خواجہ معین الدین چشتی – نفرت کے دیار میں محبت کا پیامی

غوث سیوانی، نئی دہلی

اللہ رب العزت نے انسانوں کی ہدایت اور دعوت وتبلیغ کے لئے بہت سے ہادی و مصلح بھیجے جنھیں رسول اور نبی کہا جاتا ہے۔ ان کاکام تھا اللہ کے بندوں کو اس کی مرضی سے آگاہ کرنا اور اس کا پیغام بندوں تک پہنچانا۔ جب نبیوں کی آمد کا سلسلہ بند ہوگیا تو ان کی تعلیمات کی یاددہانی کی ذمہ داری اہل اللہ کے کندھوں پر آئی۔ رسولوں کا لایا ہوا سبق تازہ کرنے کا کام علمائ، صوفیہ اور اللہ کے نیک بندوں نے کیا جنھوں نے انسانوں کو ان کی زندگی کے مقصد سے ازسرنو واقف کرایا۔ خواجہ معین الدین چشتی رحمة اللہ علیہ بھی انھیں بزرگوں میں سے ہیں۔ ہندوستان کی سرزمین کو خدا آگاہ بنانے کا کام خواجہ صاحب نے انجام دیا اور اجمیر میں بیٹھ کر ایک ایسی تحریک کی شروعات کی جو بعد میں عالمی اثرات کی حامل ہوگئی۔
خواجہ معین الدین چشتی کا آبائی وطن سیستان کا سنجر علاقہ تھاجو وسط ایشیا میں پڑتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق یہیں 536ھ میں آپ کی ولادت باسعادت ہوئی۔ خاندان بااثر اور دولت مند تھا۔ والد محترم خواجہ غیاث الدین حسن تجارت پیشہ ہونے کے ساتھ ساتھ عابد وزاہد بھی تھے۔آپ کی پرورش نازونعمت کے ساتھ ہوئی اور پچپن معاشی خوشحالی میں گزرا۔ یہ الگ بات ہے کہ دوسرے قسم کے حالات پریشان کئے رہے۔ آپ نسبی اعتبار سے نجیب الطرفین سید تھے۔ سلسلہ نسب پندرہ واسطوں سے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے۔
جس دور میں خواجہ صاحب کی ولادت ہوئی وہ زمانہ عالم اسلام کے لئے مصیبتوں اور پریشانیوں سے بھرا ہو اتھا۔ منگولوں کی تاراجی عام تھی، مسلم ممالک میں کشت وخون کا بازار گرم تھا۔ خانہ جنگی اور تخت وتاج کے لئے بھی لڑائیاں جاری تھیں۔ اسی کے ساتھ مسلمانوں کے اندر بڑے پیمانے پر فرقہ بندیاں چل رہی تھیں نیز مذہب، مسلک و مشرب کے نام پر برادر کشی ہورہی تھی۔جہاں ایک طرف ملاحدہ اور باطنیوں نے اودھم مچا رکھی تھی وہیں تاتاریوں کے وحشی گروہ خون خرابے پر آمادہ تھے۔ اس ماحول میں آپ نے
ہوش وخرد کی آنکھیں کھولیں اور آپ کی تعلیم وتربیت کا دور شروع ہوا۔جب آپ کی عمر محض پندرہ سال تھی تب والد کا انتقال ہوگیا اور مزید پریشانیوں نے گھیر لیا۔ والدہ محترمہ بی بی نور نے آپ کی تعلیم وتربیت کی طرف خاص توجہ فرمائی مگر جلد ہی دست قضا نے انھیں بھی آپ سے چھین لیا اور آپ کشمکش حیات میں تنہا رہ گئے۔ والدین کے ورثے سے ایک باغ اور ایک پن چکی آپ کو ملی تھی لہٰذا آپ نے باغبانی کو معیشت کا ذریعہ بنایا اور باغ کی دیکھ بھال میں مصروف ہوگئے۔ اپنے ہاتھوں سے باغ کی حفاظت کرتے اور پانی وکھاد وغیرہ دینے کے ساتھ اس کی کاٹ چھانٹ کرتے تھے۔
خواجہ صاحب کی زندگی کا انقلابی واقعہ
والدین کے انتقال کے بعد نوعمر خواجہ کی زندگی دھیرے دھیرے پٹری پر آرہی تھی کہ اچانک ایک روحانی واقعے نے آپ کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ ایک روز آپ اپنے باغ میں مصروف تھے کہ ایک مجذوب فقیر کا ادھر گزر ہوا جس کا نام ابراہیم قندوزی تھا۔ یہ بزرگ دنیا کے تمام ہنگاموں سے بے نیاز رہتے تھے اور اکثر ادھر ادھر گھومتے رہتے تھے۔ خواجہ صاحب نے انھیں باغ میں دیکھا تو خوش ہوئے اور مدارات کے طور پر انگوروں کا ایک تازہ خوشہ ان کی خدمت میں پیش کردیا۔صاحب نظر نے صاحبِ دل کو پہچان لیا اور محسوس کرلیا کہ نوجوان کام کا آدمی ہے۔ اپنی گٹھری سے روٹی کا ایک خشک ٹکڑا نکال کر بڑھایا۔ خواجہ صاحب نے اسے کھایا تو عشق وعرفان کی کیفیات نے دل پر اثر جمانا شروع کردیا۔ ایک روحانی انقلاب کا احسا س ہونے لگا۔ بزرگ تو اپنا کام کرکے چلے گئے مگر جلد ہی آپ نے اپنا باغ اور پن چکی فروخت کرڈالی اور حاصل شدہ رقم غریبوں میں تقسیم کر کے تن تنہا نکل پڑے۔
تعلیمی سفر
یہ وہ زمانہ تھا جب سمرقندوبخارا کو اسلامی علوم وفنون کے معاملے میں مرکزیت حاصل تھی اور تفسیر، تجوید، فقہ وحدیث کے علماءیہاں بڑی تعداد میں موجود تھے۔ آپ نے بھی اسی طرف کا رخ کیا اور ظاہری علوم میں مہارت حاصل کرنے لگے۔ قرآن کریم حفظ کیا، اس کے بعد تفسیر، حدیث اور فقہ کی تعلیم پائی۔ کن کن علماءسے آپ نے تعلیم پائی اس بارے میں سوانح کی کتابیں خاموش ہیں البتہ مولانا حسام الدین بخاری نامی ایک بزرگ سے آپ نے حفظ قرآن کیا تھا۔ تحصیل علم کے بعد روحانی رہنمائی کے لئے مرشد کی تلاش میں نکل پڑے اور کئی شہروں اور ملکوں کا سفر کرتے رہے۔
مرشد سے بیعت
خواجہ معین الدین چشتی رحمة اللہ علیہ جب عراق کے قصبہ ہارون پہنچے تو دلی مراد برآئی اور آپ کی ملاقات خواجہ عثمان ہارونی سے ہوئی، جنھوں نے سلوک ومعرفت میں آپ کی رہنمائی فرمائی۔ آپ ایک مدت تک ان کے ساتھ رہے اور ان سے متاثر ہوئے، تب ان کی بیعت اختیار کی۔ خواجہ صاحب نے ان کے ساتھ کئی طویل سفر کئے اور ان سے روحانی تربیت پائی۔اس دوران عبادت وریاضت کئے اور اہل اللہ سے ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ اندازہ ہے کہ تقریباً ڈھائی سال تک آپ اپنے مرشد کی خدمت میں رہے۔ اسی بیچ حج بیت اللہ بھی ادا کیا ۔ خواجہ صاحب کے بارے میں آپ کے مرید وخلیفہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی نے لکھا ہے کہ آپ طویل عبادتیں کیا کرتے تھے اور مسلسل کئی کئی دن تک روزے رکھا کرتے تھے۔ افطار بہت کم مقدار میں کرتے تھے۔ جسم پر معمولی لباس ہوتا تھا اور اس پر بھی کئی کئی پیوند لگے ہوتے تھے۔
