تعلیم و تربیت

ہائر اسٹڈیز کی بنیادی باتیں

پروفیسر انعام الرحمن ابواللیث یوسف

MY DICTIONARY, MY TEACHER

تعلیم مادری زبان میں کیوں ضروری ہے اس موضوع پر آپ نے بہت سے مضامین کو پڑھا ہوگا اس تحریر میں ہم انشااللہ یہ واضح کرنے کی کوشش کریں گے کہ بحیثیت مسلم انڈیا میں اردوجو ہماری مادری زبان ہے ،سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد یہ طلبہ کون سا طریقہ اپنائیں کہ وہ اپنے غیر مسلم کلاس فیلو اور وہ طلبہ جو انگلش میڈیم سے آئیں ہیں ان کے سامنے اپنے آپ کو ثابت کر سکیں کہ وہ ان سے بہتر ہی نہیں بدرجہ اتم ہیں ۔ اصل تحریر پر آنے سے پہلے ہم یہ واضح کرنا چاہیں گے کہ دنیا کی دوسری اقوام کا اپنی مادری زبان کے تحت کیا رویہ رہا ہے۔ سب سے پہلے یہود کو لے لیجیے جو دنیا کی ذہین ترین قوم شمار کی جاتی ہے نے اپنے پورے diaspora (نقل مکانی ) کے دور میں بھی نہ صرف اپنی عبرانی زبان کو محفوظ رکھا بلکہ قیامِ اسرائیل کے ساتھ ہی اس زبان میں نظام تعلیم اور نصاب ِتعلیم کاحکومتی سطح پر انتظام کیا گیا۔ دوسری مثال داغستان کے لوگوں کی ہے جسے ہمارےایک ہم عصر نے share کیا تھا ہم اسے اسی طرح بے کم کاست آپ کی خدمت میں پیش کر دیتے ہیں ۔

روسی مصنف حمزہ رسول نے اپنی کتاب ” میرا داغستان” میں ایک بہت ہی خوبصورت تبصرہ پیش کیا ہے کہ ایک بار وہ ایک گاؤں سے گذر رہے تھے تو دیکھا کہ پہاڑی علاقوں میں رہنے والی دو قبائلی عورتیں آپس میں جھگڑااور تکرار کر رہی ہیں ۔ اسی تکرار کے دوران ایک عورت نے دوسری عورت کو بد دعا دی کہ جا "اللہ تیرے بچوں کو اس انسان سے محروم کر دے جو انہیں ان کی زبان سکھانے والا ہے‘‘۔اس کے بعد دوسری عورت کا بھی غصہ کافور ہو گیا اور پھر اس نے بھی وہی بد دعا دوسرے طریقے سے لوٹایا اور کہا کہ’’اللہ کرے تیرے یہاں ایک آدمی بھی ایسا نہ بچے جو تیرے بچوں کو ان کی زبان سکھا سکے۔ حمزہ رسول نے اپنی اسی کتاب میں ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ پیرس کے سفر میں وہ ایک مصور نام کے اپنے ایک ہم وطن سے ملا جس کے بارے میں اس کے خاندان کو یقین تھا کہ وہ مر چکا ہے۔واپسی پر جب اس نے مصور کے عزیزوں کو تلاش کیا اور مصور کی ماں سے ملا تو اسے یہ خبر سن کر حیرت ہوئی کہ اس کا بیٹا زندہ ہے، مصور کے عزیز افسردہ چہروں کے ساتھ گاؤں کے ایک مکان میں اس کے اردگرد جمع اپنے اس سپوت کی کہانی سننے کے لئے جمع ہوئے جس نے ہمیشہ کے لئے اپنا وطن چھوڑ دیا تھا ۔ مصور کے رشتہ داروں نے اس کے وطن عزیز چھوڑنے کا قصور تو معاف کر دیا تھا لیکن انہیں یہ جان کر مسرت ہوئی کہ ان کا کھویا ہوا بیٹا ابھی زندہ ہے۔ اچانک اس کی ماں نے حمزہ رسول سے سوال کیا کہ ’’اس نے تم سے بات چیت تو اپنی زبان میں کی ہو گی نا‘‘ حمزہ رسول نے کہا نہیں ۔ ہم نے ترجمان کے ذریعے بات چیت کی۔ میں روسی بول رہا تھا اور آپ کا بیٹا فرانسیسی زبان میں ۔ ماں نے یہ سنتے ہی اسی طرح اپنے چہرے پر نقاب ڈال لیا جیسے کہ پہاڑی علاقوں میں مائیں اپنے بیٹے کی موت کی خبر سن کر اپنے چہروں کو ڈھک لیتی ہیں ۔

