تعلیم و تربیت

فرسودہ نظام تعلیم اور تربیت کا فقدان

اللہ بخش فریدی

مسلماں کے لہو میں ہے سلیقہ دل نوازی کا 
شکایت ہے مجھے یا رب ! خداوندانِ مکتب سے
مروت حسن عالمگیر ہے مردان غازی کا 
سبق شاہین بچوں کو دے رہے ہیں خاک بازی کا

تعلیم نام ہے ایک نسل کے دوسری نسل کو اپنے تجربات، احساسات، نظریات اور نتائج منتقل کرنے کا۔ ایک نسل دوسری نسل کو جو آداب زندگی او ر ذہنی وراثت منتقل کرتی ہے اسے عرفِ عام میں تعلیم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔تعلیم دراصل کسی قوم کی مادی و روحانی زندگی کی روح رواں ہوتی ہے۔ جتنا کسی قوم کا نظام تعلیم مضبوط ، مستحکم اور دینی اصولوں سے ہم آہنگ، جاندار و قوی ہوگا وہ قوم اتنی ہی مضبوط اور طاقتور ہو گی اور ترقی ، کامیابی و کامرانی کے اعلیٰ مدارج پر فائز ہوگی۔دینی طرز حیات ہی قوموں کو عروج و کمالات عطا کرتی ہے۔ اپنے اقدارو روایات سے ہٹ کرپست معیار تعلیم ، ناقص تعلیمی نظام اور کھو کھلا تدریسی اندازقوم کو پستیوں کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ جتناکسی قوم کا نظر یہ حیات مستحکم ہوگا اتنا ہی وہ اپنی تعلیم کوروشن روایات عطاکرسکے گی ۔ علم کو انسان کی ’ تیسری آنکھ‘ کہا جاتا ہے۔انسان کو اپنے مقصد حیات،مقصد تخلیق، سچائی کی پہچان‘ حقائق کا ادراک اور معاشرے میں مہذب زندگی گزارنے کا سلیقہ علم ہی کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کا راز بھی یہی ہے۔ تعلیم کی اہمیت سے واقف ہونے کے باوجود ہمارے ہاں آج تک یہ طے نہیں کیا جا سکا کہ ہمارا نظام تعلیم کیسا ہونا چاہیے؟ ہمارا نصاب کیسا ہو؟ ہم اپنے مستقبل کے معماروں کو کس مقام پر دیکھنا چاہتے ہیں ؟ ہمارے مقاصد کیا ہیں ؟

پاکستان کیونکہ ایک اسلامی فلاحی نظریاتی مملکت ہے اور اس کا پورامعاشرتی ڈھانچہ اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ مکمل طور پر اسلامی اقدارو روایات ، ضابطہ حیات پر استوارہوتا اور نظام تعلیم میں قرآن وسنت کو مرکزیت دی جاتی۔ کیونکہ پاکستان اسلام کے نام پروجود میں آیا اور اس کے قیام کا صرف ایک ہی مقصد تھا کہ ہم پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ بنائیں گے اور اس میں ایک حقیقی اسلامی فلاحی نظام حیات کی بنیاد رکھیں گے مگر افسوس 70 سال گزرجانے کے باوجود ہم اپنے مقاصد کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکے۔

امیر المومنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کا فرمان ہے کہ۔’’جو قوم ارادے کی پکی ہو وہ دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال سکتی ہے۔‘‘

