تعلیم و تربیت

مخلوط تعلیم (CO EDUCATION) کے مہلک اثرات

تعلیم نسواں کی اہمیت
اسلام دین علم ومعرفت ہے، جو قدم قدم پر حضرت انسان کو تعلیم کو تلقین کرتا ہے، حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے علم الاسماء سے سرفراز فرماکر انہیں مسجود ملائکہ بنایا، اسلام جس طرح مردوں کے لئے تعلیم کو ضروری قرار دیتاہے، اسی طرح تعلیم نسواں کی اہمیت کو بھی تسلیم کرتا ہے، چنانچہ بقدر ضرورت علم سیکھنا مردوعورت دونوں پر فرض کیا گیاہے، نبی رحمتﷺ نے خواتین کی تعلیم کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: اگر کسی کے پاس کوئی لونڈی ہو اور وہ اس کی اچھی تعلیم وتربیت کرے، اور اسے اچھی تہذیب سکھائے، پھر اسے آزاد کرے، اور اس کی شادی کردے تو اس کے لئے دہرا اجرہے۔(بخاری شریف)نیز آپؐ نے خواتین کی تعلیم کے لئے مستقل ایک دن مقرر فرمایا، روایت میں آتا ہے کہ بعض عورتوں نے نبی کریمﷺ سے عرض کیا کہ آپؐ کے پاس ہمیشہ مردوں کا ہجوم رہتا ہے، لہٰذا آپ ہماری تعلیم کے لئے الگ سے ایک دن مقرر کیجئے، آپ نے خواتین کی گذارش قبول فرمائی اور ان کے لئے ایک دن مقرر فرمایا، اس دن آپ ان کے پاس تشریف لے جاتے اور انھیں وعظ ونصیحت فرماتے تھے(بخاری شریف) کسی دن اگر آپ کے لئے جانا ممکن نہ ہوتا تو صحابہ میں سے کسی کو مامور فرماتے، چنانچہ حضرت ام عطیہ فرماتی ہیں کہ نبی رحمتﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو آپ نے ہم انصار کی عورتوں کو ایک گھر میں جمع فرمایا ا ور ہمارے پاس حضرت عمرؓ کو نصیحت کے لئے روانہ فرمایا، حضرت عمرؓ تشریف لائے اور دروازے پر کھڑے ہوکر سلام کیا، ہم نے سلام کا جواب دیا، پھر آپ نے فرمایا: رسول اللہﷺ کے قاصد کی حیثیت سے تمہارے پاس آیا ہوں، چنانچہ حضرت عمرؓ کے ذریعہ ہم کو معلوم ہوا کہ نبی کریمﷺ نے ہم کو حکم دیا ہے کہ ہم جوان اور حیض والی خواتین کو بھی عیدگاہ لے جائیں اور یہ کہ ہم پر جمعہ فرض نہیں ہے اور یہ کہ ہمیں جنازے کے پیچھے چلنے سے منع فرمایا ہے۔(مشکوٰۃ شریف)
اسلام اور مخلوط تعلیم
اسلام میں تعلیم نسواں سے روکا نہیں گیا،البتہاسلام تعلیم کے ان طریقوں سے منع کرتا ہے جو صنف نازک کو اس کی نسوانیت سے محروم کرکے حیا باختہ اور آوارہ بنادے، اسلام مرد وزن کے بے حجابانہ اختلاط کو انسانی معاشرہ کے لئے تباہ کن قرار دیتا ہے، اس سے شرم وحیاء کا جنازہ نکلتا ہے، بدکاری اور بے حیائی کی راہ ہموار ہوتی ہے، اسلام مردوخواتین کو تاکید کرتا ہے کہ وہ اپنی نگاہوں کی حفاظت کریں، چنانچہ سورہ نور میں مردو خواتین میں سے ہر ایک کو الگ الگ خطاب کرکے نگاہیں نیچے رکھنے کی تاکید کی گئی، نیز سورۃ الاحزاب میں خواتین کو حجاب کی تاکید کی گئی اور بے پردہ بن سنور کر باہر نکلنے سے منع کیا گیا، اسلام عفت وپاکدامنی کے تحفظ کو بنیادی اہمیت دیتا ہے اور ہر اس طرز عمل پر روک لگاتا ہے جس سے انسانی معاشرے میں بے حیائی در آتی ہو، اس لئے اسلام نہ صرف مخلوط نظام تعلیم کا قائل نہیں ہے بلکہ اسے انسانی معاشرہ کے لئے سم قاتل قرار دیتا ہے۔
تاریخی پس منظر
