اردو کے بے غرض مجاہد سکندر احمد !

عالم نقوی

سکندر اَحمد اُردو کے اُن گِنِے  چُنے  بے لوث و بے غرض مجاہدین میں سے تھے جن کی روزی روٹی تو اردو سے وابستہ نہ تھی لیکن اُن کا اُوڑھنا بچھونا اُردو اَور اُس کا اَدَب ہی تھا۔اُن لوگوں کے بر خلاف، جو کھاتے تو اردو کی ہیں اور اردو ہی کا عطا کردہ عزت کا تاج بھی سروں  پر سجائے پھرتے ہیں لیکن اردو کی سچی اور بے لوث خدمت کا خانہ خالی کا خالی ہی رہتا ہے۔ ان کا وطن ٹونک تو نہیں تھا لیکن اقتصادیات  اور بنکاری جیسے غیر شاعرانہ پیشوں سے  معاشی وابستگی  مشتاق احمد یوسفی اور ان کے درمیان  قدر ِمشترک  تھی۔ ۴ مئی ۲۰۱۳ کو جب ۵۵ سال  کی عمر میں انہوں نے جان، جان ِ آفریں کی سپرد کی تو وہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا، بھوپال میں  ایک شعبہ خاص کے مینجر ہونے کے ساتھ ساتھ اردو کے بے بدل نقاد، ادیب، شاعر اور دانشور  کے پُر وقار  اور قابل عزت مناصب پر بھی فائز تھے۔ اور یہی ان کی اصل  شناخت تھی ۔ ان کا جسد ِخاکی بھوپال سے  اُن کے آبائی وطن  رانچی لے جایا گیا جہاں ۶ مئی ۲۰۱۳ کو بعد ظہر تدفین عمل میں آئی۔ وہ زندہ ہوتے تو ہم رواں ماہ نومبر (۲۰۱۷ ) کی ۲۷ تاریخ کو ان کی ۵۹ ویں سالگرہ مناتے !مگر افسوس ہم آج (۱۲نومبر ۲۰۱۷ کو )یہ تعزیتی مضمون قلم بند کر رہے ہیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ اُن کی موت، اُن کے گھر والوں اور ہم جیسے اُن کے سبھی معنوی رشتے داروں کے لیے چاہے بے وقت ہو، لیکن اَپنے خالق و مالکِ  حقیقی  سے وہ دنیا میں جتنی مہلتِ عُمر  لکھا کر لائے تھے انہوں نے اُس کا بھر پور اور با معنی استعمال کیا۔ حق  تو یہ ہے کہ اُن کی موت نے اُردو کو اُس کے ایک سچے خیر خواہ  اور فکشن کے ایک ایسے ’پنج زبان‘ نقاد سے محروم کر دیا جس کا سرِ دَست کوئی  دوسرا متبادل  موجود نہیں ۔ اردو لسانیات، اَفسانے، ناول اور شاعری  کی تنقید پراُن کے کئی دَرجَن مضامین گزشتہ رُبع صدی کے دَوران، ہندستان اور پاکستان کے کم و بیش سبھی قابل ِذکر ادبی   جرائد کی زینت بن   چکے ہیں ۔

  ہم نے ۱۵ مئی ۲۰۱۱ کو شایع اپنے  ایک مضمون ’’تہذیبوں کی جنگ کا غازی سکندر احمد ‘‘ میں لکھا تھا کہ

’’سکندر احمد کا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اردو فکشن اور شعر کی تنقید اور اردو لسانیات کے بظاہر خشک اور پیچیدہ نظریاتی اور عملی مباحث پر خوب لکھا لیکن بازی گران ادب کی گروہی عصبیت سے خود کو بچائے رکھا۔ پھر بھی آدمی سماجی حیوان ہونے کے ناطے دوستی بھی کرتا ہے اور خواہی نخواہی دشمنی کا شکار بھی ہوتا ہے۔ کبھی وہ دشمن بناتا ہے اور کبھی لوگ خود ہی اس کے دشمن ہو جاتے ہیں کیونکہ  ہوتا آیا ہے اُن لوگوں پر تکبر کی تہمت بآسانی لگا دی جاتی ہے، جن کی تھاہ، سطح بینوں کو نظر نہیں آتی۔ سکندر احمد بھی اُن ہی مردان ِ بے نیاز و حق آگاہ میں شامل ہیں ۔

