ماحولیات

پانی کا مسئلہ: گلوبل وارمنگ اور کلائمنٹ چینج

عالم نقوی

پانی فی الواقع ایک مسئلہ بن کے رہ گیا ہے لیکن پانی کی فراہمی کو مسئلہ بنانے کے ذمہ دار خود ہم، ہماری ہوس، ہمارا اسراف اور ہماری بے حسی ہیں۔ اب تو مستقبل کی جنگیں بھی تیل  کے لیے نہیں پانی  کے حصول  کے لیے ہو سکتی ہیں کیونکہ پانی بہت جلد تیل سے زیادہ  قیمتی اور مہنگی چیز (کموڈیٹی) بننے والا ہے۔ تیل ( اور تمام پٹرولیم مصنوعات )کی طرح پانی بھی اللہ ہی نے پیدا کیا ہے۔ تیل کے بغیر تو انسان نے  سیکڑوں بلکہ ہزاروں سال سکون سے گزار دیے لیکن پانی کے بغیر۔ ۔؟ وہ چند سال تو کیا چند گھنٹے بھی سکون سے نہیں گزار سکتا۔

قدرتی جھیلوں، برفانی پہاڑوں کی بلندی سے نیچے اترنے والی ندیوں، تالابوں اور زیر زمین پانی کے ذخائر کو تو جانے دیجیے، صرف بحر قطب شمالی (آرکٹک اُوشن) اور بحر قطب جنوبی (انٹارکٹک اُوشَن) میں منجمد برف کی شکل میں پینے کے صاف اور تازہ پانی کا اتنا بڑا خزانہ، اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کے لیے ذخیرہ کر رکھا ہے  کہ فی الواقع ہمارے لیے اس کا حساب لگانا بھی ناممکن نہیں تو ’کارے دارد ‘ جیسا  مشکل تو ضرور ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ غذا کی طرح پانی بھی  دنیا میں کم نہیں ہے، پانی کی تقسیم کا نظام غلط ہے۔ اور جو کمی نظر آرہی ہے یا مستقبل میں ہونے والی ہے اس کا سبب ہمارا اِسراف اور ہماری ہوس ہے۔

 یعنی آج بھی ہم اگر اُتنا ہی پانی خرچ کرنا شروع کر دیں جتنا ہماری زندگی کی لازمی ضرورتوں کے  لیے نا گزیر ہے، اور پانی کا  بے جا، ضرورت سے زیادہ  خرچ یعنی ’اِسراف ِآ ب‘ بند کر دیں اور کسی بھی قیمت پر ضایع نہ ہو نے دیں، پانی کےتمام  قدرتی ذخائر،زیر زمین اور بر سر زمین  (جھیلوں، دریاؤں اور تالابوں وغیرہ ) پر ہر انسان کا برابر کا حق تسلیم کر لیں اور اپنی شیطانی  ہوس، ابلیسی شرارت اور  صہیونی قارونیت کی وجہ سے اُن پر ناجائز، اور کوکا کولا اور پیپسی وغیرہ کی طرح مسرفانہ و غاصبانہ  قبضے نہ کریں، ترقی کے نام سڑکوں کو چوڑا کرنے اور کارخانوں کے قیام وغیرہ کے نام پر پانی کے قدرتی ذخائر کے قدرتی بہاؤ کو تبدیل کرنے کی کوشش نہ کریں اور مشترکہ دریاؤں پر بالائی سمت ڈیم بنا کر نچلے علاقوں کی سیرابی پر قدغن نہ لگائیں۔۔ تو پانی کا موجودہ بحران، چٹکی بجاتے حل ہو سکتا ہے !

لیکن مسئلہ تو یہی ہے کہ حقوق انسانی کے کارکن، ماحولیاتی تحفظ کے مجاہدین، اور دوسرے انصاف پسند اور انسان دوست  چیخ رہے ہیں لیکن قارونوں کے بل پر فرعونیت کرنے والے صاحبان اختیار و اقتدار اُس پر کان نہیں دھرتے۔

حقیقت یہ ہے کہ آنے والے ماہ و سال پانی کی فراہمی کے اعتبار سے ناقابل تصور حد تک سنگین ہونے والے ہیں۔ ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف  فنڈامنٹل ریسرچ کی  رپورٹ  میں پانی کی قلت کے جو مسائل درج ہیں وہ تو محض ’برفشار کی چوٹی (ٹِپ آف دی آئس برگ) کے برابر ہیں۔