طویل سفر
سفر اس دنیا کو سمجھنے میں بہت معاون ہوتا ہے اور نئے نئے تجربے سے گزارتا ہے۔یہی سبب ہے کہ بیشتر صوفیہ کے تذکروں میں ملتا ہے کہ انھوں نے لمبے لمبے سفر کئے۔ خواجہ صاحب نے بھی اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ سیرو سیاحت میں گزارا۔ پہلے تو تعلیم کے لئے سفر کیا ، اس کے بعد مرشد کی تلاش میں نکلے، پھر مرشد کے ساتھ سفر کرتے رہے مگر خواجہ عثمان ہارونی کی خدمت سے رخصت ہونے کے بعد بھی آپ کا سفر جاری رہا اور کئی خطوں کی سیاحت کی۔ اس سفر میں کئی صوفیہ اور اللہ والوں سے آپ کی ملاقات ہوئی اور آپ کو سیکھنے اور سکھانے کا موقع ملا۔ جن بزرگوں سے آپ کی ملاقاتیں رہیں ان میں ایک شیخ نجم الدین کبریٰ رحمة اللہ علیہ تھے جو
معروف صوفیہ میں شامل ہیں۔
بغداد سے آپ تبریز تشریف لے گئے جو ایران کا شہر ہے۔ یہاں خواجہ ابوسعید تبریزی رہتے تھے جو باکمال بزرگوں میں تھے اور ان کے مریدین میں بڑے بڑے اولیاءشامل تھے۔ یہاںدونوں بزرگوں کی ملاقات ہوئی اور کچھ دن قیام کے بعد آپ اصفہان کی طرف چل پڑے۔ یہاں شیخ محمود اصفہانی سے آپ کی ملاقات ہوئی ۔ یہیں آپ کو خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ملے جو شیخ سے مرید ہونے کے ارادے سے آئے تھے۔ خواجہ قطب نے جب آپ کو دیکھا تو شیخ سے مرید ہونے کا ارادہ ترک کردیا اور آپ کے ساتھ ہولئے۔ خواجہ معین الدین چشتی نے بھی آپ کے ذوق وشوق کو پسند فرمایا اور اپنے مریدوں میں شامل کرلیا نیز خلافت واجازت بھی مرحمت فرمائی۔ اصفہان کے بعد خرقان آپ کی اگلی منزل قرار پائی۔ یہاں جب تک رہے وعظ ونصیحت کرتے رہے اور خلق خدا کو راہ راست پر لانے کے کام میں لگے رہے۔ یہاں سے استرآباد آئے جہان شیخ ناصر الدین نامی ایک ولی رہتے تھے۔ ان کا سلسلہ بیعت دو واسطوں سے بایزید بسطامی رحمة اللہ علیہ تک پہنچتا تھا۔ خواجہ صاحب شیخ کے کمالات کے گرویدہ ہوئے اور ان سے اکتساب فیض کیا۔ یہاں سے آگے بڑھنے کے بعد مختلف علاقوں سے پھرتے پھراتے آپ ہرات پہنچے ۔ یہاں ایک بزرگ خواجہ عبداللہ انصاری کا مزار تھا جس کے قریب آپ رات گزارتے تھے اور پوری رات عبادت وریاضت میں مصروف رہتے تھے۔یہاں سے بھی آگے سبزوار کے علاقے میں پہنچے۔ یہ دونوں شہر افغانستان میں واقع ہےں۔
ہندوستان میں داخلہ
خواجہ معین الدین چشتی کا ہندوستان سے گہرا تعلق ہے اور یہاں اہل اسلام کی شناخت آپ ہی کے حوالے سے ہوتی رہی ہے۔ خواجہ صاحب کا مزاج کسی ایک مقام پر ٹھہرنا پسند نہیں کرتا تھا یا حالات ہی کچھ ایسے تھے کہ آپ کسی ایک جگہ ٹک کر نہیں بیٹھے مگر آپ کی اصل منزل ہندوستان تھی، جہاں آنے کے بعد پھر آپ نے کہیں اور جانا قبول نہیں کیا۔ پورے مشرق وسطیٰ اور سنٹرل ایشیا کی سیر وسیاحت کرتے ہوئے، سندھ کے راستے ہندوستان میں داخل ہوئے۔ آپ کے ساتھ مریدوں کی ایک جماعت بھی تھی جن میں آپ کے خلیفہ خاص خواجہ قطب الدین بختیار کاکی بھی تھے۔ اللہ والوں کی یہ مقدس جماعت جب ہندوستان میں داخل ہوئی تو سب سے پہلے وہ علاقے اس کے قدموں کے نیچے آئے جہاں مسلمانوں کے شہر آباد تھے اور اذان ونماز کا قیام ہوچکا تھا۔ ایسا ہی ایک شہر لاہور بھی تھا۔ لاہور کو شیخ علی ہجویری (داتا گنج بخش) کے سبب جانا جاتا تھا جنھوں نے یہاں ایک مدت تک تبلیغ اسلام کیا تھا اور اب یہیں آسودہ خواب تھے۔خواجہ صاحب نے لاہور میں ان کے مزار کے قریب کچھ دن قیام فرمایا اور چلہ کشی کی۔ یہاں سے رخصت ہوتے ہوئے آپ کی زبان پر چند مصرعے آئے جو آج بھی لوح مزار پر ثبت ہیں:
گنج بخشِ فیض عالم، مظہر نورِ خدا
ناقصاں را پیر کامل، کاملاں رارہنما
خواجہ صاحب جب دلی پہنچے
دلی کو ہندوستان کا مرکز مانا جاتا رہا ہے مگر یہ مرکزیت مسلم بادشاہوں کے زمانے میں اسے حاصل ہوئی۔ قدیم زمانے میں ہندوستان چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بنٹا ہوا تھا جن پر سینکڑوں راجہ حکومت کرتے تھے۔ خواجہ صاحب لاہور ہوتے ہوئے دلی آئے۔ تب یہاں پرتھوی راج چوہان کی حکومت تھی جسے رائے پتھورا کے نام سے بھی تاریخ میں یاد کیا جاتا ہے۔ اس کے زیر حکومت علاقوں میں دلی اور اجمیر خاص تھے۔ گو افغانستا ن کے حکمراں شہاب الدین محمد غوری نے کئی با ر ہندوستان پر حملے کئے تھے مگر رائے پتھورا کی قیادت میں راجگان ہند کی فوجوں نے اسے پسپا ہونے پر مجبور کردیا تھا اور اندورن ہند اس کے داخل ہونے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکی تھیں۔ اس سے پہلے محمود غزنوی نے بھی حملہ کیا تھا مگر اس نے خود کو لوٹ پاٹ تک ہی محدود رکھا اور یہاں حکومت کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ خواجہ صاحب جن خطوں کی سیر کرتے ہوئے دلی پہنچے تھے، ان میں تقریباً تمام علاقے مسلمانوں سے بھرے ہوئے تھے مگر دہلی، ایک اللہ کا نام لینے والوں سے خالی تھی۔ یہ وہ مقام تھا جہاں ہدایت ورہنمائی کا کام کرنے کی ضرورت تھی ۔ یہاں ایک مدت
تک آپ کا قیام رہا اور تبلیغ دین کے کام میں مصروف رہے۔ دلی والوں کے لئے اسلام ایک اجنبی مذہب ضرور تھا مگر آپ کی خوش خلقی اور خدمت خلق نے جلد ہی لوگوں کو آپ کا گرویدہ بنا لیا اور انھیں اسلام کے ساتھ تصوف وروحانیت سے آشنائی ہونے لگی۔ لوگوں کا ہجوم آپ کے گرد جمع ہونے لگا مگر آپ نے یہاں مستقل قیام کا ارادہ نہیں کیا ۔ آگے بڑھتے ہوئے اپنے ایک مرید وخلیفہ اور تربیت یافتہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کو یہاں چھوڑتے گئے۔ قطب صاحب نے یہاں اپنی باقی زندگی دعوت دین کے کام میں لگادی اور یہیں انتقال بھی فرمایا۔
خواجہ صاحب اجمیر میں
اجمیر،راجستھان کا ایک دورافتادہ شہر تھامگر اس لحاظ سے خواجہ صاحب کا مسکن بننے کا مستحق تھا کہ یہاں دعوتی کام کرنے کے امکانات تھے۔ اجمیر میں راجہ پرتھوی راج چوہان کی راجدھانی تھی اور علاقے میں ہونے والے ایک ایک واقعے پر اس کی نظر رہتی تھی، چنانچہ ایک مسلمان درویش کی آمد بھی اس کی نظر سے نہیں چھپ پائی۔ خواجہ صاحب کے یہاں قیام کے بعد رفتہ رفتہ آپ کے عقیدت مندوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہونے لگا تھا اور مقامی لوگ آپ کے گرویدہ ہونے لگے۔ آپ کے پیغامات ان کے لئے نئے تھے۔ ہندوستانی سماج جن رسموں، رواجوں کا عادی تھااس کے برعکس انسانیت کی تعلیم آپ دے رہے تھے۔ ذات پات کے بندھن ٹوٹ رہے تھے اور مساوات کا پیغام عام ہورہا تھا۔ خاص طور پر سماج کے دبے کچلے طبقات میں آپ کی تعلیمات کی پیروی کو لے کر زیادہ جوش وجذبہ تھا۔ یہی سبب ہے کہ آپ کے پیروکار دن بہ دن بڑھ رہے تھے۔ فطری طور پر اس سے راجہ کو پریشانی ہوسکتی تھی۔ کسی درویش کی عوامی مقبولیت ایک حکمراں کو اندیشے میں مبتلا کرنے کے لئے کافی تھی۔ اس کا ایک سیاسی پہلو بھی تھا۔ راجہ کے ملک پر شہاب الدین محمد غوری متعدد بار حملے کرچکا تھا۔ ایسے میں کسی مسلمان درویش کے اثرات میں اضافہ سے سیاسی نقصان بھی ہو سکتا تھا۔ مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ کا مطلب یہ تھا کہ ان کی ہمدردی راجہ کے بجائے حملہ آور سے ہوسکتی تھی اور خواجہ صاحب کے زیر اثر جو لوگ آچکے تھے، ان میں راجہ کے بعض درباری بھی تھے۔ اجمیر میںآپ کچھ دن مقیم رہے اور خلقِ خدا آپ کے پاس جمع ہونے لگی تو راجہ کو تکلیف کا ہونا فطری تھا۔ ایک وہ وقت بھی آیا جب راجہ نے آپ کو اجمیر چھوڑدینے کا حکم دیا اور کہا کہ اس کا ملک چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں۔ حالانکہ اس سے پہلے آپ نے اسے اسلام کی دعوت بھی دی اور اس کی خوبیوں سے آگاہ کیا مگر اس نے یہ دعوت قبول کرنے سے انکار کردیا اور آپ کے خلاف اس قدر سخت ہوگیا کہ آپ کو اجمیر چھوڑ نے پر مجبور کرنے لگا۔ یہ ایک مشکل وقت تھا اورآپ کی زبان سے جلا ل میں نکلا کہ” میں نے تجھے گرفتار کرکے زندہ لشکر اسلام کو سپرد کیا۔ “ یہ آپ کی کرامت تھی ،ایک اللہ والے کی زبان کا اثر تھا یا مستقبل بیں نگاہیں راجہ کے مستقبل کو دیکھ رہی تھیں؟ کیونکہ جیسا آپ نے کہا تھا ٹھیک ویسا ہی ہوا اور جس راجہ نے بار بار غوریوں کو شکست دے کر بھاگنے پر مجبور کیا تھا وہ خود ذلت آمیزشکست سے ہمکنار ہوکر گرفتار ہوا
شہاب الدین محمد غوری کے حملے