مگر آج دنیا ( یہودی اور عیسائی)ہمیں اپنی مرضی کے مطابق ڈھال رہے ہیں جدھر چاہتے ہیں لے جاتے ہیں ہم اندھوں کی طرح ان کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ۔ کسی قوم کا نظام تعلیم دراصل اس بات کا غماز ہوتاہے کہ وہ قوم زندگی کے مختلف پہلوؤں ( آزادی و غلامی) میں سے کون سے پہلوؤں کو ترجیح دیتی ہے۔ ہم نے بظاہر آزادی تو حاصل کرلی مگر اپنے ضمیر کو اہل مغرب کی غلامی میں دے دیا۔ مملکت خدادادِ پاکستان کے قیام کے فوراً بعد اس بات کا حتمی طور فیصلہ ہوجانا چاہیے تھا کہ انگریزی نظام تعلیم کے بعد ہمیں کیسی تعلیم رائج کرنی ہے ،کیسا نظام لانا ہے، کیسے قوانین واضح کرنے ہیں ۔ کیونکہ انگر یز ی نظام تعلیم کا مقصد طلبا ء کی تخلیقی و تکنیکی صلاحیتوں کو ابھارنا اور اختراعی انداز فکر پیدا کرنا تو ہرگز نہیں تھا بلکہ انہیں تو صرف منشیوں اور کلرکوں کی ضرورت تھی ، ڈاکٹروں ، سائنسدانوں ، انجینئروں و غیرہ کی نہیں ۔ لہٰذا انگریز کے لائے ہوئے انداز تعلیم نے کلرک پیدا کیے نہ کہ ماہرین فنون۔ مگر ایک حقیقی اسلامی فلاحی نظریاتی مملکت (پاکستان ) کے بن جانے کے بعدانگریز کے لائے ہوئے نظام تعلیم میں پیوندکاری کرکے اسے جوں کاتوں رہنے دیا گیا جس سے نہ تو طلباء میں تخلیقی وتکنیکی اور ارتقائی استعدادیں ابھریں اور نہ ہی اختراعی انداز فکر پیدا ہو ا۔

یہی وجہ ہے کہ آج تک ہم اپنے مقصدِ آزادی کو حاصل نہ کر سکے۔ لوگ مسلمان تو ہیں مگر اسلام سے بے بہرہ ہیں ۔لوگ اللہ عزوجل اور اس کے پیارے رسول ﷺ پر ایمان کے تو دعویدار ہیں مگر ایمانیت سے عاری ہیں ۔ لوگ قرآن و سنت کے تو پرزور داعی ہیں مگر ان کے چہروں سے انگر یز کی سنت نمودار ہے اور ان کی آندھی تقلید ،انہیں کچھ پتہ نہیں کہ سنت کیا چیز ہے؟ایمان کیا چیز ہے؟اوراسلام کیا چیز ہے؟اسلام کا نظریہ حیات کیا ہے؟اسلام کی اقدارو روایات ، عقاہد و نظریات، اخلاقیات اور اصول وضوابط کیا ہیں ؟ اسلام میں اخلاق و اطوار اورتہذیب و تمدن کے کیا اطوار ہیں ؟ اسلام کی معاشرت ، معیشت، سیاحت اور عدالت کا کیا طریقہ ہے؟ اسلام میں عفت وعصمت ، شرم و حیاء اور پردے کی کیا اہمیت ہے ؟ اسلام میں دوستی اور دشمنی کے کیا اصول ہیں ؟اسلام کا نظام مملکت کیسا ہو؟ اسلام میں صلح وجنگ اور بین الاقوامی تعلقات کی کیا صورتیں ہیں ؟

عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ لوگوں کی تعلیم ایم اے ، بی اے تک ہوتی ہے، ماسٹر ڈگریز ہاتھوں میں لیے پھرتے ہیں مگر وہ قرآن مجید کو اچھی سمجھ کے طرح نہیں پڑھ سکتے ، اس کے تدو ین و تلفظ کو صحیح ادا نہیں کر پاتے، اس کی آیات کے صحیح مفہوم و مقصد کو نہیں سمجھ سکتے ۔ یہ قصور بیچاری عوام کا نہیں بلکہ ہمارے فرسودہ نظام تعلیم کاہے اور ان کا جنہوں نے اسے ترتیب دیا اورجنہوں نے اس کی حمایت کی اور ان حکمرانوں کا جنہوں نے اللہ عزوجل اور اس کے پیارے رسول ﷺ کے ساتھ دھوکا کیا اوران کے ساتھ جھوٹے وعدے کیے کہ ہم آزاد ہونے کے بعد پاکستان کو ایک حقیقی اسلامی فلاحی مملکت کے طور پر متعارف کروائیں گے مگر نصف صدی گزرجانے کے بعد بھی اپنے ان وعدوں کی تکمیل نہ کر سکے۔