پھر ایک طویل خاموشی کے بعد ماں نے کہا ’’ رسول تم سے غلطی ہوئی ہے میرے بیٹے کو مرے ہوئے ایک مدت بیت گئی جس سے تم ملے میرا بیٹا نہ رہا ہو گا کیونکہ میرا بیٹا اس زبان کو کبھی بھلا نہیں سکتا جو میں نے اسے سکھائی تھی”۔ذرا سوچئیےکہ ایک ماں کیلئے اپنے بیٹے کے زندہ رہنے کی خبر خوشخبری کا باعث نہ بنی مگر جب اس نے یہ سنا کہ اس کے بیٹے نے اپنی مادری زبان کو ترک کر دیا ہے یہ خبر اس کے لئے حادثے کا سبب بن گئی ۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہی واقعہ ہندوپاک کے خطے میں مسلمان ماؤں کے ساتھ پیش آجائے کہ اس کے بیٹا نے امریکہ یا انگلینڈ میں جاکر فراٹے دار انگلش بولنا شروع کر دیا ہے تو کیا اس کا بھی ردعمل ایسا ہی ہوتا ۔ شاید وہ خوش ہوکر اپنے رب کی بارگاہ میں دعا کرتی کہ اللہ تو بڑا مہربان اور کریم ہے کہ تو نے میری دعا قبول کر لی اور میرا بیٹا امریکن انگلش بولنے لگا ہے۔یہ حقیقت ہے اور یہی ہماری ماؤں اور بیٹیوں کی ترجیحات اور کامیابی کا تصور بن چکا ہے ،جنھیں یہ بھی نہیں پتہ کہ وہ کیا ہیں ، ان کا نصب العین کیا ہے اور انہیں اپنی اولادوں کو کیا بنانا ہے۔

مضمون کی سرخی سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ طریقہ کار کیا ہو ڈکشنری Dictionary اور مادری زبان میں مہارت Expertise آپ کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ممبئی یونیورسٹی میں پڑھائے جانے والے foundation course میں expert نے لکھا کہ کسی بھی اصطلاح یا لفظ کو سمجھنے کے لئے اس کے منبع etymological approach سے study کرنی چاہیے۔مثال کے طور پر Word” communication” is come from Greek work "communos” which means ‘ to share ‘ اس طرح سے study کرنے کے  لئے آپ کو ڈکشنری دیکھنے کی عادت ڈالنا ہوگی۔ جس سے آپ کو ناصرف اس لفظ سے آگہی ہوگی بلکہ آپ اس کی تاریخ بھی جان جائو گے۔ یا پھر اس بات کو اس انداز میں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ مادری زبان میں مہارت رکھنے والے بچے کی مثال اس زرخیز زمین کی ہے جو اپنے سامنے سے گزرنے والے ہر انگلش لفظ کو ناصرف بہتر طور سے سمجھتا ہے بلکہ ڈکشنری میں اس کےمعنی دیکھنے کے بعد اس لفظ کی کیفیات ،اس کا احاطہ اور اس لفظ سے مربوط احساسات کو محسوس کرتا ہے۔ جو کہ انگلش میڈیم کے طلبہ میں مفقود ہوتی ہے۔یہی وہ طریقہ ہے جس کو اپنانے کے بعد اردو میڈیم کے منموہن سنگھ یا ڈاکٹر عبدالکلام جب اہل زبان کے سامنے انگلش میں تقریر کرتے تھے تو اہل زبان کو ڈکشنری کی ضرورت پڑتی تھی۔

