ماحولیات

بڑھتی آلودگی کے خلاف سخت اقدام کی ضرورت

عبدالسلام ندوی

یہ پڑھنے سننے میں اگر چہ اچھا لگے کہ خراب ہوتی آب وہوا پر مرکزی وزیر ماحولیات نے مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کو حکم جاری کیا ہے کہ وہ آلودگی پھیلانے والوں کے خلاف سخت قدم اٹھائے لیکن اسکے خوشگوار نتائج ملنے کی امید مشکل سے ہی کی جاسکتی ہے،ایک سوال تو یہی ہے کہ مرکزی آلودگی کنڑول بورڈکو تب کیوں یہ ہدایت دی گئی جب دہلی اور ساتھ ہی ملک کے کچھ دیگر حصوں میں آلودگی نے خطرناک صورتحال اختیار کرلی ہے،کیا مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈکو یہ نہیں پتہ کہ اسے کب کیا کرنا چاہئے،اسکا پتہ اس سے چلتا ہے کہ دہلی اور اطراف کے علاقے میں آلودگی پھیلانے سے متعلق قریب ڈھائی ہزار شکایتوں میں سے محض ڈھائی سو پر ہی کوئی کاروائی کی جاسکی ہے،یہ سستی تب دکھائی گئی جب مسلسل ایسی خبریں موصول ہورہی ہیں کہ دہلی اور اس سے متصل علاقوں کی آب وہوا صحت کیلیئے خطرناک ہوتی جارہی ہے۔

یہ نہایت مایوس کن ہے کہ جب دہلی کے ساتھ ملک کے دیگر شہر خطرناک قسم کی فضائی آلودگی کیلئے بدنام ہورہے ہیں تب ماحولیاتی وزارت کے ساتھ آلودگی کنٹرول بورڈ موثر ثابت نہیں ہورہاہے،اگر ماحولیاتی وزارت کے ساتھ آلودگی کنٹرول بورڈ ملک کی دارالحکومت میں آلودگی روکنے میں موثر نہیں ثابت ہوسکتا تو پھر اسکی امید کیسے کی جائے کہ ریاستوں میں آلودگی کی روک تھام کی ایجنسیاں اپنا کام صحیح سے کرنے کے قابل ہوں گی،اس معاملہ میں یہ خیال رہے کہ تمام تیاری اور انتباہ کے بعد بھی پنجاب ،ہریانہ ،راجستھان اور ملک کے دیگر حصوں میں فصلوں کے باقی ماندہ اجزاء کو جلانے سے روکا نہیں جاسکا۔

اگرمرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ دہلی اور اطراف کے علاقے میں آلودگی کو کنٹرول کرکے ملک کے سامنے ایک مثال پیش کرنے میں کامیاب ہوتا تو شاید ریاستی حکومتیں اور آلودگی کی روک تھام کرنے والی انکی ایجنسیوں کو بھی آب وہوا معتدل رکھنے کا موثر انداز اپنانے کیلئے کوشش کرتی ،افسوس کی بات ہے کہ ایسی مثال عدالت عظمی کی مداخلت کے باوجود نہیں پیش کی جاسکی ،اس سے خراب بات اور کچھ نہیں کہ جب دہلی کو ملک کی رہنمائی کرنی چاہئے تھی تب وہ ناکامی کامظاہرہ کرنے میں مصروف ہے ،ایسا اسلئے ہے کیونکہ کاغذی کاروائی زیادہ ہوتی ہے،آلودگی کی موثر روک تھام کے معاملہ میں حکومتی مشینری ہر محاذ پر تب ناکام ہے جب ہندوستان کے بارے میں ایسے مطالعے مسلسل آرہے ہیں کہ آلودگی سے پیدا شدہ امراض کے سبب موت کی نیند سونے والوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

اس سے خوش نہیں ہواجاسکتا کہ مرکزی ماحولیاتی وزارت نے دہلی کے ساتھ پڑوسی ریاستوں کے ماحولیاتی وزراء اور حکام کی ایک بیٹھک بلائی ہے،یہ بیٹھک دیوالی پر آلودگی بڑھنے کے خدشہ کو دور کرنے کیلئے بلائی گئی ہے،آخرجب دیوالی سر پر آگئی ہے اور سردی میں بھی اضافہ ہورہاہے تب ماحولیاتی وزراء کی بیٹھک بلانے کا کیا مطلب؟بہتر ہوکہ ہمارے پالیسی ہولڈرزیہ سمجھیں کہ آلودگی کے خلاف محض نمائشی سرگرمی سے کچھ نہیں حاصل ہونے والا۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close