شخصیات

ایک بھائی کی جدائی کا غم

ان  اشارات سے آپ بڑی آسانی سے اندازہ کر سکتے ہیں کہ صفدر صاحب کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو کیا تھا اور ان کا اچانک عالم بالاکی طرف کوچ کرجانا میرے لئے کتنا   بڑا صدمہ ہے۔۔۔ یقینا یہ میرے لئے  دوہرے غم کی طرح ہے۔۔۔ کسی نے صحیح کہا ہے کہ وقت زخموں پر مرہم نہ رکھے تو ہم جیسے کمزور انسان ان صدموں کو کبھی برداشت نہ کر پائیں۔

مزید پڑھیں >>

نشورؔ واحدی: ایک شاعر طبیب

یونانی طب اور اردو زبان کے باہم رشتوں کا زمانہ تقریباً ڈھائی سو برس کے عرصہ پرمحیط ہے۔اِس رشتے کا تاریخی مطالعہ اہلِ اردو اور حاملینِ طب دونوں کے لیے اہم ہے، مگر اب تک خاطر خواہ انداز میں اِس پرکام نہیں ہوسکا ہے۔ دونوں کو اِس تشنۂ تحقیق پہلو پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، تاکہ اِس رشتے کو مزیدفروغ دیاجاسکے۔

مزید پڑھیں >>

حکایاتِ غم کی تصویر: ڈاکٹر کلیم احمد عاجزؔ

 ڈاکٹرکلیم احمدعاجزؔ ؒ کی شاعری سے میں ہی نہیں، میرے جیسے نہ جانے کتنے اورمتاثرہوئے ہوں گے، خواہ وہ ڈاکٹرصاحب سے واقف ہوں یانہ ہوں، وجہ صرف اس کی یہ ہے کہ ’’ان کے شعروں میں ایک مخصوص سادگی ہے، ان کے الفاظ جانے پہچانے، ان کی ترکیبیں ایس سیدھی سادھی ہوتی ہیں کہ مفہوم فوراً ذہن نشین ہوجاتاہے، یہ نہیں کہ ان کے اشعارسطحی ہوتے ہیں ؛ بل کہ الفاظ اورترکیبوں اورمعانی کے درمیان کوئی پردہ نہیں ؛ بل کہ یوں کہئے کہ ان کے الفاظ ایسے شفاف ہیں کہ معانی کوایک نگاہِ غلط اندازبھی پالیتی ہے‘‘۔

مزید پڑھیں >>

حضرت حکیم سید شاہ تقی حسن بلخی فردوسی

 حضرت سید شاہ تقی حسن بلخی ابن سید شاہ غلام شرف الدین بلخی ابن سید شاہ غلام مظفر بلخی ابن سید شاہ علیم الدین بلخی ابن سید شاہ محمد تقی بلخی ابن سید شاہ غلام معز بلخی ابن سید شاہ برہان الدین بلخی ابن سید شاہ علیم الدین بلخی ابن سیدشاہ نور محمد بلخی ابن سید شاہ دیوان دولت بلخی ابن سید شاہ فرید بلخی ابن سید شاہ جیون بلخی ابن سید شاہ حافظ بلخی ابن سید شاہ ابراہیم سلطان بلخی ابن سید شاہ احمدلنگر دریا بلخی ابن سید شاہ حسن بلخی ابن سید شاہ مخدوم حسین نوشۂ توحید بلخی۔

مزید پڑھیں >>

میرا بچپن

ابو جان میرے کھانے پینے کا بہت زیادہ دھیان رکھتے تھے۔ جب بھی مجھے گھر سے درس گاہ چھوڑنے کے لیے جاتے، میں لدا پھندا ہوا وہاں پہنچتا تھا۔ گھی، شہد، کئی طرح کے حلوے، چھوہارے، بسکٹ، نمکین اور نہ جانے کیا کیا وہ میرے ساتھ کر دیتے تھے۔ بورڈنگ ہاؤس میں کھانا اجتماعی ہوتا تھا۔ میں ایک چھوٹی سی پیالی میں ایک چمچہ گھی لے جاتا تھا، جسے دال میں ڈال کر کھایا کرتا تھا۔ 

مزید پڑھیں >>

 ڈونالڈ ٹرمپ کی زندگی: اتار چڑھاﺅ کی دلچسپ داستان!

