تعلیم و تربیت

موت زندگی کی اصل حقیقت

ابراہیم جمال بٹ

جس طرح ایک انسان کو بچپن کی یادیں کم ہی یاد رہتی ہیں برابر اسی طرح دل یہ بات ماننے کو تیار نہیں ہوتا ہے کہ ’’ایک دن ایسا ہو گا جب اس دنیا میں میری مہلت عمل ختم ہو جائے گی‘‘ لیکن یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس سے منہ پھیرا نہیں جا سکتا۔ اُس دن کے آنے میں دیر نہیں لگتی بلکہ کب کون سا وقت اس کے لیے متعین کر کے رکھ دیا گیا ہے اس بارے میں کوئی پیشگی جانکاری انسان کو میسر ہی نہیں ہوتی۔ البتہ جب انسان مہلتِ عمل کے دوران اپنی ہی سوسائٹی میں ایک کے بعد ایک کو اس دنیا سے رخصت ہوتے ہوئے دیکھتا ہے تو یک دم اس کے دل پر اس بات کا خوف طاری ہو جاتا ہے کہ ’’کہیں نہ کہیں اور کسی نہ کسی وقت میرا بھی وقت آنے والا ہے‘‘۔ گویا موت ایک ایسی چیز ہے جسے انسان ’’رحمت‘‘ بھی کہہ دیتا ہے لیکن یہ ’’رحمت‘‘ ایسی ہے جسے کوئی گلے لگانا بھی نہیں چاہتا۔

چند روز قبل اپنے ایک عزیز وقریبی رشتہ دار کے ہاں جنازے کی غرض سے گیا، جہاں ایک بزرگ خاتون کا انتقال ہو چکا تھا، اللہ تعالیٰ انہیں جوار رحمت میں جگہ نصیب فرمائے۔ چناں چہ جب میں گھر کی دہلیز پر پہنچا تو وہاں رونے کی آوازیں سنائی دیں ، بہر حال یہ ایک ایسا لمحہ ہوتا ہے جب اپنے ہی اپنوں کو اپنے سے جدا کر دیتے ہیں ۔ ایک شخص جو کل تک ماں ماں کہتا تھا، اپنی اس ماں کی ہر بات پر ’’آمنا صدقنا ‘‘کہہ کر اس کی ہر خواہش اور اس کے ہر حکم کا مان رکھتاتھا آج اس کی وفات پر ایک لمحہ انتظار کئے بغیر اسے اپنے سے جدا (سپردخاک) کرنے میں دیر نہیں کرتا۔ یہ ماں بیٹے کا رشتہ تھا لیکن مہلت عمل کے ختم ہوتے ہی اس کی تجہیز وتکفین کی تیاریاں ہو جاتی ہیں ۔ بہرحال اس کی تجہیز وتکفین کی تیاریاں ہو رہی تھیں ۔ لوگ سڑک پر کھڑے انتظار کر رہے تھے تاکہ اس کی آخری نماز (نماز جنازہ)پڑھی جائے ،جس۔ میں انسان اپنے لیے دعا اور میت کے لیے مغفرت کا طلب گار رہتا ہے، میں بھی اس انتظار میں تھا کہ دائیں جانب اسی سڑک کے چند ہی فاصلہ کی دوری پر شادی کی ایک تقریب چل رہی تھی، جہاں سے عورتوں کی گانے کی آواز آرہی تھی۔ خوشی اور غمی کی ان دونوں تقاریب کو دیکھ کر چند لوگ آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ ’’یہی ہماری زندگی ہے‘‘ خوشی بھی اور غم بھی، ایک طرف آنے والے اس دنیا میں تشریف لاتے ہیں اور دوسری جانب جانے والے بھی برابر اس دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں ۔ ان کی باتیں سن کر بہت خوف ہوا کیوں کہ میں بھی حسب معمول فطرتاً مرنے کے لیے تیار نہیں ، لیکن خوف اور ڈر کی اس کیفیت کو کنٹرول کرنے کے بعد انسان جب سوچنے بیٹھ جاتا ہے تو یہی حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ ’’نہ اپنی مرضی آنے میں اور نہ ہی اپنی مرضی جانے میں ‘‘ مالک حقیقی کی جانب سے یہ دھوپ اورچھائوں ، یہ گرمی اور سردی، یہ زندگی اور موت کا جب انسان نظارہ کرتا ہے تو اس پر اپنی حقیقت سامنے کھل جاتی ہے۔ اسے صحیح معنوں میں اپنی اصل پہچان حاصل ہو جاتی ہے۔

انسان چاہے تیار ہو یا نہ ہو بہرحال وقت مقررہ پر جانا تو ہے ،لیکن انسان اگر اس دنیا کی مہلت عمل میں ایسے کام کرے جن سے اس کی مہلت عمل کے ختم ہونے کے بعد کی زندگی اچھی اور دائمی کامیابی وخوشی سے ہمکنار ہو تو اس جانے پر دوسرے انسان بھی رشک کر لیں گے۔ تاہم اگر انسان خدا نخواستہ اپنی زندگی پٹری سے ہٹا کر کسی اور راہ میں گزارنے کی کوشش کرے تو اُس ابدی زندگی پر خدا کی جانب سے کیا کچھ ملنے والا ہے، اللہ اس سے محفوظ رکھے۔

غرض مطلب کچھ نہیں سوائے اس کے کہ انسان اپنے آپ پر غور کرے، اپنی اصل حقیقت کو سمجھے، سمجھنے کے بعد وہ کارنامے انجام دے جن پر عمل پیرا ہو کر ’’اگر اس دنیا میں کچھ بھی نہ ملے تاہم آخرت میں رسوائی کا سامنا نہ ہو، وہاں انجامِ بد سے سابقہ پیش نہ پڑے۔ انسان ایسی زندگی گزارے کہ آخرت کے دربار میں سرخ رو ہو کر پیش ہو ۔ اللہ تعالیٰ ہر انسان کو اپنی اصل حقیقت سمجھنے اور پھر کامیابیٔ دارین عطا فرمائے۔ آمین

مزید دکھائیں

ابراہیم جمال بٹ

کشمیر کے کالم نگار ہیں

ایک تبصرہ

  1. جو دنیا چھوڑ جاتا ہے وہ مر جاتا ہے یا اگلی دنیا میں چلا جاتا ہے.

    بقول شیکسپئر وہ زندگی کے بے قاعدہ بخار سے نجات پا جاتا ہے
    سوال یہ ہے کہ ہم کسی کے مرنے پہ افسردہ کیوں ہوتے ہیں؟
    اگر بچھڑنے کا دکھ ہے تو وہ ہمارے ذاتی جذبات ہیں مذہب کی رو سے اگر اس نے اچھا کیا تو وہ خوش ہوگا اور اس کی کامیابی پہ ہمیں خوش ہونا چاہیے لیکن اگر وہ برے کام کرتا تھا تو ہم کو ضرور افسردہ ہونا چاہے کہ اب اس کو اپنی برائیوں کا جواب دینا پڑے گا۔
    لیکن سوال یہ ہے کہ ہم کو موت کا خوف کیوں ہے؟
    مذہب کی رو سے صرف بدکرادر شخص کو موت کا خوف ہونا چاہیے کیونکہ اسے اپنی بداعمالیوں کا جواب دینا ہوگا اور اچھے شخص کو موت کو خوش آمدید کہنا چاہیے کہ ایک دروازہ سے نکل کے نئی دنیا میں داخل ہوگیا۔ لیکن مذہبی بھی موت پہ روتا ہے، کیوں؟

متعلقہ

Close