پروفیسر سہیل احمد مرحوم، سابق چیرمین اقلیتی کمیشن بہار

سہیل احمد خاں: غم گسار ملت اک چل بسا

محمد شبیرعالم خاں

(گیا، بہار)

 ۲۷؍جنوری ۲۰۱۸ء کو صبح زماں بھائی نے خبر سنائی کہ پروفیسر سہیل احمد خاں انتقال کرگئے۔ دل غم سے بھر گیا،برسوں کی یادیں ہجوم درہجوم ذہن وقلب کی گزرگاہوں پر آن موجود ہوئیں ، ان کا ہر دم مسکراتا چہرہ اور ان کی باتوں میں پھلجھڑی کے رنگ وآہنگ یاد آنے لگے۔ پھرارشد صاحب نے موہوم سی تسلی دی کہ ابھی سانس چل رہی ہے۔جب تک سانس تب تک آس، دل سے دعا مانگی بارِ الٰہا! کچھ مہلت عمل اور عطا فرما۔۲۸؍جنوری کی شام میں دوران سفر رضوان احمد اصلاحی صاحب نے فیصلۂ قضاوقدر کی خبر بھیجی کہ سانس تو مصنوعی مشینی عمل کا نتیجہ تھی۔ دوبارہ انا للہ پڑھااور دعائے مغفرت کی۔ ’’انجمن روئے گی اب، تڑپے گا اب بے کس کا دل!‘‘

  پروفیسر سہیل احمد خاں کی مغفرت کا شاید سب سے بڑا ذریعہ ان کی خدمت خلق کی سرگرمی اور خاص طورپر ملت کی غم گساری ٹھہرے۔

 ۱۹۶۴ء میں جب وہ اٹھارہ، بیس سال کے نوجوان رہے ہوں گے راورکیلا اور دیگر مقامات پر ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے متاثرین کی راحت رسانی کے لئے مہینوں متاثرہ علاقوں میں انیس الدین صاحب مرحوم، امیرحلقہ جماعت اسلامی ہند،بہار، کے ساتھ سرگرم کاررہے۔ پھر ۱۹۶۷ء میں رانچی کے فسادات کے موقع پر بھی دن رات راحت رسانی میں لگے رہے۔ اس کے بعد تو جیسے ان کے اندر سماج کے لئے ہمہ تن کام کرتے رہنے کی دھن نے بسیرا کر لیا۔ بہار کے کسی دوردراز علاقے کا باشندہ ہو یا پٹنہ کی جھگی جھونپڑی کا فرد اس کی داد رسی کے لئے دن ہو یا رات حاضررہتے۔ انتظامیہ کے افسران ہوں یا وزراء، ملت کے قائدین ہوں یا اس علاقے کے بااثرافراد سب سے رابطہ کرتے اور جب تک مظلوم ومجبور کا مسئلہ حل نہ ہوجاتااپنا سارا کام کنارے رکھ کر اسی کام میں سرگرداں رہتے۔ خدمت خلق ہی ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔

  وہ اردو کے پروفیسر تھے اور برمحل اشعار، کہاوت، قصے، ضرب الامثال، لطائف، برجستہ محاورے ان کی نوک زبان پر رہتے۔ ہر موقع محل پر شگفتہ گفتاری کا جوہردکھاکر اپنا کام نکالنے کا ہنر انہیں خوب آتا تھااور ان کے اپنے کام کا مطلب صرف اور صرف کسی بے زبان کی زبان بن کر دادرسی کرنا تھا۔الخیر سوسائٹی پٹنہ کے سالانہ جلسہ میں ایک بار برجستہ گفتگو کرتے ہوئے خدمت خلق کی اہمیت بیان کیااور کہا جانتے ہو رسول اکرم ؐپر پہلی وحی سے جو خوف وحیرت کی کیفیت طاری ہوئی تو حضرت خدیجہ ؓنے تسلی دیتے ہوئے کیا فرمایا؟ یہ نہیں کہا کہ آپ بہت عبادت کرتے ہیں بلکہ یہ کہا کہ آپ بے کسوں ، بیوائوں اور یتیموں کی خبر گیری کرتے ہیں اس لئے اللہ آپ کو ضائع نہیں ہونے دے گا۔ اس لئے یقین رکھیں کہ خدمت خلق کرنے والے کو اللہ ضائع نہیں ہونے دیتا۔سہیل صاحب سراپا عمل تھے اور زبان دانی کو بھی عملی سرگرمی کا محض ایک ہتھیار سمجھتے تھے۔ ایک بار اپنے مخصوص مزاحیہ انداز میں کہا: شیخ شرف الدین یحییٰ منیری ؒ کہتے ہیں کہ طوطا بہت خوش رنگ ہوتا ہے مگر مٹھو مٹھو کہہ کر صرف بات بناتاہے جب کہ باز(شاہین) بات نہیں بناتابلکہ آسمان کی بلندی سے اپنے نشانہ پر نگاہ رکھتاہے اور شکار کرتاہے۔ سہیل صاحب کا نصب العین خدمت خلق اوربے وسیلوں کی دستگیری تھا اور جیسے ہی ان کے پاس ایسا کوئی معاملہ آتاوہ جس حالت میں ہوتے اسی حالت میں نکل کھڑے ہوتے۔ کبھی کبھی طنز ومزاح کے انداز میں کہتے، جانتے ہیں حجور(حضور)، کچھ لوگ وضوہی کرتے رہ جاتے ہیں اور نماز چھوٹ جاتی ہے۔وضو کے قائل تھے لیکن اس میں اتنا وقت لگاناکہ نمازہی فوت ہوجائے اس کے خلاف تھے۔ منصوبہ بنے لیکن سارا وقت منصوبہ بندی میں ہی لگ جائے اور عمل آوری کی نوبت ہی نہ آئے اس رویے کے خلاف تھے۔

