جموں میں بھی سانس لینا دشوار!

الطاف حسین جنجوعہ

نئی دہلی میں فضائی آلودگی جیسی سنگین صورتحال کے خطرات ریاست جموں وکشمیر کی سرمائی راجدھانی جموں پر بھی منڈلا رہے ہیں۔ تیزی کے ساتھ پھیل رہے گنجان آبادی والے اس شہر میں فضائی آلودگی کو کنٹرول کرنے کے لئے حکومت و متعلقہ اداروں کی طرف سے موثر اقدامات نہیں اٹھائے جارہے ہیں۔ سرمائی راجدھانی جموں میں بھی ہوا کے معیار میں کافی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ پچھلے کچھ عرصہ سے مضرصحت اجزا کی ہوا میں زیادہ مقدار کی موجودگی سے شہر کے کئی علاقوں میں تو حالت اتنی زیادہ سنگین ہے کہ سانس لینا بھی دشوار ہورہاہے۔اگر چہ حکام کا دعویٰ ہے کہ صورتحال اتنی زیادہ خراب نہیں لیکن National Ambient Air Quality Standards (NAAQS)  کی طرف سے ہوا کے معیار کے لئے مقرر کردہ ضوابط کے تحت تازہ ترین اعدادوشمار کا موازنہ کیاجائے تو یہ صورتحال کافی زیادہ سنگین دکھائی دے رہی ہے۔

 فضائی آلودگی کو مانیٹرنگ کے لئے چند اجزات کو دیکھاجاتاہے جس میں آر ایس پی ایم( Respirable Suspended Particulate Matter (RSPM))، پی ایم 2.5، ایس پی ایم، NO2اورSO2وغیرہ شامل ہیں۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق آر ایس پی ایم کی مقدار100 ug/ m 3، ایس پی ایم کی 200 ug / m3، پی ایم 2.5کی مقدار60 ug/m3، ایس او ٹو کی مقدار80 ug/m 3اور NO2 کی مقدار 80 u g /m3سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے۔ نروال، ایم اے ایم اور بڑی برہمناں اسٹیشنوں پر رواں ماہ ہوا کے معیار کی جوجانچ کی گئی ہے، اس کے اعداد وشمار مذکورہ مقررہ حد سے تجاوز کر رہے ہیں۔ نروال اسٹیشن پر آر ایس پی ایم کی مقدار 155، PM 2.5کی مقدار 69.8، ایس پی ایم کی مقدار 242، این او ٹو کی مقدار 17.3اور ایس او ٹو کی مقدار5.06رہی ہے۔

شہر جموں میں فضائی آلودگی کی سب سے بڑی وجہ سڑکوں پر دوڑنے والی لاکھوں کی تعداد میں روزانہ گاڑیاں ہیں۔ اس کے بعد جگہ جگہ پر کوڑا کرکٹ، فضلہ وغیرہ کو جلانے سے نکلنے والا دھواں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ دیر تک بارش نہ ہونے کی وجہ سے شہر جموں پردھند سی بکھر جاتی ہے، وہ زمین سے اٹھنے والا گرد وغبارہوتا ہے جوکہ ہوا کو آلودہ کرتاہے۔ ہوا کے معیار کو جانچنے کے لئے اس میں پائے جانے والے اجزات کی حد مقرر کی گئی ہے، اگر یہ اس سے زیادہ ہوتی ہے تو پھر وہ انسان وحیوان کے لئے نقصان دہ ہوسکتی ہے۔جموں شہر میں گاڑیوں میں فضائی آلودگی کوچیک کرنے کا کوئی موثر طریقہ کار نہیں۔ یہ کام زیادہ ترپرائیویٹ ہاتھوں میں ہے جوکہ صرف پیسہ لیکر پرچی دے دیتے ہیں۔

خیال رہے کہ کئی پٹرول پمپوں کے ساتھ ہی پالیوشن چیکنگ سینٹرز قائم ہیں جہاں صرف کمپیوٹرآئزڈ پرچی دے دی جاتی ہے۔ماحولیاتی توازن کوبرقرار رکھنے کے لئے جموں شہر میں متعلقہ اداروں کی طرف سے کوئی سنجیدگی ظاہر نہیں کی جارہی۔ لاپرواہی کی وجہ سے صورتحال دن بدن بگڑتی جارہی ہے۔ اگر ایسا ہی رہا تو وہ دن دور نہیں کہ لوگوں کے لئے یہاں پر سانس لینا بھی مشکل ہوجائے گا۔سرمائی راجدھانی جموں اور مضافات میں ہوا کے معیار پر نظر رکھنے کے لئے تین اسٹیشن قائم ہیں۔ ایک سٹیٹ پالیوشن کنٹرول بورڈ دفتر واقع ٹرانسپورٹ نگرنروال جموں،  دوسرا ایم اے ایم اسٹیڈیم جیول اور تیسر ا بڑی برہمناں سیکٹر میں ہے جہاں پر یومیہ بنیاد پر ہوا کے معیار پر نظر رکھی جاتی ہے اور اس متعلق اعدادوشمار تیار کئے جاتے ہیں۔ PM2.5چھوٹے چھوٹے ذرات کی ہوا میں زیادہ موجودگی صحت کے لئے مضر سمجھی جاتی ہے۔دسمبر2016میں سٹیٹ پالیوشن کنٹرول بورڈ نے محکمہ ٹرانسپورٹ کو ایڈوائزری جاری کی تھی کہ شہر جموں کی سڑکوں پر دوڑنے والی پرانی گاڑیوں میں آلودگی کی سطح دیکھنے کے ساتھ ساتھ ان پر روک لگائی جائے لیکن اس پر کوئی موثر اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ہزاروں کی تعداد میں پرانی گاڑیاں ہیں جن سے نکلنے والا دھواں ہوا کو آلودہ کرنے کا موجب بن رہاہے۔

 بورڈ کے سنیئرسائنسدان نے بتایاکہ پچھلے کچھ ہفتوں سے جو اعدادوشمار سامنے آرہے ہیں وہ آنے والے خطرہ کی علامت ہیں۔ گرد وغبار، گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں اور جگہ جگہ پر کوڑا کرکٹ ودیگر چیزوں کو جلانے سے خارج ہونے والا دھواں فضا کو آلودہ کر رہاہے۔ شہر کے پبلک مقامات بس اڈہ، ٹرانسپورٹ نگر نروال، ریلوے اسٹیشن اور خاص کر صنعتی علاقہ بڑی برہمناں میں فضائی آلودگی محسوس ہوتی ہے اور وہاں پر سانس لینے میں بھی دقت محسوس ہوتی ہے۔عدالت عالیہ کے ڈویژن بنچ نے اسی حوالہ سے دائر ایک مفاد عامہ عرضی میں بھی سرمائی راجدھانی جموں میں فضائی آلودگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

چیف جسٹس بدر دریز احمد اور جسٹس سنجیو کمارپر مشتمل بنچ نے حکومت کی غیر سنجیدہ پن پر برہمی کا اظہار اکرتے ہوئے سخت الفاظ میں کہاکہ متعلقہ محکموں کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے موجودہ صورتحال ہے، جو اقدامات کرنے کا دعویٰ کیاجارہاہے، اس سے کوئی بھی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ عدالت عالیہ نے پہلی مرتبہ حکومت کے تئیں اتنے سخت الفاظ کا استعمال کیا ہے۔ راجندر سنگھ بنام جموں وکشمیر سرکار دیگران نامی مفاد عامہ عرضی کی شنوائی کے دوران ایس ایس پی ٹریفک نے پاور پوائنٹ پریزنٹیشن کے ذریعہ شہر جموں میں ٹریفک نقل وحمل کو منظم کرنے کے لئے اٹھائے جارہے اقدام بارے بتایا لیکن ڈویژن بنچ نے ان اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ جن اقدامات کی بات کی جارہی ہے اس سے شہر جموں میں کوئی فرق نظر نہیں آرہا۔

بنچ نے اس بات پرزور دیاکہ ٹھوس اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔ بنچ نے حکومت کو کہا ہے کہ آئندہ شنوائی پر اس بارے قابل عمل اقدام بار ے بتایاجائے۔ بنچ نے محکمہ ٹرانسپورٹ، جموں وکشمیر پولیس، جموں میونسپل کارپوریشن، جموں ڈولپمنٹ اتھارٹی، جموں وکشمیر سٹیٹ پولیوشن کنٹرول بورڈ کو مناسب ہدایات بھی جاری کیں۔ میونسپل حدود میں کچھ مقامات پر آکسیجن کی سطح 6.7 mg/IاورBOD سطح5.3 mg/Iتک ہے جوکہ انسان وخیوانات کے لئے خطرناک ہے۔ جموں خطہ میں روزانہ 653میٹرک ٹن فضلہ نکلتا ہے جس میں سے صرف جموں شہر سے 380 ٹن یومیہ ہے۔350 ٹن جمع کیاجاتاہے۔



⋆ الطاف حسین جنجوعہ

الطاف حسین جنجوعہ

مضمون نگار پیشہ سے صحافی اور وکیل ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

قانون سازیہ کے تئیں حکومت کی غیرسنجیدگی !

حکمراں جماعتوں کو اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل کے لئے ’افسران‘کی چالبازیوں کا شکار نہ ہوکر اس ادارہ کو مضبو ومستحکم بنانا ہوگانہیں توجمہوری نظامِ حکومت کے اس مقدس ادارہ کی کمزوری کا مطلب عوام کو کمزور بناناہے جوکہ پہلے ہی ظلم وستم، نا انصافیوں کی چکی میں پس رہے ہیں، جو تھوڑی بہت آس بچی ہے وہ کھوجائے گی۔ساتھ ہی ساتھ ایک ایم ایل اے /ایم ایل سی کو بھی انفرادی طور محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا وہ اپنے عہدہ سے انصاف کرپارہے ہیں ....؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے