تعلیم و تربیت

مسلم انتظامیہ کے تحت چلنے والے عصری ادارے اوران کانصاب تعلیم

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی

بچہ کاذہن ودماغ ایک صاف شفاف بورڈ کی مانندہوتاہے، جوکچھ بھی اس میں لکھ دیاجائے، وہ نقش کالحجر(پتھرکی لکیرکی طرح) ہوجاتاہے، اسے کھرچ کھرچ کرمٹانے کے باوجودمٹتانہیں، یہی وجہ ہے کہ جولوگ اس چیزسے بہ خوبی واقف ہیں اوراس سلسلہ میں ذرابھی بے احتیاطی نہیں برتتے، وہ بچہ کا تعلیمی سلسلہ شروع کرنے سے پہلے اس ادارہ کانصاب تعلیم ضروردیکھتے ہیں، جس میں بچہ کوداخل کراناچاہتے ہیں ؛ کیوں کہ بچہ کی شخصیت سازی میں (اساتذہ کے ساتھ ساتھ)نصاب کابڑادخل ہوتاہے۔

کسی زمانہ میں ہمارے پاس اپنے ادارے نہیں تھے؛ اس لئے ہم بالخصوص عصری تعلیم دلوانے کی صورت میں ہندووعیسائی نظریاتی اداروں میں اپنے بچوں کوداخل کروادیتے تھے اوردینی تعلیم کے لئے (Something is better than nothing)کے رول کواختیارکرتے ہوئے ٹیوشن کاانتظام کرتے تھے، یہ اوربات ہے کہ ٹیوشن کے ذریعہ تمام بنیادی دینی تعلیم نہیں دے سکتے تھے؛ لیکن پھربھی بساغنیمت تھا؛ تاہم آج ہمارے پاس سیکڑوں ادارے ہیں ؛ لیکن تعلیمی اعتبارسے ہم انھیں دین کاوہ مواد(Materials)فراہم نہیں کررہے ہیں، جوہوناچاہئے؛ بل کہ ہمارے بعض ادارے توایسے ہیں، جہاں اردو تک کی تعلیم بھی نہیں دی جاتی، ظاہرہے کہ اپنی قوم کے ساتھ ایک قسم کاتعلیمی دھوکہ ہے۔

دینی موادفراہم نہ کرنے کی وجہ سے ہی ہمارے بچے اپنے اداروں میں تعلیم پانے کے باوجوددین بیزارہیں، وہ جمعہ جمعہ نمازپڑھ لینے کوہی کافی سمجھتے ہیں، انھیں طہارت کے مسائل سے واقفیت نہیں، وہ نمازکے فرائض وواجبات سے بے خبرہیں، زکات وروزہ کے مسائل نہیں معلوم، نکاح وطلاق اوردیگرابواب ؛ حتی کہ کھانے پینے میں کیا حلال ا ورکیاحرام ہے؟ اس سے بھی ناواقف ہیں، ایسے میں ہرمسلم انتظامیہ کے تحت چلنے والے ادارہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے تعلیمی نصاب میں دینی موادکوخاطرخواہ جگہ دے، ورنہ وہ اللہ تعالیٰ کی پکڑسے بچ نہیں سکتے۔

دینی موادفراہم کرنے میں کن امورکاخیال رکھناچاہئے ؟ ذیل میں تفصیل کے ساتھ نمبروار ان کوذکرکیاگیاہے، امیدکہ مسلم انتظامیہ ادارے اس سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے بچوں کی شخصیت سازی میں اہم کرداراداکریں گے، اس سلسلہ میں بنیادی طورپر درج ذیل امورکالحاظ رکھناضروری ہے:

 ۱-  اعتقادات سے متعلق علم: جس کوہم مختصراً’’ایمانِ مجمل‘‘میں پڑھتے ہیں، یعنی اللہ، رسول، ملائکہ، کتاب، آخرت کے دن، تقدیرکے اچھے وبُرے اورمرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر(ان کی تمام تفصیلات کے ساتھ، جن کوطوالت کی وجہ سے یہاں بیان نہیں کیاجاسکتا)ایمان لانا۔

 ۲-  عملیات سے متعلق علم: ایمان واعتقاد کے بعد’’عمل‘‘کانمبرآتاہے، یعنی ان چیزوں کی واقفیت، جن کے کرنے کا ہمیں حکم دیاگیاہے اورنہ کرنے کی صورت میں ’’عذابِ ألیم‘‘(دردناک عذاب)کی وعید سنائی گئی ہے، جیسے: نماز، روزہ، زکوۃ اورحج وغیرہ سے متعلق جان کاری۔

 ۳-  تَرْکیات سے متعلق علم: ’’ایمان ‘‘و’’عمل‘‘ سے متعلق علم جان لینے کے بعد اب ہمیں ان ممنوعات کے بارے میں جاننا ضروری ہے، جن کے کرنے سے ہمیں روکاگیاہے اورکرلینے کی صورت میں سزاکامستحق قراردیاگیاہے، امام غزالیؒ رقم طراز ہیں :

والذی ینبغی أن یقطع بہ المحصل … وہو: أن العلم …ینقسم إلی علم معاملۃ، وعلم مکاشفۃ، ولیس المرادبہذاالعلم إلاعلم المعاملۃ، والمعاملۃ التی کلف العبدالعاقل البالغ بہاثلاثۃ: اعتقاد، وفعل، وترک۔ (إحیاء علوم الدین: ۱؍۳۱)

خلاصہ کے طورپر یہ کہنامناسب ہے کہ علم کی دوقسمیں ہیں، ایک علم معاملہ اوردوسرے علم مکاشفہ اور یہاں علم معاملہ ہی مرادہے اورتین طرح کے علم معاملات کاعاقل بالغ شخص کومکلف کیاگیاہے، اعتقادی، عملی اور ترکی۔

 یہ تینوں چوں کہ فرض علوم ہیں، جن کاحاصل کرناہرمسلمان مرد وعورت پر فرض ہے؛ اس لئے اولین مرحلہ میں ان کالحاظ رکھناضروری ہے۔

 ۴-  اخلاقیات وآداب:  ’اخلاق‘ کے لغوی معنی ’’عادت، طبیعت اورمروء ت‘‘ کے آتے ہیں، اس کی واحد’’خُلُقْ‘‘ آتی ہے، جب کہ اصطلاح میں ’’ دل کے اندرراسخ ایسی اچھی یابری عادت کوکہتے ہیں، جو بغیرکسی غوروفکر کے سرزدہوتی ہے‘‘، المعجم الوسیط میں ہے:

حال للنفس راسخۃ تصدر عنہاالأفعال من خیر أو شر من غیرحاجۃ إلی فکرورویۃ۔ (المعجم الوسیط، ص: ۲۵۲، لفظ: خلق، نیز دیکھئے: کشاف اصطلاحات الفنون: ۱؍۷۶۲، لفظ: الخلق)

دل کی ایسی راسخ حالت، جس کی وجہ سے غوروفکرکی ضرورت کے بغیراچھے یابرے افعال صادرہوتے ہیں۔

 اور’’ادب‘‘ کے لغوی معنی ’’تہذیب ِنفس‘‘ (نفس کوسنوارنے) کے آتے ہیں، اس کی جمع ’آداب‘ آتی ہے، اصطلاح میں ادب ’’ایسی واقفیت سے عبارت ہے، جس کے ذریعہ تمام طرح کی غلطیوں (خطاؤوں )سے بچاجاسکے‘‘، مشہورماہرلغت امام جرجانیؒ لکھتے ہیں :

الأدب: عبارۃ عن معرفۃ مایحترز بہ عن جمیع أنواع الخطأ۔ (معجم التعریفات، ص: ۱۶، الألف مع الدال)

   اورغلطیوں سے بچنے کے لئے تعلیم وتہذیب کی ضرورت ہوتی ہے، اسی لئے المعجم الوسیط میں ادب کی تعریف یوں کی گئی ہے:

الأدب: ریاضۃ النفس بالتعلیم والتہذیب علی ماینبغی۔ (المعجم الوسیط، ص: ۳۹، لفظ: ادب)

نفس کومناسب طریقہ پرتعلیم وتہذیب سے سنوارناادب ہے۔

 اسلام ایک عالم گیرمذہب ہے اورتمام بنی نوع انساں کی فلاح وکامیابی کاعلم بردار ہے، جس کے لئے وہ ایسے سہل اورآسان اصول اورطریقے بیش کرتاہے، جن پرچل کرہرشخص اپنی زندگی کوکامیاب بناسکتاہے، ان اصولوں میں ’’ اخلاق اورآداب‘‘ کوسرفہرست رکھا گیاہے، اسلام نے اپنے ابتدائی ایام ہی سے ان دونوں کی طرف بھرپورتوجہ دی ہے، اسی کا نتیجہ تھا کہ صرف تئیس(۲۳) سال کی قلیل مدت میں پوراعرب حلقہ بگوش اسلام ہوگیا،مشہورسیرت نگار ابن ہشامؒحضرت جعفرؓ کی اس تقریرکونقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں، جوانھوں نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے دربارمیں کی تھی، جس میں اخلاق پرہی زور دیاگیا ہے،حضرت جعفرؓ نے فرمایا :

’’ہم جاہل قوم تھے، بتوں کی پرستش کرتے تھے، مردارکھاتے تھے، غلط کام کرتے تھے، پڑوسیوں کے ساتھ بدسلوکی سے پیش آتے تھے، ہم میں سے طاقت ور کمزورکودباتاتھا، ہم انھیں حالات میں تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے پاس ہمیں میں سے ایک رسول کوبھیجا، جس کے نسب، صداقت، امانت داری اورپاک دامنی سے ہم خوب واقف تھے، اس نے ہمیں اللہ کی وحدانیت اورعبادت کی دعوت دی اوراس بات کی دعوت دی کہ ہم ان پتھروں اوربتوں کی پوجاترک کردیں، جن کوخودہم اورہمارے آباء واجدادپوجتے تھے، اور ہمیں صدق گوئی، امانت کی ادائے گی، صلہ رحمی، پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے اورمحرمات وخون بہانے سے رکنے کاحکم دیا، اورہمیں غلط کاموں، کذب بیانی، یتیموں کے مال کھانے اورپاک دامن عورتوں پرالزام تراشی سے منع کیا …‘‘  (السیرۃ النبویۃ:۱؍۳۳۶)۔

اس تقریرسے واضح طورپریہ بات معلوم تی ہے کہ اسلام نے اول دن سے اخلاق کی دعوت اوراس کی تعلیم دی ہے،خود جناب نبی کریمﷺ نے اپنی بعثت کامقصد’’اخلاق‘‘ کی تکمیل فرمایاہے، ارشاد ہے:

إنمابعثت لاتمم صالح الاخلاق۔ (مسنداحمد عن أبی ہریرۃ، حدیث نمبر: ۸۹۵۲)

مجھے اچھے اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث کیاگیاہے۔

 آپ ﷺ نے حسن اخلاق کے لئے دعااورسوء اخلاق سے پناہ بھی مانگی ہے؛ چنانچہ تکبیرافتتاح کی دعا میں فرماتے ہیں :

…واہدنی لأحسن الأخلاق، لایہدی لأحسنہا إلاأنت، واصرف عنی سیئہا، لایصرف عن سیئہاإلاأنت۔ (مسلم، حدیث نمبر: ۷۷۱، صحیح ابن حبان، باب صفۃ الصلاۃ، حدیث نمبر: ۱۷۷۱)

…اورحسن ِ اخلاق کی مجھے ہدایت دے کہ تیرے سواکوئی اس کی ہدایت نہیں دے سکتا، اوربرے اخلاق کومجھ سے دورکردے کہ تیرے سوا اس سے کوئی دور نہیں کرسکتا۔

 حضورﷺنے اخلاق برتنے کاحکم بھی دیاہے؛ چنانچہ حضرت سائب بن سائبؓ کوحکم دیتے ہوئے فرماتے ہیں :

یاسائب! انظرإلی الأخلاق التی کنت تصنعہا فی الجاہلیۃ، فاصنعہا فی الإسلام، أحسن إلی الیتیم، وأقر الضیف، وأکرم الجار۔ (الأحاد والمثانی، حدیث نمبر: ۶۹۲، اتحاف الخیرۃ المہرۃ، کتاب الامارۃ، حدیث نمبر: ۵۱۱۵)

اے سائب! ان اخلاق کودیکھو، جن کوتم جاہلیت میں برتتے تھے، اسلام میں بھی برتو، یتیم کے ساتھ حسن سلوک کرو، مہمان نوازی کرواورپڑوسی کااکرام کرو۔

جہاں تک ادب سکھانے کاتعلق ہے توخودحضوراکرم ﷺ کافعل اس پرشاہد ہے؛ چنانچہ حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت حسن بن علیؓ صدقہ کاایک کھجوراپنے منھ میں ڈال لیا توآپ ﷺ نے فرمایا:

کخ کخ، أما تعرف أنالانأکل الصدقۃ۔ (بخاری، باب من تکلم بالفارسیۃ…، حدیث نمبر: ۳۰۷۲، مسلم، باب تحریم الزکاۃ علی رسول اللہ ﷺ وعلی آلہ، حدیث نمبر: ۱۰۶۹)

تھو تھو، کیاتمہیں معلوم نہیں کہ ہم صدقہ نہیں کھاتے۔

اس حدیث کے ضمن میں علامہ عینی ؒ لکھتے ہیں :

وفیہ: أن لأولیاء الصغار المعاتبۃ علیہم والحول بینہم وبین ماحرم اللہ علی عبادہ۔ (عمدۃ القاری، باب اخذ صدقۃ التمر…:۱۴؍۷۵)

اس میں یہ ہے کہ بچوں کے اولیاء کوسرزنش کرنے اوران کے اوربندوں پراللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کے درمیان حائل ہونے کاحق ہے۔

ایک حدیث میں آپﷺ نے بچوں کوحسن ادب سکھانے کا امرفرمایاہے،ارشادہے:

اکرموا أولادکم وأحسنوا أدبہم۔ (سنن ابن ماجۃ، باب برالولد والإحسان إلی البنات، حدیث نمبر: ۳۶۷۱)

اپنے بچوں کااکرام کرواورانھیں حسن ِادب سکھاؤ۔

 حارث بن نعمان کی وجہ سے اگرچہ اس حدیث کوزوائد میں ضعیف قراردیاگیا ہے؛لیکن ابن حبان نے اس کاذکرثقات میں کیاہے؛ اس لئے اتنی بات ضرورثابت مان سکتے ہیں کہ بچوں کوادب سکھایااورسوء ادب بچایاجائے، محمد ابن ہادی سندیؒ اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

فإن إکرامہم یزیدہم حُباًللآباء، وأمالوالإکرام قد یفضی إلی سوء الأدب أشار بقولہ: وأحسنوا أدبہم إلی أنہ لاینبغی أن یکون الإکرام إلی ہذاالحد۔ (حاشیۃ السندی، باب  برالولد والإحسان إلی البنات، حدیث نمبر: ۳۶۶۱)

کیوں کہ بچوں کااکرام ان کے دل میں آباء کے لئے محبت پیداکرتاہے؛ البتہ اگراکرام سوء ادب تک پہنچائے تواحسنواأدبہمکے ذریعہ سے اشارہ کیا کہ اکرام اس حدتک مناسب نہیں ہے۔

بہرحال! معلوم ہواکہ یہ دونوں امربالخصوص موجودہ زمانہ میں، جب کہ یہ باقاعدہ علم الاخلاق اورعلم الأدب کے نام سے فن کی شکل اختیارکرچکے ہیں، تمام اداروں کے اندرنصاب کاجزء لاینفک ہوناچاہئے۔

۵-  مطالعۂ سیرت:  سیرت کے معنی’’ طریقہ‘‘ اور’’حالت‘‘ کے آتے ہیں، قرآن مجیدمیں ہے:

 سَنُعِیْدُہَاسِیْرَتَہََا الْأُوْلٰی۔ (طہ: ۲۱)

ہم عنقریب اس کواس کی پہلی حالت پرلوٹادیں گے۔

 اصطلاح میں سیرت’’اس علم کوکہتے ہیں، جوآں حضرت ﷺ کے حالاتِ زندگی، ان کے خِلْقی اورخُلُقی صفات اورغزوات وسرایاکے جمع وتالیف کے ساتھ مختص ہو‘‘، ویکی پیڈیامیں ہے:

ہوالعلم المختص بجمع ماورد من وقائع حیاۃ نبی الإسلام محمد، وصفاتہ الْخُلقیۃ والخِلقیۃ، مضافاً إلیہا غزواتہ وسرایاہ۔ (https://ar.m.wikipedia.org)

 یہاں سیرت کامفہوم اورزیادہ وسیع ہے، جس میں صحابہ وصحابیات، تابعین وتابعیات، تبع تابعین وتبع تابعیات اورصلحاء وبزرگانِ دین کے حالاتِ زندگی اوران کے اوصاف حمیدہ بھی شامل ہیں، جن کے مطالعہ سے زندگی سنورتی اورعمل کی ترغیب ہوتی ہے۔

 سیرت کامطالعہ کئی اعتبارسے ہرمسلمان کے لئے ضروری ہے،جس کی کچھ تفصیل حسب ذیل ہے:

  ۱-  بحیثیت مسلمان اللہ تعالیٰ نے ہرایک کونبی کریم ﷺ کی اطاعت کاحکم دیاہے، ارشاد باری ہے:

 أَطِیْعُوْا اللّٰہَ وَأَطِیْعُوْا الرَّسُوْلَ۔ (النساء: ۵۹)

اللہ اوررسول کی اطاعت کرو۔

 اورظاہرہے کہ یہ اطاعت اسی وقت ممکن ہے، جب کہ نبی کریم ﷺ کی سیرت کامطالعہ کیاجائے۔

 ۲-   اللہ تعالیٰ نے حضوراکرمﷺ کوہمارے لئے ’’اسوۂ حسنہ‘‘ قراردیاہے، ارشاد ہے:

لَقَدْکَانَ لَکُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ۔ (الأحزاب: ۲۱)

رسول اللہ میں تمہارے لئے بہترین نمونہ ہے۔

اورآئیڈیل کی زندگی کامطالعہ ازحد ضروری ہے؛ تاکہ ہم خورش سے لے کرپوشش تک ان کواپنا آئیڈیل مان اوران کے طرزِزندگی کواختیار کرسکیں، علامہ ابن قیم ؒ لکھتے ہیں :

وإذاکانت سعادۃ العبد فی الدارین معلقۃ بہدی النبی ﷺ فیجب علی کل من نصح نفس، وأحب نجاتہاوسعادتہاأن یعرف من ہدیہ وسیرتہ وشأنہ مایخرج بہ عن الجاہلین بہ، ویدخل بہ فی عدادأتباعہ وشیعتہ وحزبہ۔ (زادالمعاد، مقدمہ: ۱؍۶۹)

جب دارین کی سعادت آں حضرت ﷺ کے طریقہ کے ساتھ معلق ہے توہراس شخص پرواجب ہے، جواپنی خیرخواہی چاہتاہے اوراپنے لئے نجات اور سعادت پسندکرتاہے کہ وہ آپ ﷺکی سیرت، طریقہ اور حالات سے اتنی واقفیت حاصل کرے، جوجاہلوں سے ممتاز کردے اورآپﷺ کے پیرو کاروں کی جماعت میں شامل کردے۔

  ۳-  بعثت ِمحمدی ﷺ سے پہلے تہذیبی اعتبارسے دنیاکھوکھلی ہوچکی تھی، نیز موجودہ دوربھی تہذیبی اعتبارسے کھوکھلی ہوچکی ہے، جب کہ اسلامی تہذیب زندۂ جاویداورتمام تہذیبوں کی روح ؛ بل کہ سابقہ اورلاحقہ تہذیبوں کانقطۂ اتصال ہے؛ اس لئے تہذیبی اعتبارسے بھی سیرت کامطالعہ نہایت ضروری ہے۔

۴-  پوری دنیاجن (اقتصادی، معاشرتی،معاملاتی، اخلاقی،جنسی، سیاسی، قومی، تہذیبی، ثقافتی، ماحولیاتی وغیرہ)مسائل سے دوچارہے، ان کاحل اسلام کے اندرموجودہے، لہٰذا ان عالمی مسائل کوحل کرنے کے اعتبارسے بھی سیرت کامطالعہ ضروری ہے کہ سیرت کے اندران کے حل موجودہیں۔

۵-  موجودہ زمانہ علمی وتحقیقی زمانہ کہلاتاہے اورعلمی وتحقیقی اعتبارسے ستاروں سے آگے کمندیں ڈالنے والوں کواس کاعتراف ہے کہ ان کی ترقی میں اسلامی سرمایہ کابڑاہاتھ ہے اوراسلامی سرمایہ کاایک اہم مأخذ سیرت بھی ہے، لہٰذا اس اعتبارسے بھی سیرت کامطالعہ ضروری ہے۔

 اسی طرح سیرت ِرسول ﷺ کے ساتھ ساتھ ان صحابہ اورصحابیات رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی زندگیوں کامطالعہ بھی نہایت ضروری ہے کہ انھوں نے براہ راست حضوراکرم ﷺ سے کسب ِفیض کیاہے، پھرتابعین اورتبع تابعین کی زندگیوں کوبھی پڑھناضروری ہے کہ ان کی تربیت حضرات صحابہ کرام کے ہاتھوں ہوئی ہے، نیز اللہ کے رسول ﷺ ان کے خیرپرہونے کی گواہی بھی دی ہے، فرمایا:

خیرالناس قرنی، ثم الذین یلونہم، ثم الذین یلونہم۔ (بخاری،باب لایشہد علی شہادۃ جور إذااُشہد، حدیث نمبر: ۲۶۵۲)

بہترین لوگ میرے زمانہ کے ہیں، پھرمیرے بعد والے زمانہ کے، پھراس کے بعدوالے زمانہ کے۔

 ۶-  مقاصد شریعت:  اسلام کے جتنے بھی احکام ہیں، سب کاکوئی نہ کوئی مقصد ہے؛ بل کہ خود انسانی وجودکا ایک بڑے اہم مقصد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ رب العزت فرماتے ہیں :

وَمَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ۔ (الذاریات: ۵۶)

اورمیں نے جنوں اورانسانوں کومحض اپنی عبادت کے لئے پیداکیا۔

 لہٰذا اسلامی احکام بتانے کے ساتھ ساتھ اس کے مقاصد پربھی روشنی ڈالنی چاہئے؛ تاکہ دل مطمئن ہوجائے، اس علم کاحصول بھی ضروری ہے؛ بل کہ فرض کفایہ میں شامل ہے۔

 ۷-  حقوق ومعاشرت:  لغت میں حق کے معنی’’ایسی ثابت شدہ چیزکے ہیں، جس کے انکارکی گنجائش نہیں ‘‘، امام لغت جرجانیؒ لکھتے ہیں :

 الحق فی اللغۃ: ہوالثابت الذی لایسوغ إنکارہ۔(التعریفات للجرجانی، ص: ۸۹)

  فقہی اصطلاح میں حق’’شریعت کی طرف سے مقررکردہ ذمہ داری اورتصرف کے دائرۂ اختیار‘‘کوکہتے ہیں، شیخ مصطفی زرقاء ؒلکھتے ہیں :

اختصاص یقرربہ الشرع سلطۃ ً أوتکلیفیاً۔(المدخل الفقہی العام:۱۰۳)

 اورمعاشرت کے معنی’’میل جول اورصحبت اختیارکرنے‘‘ کے آتے ہیں، ڈاکٹررواس قلعہ جی لکھتے ہیں :

المعاشرۃ: بضم المیم وفتح الشین من عاشر: المخالطۃ والمصاحبۃ۔ (معجم لغۃ الفقہاء، ص: ۳۳، نیز دیکھئے: معجم مقاییس اللغۃ لابن فارس: ۴؍۳۲۶)

معاشرت میم کے ضمہ اورشین فتحہ کے ساتھ، میل جول اورصحبت اختیارکرنا۔

 نصاب تعلیم میں حقوق ومعاشرت کی تعلیم کواہمیت کے ساتھ اوراصل مضمون(Main subject)کی حیثیت سے پڑھاناچاہئے، عصری اداروں میں ان چیزوں پربالکل توجہ نہیں دی جاتی ہے، جس کانتیجہ یہ نکلتاہے کہ بوڑھاپے میں والدین کوجب خدمت کی ضرورت ہوتی ہے، اس وقت ان اداروں کے تعلیم یافتہ والدین کو’’بوڑھوں کے گھر‘‘(Old age home)کاراستہ دکھادیتے ہیں۔

۸-  غیر شرعی امورسے احتراز:  تعلیم  کے راستے سے جس قسم کی اخلاقی، تہذیبی، تمدنی اورمعاشرتی بیماریاں پھیل رہی ہیں، وہ اہل بصیرت سے مخفی نہیں، اوراس کی بنیادی وجہ غیرشرعی امورسے عدم احتراز اورمغربی تہذیب کی نقالی ہے، اگرغیرشرعی امورسے بچاجائے تویہ بیماریاں ختم ہوسکتی ہیں، مثلا: اختلاط، بے پردگی، ڈانس کی تعلیم اوروقت سے پہلے جنسی تعلیم (اوروہ بھی بھونڈے انداز میں ) وغیرہ غیرشرعی امورسے احتراز ضروری ہے؛ تاکہ ایک صالح معاشرہ وجودمیں آسکے۔

  نصاب تعلیم کے سلسلہ میں مفکراسلام حضرت مولاناسیدابوالحسن علی ندویؒ کا ایک اقتباس نقل کرناضروری سمجھتاہوں، جس سے معلوم ہوجائے گا مسلم منیجمنٹ والے اداروں میں کن امورکالحاظ رکھناچاہئے، وہ فرماتے ہیں :

 اس غیرفطری اورغیرضروری صورت حال سے چھٹکاراپانے کی اس کے سوااورکوئی صورت نہیں کہ اس پورے نظام تعلیم کویکسرتبدیل کردیاجائے اوراس کوختم کرکے نئے سرے سے ایک نیانظام تعلیم تیارکیا جائے، جواپنی ملت اورامت کے قد وقامت پرراست آتاہواوراس کی دینی ودنیوی ضروریات پوری کرسکتاہو، اس مسئلہ کاحل خواہ کتناہی دشوارنظرآتاہواورصبرآزمااوردقت طلب ہو، اس کے سوا کچھ نہیں کہ اس نظام تعلیم کواز سرنو ڈھالاجائے اوراس کوامت مسلمہ کے عقائد، زندگی کے نصب العین، مقاصد اورضروریات کے مطابق بنایا جائے اوراس کے تمام اجزاء سے مادیت، خداسے سرکشی، اخلاقی وروحانی قدروں سے بغاوت اورجسم وخواہشات کی پرستش کی ر وح اوراسپرٹ کوختم کیاجائے اوراس کے بجائے تقوی، انابت الی اللہ، آخرت کی اہمیت اورفکراورپوری انسانیت پرشفقت کی روح جاری وساری کردی جائے، اس مقصد کے لئے زبان وادب سے لے کرفلسفہ اورعلم النفس تک اورعلوم عمرانیہ سے لے کراقتصادیات ومعاشیات تک صرف ایک روح کرنی ہوگی، مغرب کے ذہنی غلبہ اورتسلط کاخاتمہ کرنا ہوگا، اس کی قیادت اورامانت کاانکارکرناہوگا، اس کے علوم ونظریات پر علمی تحلیل وتجزیہ اوربے لاگ تنقید کا مسلسل اورجرأت مندانہ عمل کرناہوگا۔(اسلامی ملکوں میں نظام تعلیم کی اہمیت، ص:۲۱-۲۲)

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close