تعلیم و تربیت

کُھلی جیل

یہ کتاب قاری کے جذبات کو بھی برانگیختہ کرتی ہے، چنانچہ کئی مقامات ایسے آتے ہیں کہ اس کے لیے اپنے آنسوؤں کو ضبط کرنا ممکن نہیں ہوپاتا

مصنف: ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی

مبصر: ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

‘جیل’ کا لفظ سنتے ہی فوراً ہمارے ذہن میں ایک ایسی جگہ کا تصوّر آجاتا ہے جس میں کسی انسان کو قید کردیا گیا ہو، اس کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کردی گئی ہو، اس کی بنیادی انسانی ضروریات کی تکمیل میں رکاوٹ ڈال دی گئی ہو اور اسے آزادانہ طور پر دوسرے انسانوں سے ملنے جلنے سے روک دیا گیا ہو _ جیل اونچی فصیلوں ، تنگ و تاریک کمروں ، بلند و بالا دروازوں اور موٹے مضبوط تالوں کے مجموعے کو کہا جاتا ہے _ لیکن جیل یہ بھی ہے کہ کسی انسانی آبادی کو ایک محدود ایریا میں محصور کردیا جائے، بنیادی انسانی ضروریات کی چیزیں ان تک نہ پہنچنے دی جائیں ، بیرونی دنیا سے ان کا رابطہ منقطع کردیا جائے کہ نہ وہ اپنی مشکلات و مسائل دوسروں کو بتا سکیں اور نہ دوسرے ان کے بارے میں کچھ جان سکیں _ اسے’کھلی جیل’ کہا جا سکتا ہے _ دیکھا جائے تو سیرتِ نبوی میں ‘شعبِ ابی طالب’ کھلی جیل ہی کے مماثل تھی _

ڈاکٹر شاہد بدر (سابق صدر اسٹوڈینٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا) نے اسلام پسندی کے جرم میں ڈھائی برس (28 ستمبر 2001 تا 7 اپریل 2004) تہاڑ جیل میں گزارے تو اس کے بعد انھوں نے اسیری اور تذکرہ زنداں و زندانیان کو اپنے مطالعہ و تحقیق کا موضوع بنا لیا _ ان کی پہلی کتاب ‘فُکّوا العانی’ (قیدی کو چھڑاؤ) میں بہت سے اسیرانِ زنداں کا تذکرہ تھا _ دوسری کتاب میں انھوں نے پڑوسی ملک کی مظلوم خاتون ‘عافیہ صدیقی’ کی داستانِ مظلومیت کو قلم بند کیا _ اب انھوں نے اپنی تازہ کتاب میں سیرتِ نبوی کے ایک خاص واقعہ ‘شعبِ ابی طالب میں محصوری’ کی جزئیات و تفصیلات کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے _

شعب ابی طالب کا تذکرہ سیرت کی ہر کتاب میں ملتا ہے، لیکن بہت مختصر _ شاہد بدر صاحب نے سیرت کی قدیم و جدید کتابوں کی مدد سے اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم کرنے کی کوشش کی ہے _ تین برس کی یہ مدّت مسلمانوں نے کیسے کاٹی؟ اس میں ان کے روز و شب کیسے گزرے؟ ہر طرح کی تکلیف کو برداشت کرنے کے باوجود کیوں کر ان کا مورال ذرا بھی پست نہ ہوا؟ یہ اور ان جیسے بہت سے سوالات کا جواب اس کتاب (صفحات 160)میں فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے _ یہ کتاب قاری کے جذبات کو بھی برانگیختہ کرتی ہے، چنانچہ کئی مقامات ایسے آتے ہیں کہ اس کے لیے اپنے آنسوؤں کو ضبط کرنا ممکن نہیں ہوپاتا، لیکن اس کے ساتھ یہ کتاب تحقیق کا بھی عمدہ نمونہ ہے کہ مصنف نے ہر بات حوالے کے ساتھ لکھی ہے، حتّی کہ بہت سے مقامات پر عربی متن پیش کرنے کا بھی اہتمام کیا ہے _

کھلی جیل تاریخ کا قصہ نہیں ہے، بلکہ ظالموں کے دم خم سے اب بھی ایسی جیلیں قائم ہیں _ ایسی ہی ایک جیل ‘غزّہ’ ہے، جو 365 کلو میٹر مربّع کے رقبے میں پھیلی ہوئی ہے اور جس میں 15 لاکھ انسان محصور ہیں _ کشمیر کی جنت نظیر وادی بھی کبھی کبھی کھلی جیل میں تبدیل ہوجاتی ہے _ ظالم سمجھتے ہیں کہ انسانوں کی آزادیاں سلب کرکے وہ ان کے ارادوں کو کم زور اور ان کے مورال کو ڈاؤن کردیں گے، حالاں کہ یہ ان کی خام خیالی ہے _ پابندیوں سے ارادے اور مضبوط ہوتے ہیں ، رکاوٹوں سے رفتار اور تیز ہوتی ہے_

اس کتاب کی اشاعت پر میں بھائی شاہد بدر کو مبارک باد پیش کرتا ہوں _ امید ہے کہ اسے علمی حلقوں میں قبولِ عام حاصل ہوگا اور اس سے جذبوں کو گرم رکھنے میں بھی مدد ملے گی _ برادر یٰسین پٹیل نے اسے اپنے ادارے ‘شعور حق’ نئی دہلی سے شائع کیا ہے، جیسا کہ انھوں نے شاہد صاحب کی سابقہ کتابوں کو شائع کیا تھا _ وہ بھی شکریہ کے مستحق ہیں _

مصنف کا رابطہ نمبر 9936205756
ناشر کا رابطہ نمبر 9911171019
ناشر کا میلshaurehaq@gmail.com

مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

متعلقہ

Close