دوسری جو اہم بات ہے وہ یہ کہ اردو میڈیم کے طلبہ اپنی خود اعتمادی کو ہاتھ سے جانے نہ دیں ۔ اگر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں کوئی آپ کے سامنے آکر بہت ہی fluent روانی سے انگلش بولنے لگے تو اس سے مرعوب نہ ہوں بلکہ اسے غور سے سنیں ۔ کیونکہ سننا زبان کو سیکھنے کا بالکل ابتدائی مرحلہ ہے۔ اگر آپ مرعوب ہوگئے تو سمجھ لیجئے کہ آپ کا کیرئیر دائو پر لگ سکتا ہے کیونکہ یہی اعتماد کی کمی آپ کے کیرئیر کو ختم کر دے گی۔ انگلش بولنے کی مشق کیسے ہو انشااللہ ہم آگے چل کر بتائیں گے لیکن طلبہ کی دلچسپی کے لئے ہم انھیں بالی ووڈ کی ایک مثال دیں گے۔

بالی ووڈ میں بہت ساری فلمیں انٹرنیشنل معیار اور ریسرچ کو مدنظر رکھ کر بنائی جاتی ہیں ۔ ان میں تعلیمی موضوع پر بننے والی فلم 3idiot تھری ایڈیٹ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ آخر کیا وجہ ہیکہ مذکورہ فلم میں بہت روانی fluent سے انگلش بولنے والے کو ویلن کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اور وہ شخص جو انگلش بولنے میں ماہر نہیں ۔ لیکن انگلش کے الفاظ سمجھ کر نئی نئی ایجادات کرتا جاتا ہے کو ایک کامیاب سائنسداں کے طور پر پیش کیاگیا۔آج کے دور میں میڈیا کے اوپر ہونے والی تنقیدوں میں کسی نے خوب لکھا کہ آجکل تعلیمی ادارے بچوں کو بولنے کے لائق بنا دیتے ہیں لیکن کیا بولنا ہے اس کا شعور نہیں دے پاتے۔ اگر آپ مادری زبان میں expert ہیں تو بولنے کے ساتھ ساتھ آپ کا مواد بھی بہتر ہوگا۔

Vocabulary and its application

ڈکشنری دیکھنا اور مادری زبان کی مہارت کامیابی کی ضامن ہے۔ جس سے آپ کی vocabulary بڑھتی ہے۔  اس vocabulary کو بڑھانے کا آسان طریقہ یہ ہیکہ اپنی درسی کتابوں کے مشکل الفاظ کے ڈکشنری میں معنی تلاش کئے جائیں ۔ اور ساتھ ہی وہ لفظ جس جملے میں استعمال ہوا ہے اس جملے کے معنی کو سمجھا جائے۔ اگر آپ اس طرح اسٹڈی کرتے ہو تو وہ ہر جملہ جو آپ نے ڈکشنری کی مدد سے سمجھاہے ایک discovery کی طرح ہوگا اور انسان اپنی (discovery) دریافت کو کبھی نہیں بھولتا۔ اسی کے ساتھ آپ اس لفظ کو کن کن معنوں میں مستعمل application ہوتا ہے یہ بھی جان جائو گے۔ اپنی روزمرہ کی زندگی میں vocabulary کو کیسے بڑھایا جائے اس کے لئے ایک مشورہ ابتدائی سطح پر مفید ہوگا کہ طالب علم ہفتے میں کسی ایک دن کا کوئی بھی انگلش اخبار کو خرید لے اور اسی دن کے تمام اردو اخبارات پڑھ لے خبریں تقریباً ایک ہی ہوتی ہیں لیکن اردو اخبار کے پڑھنے کے بعد انگلش اخبار کا مطالعہ ایک طریقے سے اعادہ repetition  ہوگا  جو آپ کی vocabulary کو تیزی سے بڑھانے میں مددگار ہوگی۔
ہمارے ایک خیرخواہ نے ہم سے دوران گفتگو کہا کہ سر آپ indirect approach بالراست طریقے پر کیوں اتنا بضد ہیں ۔ یہ تو (direct) براہ راست انگلش میڈیم کے ذریعے بھی کیا جا سکتا ہے۔ لیکن میرے اپنے سمجھ اور تجربہ کی بنیاد پر میں بہت وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ انگلش میڈیم کے طلبہ روزانہ اسکولوں میں اپنی فطرت یا اپنے آپ سے لڑتے ہیں کیونکہ جو الفاظ انھیں کلاس میں پڑھایا جاتا ہے وہ روزمرہ کی زندگی اور سماج میں مستعمل applied نہیں ہے۔ اس لئے ایک درجے میں آکر بچہ ہتھیار ڈال دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ Metro cities جہاں انگلش میڈیم کا کلچر عام ہے وہاں Master degree یا PHD کے طلبہ بہت کم ملتے ہیں ۔ اس کی دوسری وجوہات بھی ہیں اس سے انکار نہیں ۔ منظر بھوپالی نے کہاتھا   ؎  عمر بھر تو کوئی بھی جنگ لڑ نہیں سکتا/تم بھی ہار جائو گے تجربہ ہمارا ہے.

اس جگہ آکر میں اردو میڈیم کے ان اساتذہ کی بات کروں گا جو احساس مرعوبیت کے اتنے شکار ہیں کہ روٹی تو اردو کی کھاتے ہیں لیکن اپنے بچوں کو انگلش میڈیم میں تعلیم دینے پر بضد ہیں ۔ میری رائے ایسے اساتذہ کے تعلق سے یہ ہے کہ وہ By chance ٹیچر ہیں جن کی نظرصرف گورنمنٹ کے ہر نئے GR پر ہوتی ہے ۔اور ان کا مدعا صرف ان کو ملنے والی مراعات تک محدود ہوتی ہے۔ مجھے ڈر ہے کہیں یہ اساتذہ کل یوم حساب ان بڑے مجرموں کے ساتھ نہ اٹھائے جائیں جنھوں نے انسانوں کو گمراہ کیا۔ کیونکہ یہ حضرات تقریباً 25 یا اس سے زیادہ نسلوں کی بنیاد بھرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں ۔ اس لئے ٹیچر by choice ہونا چاہئے۔

ایک اہم سوال یہ ہیکہ اساتذہ کو  اس احساس مرعوبیت سے کیسے نکالا جائے؟ اس کے لئے  psychology نفسیات میں ایک لفظ  Motivation استعمال ہوتا ہے۔ اس کو آسان زبان میں انسان کے اندرونی احساسات inner feelings  کہہ سکتے ہیں ۔ انگلش میڈیم کے اساتذہ و طلبہ میں انگلش تہذیب اور کلچر کے غالب Dominant ہونے کی وجہ یہ inner feeling مثبت ہوتی ہے۔ اور ہمارے ایک ہم عصر کے بقول انگلش میڈیم بچوں کو attitude وضع قطع کے علاوہ کچھ نہیں دیتا۔ اور آپ یقین جانیے positive attitude انسان کو صرف پہلے پوزیشن پر اسے عمل action  کے لئے آمادہ کرتی ہے بعد میں سارے کام قانونِ فطرت کے تحت ہوتے ہیں ۔ اردو میڈیم کے طلبہ و اساتذہ اس مرعوبیت سے باہر آنے کیلئے تھوڑی سی اپنی تاریخ سے واقفیت پیدا کریں ۔ خاص طور سے اندلس کی ایجادات اور ان ایجادات کے موسوم ناموں کا اردو، انگلش اور عربی میں تقابلی مطالعہ کریں تو آپ کو یقین ہو جائے گا مغرب اور انگلش والے نےبہت سارے عربی ناموں کو بگاڑ کر انگلش میں ترویج کی ہے۔منظر بھوپالی کا ایک شعر اور آپ سے کہوں گا  ؎

  اپنی رہنمائی پر اب غرور مت کرنا

آپ سے بہت آگے نقشِ پا ہمارا ہے.