 مرشدی رشید کوثر فاروقی مرحوم کے یہ اشعار سکندر احمد پر بھی پوری طرح صادق آتے ہیں کہ:

لگا حقیر نہ اُس کو فقیرِ راہ  کبھی

جچے نہ اُس کی نگاہوں میں کج کلاہ کبھی

وہ اپنے ذوقِ محبت کا زخم خوردہ رہا

رہی اُسے نہ سیاست میں دست گاہ کبھی

برہنہ سینوں پہ تیروں کے آفتاب اُگے

کسی کی آڑ میں ڈھونڈی نہیں پناہ کبھی

کمان ِ شوق نہ اُتری کوئی بھی موسم ہو

ہَدَف سے اُس نے ہٹائی نہیں نگاہ کبھی

کبھی نہ ہم سفروں سے بنی، گناہ یہ تھا

نہ کھا سکا وہ فریب ِ جمال ِ راہ کبھی

نہ جانے کتنے ہی اَورُوں کے جرم اُوڑھ لیے

کیے نہ پیش خود اپنے لیے گواہ کبھی

وہ دشمنوں کا بھی یک طرفہ یار، اَیسا یار!

کسی کے یار نہ ہوں اِتنے خیر خواہ کبھی

وہ، دوسروں کو پشیماں سمجھ کے، بِچھ تو گیا

کیا معاف نہ اپنا کوئی گناہ کبھی

کوئی دوکان نہ کھولی، عجب قلندر تھا

نہ ’پیش گاہ‘ سجائی نہ’ خانقاہ‘ کبھی

اُسی فقیر پہ اُلٹے، اَنا کی تُہمت تھی

دکھائی دی نہ کسی سطح بین کو تھاہ کبھی

 سکندر احمد کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ خوا ہ کتنے ہی اَدَق اور اور مشکل یا بظاہر غیر دلچسپ موضوع پر قلم اٹھائیں اسے نہایت دلچسپ اور سہل بنا دینے کے باوجود اس کے اعلی تحقیقی اور علمی وقار پر آنچ نہیں آنے دیتے تھے۔

ہم نے مئی ۲۰۱۱ میں لکھا تھا کہ اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ سکندر طاحمد کے تمام وقیع و قیمتی مضامین ایک یا چند کتابوں میں یکجا کر کے شایع کر دیے جائیں تاکہ نئی نسل کے ساتھ ساتھ ہماری نسل کے خواہشمند لوگ بھی جاتے جاتے اُس کے تمام و کمال اور با لا ستیعاب  مطالعے کا حَظ اُٹھالیں اور محرومی کی کسک لے کر قبر میں نہ جائیں ۔ ہمیں خوشی ہے کہ مرحومہ کی اہلیہ غزالہ سکندر نے اس کے دو سال بعد ہی دسمبر ۲۰۱۳ میں ’’مضامین ِ سکندر احمد ‘‘ کے نام سے ۲۸۸ صفحات کا  ایک مجموعہ مرتب کر کے شایع کر دیا جس میں اُن  کی آخری تحریر ’’صغیر افراہیم۔ ۔‘‘سمیت  اُن کے بارہ مضامین شامل تھے۔لیکن اب بھی  اُن کے متعدد اَدبی، تنقیدی، لسانیاتی مضامین اور انٹر ویوز مختلف اخبارات و جرائد کی فائلوں میں بکھرے ہوئے موجود ہیں جن کو مرتب کر کے مضامین سکندر احمد کی مزید دو یا تین ضخیم جلدیں شایع کی جا سکتی ہیں ۔

سکندر احمد حقیقی معنیٰ میں پنج زبان یعنی اردو، ہندی، سنسکرت، انگریزی اور فارسی زبانوں کے ماہر تھے۔ اُن کے مایہ ناز ذخیرہ کُتُب میں سبھی پانچوں زبانوں کا کلاسک اور جدید لٹریچر موجود تھا۔ انہوں نے درجنوں کتابیں تو انٹر نٹ سے ڈاؤن لوڈ کر رکھی تھیں۔ پیشے سے ایک کامیاب بینکار ہونے کے باوجود اپنی مادری زبان  سے انہیں عشق تھا۔ ان کےنہایت وقیع و بسیط تنقیدی  مضامین، ’افسانے کے  قواعد‘ (جو پہلی بار ماہنامہ شب خون  شمارہ نمبر ۲۸۸ میں اور پھر کتابی شکل میں ۲۰۱۲ میں شایع ہوا ) نیر مسعود معمہ یا حل، قرۃ ا لعینیت (مطبوعہ ذہن جدید دہلی،جس کے بارے میں نیر مسعود نے ذہن جدید کے اگلے شمارے میں لکھا کہ ’’اگر یہ مضمون عینی آپا  کی زندگی میں چھپ جاتا تو نقادوں سے انہیں ہمیشہ جو شکایت رہی وہ ختم ہو جاتی  ) اور لسانیات کے دقیق مسائل پر ان کے عام فہم توضیحی مقالے مثلاً اردو صوتیات اصل کا تناظر (مطبوعہ جامعہ جنوری تا مارچ ۲۰۰۴ )’ہمزہ اپنی اصل کے تناظر میں ( مطبوعہ شب خون دسمبر ۱۹۹۹)اور الفاظ کی تذکیر و تانیث ( مطبوعہ جامعہ جنوری تا مارچ ۲۰۰۵) وغیرہ اُن کے ہمیشہ زندہ رہنے والے غیر معمولی علمی کارنامے ہیں ۔

 نام نہاد ’مابعد جدیدیت ‘(پوسٹ ماڈرن ازم ) کے گمراہ کن، فاسد اور باطل نظریے کے خلاف بھی سکندر احمد نے لکھا اور خوب لکھا۔ انہوں نے پہلی  بار اردو والوں کو یہ بتایا کہ فرانسیسی فلسفی  ژاک دریدا (Zak Derida  تاریخ وفات ۱۰ اکتوبر ۲۰۰۴ بعمر ۷۴ سال )نے ’رد تشکیل یا ساختیات ‘ کی مشہور مابعد جدیدتھیوری (De construction  )حسن بن صباح کی عربی کتاب ’المتونت ‘ سے اڑائی ہے۔ متن کو معنی سے خالی قرار دینے والے اور ’المعنیٰ فی البطن ا  لقاری ‘ کا یہ فسانہ صرف اس لیے گڑھا گیا ہے کہ مابعد ا لطبیعاتی، الوہی متون (آسمانی کتابوں زبور، توریت، انجیل اور قرآن وغیرہ ) کی من مانی تفہیم و تفسیر کی جا سکے۔ ۲۰۰۵ میں حیدر آباد کے ادبی جریدے ’الانصار ‘ کے ایڈیٹر اسد ثنائی کو انٹر ویو دیتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں سکندر احمد نے کہا تھا کہ ’’مابعد جدیدیت کوئی قلعہ نہیں تھا کہ جسے میں نے یا کسی اور نے منہدم کر دیا ہو۔ یہ تو ایک ہوائی قلعہ تھا۔ ایک فریب نظر ( Optical Illusion )تھا جسے چند شعبدہ باز نقادوں نے کھڑا کیا تھا۔ انہوں نے (مابعد جدیدیت کے علم برداروں نے ) ’معمار ادب نام کا ایک اپنا ایک ترجمان بھی شروع کیا تھا، جس کا اسقاط ہو گیا۔ پروفیسر مائکل بیروب، امریکہ کی ’ الی نوائے (Illinois )یونیورسٹی میں دس سال تک ’’ ما بعد جدیدیت اور امریکی فکشن ‘‘ پڑھاتے رہے لیکن خود اُن کے ایک مضمون کا عنوان ہی یہ ہے : مابعد جدید فکشن کی تدریس یہ جانے بغیر کہ آیا یہ کوئی صنف ِاَدَب ہے بھی یا نہیں (Teaching Postmodern fiction without being Sure that the Genre Exists )در اصل مابعد جدیدیت کسی بھی ادبی سچائی کی قائل نہیں ۔

سکندر احمد نے اردو کو زندہ و پائیندہ زبان کی صف میں لانے، اردو والوں کی گردن سے مغرب کی تھیوری اور تنقید کا قلادہ اتارنے، مابعد جدید یت کی سامراجی سازش کی بخیہ ادھیڑنے اور اردو صوتیات اور تنقید شعر کی مشرقی جڑوں کو تلاش کرنے کے جو کارنامے اپنی مختصر ادبی زندگی میں انجام دیے ہیں وہ اردو زبان و ادب کے موجودہ’ عُسر‘ میں قدرت کے عطا کردہ ’یُسر‘  کا ثبوت ہیں ۔



⋆ عالم نقوی

عالم نقوی
مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے