تعلیم و تربیت

خدمتِ خلق کاوسیع مفہوم اورضرورت واہمیت

مولانامحمدجہان یعقوب

درددل کے واسطے پیداکیاانسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں
’’خدمت خلق‘‘ ایک جا مع لفظ ہے ،یہ لفظ ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے ۔ ’’خلق‘‘مخلوق کے معنی میں ہے اوراس کاروئے زمین پر رہنے والے ہر جاندارپراطلا ق ہوتا ہے اور ا ن سب کی حتی الامکان خدمت کرنا، ان کا خیال رکھنا ہمارا مذہبی واخلاقی فرض ہے، ان کے ساتھ بہتر سلو ک وبر تاؤکی ہدایت اللہ رب العزت نے بھی دی ہے اور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات بھی اس سلسلے میں تاکید کرتی ہیں۔دین میں خدمت خلق کے مقام کو سمجھنے سے اس کے وسیع تر مفہوم کو سمجھنا آسان ہوجائے گا۔
قرآن مجیدمیں جگہ جگہ ایمان لانے والوں کی جن اہم صفا ت کا ذکر کیا گیا ہے، ان میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ،یتیموں کی دیکھ بھا ل کرنا ،مسکینوں کو کھانا کھلانا بھی شامل ہے ۔اور ان صفات کی نہ صرف ترغیب دی گئی ہے ،بلکہ ان صفات کو نہ اپنانے پر بھڑکتی آگ کی وعید سنائی گئی ہے ۔اللہ کے آخری نبی حضرت محمدﷺ نے اپنی پوری زندگی دوسروں کی خدمت میں گزاری ،آپ کی دعوت میں مخلوقات کی خدمت پر بہت زور ملتا ہے ۔قربان جائیے اس نبی ﷺ کی ذات پر ،جس نے عا لم انسانیت کی خدمت میں اپنی سا ری زندگی گزار دی اور ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ ان کی ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے ۔جب آپ نے پہلی اسلامی ریاست کی بنیا د رکھی اس وقت اپنے پہلے خطبے میں ارشاد فر مایا:
’’ افشواالسلام، واطعمواالطعام وصلواالارحام وصلوا والناس نیام ،تدخلوا الجنہ بسلام ‘‘۔
ترجمہ:سلام کو عام کرو ،کھانا کھلا ،صلہ رحمی کرو،راتوں کو قیام کرو ، اپنے اس رویے کے نتیجے میں سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جا ؤگے۔
یہ بھی خدمت خلق کی ایک صورت ہے۔ گویا جنت میں داخل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ انسانوں کے سا تھ اچھا برتا کیا جائے ،ضرورت مندوں کی ضرورتوں کو پورا کیا جائے۔ ایک موقع پر اللہ کے رسولﷺ نے فر مایا: من لا یرحم لا یرحم
ترجمہ:جو رحم نہیں کر تا اس پر رحم نہیں کیا جاتا ہے ۔
اس ارشاد میں نہایت متاثرکن انداز میں مخلوق پر رحم کرنے اور انسانوں کے ساتھ رحمت و شفقت کا برتا کرنے کی ترغیب دی گئی ہے ۔یہ اسلام کی رحمت عامہ ہے جس کی تعلیم رحمتہ للعالمین ﷺنے دی ہے ،انسان، انسان ہونے کی حیثیت سے ہمدردی کا مستحق ہے،خواہ اس کا تعلق کسی قوم اور مذہب سے ہو، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مستحق وہی لوگ ہیں، جو اس کی مخلوق کے حق میں مہربان ہوتے ہیں ،لیکن جن کا برتا ؤمخلوق کے ساتھ ظالمانہ ہوتا ہے، وہ یہ ثابت کر دکھاتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مستحق نہیں ہیں،لہٰذا جو لوگ انسانیت کے رشتے کو کاٹیں گے اللہ تعالیٰ ان سے اپنی رحمت کے رشتے کو کا ٹے گا ۔ایک حدیث میں بھی اس قسم کا مفہوم آیاہے۔