ہماری اس تحریر سے کسی کو بدگمانی نہیں ہونی چاہیے کہ اسمیں تنقید کی زیادتی اور تعمیر کی کمی ہے چونکہ یہ تحریر ایک طرح سے تقابلی مطالعہ ہے اسلئے تنقیدو تعمیر اس کا لازمی جزو ہے۔ اور قرآن کا انداز تعلیم و تربیت بھی اوامر و نواہی( do’s and don’t) ہی ہے۔ اسی طرح کسی چیز کو صحیح انداز میں سمجھنے کا طریقہ یہ ہیکہ اس کی ضد opposite سے سمجھا جائے۔ مثلا ً دن کو بہتر طریقے سے سمجھنے کے لئے رات کا سمجھ لینا کافی ہے۔ذہن میں الفاظ کا مجموعہ vocabulary اور اسکا استعمال application کے ضمن میں آخری اہم بات جو کہنی ہے وہ یہ کہ آپ ایسے مقررین کو سنیے جو تدریجاً آسان انگلش استعمال کرتے ہیں اور انکا phonetic  تلفظ تھوڑا سا مجہول ہو۔لیکن گرامر اور الفاظ کے استعمال میں وہ پرفیکٹ ہوں ۔میں اپنے پریکٹس کے ایام میں ذاکر نایک ،عبدالرحیم گرین اور وہ لیکچرار جو انگلش میں لیکچر دیتے تھے انہیں بغور سنتا تھا۔ یہاں تک بہت سارے مقررین کی تقاریر کو میں نے اتنی بار سنی کہ وہ میرے حافظے میں محفوظ ہو گئی۔

تعلیم اور طریقہ کار

Preparation for exam and understand English text

عام طور سے HSC کے طلبہ مکمل طور سے اپنے استاد یا tutor کی دی ہوئی نوٹس یا مختلف پبلیکشن publication کو امتحان کی تیاری کے لئے کافی سمجھتے ہیں ۔اس طرح کی نوٹس NOTES میں یہ ضروری نہیں ہیکہ مواد syllabus کے مطابق موجود ہو۔ بہت کچھ syllabus نصاب سے پَرے بھی ہوتا ہے لیکن صحیح پلاننگ نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ اس پوری نوٹس NOTES کو امتحان کی تیاری کے لئے ضروری سمجھتے ہیں ۔ جبکہ ایسا نہیں ہے۔ پیپر سیٹر PAPER SETTER کو سوالیہ پرچہ نکالنے کے وقت نصاب کی حد تک محدود رہنا ہوتا ہے۔ جو کہ ہمارے یہاں رائج تعلیمی نظام کا قاعدہ ہے۔ لیکن بد قسمتی سے طلبہ اس بارے میں نہیں جانتے۔ اور ان کے نمبرات متاثر ہوتے ہیں ۔ لیکن جب آپ سینیر SENIOR کالج میں آجائیں تو سب سے پہلا کام آپ کو SYLLABUS نصاب کے متعلق اپنی معلومات جمع کرنی ہے۔ اس نصاب کی اسٹڈی بھی ڈکشنری کی مدد سے کی جائے تو بہتر ہوگا کیونکہ اس سے آپ کا ذہن ان چیزوں کو بھی پا لے گا جن کا direct براہ راست نصاب میں ذکر نہیں ہے۔ لیکن Broader تفصیل میں وہ کسی ہیڈ Heading کا اہم پارٹ ہوتا ہے۔اس طرح کی اسٹڈی سے آپ غیر شعوری طور پر ان competitive exams مقابلہ جاتی امتحانات جیسے UPSC ,MPSC, SSC, NET SLET, اور اسطرح کے دوسرے امتحانوں کے لئے تیاری کرتے ہو۔ کیونکہ ان امتحانات میں زیادہ تر سوالات بالراست indirect طرز کے ہوتے ہیں ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے اسطرح کے competitive exam میں کامیاب ہونے والے  90% یا اس سے بھی زیادہ وہ طلبہ ہیں جن کی تعلیم ان کی اپنی مادری زبان Mother tongue میں ہوئی ہے۔جس میں سے میں بھی ہوں ۔ پہلی کوشش میں MBA CET پاس کر کے گورنمنٹ سیٹ seat حاصل کی اور پھر پہلی ہی کوشش میں NET جیسا مشکل امتحان بھی کامیاب ہوا۔انگلش میڈیم یا convent کے طلبہ کا یہاں تک approach پہنچ تقریباً نہیں کے برابر ہے۔
اس طرز سے امتحان کی تیاری کا اہم فائدہ یہ ہوتا ہے نصاب Syllabus میں مذکور نئی اور unique حصوں پر آپ کی نظر ٹک جائے گی۔ جو کہ آپ نے پچھلی کلاسوں نہیں پڑھی۔ اور ان نئے part پر سوالات کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھیں ہر مضمون subject جو کہ آپ پہلی بار پڑھ رہے ہو اس پر Basic بنیادی سوال ہوتا ہی ہے۔ اس ضمن میں پرانے سوالیہ پیپر سے مدد بھی لی جا سکتی ہے۔

