تکمیل   کے لیے  لازم  سمجھنے کےساتھ ساتھ مندرجہ  ذیل  امور  کو  پیش نظر رکھے:(۱) علمی  ماحول میں نشست و برخاست کریں ۔

(۲)دوست و احباب کو  عمدہ  اور مفیدکتابیں  بطور  تحفہ پیش  کریں ۔

(۳) دوستوں سے   ان کے مطالعہ کے بارے میں پوچھتے رہیں کہ آج کل   کون  کون سی کتابیں  ان کے زیر مطالعہ ہیں ؟

(۴) کتب خانوں  اور  لائبریریوں کا   وقتا  فوقتا دورہ کرتے رہیں۔

مطالعہ کی رفتار کیسے بڑھائیں ؟

(۱)یومیہ مطالعہ کو اپنی عادت  بنائیں ،تھوڑا کریں مگر  روزانہ کریں۔

(۲) مکمل انہماک، توجہ  اور دل جمعی  کے  ساتھ  مطالعہ کریں۔

(۳)معمولات زندگی  کاایک  جدول تیار کریں اور  اس پر  عمل  درآمد کی  کوشش کریں ۔

(۴) درمیان مطالعہ اگر کوئی بات پڑھی ہوئی  آجائے تو سرسری مطالعہ کرکے آگے بڑھ جائیں ۔

(۵) ہر کتاب کو  مکمل پڑھنا ضروری نہیں  بلکہ فہرست دیکھ کر  اندازہ کرلیں  کیا  چیز آپ کے لیے  اہم ہے۔

(۶)سرعت  مطالعہ کے سلسلے میں  ایک نکتہ  ماہرین نے  یہ بھی بتایا ہے  کہ  پڑھتے وقت الفاظ کا تلفظ نہ  کیا جائے بلکہ  صرف  نگاہوں سے  حروف کو  دیکھتے  چلے جائیں لیکن یہ  نکتہ  ماہرین ہی کے لیے  مفید ہے؛مبتدیوں کے لیے نہیں۔

مطالعہ کیسے  محفوظ رکھا جائے؟

(۱)مذکورہ بالا آداب کی  رعایت کریں۔

(۲)مطالعہ  کا  تسلسل برقرار رکھیں ،بلاضرورت ناغہ نہ کریں۔

(۳)جس کتاب کا مطالعہ کریں  اس  کا خلاصہ  یا  نوٹ  تحریر کرنے کی  کوشش کریں۔

(۴)جس کتاب کا  مطالعہ   آپ کرچکے ہیں ،اس کا دوبارہ مطالعہ  کرنے کی  کوشش کریں۔

مطالعہ کے فوائد:

(۱)مطالعہ   آپ کی یادداشت  کو  بہتر بناتاہے۔

(۲) غم اور بے چینی کو  دور کرتاہے۔

(۳)مطالعہ سے علم میں اضافہ  اور معاملہ  فہمی میں تیزی آتی ہے۔

(۴)مطالعہ سے ذہن وفکر میں بالیدگی اور روح میں تازگی پیدا ہوتی ہے۔

(۵) مطالعہ دماغی انحطاط اور  تنزلی کو روکتاہے۔



⋆ منورعلی مصباحی

منورعلی مصباحی

2 تبصرے

  1. حاصل مطالعہ کے شائع کرنے پر بہت بہت شکریہ!!!

  2. مطالعہ انسان کی سوچ کو وسعت دیتا ہے ،کسی بات کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے ،جس شخص کا مطالعہ جس قدر کم ہو گا ،اس کی سوچ اتنی محدود ہو گی..
    مطالعہ انسان کے قلم کو رواں کرتا ہے ،قلم کو چلنے کی قوت دیتا ہے ، مطالعہ آپ کو نئے الفاظ اور نئی تراکیب فراہم کرتا ہے ،جس سے آپ کی تحریر و تقریر میں نکھار پیدا ہو تا ہے ،صاحب مطالعہ بآسانی لکھ سکتا ہے ،جبکہ مطالعہ کے بغیر لکھنا اگر ناممکن نہیں ہے تو مشکل ضرور ہے،یہی مطالعہ آپ کو فتنوں سے آگاہ کرتا ہے ،ان کے سد باب کے ذریعے بتاتا ہے ،یہی مطالعہ قائدانہ اصول بتاتا ہے ،قیادت کی صلاحتیں پیدا کرتا ہے ،یہی مطالعہ ہمیں ادب سکھاتا ہے ۔
    لیکن یہی مطالعہ آپ کو کافر و زندیق بنا سکتا ہے ،یہی مطالعہ آپ کو اسلام سے بیزار کرسکتا ہے ،یہی مطالعہ آپ کو خدا سے دور لے جاسکتا ہے ،یہی مطالعہ آپ کے سرکی چادر چھین سکتا ہے ،یہی مطالعہ آپ کی جنسی خواہشات کو ابھار سکتا ہے ،یہی آپ سے زنا کرواسکتا ہے ۔
    لہذا ضروری ہے مطالعہ کی بھی حدود متعین کی جائیں
    کیونکہ یہ بات تو اٹل ہے ،انسان جو کچھ بھی پڑھتا ہے ، اس کا اثر ضرور ہوتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے