تعلیم و تربیتسیر و سیاحت

نئے تنقید نگار

محمد عرفان ندیم

اکیسویں صدی اور سوشل میڈیا نے تنقید نگاروں کی ایک نئی نسل پیدا کی ہے، اس نسل نے بدگمانی اور بد اعتمادی کی وہ فضا پیدا کر دی ہے کہ الامان۔ پچھلی ایک صدی سے اس امت کا سب سے بڑا فتنہ بد اعتمادی تھا مبارک ہو کہ اس فتنے کی نمو کے لیے تازہ خون میسر ہوا، لازم ہے کہ یہ امت اس کے نتائج بھگتنے کو تیار رہے۔ پچھلی ایک دہائی میں اس نسل نے صدیوں کا سفر طے کر لیا، اب اکابرین اور بڑوں میں سے کسی کی عزت محفوظ نہیں رہی، یہ نسل البتہ اس پر شاداں و فرحاں ہے کہ اس نے تنقید کا حق حاصل کر لیا۔ یہ سفر کہاں رکتا ہے اور اس کے نتائج کتنے بھیانک ہو سکتے ہیں اس پرا لبتہ غور کرنے کو کوئی تیار نہیں۔

اس نسل کے نمائندہ افراد ہر شعبہ زندگی میں موجود ہیں البتہ سیاست، صحافت اور دینی طبقات میں یہ بکثرت پائے جاتے ہیں۔ کالم کی سپیس کے مدنظر کسی ایک طبقے پر ہی بات ہو سکتی ہے، ہم صرف مذہبی طبقے پر بات کر لیتے ہیں کہ باقیوں کو ان پر قیاس کر لیا جائے۔ اس طبقے میں پچھلے دس پندرہ سالوں میں، نوجوانوں کی ایک ایسی کھیپ تیار ہوئی ہے جس نے مذہبی جماعتوں، دینی مدارس، اکابرین امت حتیٰ کہ اپنے اساتذہ تک کو نہیں بخشا۔ دعویٰ کیا ہے کہ تنقید سے کوئی بالا تر نہیں اور ہر کسی سے اختلاف کیا جا سکتا، یہ نسل البتہ یہ بھول گئی کہ تنقید اور تحقیر میں فرق ہوتا ہے، تنقید کے لیے خود تنقید نگار کی، موضوع کے مختلف پہلؤوں پر دسترس شر ط اول ہے، مگران تمام شرائط اور اخلاقیات کو روند کر یہ نسل خوش ہے، اور اسے فخر بھی کہ بڑوں کو آئینہ دکھانے کے قابل ہو گئے ہیں، یہ طوفان کہاں رکتا ہے کچھ کہا نہیں جا سکتا فیا للعجب۔

یہ نئے تنقید نگار کہاں سے آئے اور ان کی آماجگاہیں کہاں ہیں یہ سوال ذرا تفصیل طلب ہے۔ ان میں کچھ مدارس کے بگھوڑے ہیں، جو اپنی افتاد طبع یا دیگر عوارض کی بنا پر دینی تعلیم مکمل نہیں کر پائے، یونیورسٹیوں میں گئے، کچھ لیکچرز سنے، سوشل سائنسز کا مطالعہ کیا، مختلف موضوعات پر دو چار کتب پڑھیں اور دماغ کو علم کا خمار چڑھ گیا، پھر یہ عزم بالجزم کر بیٹھے کہ ان بوریانشینوں کو، جنہیں مولوی کہا جاتا ہے، بتایا جائے کہ وہ کس دنیا میں رہ رہے ہیں، زمانے کے حالات سے بے خبر، بیچارے، جن کا کوئی مستقبل نہیں، جنہیں مدرسے کی چار دیواری کے اندر قید کر دیا گیا ہے۔ اس کمین گاہ سے وہ تیر چلے کہ الامان، مذہب ان کا نشانہ بنا، مولوی اور مدرسہ مطعون ٹھہرے، مہتمم سب سے بڑا جہنمی قرار پایا اور اساتذہ ان پڑھ اور زمانے کے حالات سے جاہل ٹھہرے۔ اللہ ہر مسلمان کو اس غلیظ لہجے اور رویے سے محفوظ رکھے۔

کچھ وہ ہیں جنہوں نے مدارس سے تعلیم تو مکمل کی، بعد میں کسی یونیورسٹی گئے، وہاں کی ہوا لگی، کچھ ذاتی مطالعہ سے مستفید ہوئے، میڈیا کی چکا چوند سے متاثر ہوئے اور پھر وہی لب ولہجہ اختیار کرنا شروع کر دیا جس کا اوپرذکر ہوا۔ اس صف میں ان کو بھی شامل کر لیں جن کو کسی سکول، کالج یا یونیورسٹی میں جاب مل گئی۔ ان سب نے عزم مصمم کیا کہ مدارس اور اہل مدارس کو آئینہ دکھایا جائے، اس مورچے سے بھی اندھا دھند فائرنگ ہوئی، پگڑیاں اچھلی، القابات دیئے گئے، دلوں کی بھڑاس نکلی اور اساتذہ تک کو نہیں بخشا گیا۔ میں اس رویے اور لہجے سے بھی اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔

کچھ وہ لوگ تھے جو مدارس سے پڑھ کر نکلے تو سمجھتے تھے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا جائے گا، لوگ ان کی دہلیز پر سراپا التجاء کھڑے ہوں گے کہ حضرت آپ ہماری مسجد میں تشریف لائیں، آپ ہمارے مدرسے تدریس کریں، آپ ہمارے سکول اور کالج میں اسلامیات کا سبجیکٹ پڑھائیں، جو سمجھتے تھے سند فضیلت حاصل ہوتے ہی انہیں یونیورسٹی سے پروفیسر شپ کی آفر ہو گئی۔ جب یہ سب نہ ہوا تو ان کے تیروں کا رخ بھی مسجد، مدرسہ، خانقاہ، مہتمم اور استاد کی طرف مڑ گیا۔ حالانکہ زمانہ طالبعلمی میں، جب ا ن سے کہا جاتا تھا کہ محنت کریں، وقت ضائع نہ کریں، عصری تعلیم کی طرف بھی توجہ دیں اور اور اپنے وقت کو قیمتی بنائیں تو یہ ہنس کر بات ٹال دیتے تھے، جب وقت آئے گا دیکھا جائے گا، اب وقت آیا ہے اور یہ دیکھتے ہیں، کچھ دکھائی نہیں دیتا، اس اندھے پن اور کور چشمی میں، یہ بھی تیرو ں کا رخ اسی مرکز کی طرف موڑ دیتے ہیں، میں اس مزاج اور کور چشمی سے بھی اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔

یہ عمومی صورتحال تھی اب کچھ خواص کا تذکرہ ہو جائے، ان نئے تنقید نگاروں میں ایک اچھا خاصہ اضافہ محترم جاوید احمد غامدی صاحب نے فرمایا، غامدی صاحب نے دین کی تشریح، ایک نئے انداز میں کرنا شروع کی، دین کو جتنا ماڈریٹ وہ کر سکتے تھے انہوں نے کیا، ایلیٹ کلاس کے لیے دین کو آسان تر بنانے کے لیے، بنیادی عقائد و اصول تک بگاڑ دیئے،بدقسمتی سے میڈیا میں اسی قسم کا منجن بکتا ہے اس لیے محترم غامدی صاحب ہاتھوں ہاتھ لیئے گئے۔ حکمرانوں کو بھی ایسے ہی شارحین دین درکار ہوتے ہیں، مشرف دور میں انہیں خوب پذیرائی ملی اور نئے تنقید نگار ان کی شخصیت اور گفتگو کے سحر میں گرفتار ہو گئے۔

ایسے میں کچھ علمی خانوادوں کے چشم و چراغ بھی اس قافلے میں شامل ہو گئے، محترم عمار خان ناصر کو سبقت رہی، پھر ان کے توسط سے، کچھ اور لوگ بھی اس قافلے میں شامل ہوگئے، اب پوری ایک چین ہے جو اس قافلے کے ہمرکاب ہے، ان میں ذیادہ تر مدارس کے فارغ التحصیل ہیں، عالم تو یہ پہلے ہی ہیں، کچھ یونیورسٹیوں سے سوشل سائنسز میں ڈگری بھی رکھتے ہیں، اوپر سے غامدی صاحب کا لٹریچر پڑھ رکھا ہے، ان تینوں عناصر کے ملنے سے جو فکر اور مزاج بن جاتا ہے میں اس کا عینی شاہد ہوں۔ علماء اور اکابرین پر اعتماد تو دور کی بات ان کا نام تک ادب سے نہیں لیا جاتا، کچھ عرصہ قبل اسی گروہ کے ایک سرخیل، جو اس گروہ میں پڑھے لکھے، صاحب علم اور صاحب کتاب سمجھے جاتے ہیں فیس بک پر فرمانے لگے ’’ آج اگر امام ابوحنیفہ تشریف لائیں تو مفتی تقی عثمانی کو سائیڈ پر کر کے جاوید احمد غامدی کو اپنے پہلو میں بٹھائیں ‘‘ کہنا وہ یہ چاہتے تھے کہ دین کی صحیح تعبیر، تشریح اور تفہیم تو جناب غامدی صاحب نے کی ہے، مفتی صاحب تو بس روایت کے اسیر ہیں۔

محترم عمار خان ناصر نے فقہی مسائل میں جو پوزیشن اختیار کی اور خود کو روایت سے منسلک نہ رکھ پائے، اس کے لیے انہوں نے دلیل کو بنیاد بنایا،کبھی بد تہذیبی اور بد مزگی نہیں پیدا ہونے دی، گو انہیں مختلف فورمز پر برا بھلا کہا گیا مگر انہوں نے تہذیب و شائستگی کا دامن نہیں چھوڑا کہ ایک صاحب علم سے اسی رویے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ لیکن ان کی چھتری کے نیچے، جو لوگ اس قافلے کے ہمرکاب ہوئے انہوں نے ان کی شخصیت کو بھی نقصان پہنچایا۔ اب میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ انہیں اس صورتحال کا علم نہیں، وہ تجاہل عارفانہ سے کام لے رہے ہیں یا اس بگڑتے رویے اور بڑوں پر عدم اعتماد کی جو فضا پیدا ہو رہی ہے انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں۔ (باقی آئندہ)

مزید دکھائیں

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر اور اسلامیات میں ایم فل کیا ہے، شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور او پی ایف بوئز کالج اسلام آباد میں بطور لیکچرار فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

متعلقہ

Close