خدمتِ خلق مطلو ب بھی ہے اورمقصود بھی۔دین کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کوجہنم سے بچایا جائے۔ اگر کسی کا گھر جل رہا ہو اور اس کو بچایا جائے تو یہ خدمت خلق ہے ، اور اگر موت کے بعد وہ آگ میں گرنے والا ہو اور اس کو بچایا جائے تو کیا یہ خدمت خلق نہیں ہے ؟یقینایہ بھی خدمت خلق ہے۔گویا مومن کی پوری زندگی ،چاہے وہ دعوتی نوعیت کی ہو، امدادی نوعیت کی ہو ،غرض کسی بھی نوعیت کی ہوخیر خواہانہ ہو نی چاہیے۔یہ سب کچھ اس خدمت کے زمرے میں آتا ہے ۔لیکن اس وقت امت کا سواد اعظم صرف مالی تعاون کو خدمت خلق سمجھتا ہے۔اس کو یہ نہیں معلوم کہ مالی تعاون ضروری تو ہے، لیکن اگر ہم اس کے ساتھ انسانوں کی ابدی کامیابی میں تعاون نہ کریں ،ان کو آگ میں جلنے سے نہ روکیں تو ہم سے اس کے بارے میں دریافت کیا جائے گا۔
ان آیات و احادیث سے معلوم ہوا کہ دین میں خدمت خلق کا کتنا جامع تصور موجود ہے۔اس کی عکاسی انسان کی پوری زندگی ،سوچ ،ذہن،دل ودماغ سے ہونی چاہیے۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی ایک شعبہ قائم کر لے اور مطمئن ہو جائے کہ اس نے اپنا فرض ادا کر دیا ۔ہر صاحب ایمان کو دل کی گہرائیوں سے اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ کیا وہ ان خدمات کو انجام دے رہا ہے۔خدمت خلق کے لیے ضروری نہیں ہے کہ آپ کے پاس پیسا ہو ،بلکہ اس کے بغیر بھی آدمی پوری زندگی مخلوقات کی خدمت کر سکتا ہے۔خدمت خلق یہ بھی ہے کہ آپ کی ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔ایک آدمی مال سے خالی ہاتھ تو ہو سکتا ہے لیکن وہ دل سے دوسروں کا خیال رکھ سکتا ہے، یہ بھی بہت بڑی خدمت ہے ۔آپ کی زبان سے دوسروں کو تکلیف نہ پہنچے،جب بھی بولیں بھلی بات بولیں ،دوسروں کا برا نہ سوچیں،ہاتھ سے کسی کو تکلیف نہ پہنچائیں،لوگوں سے مسکرا کر ملیں یہ سب انسانوں کی خدمت میں شامل ہے۔
اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:المسلم من سلم المسلمون من لسانہ و یدہ
ترجمہ:حقیقی مسلم وہ ہے جس کی زبان اور اس کے ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔
انسان کے لیے دوسروں پر اپنا مال خرچ کرنا بہت مشکل کا م ہوتا ہے، کیوں کہ اس سے اس کو شدید محبت ہوتی ہے،لیکن اگر انسان کو اللہ تعالیٰ پر پختہ یقین ہو، تو وہ کبھی بھی اللہ کی محبت پر مال کو ترجیح نہیں دے گا،ایسی صورت میں اس کو اپنے رب کا وعدہ ہمیشہ یاد رہے گا: میرے راستے میں خرچ کرومیں اسے دو چند کرکے دوں گا ۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے حواریوں کو خطاب کرتے ہوئے کیا ہی پیارا جملہ ارشاد فرمایاتھا :’’اپنا مال خداوند کے پاس رکھو،کیونکہ انسان کا دل وہیں ہوتا ہے جہاں اس کا مال ہوتاہے‘‘۔
تمام آسمانی مذاہب میں مال کو جمع کر کے رکھنے سے منع اور مال جمع کر رکھنے والو ں کے لیے تبا ہی وبر با دی کا ذکر کیا گیا ہے ۔یہ انسانی ہمدردی کا تقاضا ہے کہ اپنے جیسے بے سہارا انسانوں پر اپنا مال خرچ کیا جائے،اس کے لیے ضروری نہیں کہ آدمی بہت ما ل دار ہو،تھوڑا مال ہو تب بھی اس طرح کی خدمت انجام دی جاسکتی ہے ۔کیوں کہ اللہ ہر ایک کی استطاعت سے بخوبی واقف ہے، وہ دلوں کے راز جانتا ہے اور اللہ کے نزدیک نیتوں ہی پر نیکیاں ہیں ۔ایک حدیث میں ہے :’
ترجمہ:اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مال کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے اعمال اور دلوں کو دیکھتا ہے ۔