سہیل صاحب کا حلقۂ ربط وتعلق صدہزاررنگوں کا حامل تھا۔ ان کے روابط ٹھیٹھ دیہاتیوں ، عظیم آباد ی رئوسا، بریلوی، دیوبندی اہل حدیث، امارت شرعیہ، جماعت اسلامی ہند، خانقاہوں کے سجادگان ومشائخ،ہر سطح کے افسران، وزراء اور وزیراعلیٰ تک دراز تھے لیکن اس وسیع حلقۂ تعارف وتعلق کو شاذ ونادرہی اپنے ذاتی مسائل کے حل کا ذریعہ بنایا۔ سارے تعلقات صرف دوسروں کی مدد کے لئے بروئے کارلائے۔

سہیل صاحب اپنے سماج اور اردگرد پھیلے ہوئے لوگوں کے بھرپور مزاج شناس تھے اور حالات کے مطابق اپنے انچھر پھینکتے۔ کہتے، جانتے ہوشبیر، سیاسی لوگوں اور افسران سے کام لینے کے لئے منتر جانے بغیر ہاتھ ڈالو گے تو دھوکہ کھا جائو گے۔کچھ کو رام کرنے کے لئے منت سماجت کرنی پڑتی ہے اور کچھ کے سامنے آنکھ لال پیلی کرنی پڑتی ہے۔ ایک بار کسی دور دیہات کاایک مظلوم آیا تو وہاں کے مقامی افسر کو ڈانٹ پلاتے ہوئے کہا مظلوم کی آہ سے بادشاہ کا محل جل جاتاہے، تمہاری کیا اوقات ہے۔ پھر فوراً فون پر ضلع کلکٹر کو کہاحجور (حضور)آپ کے رہتے نچلا افسر اتنا سرکش کہ غریب کو دھتکار دے،آپ کا نام بھی بدنام کرے گا، لالوجی آ پ کی اتنی تعریف کرتے ہیں ۔ اچھا! ان میں سے کوئی بات غلط نہ تھی، ان کو معلوم تھا کہ ضلع کلکٹر بھلا آدمی ہے اور لالو جی کا منظور نظر بھی۔ سہیل صاحب کے دماغ میں ہر بڑے چھوٹے کا پورا پروفائل موجود تھااور وہ اپنے انفارمیشن ڈاٹا کو مناسب طریقے سے استعمال کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اقلیتی کمیشن کے چیئر مین کے طورپر اختیارات سے بڑھ کر انفرادی اور اجتماعی مسائل کو حل کیا۔ ان کے دورمیں اقلیتی کمیشن کا آفس نوشیرواں کا دربار تھاجہاں ہر کوئی اپنا دکھڑا لے کر حاضر ہوجاتا۔

 بہار کی اقلیتوں خاص طورپر مسلم اقلیت کی پسماندگی کو دورکرنے کے سلسلے میں انہوں نے اقلیتی کمیشن کے چیئر مین کی حیثیت سے ADRIکی خدمات حاصل کیں اور مسلمانان بہار کی تعلیمی، سماجی، معاشی صورتحال کی آفیشیل رپورٹ مرتب کرکے حکومت بہار کو غور وفکر کے لئے پیش کی جسے اسمبلی میں پیش کرنے سے حکومت کترا گئی لیکن ایک ایسی دستاویز بہرحال تیار ہوگئی جس میں مستند حقائق کو اعداد وشمار کے ساتھ پیش کیاگیا ہے۔ یہ مرحوم کی ذہانت اور پسماندہ اقلیتوں کے تئیں ان کی دیانت دارانہ کوششوں کی یادگارہے۔