علم کے تمام سرچشمے قرآن کریم سے پھوٹتے ہیں ، تمام علوم و حکمت، اخلاق و تمدن، فنون و سائنس کی اصل قرآن حکیم ہی ہے۔دنیا میں علم کی جستجو، کائنات کی تخلیق میں غور و خوض، تخلیق کے راز کوجاننے ، کائنات میں گھوم پھر کر چیزوں کا قریب سے مشاہد ہ کرنے اور اس کی حقیقت کو جاننے کی دعوت اور حکمت قرآن نے عطا کی۔ قرآن ہی نے انسانیت کو پکارا کہ آؤ! غور کرو، فکر کرو، جستجو کرو، مشاہدہ کرو آسمان کی بلندیوں اور زمین کی تہوں سے رب کائنات کے پوشیدہ رازوں اور خزانوں کو ڈھونڈ نکالو اور ان پر تحقیق کرو۔اسلام اپنے ماننے والوں کے دل و دماغ کند نہیں کرتا بلکہ سائنسی تحقیق کو فرض قرار دیتا ہے۔ کائنات کے اندر غور و فکر کرنا ، اس کی پوشیدہ حقیقتوں کو عیاں کرنا، مختلف مخلوقات پر ریسرچ کرنا یہ اسلام کی دعوت و فطرت ہے۔ اسلام یہ کہتا ہے کہ ساری دنیا انسان کے لیے ہی پیدا کی گئی ہے کہ وہ اسے مسخر کرے ، اس سے فائدہ اٹھائے۔ جو کام ہمارے کرنے کا تھے جس کا ہمیں حکم اور دعوت فکر دی گئی تھی وہ اہل مغرب میں بخوبی انجام دیا اور دے رہے ہیں ۔

یہ علمی ورثہ ہمارا تھا جو ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے آگے غیروں کو منتقل کر دیا۔انہوں نے قرآن سے علم بھی سیکھا، راہنمائی بھی لی، ایجادات و تخلیقات بھی کیں اور اجتماعی رہن سہن، حسن معاشرت ، اخلاقیات کے آداب سیکھے بھی اور اپنائے بھی۔جبکہ ہم نے قرآن سے راہنمائی لینے کی بجائے اس علوم و عرفان کے سمندرکو پس پست پھینک کر مغرب کی طرف دیکھنا شروع کر دیا اور قرآن کو صرف کتاب ثواب و برکت سمجھ کے محض ثواب و برکت کی غرض سے پڑھنے کیلئے غلافوں میں لپیٹ کے گھروں میں رکھوا دیا اور معاشرہ کو پروان چڑھانے اور ترقی کیلئے مغرب کی نقل پر اتر آئے۔ تقلید اور نقل معاشرے کی ذہنی صلاحیتوں کو ابھارنے کی راہ میں رکاوٹ ہے خواہ وہ تقلید مغرب کی ہو یا کسی اور کی۔ جو تقلید کرتے ہیں وہ تہذیبی و فکری جنگ ہار جاتے اور اپنی انفرادیت کھو بیٹھتے ہیں ، اس لیے ہمیں تقلید کے بجائے محنت، لگن تحقیق و جستجو کا جذبہ پیدا کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔

اسلام اپنے ماننے والوں کو یہ حکم دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل ( علم و حکمت اور معاش ) کی تلاش میں نکلو اور علوم و فنون ، معرفت ،دانش وحکمت کے موتی تمہیں جہاں کہیں سے ملیں فوراً حاصل کر لو ۔یہی وجہ ہے کہ مسلمان اپنے دور عروج میں علمی وعملی لحاظ سے تمام دنیا پر فائق تھے اور پوری دنیا ان کی دست نگر بن کر رہ گئی تھی ۔ پھر ایک زمانہ آیا کہ مسلمانوں نے علمی و عملی میدان میں کام کرنا چھوڑ دیا ۔ تحقیق کی جگہ اندھی تقلید نے لے لی اور عمل کی جگہ بد عملی کو اپنایا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر جگہ ان کا غلام بنا دیا جو علمی و عملی میدان میں ان سے آگے تھے ۔کہیں ان پر انگریز مسلط ہوگئے ، کہیں پرتگالی اور کہیں فرانسیسی استحصال کرنے لگے توکہیں جرمن۔کیونکہ دور جدید میں جہاں مسلمانوں نے کام کرنا چھوڑ دیا وہاں اہل یورپ نے ان کی جگہ لے لی او رعلمی و عملی میدان میں حیرت انگیز کارنامے سرانجام دئیے اور علم و عمل کی بدولت ساری دنیا پر چھا گئے۔
دینی و اخلاقی تعلیم و تربیت کا نہ ہونا قوم کو زوال و پستی کی طرف لے جاتا ہے اور ہمارے راج الوقت نظام تعلیم میں دینی و اخلاقی تعلیم و تربیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اخلاقی و سماجی تعلیم و تربیت کے بغیر معاشرہ صرف قانون کے سہارے نہیں چلایا جاسکتا۔ قانون تو چند مجرمانہ ذہنیت کے لوگوں کو قابومیں رکھنے کے لیے ہوتا ہے جو دین سے بیزارہو کر وحشی درندے بن چکے ہوں ، جبکہ عام لوگ اجتماعی مفاد، دینی اصول اور اخلاقیات کی پاسداری کی خاطر ایک روایت کے طور پر قانون و اقدار کی پابندی کرتے ہیں ، مگرہمارے ہاں کسی اعلیٰ اجتماعی اخلاقی نصب العین اور دینی ضابطہ کے نہ ہونے کی بنا پر لوگ اپنی ذات اور مفاد سے آگے دیکھنے کے لیے تیار نہیں ۔ یہی وجہ ہے ہمارا ہر شخص، ہرگھر، ہرسڑک، گلی محلہ ،ہر دفتراور ہر فیکٹری اجتماعی اخلاقیات کے اصولوں کی بھر پور خلاف ورزی کا نمونہ بن چکی ہے۔جب ہم اسلامی تعلیمات و اخلاقیات پرعمل پیرا ہوں گے اورمضبوطی سے اس پر ثابت قدم رہیں گے، اور اپنے ذہنوں میں یہ تصور بٹھائیں گے کہ دنیا کی زندگی ایک عارضی زندگی ہے، اس کی چمک دمک محض ایک دھوکہ ہے ،اصل زندگی آخرت کی ہے۔ تو پھر ہمارا ضمیرہمیشہ بیدار رہے گا اورہم عارضی دنیاکوترجیح دینے کے بجائے آخرت کی دائمی زندگی ،اس کی راحت و سکون کو فوقیت دیں گے اور اس طرح معاشرہ ترقی کرے گااور زوال پذیری کے اثرات زائل ہوں گے۔

ہمار اقومی اور مذہبی کلچر کیا ہے،ہمیں نہیں معلوم۔ ہماری ثقافت و پہچان کیا ہے، ہم نہیں جانتے۔ من حیث القوم ہماری کوئی منز ل نہیں رہی ، ہم زندگی کے ہر گوشہ ہر شعبہ میں مغرب کی نقل اتارنے کو ترقی سمجھ رہے ہیں ۔تعلیم کسی بھی قوم کی معاشرتی، معاشی، نفسیاتی اور اخلاقی ترقی میں سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے۔ قوموں کا مستقبل بنانے میں کلیدی کردار تعلیم کا ہی ہوتا ہے۔ اس لیے جتنی بھی ترقی یافتہ اقوام ہیں ، وہ تعلیمی منصوبہ بندی کو قومی دفاع سے زیادہ اہمیت دیتی ہیں اور تعلیم کے ساتھ تربیت کو ترقی کی شاہ کلید سمجھتی ہیں ۔

ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم حصول علم کوہی سب سے بڑی کامیابی تصور کرتے ہیں اورسمجھتے ہیں کہ تعلیم کے ساتھ تربیت مفت میں حاصل ہوجائے گی بلکہ اگریہ کہا جائے کہ ہمارے ہاں تربیت کا کوئی تصورہی نہیں پایا جاتا توغلط نہیں ہوگا۔حالانکہ تربیت اگر تعلیم کے ساتھ مفت میں حاصل ہو جاتی تو قرآن کریم میں جگہ جگہ علم اور تعلیم کے ساتھ تذکیروتذکیہ کے الفاظ الگ سے کیوں ذکرکیے گئے، محض علم و تعلیم کاذکرکافی ہوتا۔اخلاق و کردار کے ذیل میں تربیت کا تذکرہ اس لیے کیاجارہاہے کہ دراصل اسی کے بطن سے اخلاق و کردارجنم لیتے ہیں ،تواضع وانکساری کی نمودابھرتی ہے اورزندگی کے عملی مظاہرے کے اظہار کارخ متعین ہوتاہے۔

ہمارے نظام نے تعلیم اور تربیت کودو شعبوں میں بانٹ کر اور ایک دوسرے سے الگ کر کے دو مختلف اداروں کی نظر کر رکھا۔ تعلیم سکول دے اور تربیت مسجد کا ملاں ۔بچے صبح اٹھیں ، مسجد جائیں ، قرآن پڑھیں ، تربیت لیں ، اخلاق و آداب سیکھیں پھر سکول آئیں ۔دو کشتیوں کا سوار آخر کار ڈوب کے ہی رہتا ہے وہ کسی کنارے نہیں لگ پاتا۔جیسا کہ آج ہمارا معاشرہ کسی نتیجے اور منزل پر نہیں پہنچ سکا۔اس کی ایک کشتی کا رخ مغرب کی طرف ہے اور دوسری انجام کار سے غافل ، غفلت، کاہلی، سستی و ناداری کی تاریکیوں کی طرف۔

دوسرا ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم تعلیم کو محض اس لیے حاصل کرتے ہیں کہ اس سے کوئی روزگار کا اچھا ذ ریعہ مل جائے گا۔کوئی نوکری مل جائے گی اور زندگی اچھی بسر ہو گی۔جس معاشرہ میں حصول تعلیم کی غرض صرف نوکری کرنا ہو تو وہ معاشرہ صرف نوکر ہی پیدا کرے گا معمار و ہنرمند نہیں ،تحقیق و ایجادات اور ارتقائی انداز فکر رکھنے والے نہیں ۔ہم تعلیم حاصل کرنے کے بعد صرف نوکری ، دوسروں کی خدمت، اور غلامی کی تلاش میں رہتے ہیں ۔نہ ہم تعلیم قوم کے لیے حاصل کر رہے ہیں نہ مذہب کے لیے بلکہ صرف روزگار کیلئے حاصل کر رہے وہ بھی اغیار کی غلامی کر کے۔ نتیجتاً ایسی نسل تیار ہو رہی ہے جو دین بیزار،قرآن و سنت سے بہرہ،اخلاقیات سے عاری، اپنی تاریخ پر شرمسار اور مغرب سے مرعوبیت کا شکار ہے۔لوگ سمجھتے ہیں کہ انگریز ی فر فر بولنا آ گئی تو مقصد حاصل ہو گیا جو یقیناً مغرب سے مرعوبیت کا شاخسانہ اور انگریزوں کی ڈیڑھ سو سالہ غلامی کا نتیجہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا پورا کا پورا تعلیمی نظام اپنی قومی زبان سے ہٹ کے انگریزی زبان میں ہے یعنی ہمارا ذہن غلامی کی طرف ہی ہے کہ ہم نے پڑھ لکھ کے انگریز کی غلامی ہی کرنی ہے ، ایجادات و اختراع نہیں ۔