خدمت خلق کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ انسان اپنی صلاحیت ،طا قت وقوت اللہ تعالیٰ کی راہ میں لگائے ،اس کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں اور حالات کے لحاظ سے بدلتی بھی رہتی ہیں ۔نبی ﷺنے فرمایا ہے کہ :اگر اندھے کو راستا نہیں ملتا،تم نے اسے راستا بتا دیا تو یہ بھی خدمت ہے ۔راستے سے تکلیف دہ چیزکوہٹانا بھی صدقہ ہے ۔اس طرح کے بے شمار مواقع قدم قد م پر آتے رہتے ہیں ضرورت بس دل کی رضامندی ، نیت کی درستگی اور اللہ پر پختہ ایمان کی ہے۔
قرآن کریم میں اجتماعی کامو ں کو ترجیح دی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی امت کو مجتمع رہنے کی تا کیدفرمائی ہے ۔اکیلے نماز پڑھنے کے مقابلے میں جماعت کی نماز کوکئی گنا افضل قرار دیا گیا ہے ۔یہ سب با تیں ہمیں بتاتی ہیں کہ اگر خدمت خلق کا فریضہ بھی ایک نظم اور اجتماعیت کے ساتھ ہو تو و نہایت اچھے طور سے انجام پائے گا ،کیونکہ اجتماعی کاموں میں ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ کام جلداز جلد اورایک سسٹم اور نظم کے تحت پورے ہوتے ہیں۔
نیکی اور خدمت کے بہت سارے کام ہیں،لیکن یہ سارے کام تبھی درست اور باعث اجر وثواب ہوں گے جب آدمی کی نیت خالص ہو، کوئی اور غرض وغایت نہ ہو ،کوئی دنیوی مفاد پیش نظر نہ ہو، انسان کو اس کے کام کا اجر وثواب صرف اسی صورت میں مل سکتا ہے۔اگر ہماری نیت اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ جو کچھ ہم خدمت کر تے ہیں ،کھانا کھلا تے ہیں ،لوگوں کی ضرورتوں کا خیال رکھتے ہیں ،کسی کا دل نہیں دکھاتے یہ صرف اللہ کی رضا اور آخرت میں نجات کے لیے ہے تواس پر اجر ہے اور دوسرے فوائد بھی کئی گنا حاصل ہوں گے ۔لیکن نیت یہ نہ ہو تو آپ بیٹھ کر بار بار اس بات کا رونا روتے رہیں کہ ہم نے اتنا کام کیا اس کے باوجود لوگ ہمیں نہیں مانتے، ہماری نہیں سنتے تو یہ سب چیزیں نیت کی خرابی کا نتیجہ ہیں۔ یادرکھیے! سارا کام جو ہم کر رہے ہیں یہ بندوں کے لیے نہیں بلکہ اللہ کے لیے ہے ،اللہ کے ہم بندے ہیں اورہم پریہ اللہ کا حق ہے۔ ایک لمبی حدیث میں اس کا بہت اچھا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ قیامت کے روز اللہ بندے سے پو چھے گا کہ میں بھوکا تھا ،پیا سا تھا، بے لباس تھا،تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا ،پانی نہیں پلایا ،کپڑا نہیں پہنایا۔۔۔ اور بندہ حیرت سے کہے گا :یا اللہ! توتو سب کا پرور دگار ہے، تو کیسے بھوکا ، پیاسا،بے لباس کیسے رہ سکتا ہے؟ اس پر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: میرا فلاں بندہ بھوکا تھا ،پیاسا تھا، بے لباس تھا ،اگر تو اسے کھلاتا ،پلاتا ، کپڑے پہناتا تو آج اس کا اجر یہاں پاتا۔اللہ تعالیٰ ہم سب کوخدمت خلق کی جملہ صورتوں کے مطابق اپنی صلاحیتیں صرف کرنے اورمخلوق کے کام آنے کی توفیق عطا فرمائے۔
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے

مزید دکھائیں

محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب ڈپٹی ایڈیٹر ہفت روز ہ اخبارالمدارس ہیں نیز جامعہ بنوریہ عالمیہ،کراچی کے ریسرچ اسکالر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close