ہندوستان پر شہاب الدین محمد غوری کے حملے جاری تھے۔ وہ متعدد بار حملے کرچکاتھا مگر کامیابی نہیں ملتی تھی۔پرتھوی راج چوہان اور ہندوستان کے راجاﺅں کی فوجیں اسے روکنے میں کامیاب ہوجاتی تھیں۔ آخر کار587ھ (1191) میں جب کہ اجمیر میں خواجہ صاحب موجود تھے ایک بار پھر شہاب الدین محمد غوری کا حملہ ہوا اور ترائن کے مقام پر ہندوستان کے راجاﺅں کی مشترکہ فوجوں نے اسے روکنے کی کوشش کی اور کامیاب بھی ہوئے مگر سال بھر بعد ہی دوبارہ غوریوں نے حملہ کردیا۔ اِس بار تراوڑی کے مقام پر جنگ ہوئی اور اِس بار بھی وہی فوجیں تھیں جو پچھلی بار تھیںمگر غوریوں نے بے جگری سے مقابلہ کیا اور ان کی جیت ہوئی۔ مورخ قاسم فرشتہ کے مطابق غوری ایک لاکھ کی تعداد میں تھے، جب کہ راجگان ہند کی فوجیں تین لاکھ سے زیادہ تھیں۔اس جنگ میں کئی راجہ قتل کئے گئے اور جو باقی بچے انھوں نے میدان چھوڑ کر نکل جانے میں عافیت جانی۔ پرتھوی راج چوہان نے بھاگ کر جان بچائی مگر محمد غوری کے لشکر نے اسے گنگا کے کنارے جاپکڑا اور گرفتار کرکے سلطان کے سامنے پیش کردیا۔ سلطان نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔
دلی میں مسلم سلطنت کا قیام

تاریخی کتابوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس دور میں ہندوستان کے اندرونی حصے میں مسلمانوں کی آمد ورفت شروع ہوچکی تھی اور ہندوستانی راجاﺅں کے لشکر میں مسلمان بھی ملازم تھے مگر بہت کم تعداد میں وہ یہاں نظر آتے تھے۔ ان کی کچھ بستیاں سندھ سے آگے گجرات تک میں بس گئی تھیں مگر اس سے آگے وہ نہیں بڑھے تھے۔ سلطان شہاب الدین محمد غوری کے حملے کے بعد دلی میں پہلی بار ایک مسلم حکومت قائم ہوئی۔ ہندوستان فتح کرنے کے بعد غوری خود واپس چلا گیا مگر یہاں اپنے نائب کے طور پر اپنے ایک غلام قطب الدین ایبک کو چھوڑتا گیا۔ وہ دلی میں سلطان غوری کا گورنر تھا۔حالانکہ محمد غوری کی موت کے بعد دلی مرکز سے آزاد ہوگئی۔ سلطان نے اجمیر کا گورنر پرتھوی راج چوہان کے بیٹے کو بنا دیا تھاجو اس کے ماتحت تھا۔ یہ سلطنت بعد میں صدیوں تک قائم رہی اور خاندان بدلتے رہے مگر دلی پر مسلمان ہی حکمراں رہے۔ دلی کو مرکز بناکر انھوں نے پورے ملک پر حکومت کی جس کا مکمل خاتمہ ۷۵۸۱ءمیں انگریزوں کے ہاتھوں ہوا۔
(اس مضمون کی تیاری میں درج ذیل کتابوں سے مدد لی گئی ہے۔ سیرالاولیاء، سفینة الاولیاء،انوار اصفیاء، تاریخ فیروز شاہی،تاریخ فرشتہ، آئین اکبری، انیس الارواح، سوانح غوث وخواجہ اور رودِ کوثر)



⋆ غوث سیوانی

غوث سیوانی
غوث سیوانی دہلی کے معروف سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

مدارس اسلامیہ کا ایک مختصر جائزہ

تعلیم کے فروغ میں اہم کردار نبھا رہے ہیں دینی مدارس اسلامی مدارس کا علم …