شخصیات

رئیس الاحرار مولانا محمد علی جوہر

کسی بھی منصف مزاج،غیر جانب دار،صاحب بصیرت سے پوچھا جائے کہ بیسویں صدی کے اوائل میں برصغیر کے منظرنامے پروہ کون شخص تھا جوسب پر چھایا ہوا تھا ؟ مشرق تامغرب اور شمال تا جنوب کس کا طوطی بول رہاتھا ؟ کس کی ہمت مردانہ اور جرئت رندانہ نے ایوان برطانیہ کی چولیں ہلادی تھیں ؟تو وہ بلا تامل بغیر کسی ہچکچاہٹ کے بیک جنبش لب جو نام اپنی زبان پرلائے گاوہ "محمدعلی" ہوگا۔

مزید پڑھیں >>

کمالِ فن کا آئینہ دلیپ کمار 

اداکار اور اداکاری سے متعلق دلیپ کمار صاحب سے ایک سوال کیا گیا تھا۔ اُن سے دریافت کیا گیا تھا کہ اداکاری کسی کردار کی نقل ہے تو اداکار نقال ہوا۔ درحقیقت اداکاری ہے کیا ؟ تو اس پر دلیپ کمار صاحب نے مفکرانہ انداز میں کہا تھا کہ ’’ اداکاری دراصل انسان کے اندر کو باہر لانے کا نام ہے۔ اب جو کوئی انسان کے ’’ اندر ‘‘ کو سمجھ لے وہ اداکاری کو نقل اور اداکار کو نقال نہیں کہہ سکتا۔ کیوں کہ اداکار کو اداکاری کے دوران رونا بھی پڑتا ہے، اور رونا دورن کی کیفیت ہے۔اب اگر اِس کیفیت کے اظہار میں رنگ حقیقت شامل ہو یعنی اداکار سچ مچ رو دے تو پھر وہ اداکاری کہاں۔ ۔۔؟‘‘

مزید پڑھیں >>

کیفی اعظمی کے آوارہ سجدے

آوارہ سجدے کیفی اعظمی کا تیسرا مجموعہ کلام ہے، جو ۱۹۷۴ء میں شائع ہوا۔ اس سے پہلے ان کے دو مجموعے منظرِ عام پر آئے، ’’جھنکار‘‘ ان کا پہلا مجموعہ کلام ہے، جس میں انہوں نے رومان اور انقلا ب کا عمدہ امتزاج پیش کیا ہے، تاہم اس مجموعے کی زیادہ تر نظمیں رومانی ہیں ۔  یہ رومان کوئی معمولی قسم کا رومان نہیں ہے بلکہ اس میں اعلیٰ شاعری کے بہترین نمونے موجود ہیں ۔ اس پورے مجموعے میں کیفی رومان اور حسن و جمال کی کیفات سے متاثر نظر آتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

سر سید کا اسلوب تحریر اور انداز بیان

سرسید نے اردو شعر و ادب کو ایک نئی راہ دکھائی انھوں نے واضح کیا کہ شعر وادب نہ تو بیکاروں کا مشغلہ ہے نہ تفریح و دل لگی کا ذریعہ بلکہ یہ زندگی کے سنوارنے اور بہتر بنانے کا آلہ ہے اردو نثر کے عیب مثلاً مبالغہ آرائی، لفاظی، تصنع وغیرہ سے سرسید کو سخت نفرت تھی ان کی یہی خواہش تھی کہ اردو نثر میں وہ صلاحیت پیدا ہو جائے کہ کام کی بات سیدھے سادھے الفاظ میں ادا کی جا سکے تاکہ بات قاری کے دل میں پیوست ہو جائے وہ خود نثر نگار تھے۔

مزید پڑھیں >>

مولانا نسیم اختر شاہ قیصر سے ایک مصاحبہ

شخصیات پر میری کتابیں مجھے زیادہ پسند ہیں اور دینی مضامین بھی میں نے بڑی محنت اور خاص اسلوب میں لکھے ہیں اور اس کا اہتمام کیا ہے کہ مضامین خشک نہ رہیں، زبان اور بیان کی چاشنی موجود رہے اور میرے قارئین اکتاہٹ کا شکار نہ ہوں۔ ’میرے عہد کے لوگ‘ پر اتر پردیش اردو اکیڈمی نے مجھے ایوارڈ سے نوازا اور مختلف ادبی اور سماجی تنظیموں نے بھی مختلف ایوارڈ و اعزازات سے نوازکر میری حوصلہ افزائی کی۔

مزید پڑھیں >>

حضرت مفتی شاہ عبداللہ پھول پوری کا سانحۂ ارتحال !

 قحط الرجال کے اس دور میں مردان حق کی پے در پے رحلتیں جہاں قرب قیامت کی نشان دہی کررہی ہیں ، وہیں یکے بعد دیگرے انفرادی و اجتماعی صدموں سے دوچار ملت اسلامیہ، شریعت و طریقت اورقیادت و سیادت کے مختلف میدانوں میں علماءربانیین کے فقدان کا شکوہ کرتی نظر آرہی ہے۔

مزید پڑھیں >>

مولانا ابوالکلام آزاد کے نظریات عصری تناظر میں

 مولانا ابوالکلام آزاد ایک حساس ذہن کے مالک تھے انہوں نے ہندوستانی معاشرے کے معاملات و مسائل کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ انہوں نے ہندوستانی عوام کی زندگی کو قریب سے دیکھا اور سمجھا تھا اس لیے وہ عوام کے اندر سوئی ہوئی انسانیت کو جگانا چاہتے تھے۔ کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ جب تک عوام کے اندر کی چنگاری کو شعلہ نہیں بنایا جائے گا اس وقت تک یہ ملک غلامی کی زنجیروں سے نجات حاصل نہیں کر سکتا اور اس کے لیے وہ ہندو مسلم اتحاد کے نہ صرف قائل تھے بلکہ وہ حصول آزادی کے لیے لازمی قرار دیتے تھے۔

مزید پڑھیں >>

حضرت شیخ الہندؒ کا تصورِ فلاحِ امت

 بعض شخصیتیں اتنی قدآوراوراپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے اِس قدر وسیع الجہات ہوتی ہیں کہ زمانے کی نگاہیں ہزار کوششوں اور دعووں کے باوجودان کے اصل مقام و مرتبے کاصحیح اندازہ نہیں لگاپاتیں، یہ الگ بات ہے کہ احوال، اوقات اورمقامات کے حسبِ حال ان کی کوئی ایک صلاحیت زیادہ نکھر کر سامنے آجاتی اور اسی کی حیثیت سے معاصرین میں اُن کی شناخت کی جاتی ہے، اسلامی تاریخ میں کئی ایسی شخصیتیں ہیں، جنھیں بعض خاص علمی یاعملی شعبوں میں نمایاں کارناموں کی وجہ سے اُن ہی شعبوں کے ساتھ خاص کردیا گیا ؛حالاں کہ ان کے علوم و افکار کی بے کرانی اس سے کہیں زیادہ کی متقاضی تھی۔

مزید پڑھیں >>

شیخ الہند مولانا محمود حسن ؒ:ایک عہد سازاور انقلابی شخصیت

  حضرت شیخ الہند ؒکو یہ اعزاز حاصل ہے کہ آپ عالمی شہرت یافتہ اورعظیم دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کے پہلے طالب ِ علم ہیں۔ چناں چہ 15محرم 1283ھ مطابق30مئی 1866ء بروز پنجشنبہ، چھتے کی قدیم مسجد کے کھلے صحن میں انار کے ایک چھوٹے سے درخت کے سائے میں نہایت سادگی کے ساتھ کسی رسمی تقریب یانمائش کے بغیر دارالعلوم کا افتتاح عمل میں آیا۔

مزید پڑھیں >>

مولانا سید ابوالاعلی مودودی کا نظریۂ تعلیم

مولانا مودودی ؒ کی شخصیت ایک متکلم اسلام کی حیثیت سے متعارف ہوئی ہے۔ مغرب کے فکری وسیاسی غلبہ و تسلّط کے نتیجے میں مسلمانوں اور بالخصوص ان کی نوجوان نسل کا ایمان اسلامی عقائد واقدار سے متزلزل ہو رہا تھا۔انھوں نے اپنی طاقت ور اور موثر تحریروں کے ذریعے کمیونزم، سرمایہ داری اور دیگر غیر اسلامی نظریات پر زبردست حملے کیے اور اسلامی اقدار و تعلیمات کی حقانیت اور معقولیت ثابت کی۔ انھوں نے ’جماعت اسلامی‘ کی تشکیل کی، جس نے دین کی اقامت کو اپنا نصب العین بنا یا اور جو سماج میں اس کے نفاذ کے لیے برابر کوشاں ہے۔

مزید پڑھیں >>