تعلیم و تربیتمراسلات

نشہ کے دلدل میں دھنستے ہمارے بچے، ذمہ دار کون؟

سید فاروق احمد سید علی

محترم قارئین کرام!

امید کہ مزاج گرامی بخیر ہونگے۔ پچھلے کچھ سالوں سے اخبار کی کچھ جلی سرخیوں نے کافی پریشان کر رکھا ہے، کہ نشہ میں چور نوجوان نے اپنے ہی دوست کا گلا کاٹ دیا، نشہ آور اشیاء  نہ ملنے پرپڑوسی کے ہی گھر میں چوری، اور بھی کئی ایسی شہ سرخیاں پڑھنے ملی ہے۔ مگربہت افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ان تمام جرائم میں ملوث مسلمانوں کا تناسب بہت زیادہ بڑھتا جارہا ہے۔ ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ شہر کے مختلف علاقوں ، مختلف مارکیٹوں اور مقامات زندگی پر منشیات کے عادی افراد گرے پڑے نظر آتے ہیں۔ ان افراد کی ایک واضح اکثریت چوکوں اور شاہراہوں پر گداگروں کی صورت میں بھیک مانگتے بھی نظر آتی ہے جو لوگوں سے اللہ اور رسول کے نام پر صدقہ خیرات کی رقم اکٹھی کرنے کے بعد اس سے منشیات خریدتے ہیں اور اس کو اپنی رگوں میں اتار کر موت کی طرف بڑھتے چلے جاتے ہیں۔

نشے کا استعمال معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے کی سب سے بڑی وجہ سمجھی جاتی ہے۔ منشیات کے استعمال کی وجوہات، نقصانات، معاشرے پرپڑنے والے اثرات اوراسکے روک تھام کے حوالے سے معاشرے کے ہر فرد کو آگاہ ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ نشہ ایک ایسی بیماری ہے جو معاشرے کو دیمک کی طرح کھوکھلا کر کے رکھ دیتی ہے اور قوموں کی ترقی کا پہیہ جام ہو جاتا ہے۔ یہ افراد صرف چرس، ہیروئن اور دیگر اقسام کی منشیات ہی استعمال نہیں کرتے بلکہ میڈیکل اسٹوروں سے نشہ آور ادویات آسانی سے بغیر کسی ڈاکٹری نسخے کے خرید کر نشے کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ کسی بھی گھرانے کو اچانک یہ خبر ملے کہ ان کا بچہ نشہ کرتا ہے تو یہ خبر والدین پر بجلی بن کر گرتی ہے کیونکہ نشے کی لت ایسا روگ ہے جو اس کے شکار فرد کو ہی نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ پورے گھرانے کی خوشیاں اور سکون کو برباد کردیتی ہے۔

نشہ کرنے والے اپنے نشے کی عادت کو کافی عرصے تک اپنے گھر والوں سے چھپانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں ۔ جب اہل خانہ کو مریض کے نشے کا علم ہوتا تو اس وقت تک بات بہت آگے بڑھ چکی ہوتی ہے۔ یہ بات اور زیادہ لمحہ فکریہ ہے کہ کالج اور یونیورسٹیوں کے ساتھ ساتھ اسکولوں کے ہائی کلاسز کے بچے بھی کئی اقسام کی منشیات کے استعمال میں مبتلا ہو رہے ہیں ۔ اور روز افزوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ہمارے ملک میں منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے، اس میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، بالخصوص اس میں بڑی تعداد 21 سال سے 30 سال کے عمر کینوجوانوں کی ہے۔ منشیات میں چرس کا استعمال سب سے زیادہ ہے۔ لاعلمی کی بنیاد پر چرس کو ایک بے ضرر نشہ سمجھا جاتا ہے، نوجوان گٹکا کھانے کے نفع ونقصان کو جانے بغیر تفریح اور شوق کے طور پر گٹکا کھانے لگتے ہیں اور۲۰-۲۵ سال کی عمر تک پہونچتے پہونچتے اپنی زندگی کو سنگین مصیبت میں ڈال دیتے ہیں ۔ گٹکے کے عادی نوجوانوں کے منہ کی کھال سخت ہوتی ہے۔ اور آخر کار وہ کینسر کے مرض میں مبتلاء ہوجاتے ہیں ۔ جب کہ تحقیق بتاتی ہے کہ 90 فیصد لوگوں نے نشے کا آغاز چرس سے کیا ہوتا ہے۔ شراب اور چرس کے استعمال کے ایک جیسے نقصانات ہوتے ہیں اور یہ دونوں انسانی دماغ پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔

21 سال سے 30 سال کی عمر میں نوجوان جب چرس کا نشہ کرتے ہیں تو ان میں سیکھنے اور مسائل کے حل کی صلاحیت نہ صرف ختم ہوجاتی ہے بلکہ اسے دوسرے جسمانی امراض میں مبتلا کردیتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ عمر کا یہی حصہ سیکھنے کے عمل میں زیادہ اہم ہے۔ نشے کا آغاز عام طور پر تفریحاً کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے دوست و احباب نشے کی دعوت دیتے ہیں یا کسی کی دیکھا دیکھی یا چوری چھپے انسان اس غلط عادت کو اختیار کرلیتا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ یہ عادت بیماری کی شکل اختیار کرلیتی ہے، مستقل نشہ کرنے کی صورت میں نشہ کرنے والوں کا جسم تیزی سے نشے کی مقدار کو ضائع کرنے کی صلاحیت حاصل کرلیتا ہے اس طرح نشہ کرنے والے مجبوراً اس کی مقدار میں اضافہ کرتے جاتے ہیں ۔ اس طرح مختلف نشے کرنے والوں کی زندگی کا حصہ بنتے چلے جاتے ہیں اور نشے باز کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کردیتے ہیں ۔

ہمارے شہر اورنگ آباد میں بھی نشہ کی لت کا شکار کافی زیادہ تعداد میں نوجوان اور ۰۱? سال کی عمر کے بچے بھی پکڑے گئے ہیں۔ یہ بچے مسجدوں کے باہر اور دکانوں پر بھیک مانگ کر یا گھر کا کچھ بھی سامان بھنگار وغیرہ میں بیچ کر اپنی نشہ کی پیاس بجھانے کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ شراب نوشی کے علاوہ جس کی سب سے زیادہ لت کا شکار ا?جکل نوجوان ہے وہ پٹرول کا نشہ، StickFastکانشہ، Whitnerکا نشہ، Wicksسے نشہ، اور میڈیکل پر ملنے والی مختلف ادویات کو نشہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ نشے کی خاطر غیر اخلاقی اور غیر قانونی سرگرمیوں تک میں ملوث ہوجاتا ہے۔ ایسے حالات میں والدین رونے دھونے، چیخنے چلانے، دھاڑنے،  لعنت ملامت، زور زبردستی، تنقید، منت و سماجت، دھمکیوں ، دھونس، آنسو، وعظ و نصیحت جیسے تمام حربے استعمال کرتے ہیں لیکن اس کا نتیجہ صفر نکلتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ نشے کا مریض نشے کے زیر اثر ہوتا ہے، اسے اپنے ارد گرد کے حالات کا شعور نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ ہر دو ماہ تین ماہ میں جلسہ اصلاح معاشرہ کے نام سے مختلف تنظیموں کی جانب پروگرام کرائے جاتے ہیں وعظ ونصیحت کرتے ہیں ۔ ۔ مگر پھر نتیجہ جوں کا توں ۔ ۔ ۔

ایسے حالات میں عموماً والدین خود ہی یہ تصور کرلیتے ہیں کہ وہ اولاد کو جنم دے کر کوئی جرم کر بیٹھتے ہیں ۔ بعض والدین بدنامی کے ڈر سے کسی کا تعاون بھی حاصل نہیں کرتے۔ لوگ بھی والدین سے اتفاق کرنے کے بجائے بچوں کی خراب تربیت کا قصور وار قرار دے کر انھیں گہرے احساس گناہ میں مبتلا کردیتے ہیں ۔ ایک ہی ماں باپ کے زیر سایہ تربیت پانے والے ایک یا دو بچے نشے میں مبتلا ہوجاتے ہیں ، جب کہ باقی بچے نہ صرف اپنے اپنے شعبوں میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں بلکہ فرمانبرداری میں بھی اپنی مثال آپ ہوتے ہیں ۔ ایسا کیوں ہوتا ہے، یقیناً اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں ہوگا۔

عام طور پر یہ بات سمجھی جاتی ہے کہ بچے وہ ہی بگڑتے ہیں جو احساس محرومی، عدم توجہی اور زیادتیوں کا شکار ہوتے ہیں ۔ یہ بات مکمل طور پر درست نہیں ۔ آپ کو بگڑے ہوئے بچے متوسط طبقے سے لے کر اعلیٰ طبقات ان پڑھ سے لے کر پڑھے لکھے سخت گیر گھرانوں سے لے کر نرم خو گھرانے تک دینی لا دینی، اکلوتے بہن بھائیوں والے سب ہی طرح کے لوگوں میں ملیں گے۔ ایسے لوگ جن کے بچے نشے کی لت کا شکار ہیں وہ نشے کی وجوہات کو جاننے پر اپنی توانیاں صرف کرنے کے بجائے اس بات پر سوچ بچار کریں کہ نشے کی لت سے نجات کیسے حاصل کی جائے۔

نشے کی عادت سے چھٹکارہ پانے کے لئے گھر والے مختلف قسم کے حربے استعمال کرتے ہیں ڈاکٹرس کو بتاتے ہیں حکیموں سے علاج کرواتے ہیں ۔ مولانا حضرات سے اس تعلق سے مشورہ لیا جاتا ہے۔ مگر کچھ دنوں بعد والدین ہمت ہار کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ کیونکہ مریض چوری چھپے اپنی پھر وہی پچھلی عادات پر واپس آجاتا ہے۔

میرا یہ ماننا ہے کہ مریض کو اس خود فریبی کے جال سے نکالا جائے اگر مریض خود اپنی قوت ارادی اور فیصلہ کرنے کی طاقت سے خود فریبی سے نکلنے کا فیصلہ کرلے تو 100 فیصد وہ نشے سے نجات حاصل کرسکتا ہے بعض نشے باز نشے کی مقدار کنٹرول یعنی کم سے کم کرنے کی کوشش کے ذریعے نشے سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، اس طرح سے علاج محض چور سپاہی کا کھیل ہوتا ہے ایسا کرنے سے علاج مکمل طور پر ختم نہیں ہوپاتا۔

 منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان کو کم کرنے کیلئے نوجوانوں کو تیار کرنا ہوگا کیونکہ نوجوان قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اور زیادہ تر نوجوان ہی اس کا شکار ہوتے ہیں ۔ شہر کی ہر مسجدمیں جمعہ کے خطبوں میں خطیبوں اور اماموں کو چاہئے کہ وہ نشہ کے عنوان سے اپنے تاثرات رکھے۔ اس جانب تمام اصلاحی کام کرنے والی تنظیموں کے علاوہ امارت شرعیہ کو بھی اس جانب زمینی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ تبدیلی ایکدم نہیں آتی بلکہ کوشش کرنے سے معاشرے میں آہستہ آہستہ سدھار لایا جا سکتا ہے۔ منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کی ایک اوروجہ ہمارے معاشرتی روئیے بھی ہیں ہمیں چاہئے کہ ایسے افراد جو نشے کے عادی ہو چکے ہوں انہیں نتقید کا نشانہ بنانے کے بجائے انہیں درست سمت کی طرف لانے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ نشے کے عادی افراد کے ساتھ بیٹھ کر خود بھی نشہ کے عادی بننے کے بجائے انہیں بھی نشے سے دور کیا جا سکتا ہے۔ اگر فرد کو اس لت سے دور کیا جائے تو اس سے نہ صرف ایک گھر کا مسئلہ حل ہوگا بلکہ یہ ایک صدقہ جاریہ بھی ہے۔ والدین کو چاہئیے کہ وہ اپنے بچوں کیساتھ دوستانہ ماحول پیدا کریں اور انکی ہر سرگرمی پر نظر رکھیں کسی نے کیا خوب کہا ہیکہ علاج سے احتیاط بہتر ہوتا ہے۔ نشے کی لت سے خود بھی بچیں اور اپنے معاشرے کو بھی اس سے بچا کر ایک زندہ قوم ہونے کا ثبوت دیں ۔ کیونکہ نشے سے انکار ہی درحقیقت زندگی سے پیار ہے۔

بولا چالا معاف کرا۔ ۔ ۔ ۔ پھر ملاقات ہوگی۔ ۔ ۔ زندگی باقی تو بات باقی۔ ۔ ۔ ۔ اللہ حافظ

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close