انگلش کے text کو سمجھنے یا گریجویشن تک بلا رکاوٹ کامیاب ہونے کیلئے ہمارے نزدیک انگلش گرامر کی  4 بنیادی باتوں کا سمجھ لینا کافی ہے۔ اس کے علاوہ بقیہ چیزیں انگلش زبان کے حسن Aesthetic sense یا ادب کے دائرے میں آتی ہیں ۔ جس میں آپ بعد میں کوشش کر کے مہارت حاصل کریں ۔ وہ چار بنیادی باتیں بتدریج دیکھیں ۔

1)  پہلی اور اہم چیز ہے زمانوں Tenses  کی پہچان۔جو ابتدائی طور پر 3 اور sub classification کے ساتھ 12 ہیں ۔

2) دوسری اہم بات جملوں کا passive construction یا passive voice ۔ یہ سمجھ لیں کہ کسی بھی زبان میں جملہ بندی کے معروف active اور مجہول passive طریقے رائج ہیں Passive construction میں معروف بات کو مجہول انداز میں کہا جاتا ہے۔

3) تیسری بات model auxiliary کے متعلق ہے جو جملے کی ہییت منشاء یا کام کے intention یعنی helping verb کو طے کرتی ہے،اور ان کا جملوں میں استعمال ورب کی پہلی شکل verb1کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
وہ model auxiliary یہ ہیں Will, would, shall, should, can,could, may, might, ought to, need to, dare to. etc

4)  چوتھی اہم بات be,  get اورarticle یعنی a  ,an the کا استعمال جو کہ جملے کی تعدد اور اہمیت کے خصوصی طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ساتھ ہی ساتھ in ,at, above, on ,under وغیرہ کو بھی سمجھ لیا جائے۔

میں نے اپنے تعلیمی کیریر میں انگلش understanding کو لے کر اردو میڈیم کے طلبہ کے لئے جتنی بھی کتابیں دیکھی ہیں ان میں عبداللہ خطیب کی کتاب مدرس (انگلش سکھانا سیکھیں ) نے مجھے بہت متاثر کیا ہے۔ میرا مضمون پڑھنے والے ہر قاری کو یہی مشورہ ہے کہ وہ ضرور اس کتاب کو حاصل کریں جو کہ انکے کیریر کے لئے ایک سنگ میل ہو سکتی ہے۔

مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

  1. بہت بہترین آرٹیکل۔قابل عمل باتیں۔بہت بہت شکریہ جناب۔

متعلقہ

Close