یہ ایران اور پاکستان کو بھی کسی اچھی ڈیل کےلئے دبا رہے ہیں۔ یہ پاکستان مخالف بیانات سے پاکستان کو مذاکرات کی میز پر لانا چاہتے ہیں۔ یہ ہم سے رعایتیں لینا چاہتے ہیں اور ٹرمپ کو اگر اچھی ڈیل کےلئے پاکستان پر ایک آدھ حملہ بھی کرنا پڑا۔ اگر میاں نواز شریف سے ملاقات بھی کرنا پڑی اور اگر جنرل باجوہ کی جمہوریت پسندی کی تعریف بھی کرنا پڑی تو یہ کر گزریں گے۔

مزید پڑھیں >>

محمد صدیق چوہان: ناقابل ِ فراموش اُستاد، بے مثل انسان

    تمام سیاسی اکابرین جِن میں ایم ایل اے مینڈھر جناب جاوید احمد رانا صاحب، سابقہ ایم ایل سی جناب محمد رشید قریشی صاحب اور پی ڈی پی لیڈر جناب محمد معروف خان صاحب نے بھی عوام موضع گا ہنی و بلُنوئی کو سیاست سے بالاتر ہو کر بچوں کا مسئلہ حل کرنے پہ مبارک باد پیش کی ہے اور یک جُٹ ہو کر سکول کے تعمیری کام میں ہاتھ بٹانے کی اپیل بھی کی ہے۔

مزید پڑھیں >>

عظیم افسانہ نگار: سعادت حسن منٹو (آخری قسط)

منٹوکی یہی بےساختگی اوربےتکلفی ہےکہ قاری پوری طرح ان کی بات کوسمجھنےاورمتفق ہونےلگتاہے،قاری اورکہانی میں دوری یا بعد پیدانہیں ہوتا، ایک مقام ایساآتاہےکہ قاری خودکوکہانی میں شامل سمجھنےلگتاہےاورافسانےکی پوری اقلیم یعنی احساسات وجذبات، کردارونفسیات اورحالات وواقعات کی ترتیب،تشکیل میں قاری ان کاہم نوابن جاتاہے.کیوں کہ منٹوجس زبان میں کلام کرتاہیں اسے سمجھنا قاری کےلیےمشکل نہیں ہوتا.

مزید پڑھیں >>

مصر میں احیائے اسلام کے بانی: امام حسن البنا شہیدؒ

امام حسن البنا شہیدؒ کو حکومت براہ راست تو کچھ نہ کہ سکی لیکن انکی مسلسل نگرانی کی جانے لگی اور بالآخر12فروری 1949ء کو خفیہ پولیس اہلکاروں نے اس وقت امام کو گولی کا نشانہ بنایاجب وہ اخوان المسلمون کے شعبہ نوجوانان’’شبان المسلمون‘‘کے دفتر سے باہر نکل رہے تھے۔ امام حسن البنا شہیدؒ اپنے رب سے جاملے اور ہمیشہ زندہ رہنے کے منصب پر سرفراز ہو گئے۔ سلام ہو اس تنظیم پر اور اسکی قیادت پر کہ جس نے اپنے خون سے امت مسلمہ کے شجر سایہ دار کی آبیاری کی۔ اﷲ تعالی امام حسن البنا شہیدؒ سمیت امت کے کل شہدا کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے، آمین۔

مزید پڑھیں >>

علامہ اقبال سے متعلق منفی انکشافات: ’اپنا گریباں چاک‘ کے حوالے سے

ڈاکٹر جاوید اقبال کا ہائی کورٹ لاہور کے چیف جسٹس کے عہدے سے باسٹھ برس کی عمر میں 1986ء میں ریٹائر منٹ ہوتے ہی اسی روز سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے تقرر عمل میں آیا۔ انھوں نے ملک اور بیرون ملک کئی سمیناروں میں حصہ لیا۔ اتنے ممالک کا سرکاری سطح پر دورہ کیا کہ اقبال سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔

مزید پڑھیں >>