مخلوط نظام تعلیم کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے یہ دور حاضر کے اہل مغرب کی ایجاد ہے،دنیا کی قدیم تہذیبوں کے حامل ترقی یافتہ قوموں میں بھی مخلوط تعلیم کا رواج نہیں ملتا، تاریخ کے ہر دور میں لڑکوں اور لڑکیوں کے الگ الگ نظام تعلیم رائج تھا، اس سلسلہ میں احمد انس کا یہ اقتباس بڑا چشم کشا ہے:
’’تاریخ انسانی میں مغربی تہذیب کا دور وہ جدید دور ہے جس میں پہلی بار مخلوط تعلیم کو ملک کے نظام تعلیم کے ایک لازمی اور مستقل جز کی حیثیت سے اختیار کیا گیا ہے، یونانی بہت ترقی یافتہ تھے آزادئ نسواں کے بھی قائل تھے، لیکن ان کے پاس مخلوط تعلیم کا کوئی تصور نہیں تھا، چین کا نظام تعلیم ہر دور میں ترقی یافتہ رہا، لیکن مخلوط تعلیم کا کوئی سراغ ان کی تاریخ میں بھی نہیں ملتا حتی کہ مغربی تہذیب کے اولین دور میں بھی اس کا کوئی مستقل وجود نہیں تھا، مخلوط تعلیم کی ابتدا ایک مستقل نظام کی حیثیت سے اٹھارہویں صدی کے اواخر میں ہوئی، تاریخ بتاتی ہے کہ تہذیب انسانی کے تقریبا سب ہی ادوارمیںیونان وروم کی تہذیبوں میں او رخود مغرب میں اٹھارہویں صدی کے اواخر تک عورتوں اور مردوں کی تقسیم کار موجود رہی ہے، معاشی، سیاسی اور فکری میدانوں میں رہنمائی مردوں کا کام تھامے گھر داری اور بچوں کی پروش عورتوں کا کام‘‘۔(انسائیکلو پیڈیا سوشیل سائنس ص:614)
مخلوط تعلیم کا آغاز مساوات مرد وزن کے پر فریب نعرے سے ہوا، اللہ تعالیٰ نے تخلیقی طور پر عورتوں اور مردوں کے درمیان صلاحیتوں کے اعتبار سے فرق رکھا ہے، جس کا تقاضہ یہ ہے کہ دونوں کا دائرہ کار ا لگ الگ ہو ،لیکن صنعتی انقلاب کے بعد جب سرمایہ داروں کے لئے زیادہ سے زیادہ عملہ کی ضرورت ہوئی تو کم از کم معاوضہ میں زیادہ کام کروانے کے لئے خواتین کو آزادئ نسواں کے پر فریب دام میں پھانس کر انھیں مردوں کے شانہ بشانہ لا کھڑا کیا گیا،انسانی معاشرے میں جب مردوخواتین میں سے ہر ایک کا دائرہ کار الگ الگ ہے اور دونوں کی ذمہ داریاں بھی مختلف ہیں تو دونوں کا نظام تعلیم بھی علیحدہ ہونا چاہیے۔
مخلوط تعلیم کے تباہ کن اثرات
مخلوط تعلیم کے تباہ کن اثرات کا مشاہدہ کرنا ہو تو موجودہ معاشرے کا جائزہ لیجئے، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے حوالے سے شائع ہونے والی خبریں پڑھئے، شاید ہی کسی دن کے اخبارات ایسی خبروں سے خالی رہتے ہوں جن میں مخلوط نظام تعلیم کے کسی برے اثر کا تذکرہ نہ رہتا ہو۔
اخلاقی بگاڑ کا فروغ
مخلوط تعلیم کا سب سے برا اثر نئی نسل کے اخلاق پر پڑرہا ہے،کو ایجوکیشن کے رواج نے بچوں کے اخلاق کی مٹی پلید کردی ہے، شرم وحیاء جو انسان کا سب سے قیمتی زیور ہے رخصت ہوتا جارہا ہے، قریب البلوغ کا زمانہ جذبات میں ہیجان کا دور ہوتا ہے اس عرصہ میں نوخیز اور نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کا ایک ساتھ مل بیٹھنا اور بے حجابانہ میل وجول شہوانی جذبات کو بھڑکاکر ہیجانی کیفیت میں مبتلا کردیتا ہے، پھر لڑکیوں کا مختصرلباس میں بن سنور کر آنا جلتی پر تیل کا کام کرتا ہے، کسی نے بجا کہا کہ آج آزادانہ اختلاط اس حد کو پہونچ چکا ہے کہ تعلیم وتحقیق کے راستے سے شیطانیت رقص کررہی ہے، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اس قدر جنسی بے راہ روی کا ماحول ہے کہ ایک آدمی شرم کے مارے پانی پانی ہوجاتا ہے، مغربی اباحیت پسندی کے ماحول میں یونیورسٹیوں کے لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے سے اس قدر بے تکلف اور قریب ہوجاتے ہیں کہ سارے فاصلوں کو ختم کرکے گناہوں کے سمندر میں غوطہ زن ہوجاتے ہیں، لڑکوں اور لڑکیوں کو پورے آٹھ گھنٹے ایک ساتھ بٹھانا در اصل انھیں جنسی اشتعال دلانا ہے جس سے جنسی بے راہ روی اور نفسیاتی کشمکش پیدا ہوتی ہے، زنا بدکاری اور ہم جنس پرستی کو فروغ ملتا ہے اسکولوں میں اخلاقی بگاڑ اور جنسی انارکی کہاں تک پہونچ چکی ہے اس کا اندازہ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں رونما ہونے والے واقعات اور وہاں کی صورت حال سے کیاجاسکتا ہے، ورجینیا کے ایک چھوٹے سے لڑکیوں کے اسکول کے بارے میں خود وہاں کی طالبات کا کہنا ہے کہ ہے 75 سے 85 فیصد تک کی لڑکیاں جنسی تعلقات قائم کرچکی ہوتی ہیں، اسکولوں اور کالجوں تک میں جنسی تعلقات اتنے عام ہیں کہ چھ سات ماہ بعد وارث کے آجانے پر تعجب کی ایک انگلی بھی نہیں اٹھتی، ہر چھ میں سے ایک دلہن پہلے سے حاملہ ہوتی ہے، ایک اندازے کے مطابق سراکوز یونیورسٹی کی 6 ہزار طالبات میں اوسطا 400 سالانہ حاملہ ہوتی ہیں۔(مخلوط تعلیم ص:47۔49)
جب طلبہ کی ہوس پرستی انتہا کو پہونچ جاتی ہے تو وہ اپنی ساتھی طالبات کے ساتھ جنسی تشدد کربیٹھنے سے تک نہیں چوکتے، چنانچہ مغربی ملکوں میں طالبات کے ساتھ جنسی تشدد عام بات ہے، امریکہ کے ایک معروف ادارے ایسوسی ایشن آف امریکن یونیورسٹیز نے حال ہی میں ایک سروے کرایا جس کے مطابق امریکہ میں ایک چوتھائی (یعنی ہر چار میں سے ایک طالبہ) طالبات یونیورسٹی کیمپس میں جنسی حملوں او رغلط طرز عمل کا شکار ہوتی ہیں، یہ سروے امریکہ کی 27 اعلیٰ یونیورسٹیوں بشمول ہارورڈ یونیورسٹی میں کروایا گیا جس میں تقریبا دیڑھ لاکھ طالبات سے جنسی حملے اور زیادتی کے متعلق ان کے تجربات کے بارے میں پوچھا گیا، مجموعی طور پر 7,11طالبات نے بتایا کہ انھیں جبری طور پر جنسی حملے کے تجربے سے گذرنا پڑا، یہ اس معاشرہ کی حالت ہے جہاں بغیر شادی کے جنسی تعلقات رکھنے کو قانونی اور اخلاقی طور پر برا نہیں جانا جاتا ہے، جہاں جسم فروشی کو قانونی حیثیت حاصل ہے، دور نہیں خود ہمارے ملک کی صورت حال کچھ کم ابترنہیں چلتی بسوں میں عصمت ریزی کے واقعات ، آخر کس ماحول کی دین ہے؟ راجدھانی دہلی میں عصمت ریزی کے واقعات اس کثرت سے پیش آنے لگے کہ لوگوں نے اسے جرائم کی راجدھانی کا نام دیا، ملک کی مشہور جامعہ جے این یو کی ایک 25 سالہ پی ایچ ڈی طالبہ نے بتایا کہ اس کے ساتھ اس کے ایک ہم جماعت اسکالر نے شادی کے حیلے سے متعدد بار اس کی آبرو ریزی کی، کہا جاتا ہے کہ 21 فیصدی طلبہ وطالبات کے درمیان ناجائز تعلقات کا ہونا ایک عام سی بات ہے۔
خاندانی نظام کی تباہی
کسی بھی خاندان کی تشکیل میں عورت کا کلیدی رول ہوتا ہے،عورت اگر خاتون خانہ بن کر اپنی گھریلو ذمہ داریاں نبھاتی ہے تو خاندان کوغیر معمولی استحکام حاصل ہوتا ہے، عورت ،بیوی، ماں اور بیٹی کی حیثیت سے گھر کی زینت ہے، لیکن مخلوط نظام تعلیم نے اس کو اس کے دائرہ کار سے نکال کر مردوں کے شانہ بشانہ معاشی دوڑ میں شامل کردیا ، جس سے بتدریج عورت، بچوں کی تربیت اور گھریلو امور کی انجام دہی کو اپنے لئے بوجھ سمجھنے لگی، صنف نازک کے اس رجحان نے خاندانی بنیادوں کو کھوکھلا کرکے رکھ دیا، علاوہ ازیں مخلوط تعلیم کے نتیجہ میں شادی کی بندھنوں سے آزاد رہ کر شہوت رانی کی جو راہ نکالی جارہی ہے اس نے تو انسانی وجود ہی پر سوالیہ نشان لگادیا، جیسا کہ سطور بالا میں اشارہ کیا گیا مغربی ملکوں میں بغیر شادی کے جوڑوں میں بے تحاشہ اضافہ ہورہا ہے، مانع حمل دواؤں کا کثرت سے استعمال اسقاط حمل، نیز حرام اولاد کی ولادت پر انھیں کوڑے دان کی نذر کرنا،کیا یہ سب کچھ خاندانی نظام کی بربادی کی علامات نہیں؟ دوران تعلیم مختلف جوانوں کے ساتھ مٹرگشتی کرنے والی لڑکیاں جب ازدواجی بندھن میں بندھ جاتی ہیں تو انھیں کسی صورت تسکین ملتی نظر نہیں آتی ، بالآخر خلع کا راستہ اپناتی ہیں یا پھر شوہر طلاق دے دیتا ہے، مغربی معاشروں میں طلاق کے واقعات اپنی آخری حدوں کو چھور ہے ہیں، وہی خاتون مستحکم خاندان کی بنیاد رکھ سکتی ہے، جس نے بچپن سے عفت وپاکدامنی اور شرم وحیاء کی زندگی گذاری ہو اور مخلوط نظام تعلیم شرم وحیاء کو کھرچ کر نکال دیتا ہے، محبت کی شادیوں کی کثرت جس میں دین وایمان کی بھی پرواہ نہیں کی جاتی، مخلوط نظام تعلیم ہی کی دین ہے، کتنی ہی مسلمان لڑکیاں ہیں جنہوں نے اپنے ہندو ساتھیوں سے شادیاں رچالیں اور اپنے ماں باپ کے ساتھ دین ومذہب کے لئے کلنک کا دھبہ بن گئیں، ایسی محبت کی شادیوں کا انجام طلاق کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔
تعلیمی نقصان
کو ایجوکیشن کے حق میں سب سے بڑی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اس سے معیار تعلیم بلند ہوتا ہے، لڑکے اور لڑکیوں کے باہمی اختلاط سے دوریاں ختم ہوجاتی ہیں،اور یکسانیت پیدا ہونے سے تعلیم کا عمل آسان ہوجاتا ہے، لیکن کو ایجوکیشن کے حامی اس حقیقت کو فراموش کر جاتے ہیں کہ ایسے باہمی اختلاط سے طلبہ وطالبات تعلیم سے دور ہوجاتے ہیں اور تعلیم کے بجائے جنسی اختلاط فروغ پانے لگتا ہے، خود مغربی ملکوں میں کئے گئے سروے نتائج بتاتے ہیں کہ مخلوط نظام تعلیم تعلیمی معیار کو بلند کرنے کے بجائے پستی کا سبب بن رہا ہے، چند سال قبل فرانس کی ایک سرکاری رپورٹ منظر عام پر آئی تھی جس کے اہم نکات یوں تھے:
15 سال کی ریسرچ سروے رپورٹس کی روشنی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مخلوط تعلیمی ادارے صنف نازک کے لئے در اصل شگار گاہیں ہیں،ان تعلیمی اداروں کے ماحول اور مردوخواتین کے لئے آزادانہ اختلاط کے زیادہ مواقع سے جنسی تشدد کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے، مخلوط تعلیمی اداروں کے ماحول نے تعلیمی گراف کو ناقابل تلافی نقصان پہونچا یا ہے، طلبہ کی تعلیم زیادہ متاثر ہوئی ہے اور ان کے فیل ہونے کی شرح میں کئی گنااضافہ ہوا ہے،فرانس کی وزارتِ تعلیم نے طلبہ وطالبات کے لئے قائم شدہ ہاٹ لائنس کے حوالے سے بتایا کہ سال 2000ء میں گیارہ لاکھ شکایات موصول ہوئیں جن میں سے چار ہزار جنسی تشدد کی شکایات تھیں جبکہ فقرہ بازی، چھیڑ چھاڑ اور موبائل فون کے ذریعہ ہراساں کرنے کی شکایات ہزاروں میں ہیں اور اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسلام نے مسئلہ سمجھنے اور سلجھانے میں زیادہ مہارت کا ثبوت دیا ہے۔ (روزنامہ جنگ کراچی)
مردوخواتین کے لئے علیحدہ اسکول کی افادیت کی اس سے بڑی دلیل کیا ہوسکتی ہے کہ اب خود مغرب میں سنگل سیکس اسکول خوب فروغ پارہے ہیں، دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ ممالک جویکسانیت اور اختلاط کو اپنی تہذیب کا حصہ مانتے ہیں، وہ سنگل سیکس اسکول کے حمایتی نظر آرہے ہیں، آسٹریلیا میں 55 فیصد لڑکے اور 54 فیصد لڑکیاں الگ الگ اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں، بنگلہ دیش میں یونیورسٹی کے علاوہ تقریبا تمام ادارے غیر مخلوط ہیں، کنیڈا میں بھی غیر مخلوط اسکولوں کی تعداد زیادہ ہے، متحدہ عرب امارات میں بیشتر پرائیویٹ اسکول غیر مخلوط ہیں، انگلینڈ اور امریکہ بھی غیر مخلوط اسکولوں کے قیام کے حق میں نظر آتے ہیں، اسرائیل جیسے ملک میں مذہبی اسکولوں کو مخلوط نظام سے علیحدہ رکھا گیا ہے، انگلینڈ میں ایک سروے رپورٹ کے مطابق مخلوط تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے بچوں کے مقابلہ میں الگ الگ اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں خصوصا بچیوں کا رزلٹ زیادہ بہترہوتا ہے، مغرب میں غیر مخلوط تعلیمی اداروں کی تعداد میں آئے دن اضافہ ہوتا جارہا ہے، علیحدہ اسکولوں میں داخلہ لینے والی طالبات کی تعداد مخلوط اسکولوں سے رجوع ہونے والی طالبات کے مقابلہ میں کئی گنا زیادہ ہے، دونوں قسم کے اسکولوں کے نتائج سامنے آئے تو یہ دلچسپ حقیقت بھی سامنے آئی کہ پہلی پچاس پوزیشنوں میں سے 48 پوزیشن سنگل سیکس اسکولوں کے طلبہ وطالبات نے لی، جبکہ صرف دو پوزیشن کو ایجوکیشن والے اداروں کے حق میں آئے۔
صحت کی تباہی
مخلوط نظام تعلیم کا سب سے خطرناک اثر طلبہ وطالبات کی صحت پر پڑتا ہے،لڑکے اور لڑکوں کو چھ تا آٹھ گھنٹے اکھٹے بٹھانا در اصل انھیں جنسی کشمکش میں مبتلا کرنا ہے، جس کے صحت ونفسیات پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں، روزنامہ منصف میں اس حوالہ سے ایک چشم کشا تحقیق شائع ہوئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اجنبی خاتون مرد کا اختلاط ذہنی دباؤ کے ہارمونس میں اضافہ کا سبب بنتا ہے، ایک خوبصورت اجنبی خاتون صرف پانچ منٹ میں کسی مرد میں ذہنی دباؤ پیدا کرنے والے عوامل کی سطح میں اضافہ کرسکتی ہے جو مرد کے قلب کے لئے مضر ثابت ہوسکتی ہے ،اسپین کی یونیورسٹی آف ویلنسیا کے محققین نے اس بات کا پتہ چلایا ہے کہ اس سے مرد کے کولیسٹرالسطح میں اضافہ ہوسکتا ہے جس کے نتیجہ میں صحت پر مضر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں،محققین نے اپنے جائزہ کے دائرہ کار میں تجربہ کے لئے 84 مرد طلبہ کو شامل کیا جن میں کسی ا جنبی عورت کے ساتھ تنہا چھوڑنے سے قبل اور اس کے بعد ان کے کولیسٹرال سطحوں کی پیمائش کی گئی تھی جس سے صاف فرق واضح ہوا۔(روزنامہ منصف 3؍مئی 2010ء)

مزید دکھائیں

سید احمد ومیض ندوی

مولانا سید احمد ومیض ندوی استاذ حدیث و صدر شعبہ دعوۃ جامعہ اسلامیہ دار العلوم حیدرآباد ہیں۔

متعلقہ

Close