اگر ہمیں ترقی کرنی ہے تو قلوب و اذہان کونوکری ، غلامی سے واش کرکے تعلیم کو با مقصد بنانا ہو گا اور نئی نسل کو اچھی، واضح اور بامقصد ، ہنرمند تعلیم سے آراستہ کرنا ہو گا اورذہنی و اختراعی، تکنیکی، تخلیقی و ارتقائی استعداد کو ابھارنا ہو گا۔اس وقت ہمارے ہاں اسکول، کالج و جامعات میں صرف نظام ہی نہیں ، نصاب بھی مختلف ہیں ۔ جو نہ سیکولر ہے نہ لبرل، نہ اسلامی۔ یہی وجہ ہے کہ جو طلبا ان اداروں سے نکل رہے ہیں انھیں نہ منز ل کا پتہ ہے نہ مقاصد کا علم۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان بھر کے اسکولوں و کالجز میں یکساں نظام اور متوازن نصاب رائج کیا جائے اور اس میں قرآن وسنت کو فوقیت دی جائے ۔

تیسرا ہمارا سب سے بڑا المیہ اور احمقانہ کردار یہ ہے جس نے ہمارے قلوب و اذہان کی کلیوں کو کھلنے نہیں دیا، ہمارے طلباء میں اختراعی انداز فکر پیدا نہیں ہونے دی وہ یہ کہ ہمارے ہاں تعلیم کو غیر کی زبان میں کنورٹ کر کے پیش کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے طالب علم کسی بھی شئے کی گہرائی تک نہیں پہنچ پاتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سب سے پہلے تو وہ اس کنورٹ شدہ لینگوئج کے الفاظ کے معانی کی جستجو میں مگن ہو تا ہے۔ جب طالب علم ایک ایک کر کے اس ٹاپک کے تمام الفاظ کے معانی کو سمجھتا ہے تو اس وقت اس کی طبیعت اکتا کر چیز کو سمجھنے کی حس سے محروم ہو چکی ہوتی ہے۔پھر بلا آخر اسے کمرہ امتحان میں کامیابی کیلئے ان الفاظ کا رٹا لگانے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں رہتا۔وہ کمرہ امتحان میں اس چیز کے بارے اظہار اپنے ذہن سے نہیں الفاظ کے لگائے رٹے سے کرتا ہے۔تعلیم محض کتابوں کو رٹنے کا نام نہیں ، بلکہ خود کو پہچاننے، اپنی شخصیت سے، اپنے مقاصد سے آگاہی کا نام ہے۔ جبکہ ہمارے ہاں رٹا دستور بن گیا صرف غیرکی زبان کی وجہ سے۔اگر اس کی جگہ طالب علم کی اپنی مادری یا قومی زبان میں اس کی تدریس ہوتی تو پھر اس کی پوری توجہ متعلقہ چیز کی طرف ہوتی اور اس میں اختراعی و تکینکی استعداد بھی ابھر کے سامنے آتیں ۔جو بیچارے انگلش پوری طرح نہیں سمجھ سکتے اور نہ پوری طرح بول سکتے وہ چیزوں پر اپنا خود ساختہ اظہار خیال کیسے کر پائیں گے؟

مادری زبان ہی وہ پہلی زبان ہوتی ہے جو بچہ ماں کی گود میں سیکھتا ہے۔ اسے اس فطری زبان میں ماں کی ازلی محبت ملتی ہے۔ اس زبان کی آوازیں بچے کے قلوب و اذہان کے خلیات پر ایسے نقش ہو جاتی ہیں کہ ساری زندگی وہ قدرتی طور پر ان سے مانوس رہتا ہے۔مادری زبان انسان کا قدرتی ذریعہ اظہار ہے اور تعلیم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسان میں خود اظہار کی قوت بڑھے۔ مادری زبان، ذریعہ تعلیم ہونے سے تعلیم نہ صرف آسان ہو جائے گی بلکہ طالب علم چیزوں کو اس کی آخری تہہ کی گہرائی تک سمجھے گا اور دوسروں کو سمجھا بھی پائے گا، اس میں اس چیز کے بارے میں قوت اظہار اور خود اعتمادی پیدا ہو گی۔ مادری زبان صرف بولنے تک ہی محدود نہیں ہوتی بلکہ حالات، پس منظر تہذیب اور ثقافت اور ان کی روایات پر محیط ورثہ بھی موجود ہوتاہے۔ زبان دراصل کسی بھی تہذیب کا سب سے بڑا اظہار ہوتی ہے مادری زبان کی تراکیب انسان کی زبان کے علاقائی پس منظر کا اندازہ لگانے میں ممدومعاون ثابت ہوتی ہیں ۔

