تعلیم و تربیت

مسودہ نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2016 کے چند مشمولات ( پہلی قسط)

محمد بہاؤ الدین

باب (1) تمہید
دنیا کی پہلی یونیورسٹی جو ٹیکسلا میں 700 قبل مسیح جسے نالندہ یعنی نالندہ مہاویرا بھی کہا جاتا تھا۔ اس سے متاثر ہوکر موجودہ دور میں میٹا فزکس، فلاسفی، ویدا، یوگ شاستر، بدھ ازم کی تحریریں اور بیرونی فلاسفی سے متاثر اور اس بیک گراؤنڈ میں نئی نیشنل تعلیمی پالیسی جو سابقہ تعلیمی پالیسی 1986 جس کا اعادہ 1992میں ہوا تھا اوراب ایجوکیشن کمیشن کی بنیاد پر موجودہ قومی پالیسی کے ذریعہ اخلاقی و سماجی اقدار جوعام آدمی کی تعلیم کے ذریعہ سے پیدا کرنا ہے اسی نکتہ نظر سے قومی یکجہتی اور عام شہریوں کی کلچر کو فروغ دینا یہ مجوزہ پالیسی کی بنیاد ہے۔ اب تعلیمی طریقہ صرف کلاس روم کی حد تک محدود نہ ہوکر اسے زائد از مدرسہ ، میڈیا (الیکٹرونک، پرنٹ)، انفارمیشن اینڈ کمیونکیشن ٹیکنالوجی، کتب و رسائل کی بنیاد پر سیکھنے والوں کو موجودہ جدید علم سے آراستہ کیا جائے گا۔ جس کی بنیاد غیر ادارہ جاتی ذرائع پر بھی ہوگی۔ نیز مجوزہ پالیسی میں معیار تعلیم، طلبہ کے لئے عمر بھر کی تعلیم کے مواقع جس میں علم مہارت، تربیت و اقدار کے ساتھ عالمی سطح پر یعنی گلوبلائزیشن سے مقابلہ آرائی کے لئے طلبہ کو تیار کرنا مقصود و مطلوب ہے تاکہ ذمہ دار شہری جو یہاں کے ورثہ و روایت کو یعنی ہندوستان کی تکثیریت والی تہذیب و تاریخ کو ترقی دیتے ہوئے سماجی ہم آہنگی اور مذہبی بھائی چارگی پر مشتمل ہوگی اور یہ شہری اپنی تعلیم سے قوم کی فلاح و بہبود فراہم کریں گے۔ مختصراً یعنی معیاری تعلیم جو ہر سطح پر مہیا کی جائے گی ، سوسائٹی کے تمام افراد کو تعلیمی مواقع فراہم کئے جائیں گے۔
باب (2)
تعلیمی ادارہ جات میں بہتر انتظامیہ ، معیاری ایجوکیشن جس میں شرکت کے یکساں مواقع اور ریسرچ کے ترقیاتی منصوبوں کے ذریعہ تعلیمی ترقی کی یہ پالیسی ضامن ہوگی۔
شرکت کے یکساں مواقع
ماقبل اسکول یعنی پری اسکول ایجوکیشن میں شرکت کے مواقع بہت ہی کم ہے اور عالمی سطح پر ثانوی تعلیم سے اعلیٰ ثانوی و جامعاتی تعلیم ہمارے یہاں ایک چیلنج ہے۔ ہندوستان دنیا میں سب سے زیادہ ناخواندہ افراد یعنی 7 سال والے سے زائد عمر کے لوگوں کی تعداد 282.6ملین 2011ء کے اعداد و شمار کے مطابق ہے۔ اسی طرح نوجوان بالغ افراد کی تعلیم یعنی جن کی عمریں 15 سے 24سال کی ہیں بالترتیب 86.1 فیصد اور 69.3 فیصد آبادی پر مشتمل ہے۔
معیاری تنقیحات
تربیت یافتہ اساتذہ کی کمی اور غیر موثر نظام تعلیم کے لئے ایک چیلنج ہے جو پری اسکول ایجوکیشن کو متاثر کرتا ہے۔ (National Achivement Servey)کے مطابق یہ بنیادی تعلیم بچوں کے معیار کو پرائمری و سیکنڈری کو متاثر کرتے ہوئے انہیں NAACکے معیار کے مطابق نہیں آسکے۔ یعنی ہندوستان میں 140 یونیورسٹیز میں سے صرف 32 فیصد یونیورسٹی کو Aگریڈ مل سکا اور اس طرح 2780کالجز میں سے صرف 9 فیصد کالجز کو A گریڈ مل سکا۔ یعنی منظورہ یونیورسٹی کے 80فیصد اور ملحقہ کالجز کے 91 فیصد کاکالجز اوسط سے کم درجہ کے ہیں۔
تعلیم اور روزگار
ہندوستان کی آبادی کا 54فیصد طبقہ 25 سال کی عمر کا ہے جن کے لئے روزگار کے مواقع اور کورسس کا انتظام کرنا ہے جس میں ٹیکنیکل ، ووکیشنل کورسس کو زیادہ ترجیح دی جائے گی۔
نصاب اور اس کا تجزیہ
نصابی تعلیم غیر نصابی تعلیم کے ارتباط سے طلبہ کو تیار کیا جائے گا تاکہ طلبہ میں مہارت اور اچھے کام کی بنیاد پر تیزی سے تبدیل ہوتی دنیا میں بہتر زندگی گزار سکیں۔ ان میں تخلیقی اور تحقیقی و مواصلاتی صلاحیتوں کو موثر کرتے ہوئے ان کے مسائل کا حل کرکے انہیں آزادانہ زندگی گزارنے اور ایک ذمہ دار شہری بننے کی صلاحیت پیدا کرتے ہوئے انہیں ہندوستان میں تکثیریت کلچر کے ساتھ باہمی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنے اور مل جل کر رہنے کی تربیت کی جائے گی۔
انفارمیشن اینڈ کمیونکشن ٹیکنالوجی
ماضی میں چند برسوں سے انفارمیشن، کمیونکیشن ٹیکنالوجی کو تعلیم کا جز بنایا گیا ہے لیکن کماحقہ اس کا فائدہ نہیں مل سکا۔ اس لئے اس اسکیم کی ارتقاء کرتے ہوئے اس کے معیار میں اضافہ کیا جائے گا اور آئی سی ٹی کو پانچویں جماعت سے ہی شروع کیا جائے گا۔
ٹیچر ڈیولپمنٹ اور مینجمنٹ
ٹیکنالوجی کے اس ماحول میں اساتذہ کو مختلف نوع سماجی ، معاشی، تہذیبی اور ٹیکنالوجی والا ماحول مہیا کیا جائے گا۔ جس کے لئے درکار اساتذہ کی کمی کو دور کیا جائے گا اور اساتذہ میں پروفیشنل تشخص اور ان کی رہنمایانہ درجہ کو بلند کرتے ہوئے ان میں مواخذہ اور جوابداری پیدا کرتے ہوئے یہ صلاحیتیں طلبہ کے لئے فوری طور پر مہیا کی جائے گی۔
Equit Issue
معاشی پسماندہ طبقہ کے طلبہ کو پری پرائمری ایجوکیشن میں شرکت کے کم ہی مواقع ہیں۔ اس طرح ڈراپسرس طلبہ کی تعداد یعنی Out of School Childrensکی قومی سطح پر متاثرہ تعداد SC,ST اور مسلم طلبہ پر مشتمل ہے۔ جس طرح ہمیں ان طلبہ کی عظیم تر ضروریات کے لئے پالیسی اپنی توجہ ان پر مرکوز کرے گی۔ اس طرح دور دراز علاقوں میں رہنے والے طلبہ معذور و کمزور بچوں کے خاندان ایک جگہ سے دوسری جگہ تلاش روزگار میں گھومتے رہتے ہیں انہیں تعلیم کے تمام تر مواقع فراہم کئے جائیں گے اور ہندوستان کے طلبہ کو عالمی سطح الیمنٹری اور ثانوی درجہ کی مطابقت سے تیار کیا جائے گا۔ اس طرح ان طلبہ کے لئے مدارس کو ہر طرح سے آراستہ کرنا اور یہ معذور سماجی کمزور طبقات کو تعلیم سے آراستہ کرنا یہ اس پالیسی کا کلیدی نظریہ ہے۔
System Efficiency
2014-15ء ؁ میں پرائمری سطح پر ناکام طلبہ کا تناسب 83.7 تھا۔ اور ایلیمنٹری سطح پر 67.4 تھا اور 10میں سے4 طلبہ گریڈ Aمیں شامل تھے انہوں نے آٹھویں درجہ میں پہنچنے سے قبل ہی اسکول ترک کردیا۔ اس طرح قومی سطح پر خصوصاً معاشی طور پر متاثرہ گروپس میں لڑکیوں کا شرح تعداد دیکھنے کو ملتی۔ اس لئے الیمنٹری، سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری تعلیم کے لئے تمام شریک طلبہ کو ان کی تکمیل تعلیم تک قائم رکھنا اس پالیسی کا ترجیحی نشانہ ہے۔
Governance & Management
ملک میں ملا جلا رد عمل یہ دیکھا گیا کہ مدرسوں کے انتظامیہ خصوصاً اعلیٰ ثانوی سطح پر بہت پیچیدہ ہونے سے وہاں کے پروگرام ، ان کی فائنانس وغیرہ کی وجہ سے جو موجودہ تصویر ہے اس کے تدارک کے لئے دونوں سطح پر یعنی گورننس اور مینجمنٹ کے لئے فوری طور پر کوششوں کا آغاز ہوگا۔
ریسرچ اور ڈیولپمنٹ
ہندوستان کے جامعات میں ریسرچ اور ڈیولپمنٹ کا ورک کمزور رہا ہے۔ یعنی ٹیچنگ اور ریسرچ میں مہارت و امتیاز عالمی سطح پر نہیں پہنچ سکا۔ اس لئے ریسرچ کے معیار کے لئے یونیورسٹی ڈپارٹمنٹ صنعت وغیرہ میں ارتقائی کوششیں کی جائیں گی۔
بجٹ کی دشواریاں
معیاری تعلیم کے لئے جو چیلنجس ہے اس میں بجٹ کا مسئلہ سب سے اہم ہے۔ اس پالیسی کے ذریعہ ہم جی ڈی پی خرچ کا 6 فیصد حصہ تعلیم پر متعین کرتے ہیں۔ اس طرح ہم ثانوی اور تعلیم بالغان کے پروگرام کو ایک سطح تک ہی معیار دے سکے۔
عالمی سطح پر عہد
Globle Sustainable Development Goal 4 (SDG 4)جو 2030 تک کا ایجنڈہ ہے اس کے لئے ہم معیاری تعلیم اور اسے حاصل کرنے کے تمام عمر مواقع فراہم کئے جائیں گے۔ نیشنل ایجوکیشن پالیسی ، ایجوکیشن فارین ایجنڈہ اور SDG 4 کی مطابقت میں ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی گئی۔
باب (3)
(Vision & Mission)
ویژن
ملک کے ترقیاتی معاملات میں اور عالمی سطح پر ترقیاتی تبدیلیوں کے مطابق تعلیم پر مبنی معیشت اور سوسائٹی کو تیار کرنا اس پالیسی کا مقصد ہے۔ جو گریجویٹ پوسٹ گریجویٹ کی علمی لیاقت، مہارت اور اقدار پر مشتمل قومی سطح پر تیارہوگی ۔
مشن
تمام طلبہ نوجوان، بالغ افراد کو مکمل طور پر مساویانہ مواقع کرتے ہوئے بہترین تعلیم دلائی جائے گی۔ ہر سطح پر وہ اقدارجن میں ذمہ دار شہری، امن و امان، تحمل و برداشت، قومی یکجہتی، سماجی ہم آہنگی اور آپس میں ایک دوسرے کے مذہب کا احترام پیدا کرنے والے شہری و افراد کی تعمیر کی جائے گی۔ نیز عالمی سطح پر گلوبل سٹیزن کا تصور کو پروان چڑھایا جائے گا۔ اساتذہ کے تعلیمی معیار، ان میں کارکردگی، اداروں میں قائدانہ صلاحتیں اور اچھے انتظامیہ کے ذریعہ تعمیری نسل جو ملک کی ترقی و تعمیر میں شامل ہوگی نہ صرف انہیں تیار کیا جائے گا بلکہ انہیں اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ عالمی سطح پر چیلنجز کو قبول کرسکیں۔طلبہ میں ان کی تعلیمی لیاقت، ٹیکنکل اور ووکیشنل مہارت، تخلیقی و تحقیقی صلاحیتیں جو مواصلاتی مہارت کے ذریعہ آزادانہ طور پر مسائل حل کرتے ہوئے پیدا کرنے والی نسل کو قومی ترقیاتی کاموں کے لئے تیار کیا جائے گا۔
Goals & Objectives
تعلیمی نظام میں سماج کے ہر طبقہ کو یکساں طور پر مواقع فراہم کئے جائیں گے۔ یعنی ابتدائی تعلیم سے لیکر اعلیٰ ثانوی، ٹیکنیکل، ووکیشنل اینڈ ٹریننگ وغیرہ میں یکسر مواقع فراہم کئے جائیں گے۔ مذکورہ بالا مقاصد کے حصول کے لئے مندرجہ ذیل تجاویز برائے عمل پالیسی میں درج ہے۔
اس پالیسی کی بنیادی خصوصیات یہ ہے کہ چار تا پانچ سال کے طلبہ جو پرائمری ایجوکیشن سے پہلے کی تعلیم سے بے بہرہ ہیں انہیں خصوصی طور پر تعلیم کی طرف راغب کرنا اس پالیسی کی کلیدی ترجیح ہے۔ طلبہ کو عالمی سطح پر الیمنٹری اور سیکنڈری تعلیم کے علاوہ گریجویشن اور ہائر سیکنڈ ایجوکیشن کے لئے یکسر مواقع فراہم کرتے ہوئے ان کی متوقع تعلیم کو مکمل کرنے کے ذرائع و وسائل مہیا کئے جائیں گے۔ سماجی ، علاقائی اور جنس کی بنیاد پر تعلیم میں جو خلاء پیدا ہوا ہے اسے دور کرنے کے لئے پورے نظام تعلیم میں تبدیلی کی جائے گی۔ 15 سے 24 سال والے لوگوں کے لئے جو اسکول سے باہر ہے انہیں روزگار حاصل کرنے کی حد تک مہارت والی تعلیم سے آراستہ کیا جائے گا۔ تعلیم کے مقصد کو وسیع تر کرتے ہوئے مختلف طلبہ کی پسند ان کی مخفی صلاحیتوں کا استعمال ان کی شناخت ان کے لئے درکار سرٹیفکیٹ کی تعلیم جو فارمل یا نان فارمل طریقے پر بشمول اوپن اور فاصلاتی نظام کے ذریعہ حصول ہوگا۔
پالیسی فریم ورک
اس پالیسی کا بنیادی مقصد معیاری تعلیم ہے۔ تاکہ عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں اور ٹیکنالوجی کی ترقیوں سے ہم اپنے مقاصد کو حاصل کرسکیں جس کے لئے ہم ان تمام علاقوں کی نشان دہی ہر سطح پر ریاستی اور مرکزی حکومت و یونین کے علاقے ہو ں یا مقامی، خصوصاً لوکل گورنمنٹ ان کی ہمت افزائی کرے گی اور ان کے لئے الگ سلیکشن پلان جو نیشنل پالیسی سے ہم آہنگ ہو تیار کیا جائے گا۔
4.1 ماقبل اسکول تعلیم
ماضی میں آئی سی ایس ڈی پروگرام کے تحت منسٹری آف وومین اینڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ اس کی ذمہ دار تھی اور عالمی سطح پر ان کی اہمیت طلبہ کے ذہنی و جسمانی ساخت سب سے اہم ہے۔ جس کے لئے پالیسی حسب ذیل کاموں کا آغاز کرے گی۔
(1) چار تا پانچ سال کے طلبہ کو پری ایجوکیشن کے لئے ترجیحی بنیادوں پر شریک کرایا جائے گا۔
(2) موجودہ آنگن واڑی اور آئی سی ایس ڈی کے سنٹر اس تعلیم کے لئے پوری طرح آراستہ نہیں ہے اس لئے ریاستوں سے مشاورت کے بعد انہیں تعلیمی توضیحات، مٹریل، اندرون ایک سال آنگن واڑی ورکرس کو مہیا کئے جائیں گے۔
(3) پری پرائمری ٹیچرس کے لئے علیحدہ کیڈر تیار کرتے ہوئے دوران ملازمت ٹریننگ کا انتظام کیا جائے گا۔ اس طرح آنگن واڑی سے پری پرائمری سطح پر ہر ریاست میں اس کے حصول کے لئے ایک فریم ورک تیار کیا جائے گا۔
(4) کچھ دنوں میں تمام پرائمری اسکول پری پرائمری ایجوکیشن کو شامل کرلیں گے۔ یعنی آنگن واڑی کو اسکول سے قریب تر کرنے کے لئے ترجیح ہوگی۔
(5) مندرجہ بالا کاموں کے لئے ایک مناسب ریگولیشن بنا کر اس رولز کے تحت اس میکانزم کی نگرانی کی جائے گی جو پرائیویٹ پری پرائمری اسکول کے لئے لاگو رہیں گے۔
4.2بچوں کے حقوق کا تحفظ
بچوں کو phisycal & Emotional ہراساں نہیں کیا جائے گا۔ اسکول میں انفراسٹرکچر کا تحفظ ہوگا۔ ان کے ساتھ دوستانہ گفتگو، عمل اور غیر امتیازی سلوک ہوگا۔ اس طرح بچوں کے لئے ایک حساس اور سیکھنے والا عمل کا ماحول تیار کیا جائے گا اور کسی قیمت پر بھی مندرجہ بالا قوانین شکنی برداشت نہیں کی جائے گی۔ جس کے لئے مندرجہ ذیل کاموں کا آغاز کیا جارہا ہے۔
(1) بچوں کے لئے تحفظ و صیانت کی یقین دہانی اور انفراسٹریکچر فراہمی ہی مدارس کے Recognation اور Ragistration کے لئے شرط اول ہوگی۔
(2) ہر ٹیچر اور پرنسپال کو طلبہ سے متعلق قاعدے قانون اور اصول سے واقف کرایا جائے گا اور ان کے لئے ٹریننگ پروگرام اور ریفریشنرس کورس کا انتظام کیا جائے گا۔
(3) Self Learning Online Program اساتذہ طلبہ اور Parentsکے لئے یکساں طور پر مہیا کیا جائے گا۔
(4) اسکول و مدارس میں تربیت یافتہ کونسلرس ہوں گے جو رازدارانہ طور پر اساتذہ او ر اولیائے طلبہ کے درمیان ان ابھرتے ہوئے لڑکے لڑکیوں کے لئے مشورے دیں گے۔
4.3 Learning Outcomes in school Education
یہ دیکھا گیا ہے کہ بنیادی تعلیم کے وقت بنیادی طور پر پڑھنا لکھنا گنتی اسکول میں سکھائی نہیں جاتی۔ اس لئے اس مسئلہ کے حل کے لئے مندرجہ ذیل کاموں کا آغاز کیا جائے گا۔
(1) انفراسٹریکچر کے علاوہ آر ٹی ای ایکٹ میں دئے گئے اصولوں کو یکساں طور پر پرائیویٹ او رسرکاری اسکولوں میں اس کا نفاذ ہوگا۔
(2) آر ٹی ای میں دئے گئے پیمانے ، اصولوں کے مطابق اور پلان سے ہی انفراسٹرکچر کی فراہمی مقامی ضرورتوں کی تکمیل کے بعد Alternat School کا بھی مخصوص حالتوں میں انتظام کیا جائے گا۔
(3) موجودہ طلبہ کو فیل نہ کرنے کی پالیسی میں ترمیم کی جائے گی۔ جس کی وجہ سے طلبہ کے معیار اور لیاقت بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ اسے سے پانچویں تک محدود رکھتے ہوئے اپر پرائمری سطح پر کمزور بچوں کے لئے خصوصی توجہ دیتے ہوئے انہیں معیار کے مطابق لایا جائے گا۔ یعنی ان کی خوش خطی ، حساب بنیادی طور پر پڑھنے اور لکھنے کے پروگرام کا تعین ہوگا۔
4.4 اسکول ایجوکیشن
Universal Elementry Education کے نظریہ کو حقیقت میں تبدیل کیا جائے گا۔ اس طرح سیکنڈری اسکو ل کی ایجوکیشن کو لازمی قرار دیا جائے گا۔ موجودہ طرز امتحان میں تبدیلی لاتے ہوئے اس میں سے شفافیت کے ساتھ بھاری پیمانے پر اصلاح کئے جائیں گے جس کے لئے مندرجہ ذیل کاوشوں کا آغاز کیا جائے گا۔ ریاستی حکومت کی یہ جوابداری ہوگی کہ وہ اسکولوں کے قیام کے لئے میاپنگ تیار کرے اور جہاں طلبہ کی تعداد کم ہو وہاں موجودہ انفراسٹرکچر کے علاوہ کھیل کے سامان جس میں ایک جماعت ایک ٹیچر کے لحاظ سے مستقبل میں کام شروع کیا جائے گا۔
(2) مذہبی و لسانی بنیادوں کو بھی آر ٹی ایکٹ کی شق 12(1)(C)کی عمل آوری گورنمنٹ سے امداد پانے والے مدارس پر لاگو کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ قومی سطح پر معاشی طور پر کمزور بچوں کو اس قانون کا فائدہ مل سکے۔
(3) ریاستی حکومت اس بات کی کوشش کرے گی کہ طلبہ کو ان کی عمروں کے تناسب سے ثانوی سطح کی تعلیم کی ذمہ داری لے۔
(4) اقل ترین معیار اور سہولتیں اسکولوں کی سطح پر تعلیم کے لئے مہیا کئے جائیں گے۔
(5) کیندر ودیالیہ، نو ودیالیہ، کستوربا گاندھی ودیالیہ کی توسیع ہوکر ان کے معیار میں اضافہ کیا جائے گا۔
(6) اوپن اسکول کی سہولت کام کرنے والے لوگوں کے بچوں کی خاطر مہیا کی جائے گی تاکہ وہ بغیر اسکول کو آتے ہوئے فارمل ایجوکیشن سے آراستہ ہوسکیں۔
(7) ڈراپرس طلبہ کے لئے ان کی پسند کے کورسس بشمول ووکیشنل پروگرام جن کی بنیاد سیکنڈری و ہائر سیکنڈری تعلیم کے بعد ان کے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لئے ہوگی۔
(جاری)

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close