تعلیم و تربیتملی مسائل

دینی مدارس: نظام اور نصاب

مسعود جاوید

بہ نسبت دوسرے موضوعات کے یہ موضوع زیادہ خاردار ہے۔ اس لئے کہ بچپن سے دادا دادی اور ماں باپ نے یہی سکھایا کہ کبهی کسی سائل یا فقیر کو جهڑکنا نہیں اگر جیب میں ہے تو دیدو  ورنہ کہ دو معاف کرو بابا۔اور واقعی جهڑکنا نہیں چاہیئے اس لئے کہ اللہ نے قرآن مجید میں کہا ہے : "واما السائل فلا تنہر "۔ دادا دادی نے جهڑکنے کے لئے منع کرتے وقت کچھ واقعات بهی سنایا تها کہ کس طرح کسی نے ایک فقیر کو جهڑک کر لوٹادیا اس  کے بعد اس کے گهر کی تمام مٹهائیاں پتهر بن گئیں۔  وغیرہ وغیرہ۔ یعنی بد دعا سے بچنا۔ اسی طرح کے کچھ واقعات بزرگوں اور مولاناوں کے بارے میں بهی  مشہور ہیں کہ ان کی شان میں کسی نے گستاخی کی تو اس کے گهر میں کبھی خوشیاں لوٹ کر نہیں آئیں۔ اس لئے عموماً لوگ ان سے جواب طلب کرنے سے ڈرتے ہیں۔ لیکن عجیب بات ہے کہ یہی علماء اپنی تقریروں میں حضرت عمر رض کے واقعات سناتے ہیں کہ کس طرح بهری مجلس میں ایک بڑهیا کهڑی ہوگئی اور کہا ” عمر کل قیامت کے دن میں تمہارا گریبان پکڑوں گی۔۔۔کیونکہ تم نے صحیح تقسیم نہیں کیا یا  انصاف نہیں کیا۔”۔ اور جب ایسا ہے تو ان علماء کی حیثیت بہر صورت خلفاء راشدین کی نہیں ہے اور جب خلفاء راشدین کی جوابدہی ہوتی تھی تو ان کی کیوں نہیں ؟

مدارس کے نظام اور نصاب

نظام اگر صحیح معنوں میں شورائی نظام پر عمل درآمد نہیں ہوتا ہو اور حساب کتاب معلمین اور عملہ کی بحالی میں شفافیت نہ ہو تو عوام کی ذمہ داری ہے کہ ادب کے دائرہ میں رہتے ہوئے منتظمہ پر صحیح نظم و ضبط کے لئے دباؤ بنائے۔ ان دنوں مدارس دینیہ میں ایک نیا رجحان ٹرینڈ دیکهنے میں آرہا ہے کہ مدارس کے مہتمم ناظم متولی اور ذمہ دار مدرسوں کا سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کرالیتے ہیں اور اس کے بعد اپنے آپ کو عوام کو جوابدہ نہیں مانتے ہیں۔ ایک دوسرا ٹرینڈ یہ ہے مقامی چندہ سے احتراز کرتے ہیں شاید اس خدشہ کے تحت کہ مقامی لوگ کہیں مالی اور انتظامی امور کے بارے میں سوال نہ کریں۔ ویسے فعال شوریٰ کی موجودگی میں خیر خواہان مدرسہ کو زیادہ دخل دینا بهی مناسب نہیں ہے۔

نصاب

جمود ایک غیر محبوب کیفیت کا نام ہے۔ جبکہ حرکت زندگی کی علامت ہے۔۔۔۔۔۔پانی میں اگر جمود ہو تو لا محالہ تعفن پیدا ہوگا ہے۔ ۔۔۔ دنیا بهر میں ماہرین مختصین دانشوران اور اسکالرز ہر لمحہ ریسرچ کر رہے ہیں تاکہ کس طرح خوب سے خوب تر حاصل کیا جائے۔ اس کے لئے ایک اصطلاح ہے کیس اسٹڈی : یعنی کسی مخصوص حالت کی چهان بین، خوبی اور کمی کے اسباب اور بہتر بنانے کے ذرائع کا پتہ لگانا اور عملی طور کتنا ممکن ہے یہ بتانا ان کا کام ہے۔ کپڑے دهونے کا ڈیٹرجنٹ پاوڈر پورے شہر میں کپڑوں کو صاف شفاف اور چمکدار بناتا ہے مگر بعض علاقوں میں کپڑے صاف نہیں کرتا۔ کیس اسٹڈی کی گئی۔ تو پتہ چلا کہ اس کالونی کے پانی میں ہارڈنیس بہت ہے اس لئے ایسا ہوتا ہے۔ ٹیم نے پچاس سالہ مقبول صابن ڈیٹرجنٹ میں حالات کے موافق بنانے کے لیے تبدیلی کی سفارش کی۔۔۔ اب اس علاقہ کے لئے مختلف ڈیٹرجنٹ بنایا اور دوسری تمام کمپنیوں کو پیچهے چهوڑ دیا۔

مدارس کا نصاب دیڑه سو سال پرانا ہے۔اس وقت کے حالات کے تحت مرتب کئے گئے تھے۔ روزانہ نئی نئی ریسرچ سامنے آرہی ہے کہ کس طرح کم وقت میں زیادہ حاصل کیا جائے۔ مدارس والوں نے اس نئی تحقیق کو شجر ممنوعہ کیوں بنا رکها ہے؟ نصاب کو اگر صرف دینی تعلیم پر مرکوز رکھنا مقصد تو وہ ضرورت بهی پوری نہیں ہوتی۔ مقصد کا حصول اصل ہے اور ذرائع ثانوی ہوتے ہیں۔  تو مقصد اگر منطق پڑهانا ہے تو ہر روز ریسرچ کے نتیجے میں بہترین کتابیں مارکیٹ میں موجود ہیں جو logic اور reasoning کو اچهی طرح سمجهنے اور سمجهانے میں معاون ہو سکتی ہیں۔  علماء قضاة اور مفتیان کی ذمہ داریوں میں ایک اہم ذمہ داری ترکہ میراث کی تقسیم کی ہے۔ اس کے لئے زمانہ قدیم سے السراجی ہڑهائی جاتی ہے لیکن جائداد منقولہ اور غیر منقولہ کی قیمت نکالنا اور قرآنی تقسیم کے مطابق اس ترکہ کا ورثاء میں تقسیم کرنا بہت مشکل کام ہے الا یہ کہ وہ  طالب علم ریاضیات mathematics پر دسترس رکهتا ہو۔۔۔ اتفاق یہ ہے کہ مدارس کے طلبہ ریاضیات بسیطہ simple mathematics بهی نہیں جانتے اس لئے جب السراجی میں مفروضات کی بنیاد پر تقسیم سکهانے کی کوشش کی جاتی ہے تو باتیں سر کے اوپر سے گزر جاتی ہیں۔ اس کا دماغ یہ فرض کرنے کو راضی نہیں ہے کہ۔۔۔۔۔ X2 + Y2 = so and so۔ وہ اسی میں الجه جاتا ہے کہ فرض کریں زید  ساڑھے سترہ لاکھ چهوڑ کر مرا اور۔ بہر حال قصہ مختصر یہ کہ جب آپ بنیادی ریاضیات نہیں پڑھائیں گے تو یہ بے چارے میراث ترکہ کی تقسیم کس طرح کریں گے۔

پچھلے بیس سالوں سے دنیا کے مختلف ممالک میں اسلامی بینکنگ اور بلاسودی بینکنگ کا کام شروع ہوا ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ جن بے چاروں نے اقتصادیات economics پڑها ان کو فقہ اسلامی کی باریکیوں کی سوجھ بوجھ نہیں ذرا سی لغزش سے حلال حرام میں بدل جائے گا اور جن علماء کو فقہ اسلامی کی تعلیم دی گئی ان کو یہی نہیں معلوم کہ انشورنس کی کیا کیا شکلیں ہوتی ہیں  interest اور usury میں کیا فرق ہے۔ ہدایہ فقہ کی سب سے زیادہ مقبول درسی کتاب ایک پتلی جلد اول میں عبادات پر بحث ہے اور ضخیم جلد دوم میں مضاربت مشارکت اور تجارت سے لے کر اجارت اور ہر قسم کے معاملات پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ عام طلباء کے پلے ہی نہیں پڑتا اس لئے کہ  ریاضیات اور اقتصادیات سے یہ نابلد ہوتے ہیں۔ اب موجودہ اسلامی بینک والے Sharia compliance graduate ڈهونڈهتے ہیں تو انہیں ملتے نہیں۔

ایک مسئلہ یہ بهی ہے کہ کیا ضروری ہے کہ آپ مولوی کو محض دینی کتابوں میں مقید کردیں۔ اگر کچھ بنیادی کتابیں جیسے صحت عامہ، معلومات عامہ، تاریخ، ریاضیات، جنرل سائنس، دستور ہند کے منتخب ابواب، شہری حقوق اور فرائض  اور ہندستانی تہذیب و ثقافت اور مختلف ادیان کے کچه حصے پڑها کر ان طلباء کو اچها عالم دین کے ساتھ ساتھ اچها ذمہ دار شہری بهی بنادیں گے تو کیا آپ اس "گناہ عظیم کے ارتکاب کے جرم ” میں ماخوذ عنداللہ ہوں گے ؟ اور تیسری بات یہ کہ مدارس دینیہ کے فارغین کو ان اضافی بنیادی تعلیم دے کر آپ ان کے مستقبل کے لئے راہ ہموار کردیں گے۔۔۔ مزید عصری تعلیم حاصل کرنے یا ملازمت کرنے کے اہل بنائیں گے۔۔۔۔ آخر کتنے طلباء کو مدارس میں معلمی اور مساجد میں امامت کی خالی جگہیں ملیں گی ؟ ان دو ملازمتوں کے علاوہ ارض الله واسعة میں بے شمار مواقع ہیں ان سے ان طلباء کو مستفید ہونے کا اہل بنائیں۔  یہ سوشل امپاورمنٹ social empowerment  کی بہترین شکل ہوگی۔

یہ باور کراننے کی کوشش کرنا کہ  طلباء  دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کے متحمل نہیں ہوں گے، گمراہ کرنے کے مترادف ہے اور منتظمین یہ کہ کر فرار کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ انسانی دماغ کا، حالیہ ریسرچ کے مطابق، ایک بڑا حصہ خالی پڑا رہتا ہے۔ اس لئے اسے جتنا کام دیا جائے کم ہے۔

اختصاص یا تخصص کی اصطلاح اسی لئے وجود میں آئی ہیں۔ تعلیم اور طریقہ تعلیم پر ریسرچ اور عرق ریزی کے بعد ہہ طے ہوا کہ درجہ 8 تک مختلف مضامین اور آرٹ و پینٹنگ وغیرہ ہو تاکہ تهوڑی تهوڑی واقفیت ہر قسم کے مضامین سے ہو۔ اس کے بعد 9 اور 10 میں خاص مضامین پر ارتکاز رہے اس کے بعد 11 اور 12  مضامین میں مزید کمی کرکے اسٹوڈنٹ کو ابهی سے ہی اپنے لئے مستقبل کی راہ اختیار کرنا لازمی بنایا گیا اب اسے مستقبل میں کیا بننا ہے اسکے لئے مختلف streams میں سے  یعنی سائنس تو انجینئرنگ کی طرف جانا ہے تو سائنس ریاضیات کے ساتھ PCM اور میڈیکل کی طرف جاناہے تو سائنس حیاتیات بائیولوجی PCB , یا اقتصادیات یا ادب ثقافت اور فنون لسانیات کا اختیار کرے اس درجہ 12 میں پاس ہونے کے مزید اختصاصات آنرز یا پاس کو اختیار کرنا ہوتا ہے اس کے معلمی اختیار کرنا ہے تو بی ایڈ ایم ایڈ ورنہ گریجویشن میں  اختصاص کے بموجب ایم اے اس کے مزید اس اختصاص کے ایم فل اور پهو پی ایچ ڈی۔۔۔۔ یہ درجہ بندی اور مختلف مراحل کے لئے مختلف کورس سالوں سال کی کاوش کا نتیجہ ہے اور اس کا ریزلٹ روز روشن کی طرح عیاں ہے تو پهر کیا وجہ ہے کہ اہل مدارس اس سے کتراتے ہیں۔ وہ بهی اسی طرح درجہ 10 تک عام عالم بنائیں جس میں بنیادی علم دین کے ساتھ میری تحریر میں مذکور بنیادی عصری علوم بهی پڑها دیں۔ اگر پانچ سات دس ہزار طلبا ہر سے مدارس سے فارغ ہوتے ہیں تو ہر ایک سے یہ مطلوب نہیں ہے کہ سب تفقه فی الدین حاصل کریں۔ اس کے طائفة ہے۔ وہ تخصص کرکے فقیہ مفتی اور مناظر بنیں۔ باقی طلباء درجہ 10 سے فراغت کے بعد عصری علوم حاصل کریں جیساکہ بانی دارالعلوم دیوبند مولانا قاسم نانوتوی نے تجویز کی تهی۔

ہہ مدرسہ سے بنیادی علوم دینیہ پڑھ کر کالجوں میں اقتصاد لسانیات قانون اور سیاست کی تعلیم حاصل کریں گے تو Sharia compliance گریجویٹ کی کمی نہیں ہوگی اچهے وکلاء کی کمی نہیں ہوگی۔ ابهی مسجد کے تعلق سے  ہماری طرف سے مقرر غیر مسلم وکلاء کے ذہن اسلام میں مسجد کا کنسیپٹ کیا ہے اسی کا پتہ نہیں ہے۔ بہت سالوں پہلے ایک مسلم جج نے اسلام میں مسجد کا تصور کی غلط تشریح کی تهی عدالت عالیہ بار بار اسی کا حوالہ دیتی ہے۔ تو بات مسلم یا غیر مسلم وکیل کی نہیں ہے۔ بات یہ ہے کہ مدرسے سے بنیادی اسلامی تعلیم حاصل کرنے کے بعد جو لاء قانون پڑھ کر وکیل بنے گا وہ وطن اور دین کی بہتر خدمت  کرے گا تو اس میں دینی مدارس کی کوتاہیوں پر سوال کرنا کیا گناہ ہے؟

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close