مادری زبان سے انسان کی فطرت کھلتی بھی ہے اور نکھرتی بھی ہے، دنیا کے تقریباً تمام ترقی یافتہ ممالک میں بچہ کی ابتدائی تعلیم کے لئے مادری زبان کو ذریعہ تعلیم لازمی قرار دے رکھاہے۔ دراصل ماں کی گود بچے کا پہلا مکتب ہوتی ہے اور بچہ اس مکتب کے ذریعہ وہی کچھ سیکھتا ہے جو ایک ماں اپنے بچہ کو سکھاتی ہے اس لئے کہایہ جاتاہے کہ مادری زبان انسان کی جبلت کاجز ہواکرتی ہے۔

دور حاضر میں انسان کی ذہنی نشوونما کیلئے مادری زبان ایک لازمی عنصر ہے۔ آج نہ صرف مغرب بلکہ تمام تر ترقی یافتہ ممالک کا نعرہ مادری زبان میں تعلیم دینے کا ہے۔ لیکن افسوس کہ ہم اپنی اولاد کو اپنی مادری زبان میں تعلیم دلوانے کے بجائے انگریزی تعلیم کو ہی بچہ کامستقبل قرار دیتے ہیں جبکہ بچہ اپنی مادری زبان ہی میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے اپنے مقصد کو آسانی سے حاصل کرسکتاہے چونکہ بچہ مادری زبان میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے تمام علوم کو بڑی آسانی سے سمجھتے ہوئے حاصل کرتاہے۔ آج اس ترقیاتی دور میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی مددسے ماہرین دانشور اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ انسان کی ذہنی نشوونما صرف اور صرف مادری زبان کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔

ہمارے کم ظرف حکمرانوں نے ہر میدان میں اپنی کم ظرفی ،نا اندیشی کا عملی ثبوت دیا۔وہ تعلیم میں اصلاحات لانے، معیار تعلیم کو بہتر کرنے اور جدید تقاضوں اور قرآن و سنت سے ہم آہنگ کرنے کی بجائے انہیں تعلیم کو بہتر کرنے ، اور دور جدید کی ضروتوں سے ہم آہنگ کرنے کی ترکیب لیپ ٹاپ سکیم ہی سوجھی۔ جو طلباء کچھ ذہین و ہونہار تھے انہیں لیپ ٹاپ تھام کر ان کے معیار اور ذہانت کا بھٹہ بیٹھا دیا۔جن جن طلباء کو لیپ ٹاپ دئیے گئے سکولوں سے ان کے ریکارڈ چیک کریں لیپ ٹاپ ملنے سے پہلے اور بعد کے، اور لیپ ٹاپ بھی چیک کریں ان میں ماسوائے تفریحی، فحش گانوں ، فلموں ، ڈراموں کے علاوہ اور کچھ ملتا ہو جو حصول تعلیم میں ان کیلئے معاون و فائدہ مند ثابت ہو، وہ اب پڑھنے کی بجائے زیادہ تر وقت لیپ ٹاپ اور تفریحی میں بسر کرتے ہیں ۔ہماری قوم ابھی اتنی نہیں سلجھی کہ چیزوں کا جائز اور اعلیٰ مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کرے۔