پانی کی کمی کا مسئلہ صرف ہندستان ہی  میں نہیں ایشیا، افریقہ، یورپ امریکہ اور آسٹریلیا سمیت پوری دنیا کو درپیش ہے۔ اسراف، غاصبانہ  قبضے اور ناجائز  استعمال  کے علاوہ یہ مسئلہ کرہ ء ارض کے درجہ ء حرارت میں غیر معمولی اضافے (گلوبل وارمنگ) اورغیر فطری موسمیاتی تبدیلیوں (کلائمٹ چینج) سے بھی جڑا ہوا ہے۔ درجہ ء حرارت میں اس غیر معمولی اور مسلسل اضافے سے پوری دنیا اور انسانی زندگی خطرے میں ہے۔ اسی لیے قدرتی وسائل پر قابض دنیا کے مٹھی بھر ’بڑوں‘  نے خلا میں اور دوسرے سیاروں پر بستیاں بسانے کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ وہ اس  خیال خام میں مبتلا  ہیں  کہ  خشکی و تری میں  فساد پھیلانے  والوں کو اللہ یونہی چھوڑ دے گا اور ماورائے زمین  خلا اور دیگر سیاروں کی بستیوں میں نکل جانے دے گا !گویا وہاں کا اللہ کوئی اور ہے اور زمین و اہل زمین کا کوئی اور !

بنگلہ دیش، ہندستان، پاکستان، فلسطین، با لخصوص غزہ اور مغربی کنارہ اور بیشتر افریقی ممالک  میں اگر پانی کی کمی کا مسئلہ زیادہ نمایاں نظر آتا ہے تو اس کا سبب صرف یہ ہے کہ یہ ممالک دنیا میں سب سے زیادہ کرپشن زدہ، ظلم گزیدہ اور منافقت آلودہ  ہیں۔

اگر یہی حال رہا تو تو اگلے بیس، پچیس  یا پچاس  برسوں میں صومالیہ، یوگنڈا اور ایتھوپیا کی طرح پورا جنوبی ایشا (خدا نخواستہ) ایک قحط زدہ ریگستان میں تبدیل  ہو سکتا ہے۔

بقول شخصے دوسری جنگ عظیم ایٹم بم پر ختم ہوئی تھی، تیسری جنگ عظیم ایٹم، ہائڈروجن بموں اور دیگر وسیع تباہی کے ہتھیاروں (WMD,s)سے شروع ہوگی اور چوتھی جنگ عظیم کی نوبت ہی نہ آئے گی۔

آٹھ نو سال قبل نیشنل جیو گرافک چینل پر ایک ’تصوراتی فلم دکھائی گئی تھی جس میں نیو یارک ۲۰۰۹ اورنیو یارک ۲۱۰۹کا تقابل پیش کیا گیا تھا۔ اس وقت تو ظاہر ہے کہ نیویارک، سڈنی، شنگھائی اور دوبئی جیسا  ہی ہے لیکن مذکورہ فلم کے مطابق سو سال بعدسن  اکیس سو نو کا نیو یارک آج کے نیو یارک جیسا نہیں بلکہ سو دو سو سال پہلے جیسا، یا اُس سے بھی بدتر، ماقبلِ تاریخ جیسا، ہو چکا ہوگا۔

ٹھیک کہ یہ ایک تصوراتی فلم تھی جس کا موضوع ہی گلوبل وارمنگ، کلائمٹ چینج اور اس کے اثرات  و نتائج تھا۔ لیکن، اگر حالات میں کوئی  مثبت تبدیلی لانے کی شعوری کوشش نہ کی گئی اور تیسری جنگ عظیم نہ روکی گئی توآج کے انسانوں نے  فساد فی ا لارض میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑا ہے، وہ تو غنیمت ہے کہ ہم اپنا شمار اہل ایمان میں کرتے ہیں اور اپنے صادق و امین نبی ﷺ کے اس فرمان میں یقین رکھتے ہیں کہ قیامت اس وقت تک نہ آئے گی جب تک کہ یہ زمین عدل و قسط سے اسی طرح نہ بھرجائے جس طرح وہ اس وقت ظلم و جور (اور اسراف و تبذیر) سے بھری ہوئی ہے (او کما قال)۔

ہم دنیا کے تمام  جھوٹوں، منافقوں، ظالموں اور  مُسرفین و مُترفین   کو سبق سکھانے اور کیفر کردار تک پہنچانے والے کی آمد  کے منتظر ہیں اور  بعض نافہم لوگوں کے تصور کے بر خلاف   ہم اُس آنے والے کے انتظار میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھے ہیں بلکہ خود کو اس لائق بنانے میں مصروف ہیں کہ جب وہ آنے والا  آئے اور’’ھَل مِن ناصِرٍ‘‘ کی صدا بلند کرے تو نہ صرف ہم اُس  صدائے استغاثہ  کو سن سکیں بلکہ اس پر حسبِ اِستطاعت  تن من دھن سے لبیک بھی کہہ سکیں۔

مزید دکھائیں

عالم نقوی

مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close