تشخیص اگر صحیح ہو اور علاج غلط ہوتو مرض میں افاقہ کے بجائے اضافہ ہوگا۔ یہ تشخیص تو درست ہے کہ موجودہ تمام معاشرتی عفریتوں کا واحد حاصل قرآن کریم میں ہی مضمر ہے مگر ہم اگر حتمی علاج سے ہٹ کرکہیں اور حل ڈھونڈیں تو یہ مرض مزید بڑھے گا کم ہونے والا نہیں ۔ حکومتی سطح پر ان خرابیوں کے سد باب کے لیے قانون درقانون وضع کئے جارہے ہیں مگر صرف قانون اس وقت تک نہ تو کسی کی اصلاح کرسکتاہے اور نہ ہی جرائم کی روک تھام کر سکتا جب تک دیانت وامانت کے جذبات وفکریات اس کی پشت پناہی نہ کریں یہ جذبات تبھی پیدا ہوں گے جب اخلاقی سماجی تعلیم وتربیت کا نظم کیاجائے گامگر عصری تعلیم گاہیں ان علوم سے یکسر خالی ہیں ان میں صرف موضوعاتی نصاب شامل ہے یہی وجہ ہے کہ معاشرتی اخلاقی خرابیاں عروج پر ہیں ، ان تمام خرابیوں کا واحد حل صرف اور صرف سرچشمہ رشد و ہدایت قرآن کریم اور دینی تعلیمات میں موجود ہے جس کو مذکورہ تعلیمی ادارے قبول نہیں کرتے۔ بہر کیف اہل اسلام تو ان باتوں پر عمل پیرا ہوسکتے ہیں اور اپنے دارین کو سدھار سکتے ہیں ۔

مزید دکھائیں

اللہ بخش فریدی

I wrote books on the topic of community awareness, community correction, aligned nation, effective Reforms, Unity & Stability of the Muslim Nations and enforcing the Islamic laws in Muslim Countries. All words and paragraphs of the books are very effective on the soul, revolutionary, influential, very strong powerful books on the wake up of the Ummah, Optimization، Consciousness and awareness and unity of the Muslim Ummah. So that these texts it opened the eyes of society they have enough to awakening. Very appreciated by the Holy Prophet (Allah’s blessing and salutation on him) in the dreams. This article Inshallah! will be a landmark in the community and the Islamic Revival prediction which would pave the way for revival of Islam which the community hopes. That's my motto and main goal of life. I've dedicated my life to achieve these noble goals. In addition, I set future strategy process of the Muslim Ummah which Named '' New Islamic World Order, for enforcement of Islamic Revivalism'' it contains 40 points. If this applies to the entire Muslim world together then we become a great power in the world. In another addition, I present new idea and plan of Real Welfare Islamic Government System، Which is the guarantor of peace and security in society, Human well-being improvement and maintaining the purity and chastity of the Society. I hope that you will understand my feelings and cooperation with to raising the wave of awareness in the Muslim Ummah and to raise the feelings of the people to awaken them slumber. These books are in Urdu language. If you know read Urdu I send you soft copies of these books and the idea of New Islamic World order and the plan of real Islamic government.

ایک تبصرہ

  1. دنیا آگے سے آگے بڑھ رہی ہے لیکن جاہل مولوی ابھی تک مسلمانوں کو داڑھی کی مقدار,استنجاء کا طریقہ,پیشاب کے وقت عضو تناسل کو کتنا گھوٹنا چاہیے,اولیاء کے مزار پر جانے کا حکم,قل کا حکم,جمعرات کی حیثیت,گیارہویں کے ختم کی حثیت,سعودی عرب کو کیسے خوش کرنا ہے اور اس طرح کی دوسری بے سروپاباتوں میں الجھا کر بیٹھا ہے.
    اب یہ عوام کوفیصلہ کرنا ہے یا تو وہ اس ان پڑھ گنوار مولوی کی کہانیاں سنے یا اپنی تعلیمی,معاشی,سماجی حیثیت کو بہتر کرنے کی طرف توجہ دے________

متعلقہ

Close