  جب وہ اجمیرشریف درگاہ کے ذمہ دار بنائے گئے تووہاں بھی انہوں نے ایک نیا کام کیا۔ مزار پر چڑھنے والے گلاب کے پھولوں سے عرق گلاب کی تیاری کا پلانٹ لگوا کر آمدنی کا ذریعہ پید اکیا۔ ان کے زمانے میں آصف زرداری صدرپاکستان آئے تو سہیل صاحب کی برجستگی، خوش گفتاری اور حسن انتظام سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہیں پاکستان آنے کی دعوت دی اور بہت سے تحائف دئیے جسے انہوں نے اجمیر درگاہ کے ٹرسٹ کے حوالے کیا۔

  سہیل صاحب کی بھرپور زندگی کے اتنے پہلو ہیں کہ ان کا احاطہ مشکل ہے۔ ہمارے جیسے عام لوگ نہ جانے کتنے ہیں جن سے وہ اس قدر بے تکلف تھے کہ لگتا تھاہم سے ہی زیادہ قریب ہیں ۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ سب سے زیادہ جس شخصیت کا احترام کرتے تھے اور اس احترام میں بھی شوخی کا رنگ پیدا کرلیتے تھے، وہ تھے مولانا ابواللیث اصلاحی مرحوم، امیر جماعت اسلامی ہند۔ ایک بار مولانا کی چھڑی پٹنہ دورہ کے موقع پر ٹوٹ گئی تو سہیل صاحب دوڑے دوڑے بازار گئے اور ایک عمدہ سی چھڑی لاکر مولانا کو پیش کی اور بڑے احترام کے ساتھ مخصوص شوخی سے کہا مولانا آپ کو سہارا تو بہار ہی دیتاہے نا! مولانا نے برجستگی کے ساتھ شگفتہ انداز میں کہا، سہیل ! سہارا بھی تو بہار میں ہی ٹوٹتا ہے۔ مولانا جب انگلینڈ سے کسی کانفرنس میں شرکت کرکے لوٹے تو سہیل صاحب مولانا سے دفتر جماعت اسلامی واقع چتلی قبر میں ملے۔ دوران گفتگو سہیل صاحب نے شوخ انداز میں کہا مولانا آپ تو لندن امریکہ ہو آئے اور ہم زندگی بھرآپ کا جھولا ڈھوتے رہے، ہم لوگ کے لئے کچھ لائے ہیں ۔ مولانا نے مسکراتے ہوئے تحفے میں ملے قلم سیٹ کو دیتے ہوئے کہاارے نہیں بھئی ان لوگوں کا بہت دنوں سے اصرار تھا اس لئے چلا گیا، کام کا میدان تو یہیں ہے۔ سہیل صاحب نے اس تحفے کو بہت سجوگ کر رکھا اور گاہے بہ گاہے مولانا سے اپنی قربت وہم نشینی کو بڑے کیف آگیں لہجے میں بیان کرتے۔ اللہ دونوں کو جنت الفردوس میں ہم نشینی عطاکرے۔بہار میں سہیل صاحب سب سے زیادہ انیس الدین صاحب مرحوم اورڈاکٹر ضیاء الہدیٰ صاحب مرحوم کا احترام کرتے تھے لیکن اپنی جوانی کے ایام میں سماجی کارکن کی حیثیت سے، بقول خود جھولا ڈھونے کا کام انہوں نے انیس الدین صاحب کی معیت میں کیا۔

  ایک بار کہنے لگے جانتے ہو شبیر ہم نے شیروانی پہننا بہت دنوں تک چھوڑ دیا کیونکہ شیروانی کی وجہ سے ہم ایک بار بڑی مشکل میں پڑگئے۔ ہم تو ہر وقت انیس صاحب کے آگے پیچھے لگے رہتے تھے۔ ۱۹۶۸ء میں گیا شہر کے گاندھی میدان میں جماعت اسلامی کا اجتماع تھا۔ ہم لوگ آس پاس کے گائوں میں لوگوں کو دعوت دینے گئے۔ ہم اکتھوگائوں چاکند گئے۔ جمعہ کا دن تھا ہم شیروانی پہنے مسجد میں داخل ہوئے، سنت پڑھ رہے تھے کہ کسی نے کہا جمعہ کا وقت ہونے والا ہے، امام صاحب اب تک نہیں آئے ہیں ۔ کسی نے کہا وہ شیروانی پہنے جو کھڑے ہیں شہر کے عالم ہیں ، وہی پڑھا دیں گے۔اب شبیر! سمجھوہماری حالت، سنت نماز کو طویل کیا لیکن اصلی امام نہیں آیا۔ کیا کرتے سلام پھرا اور لوگوں کے اصرار پر منبر پر خطبہ کی کتاب لے کر کھڑے ہوگئے۔ خطبہ شروع کیا اور دھیان رہا اس پر کہ بیٹھنا کب ہے اور بیٹھ کر پڑھنا کیا ہے۔ خیر کسی طرح خطبہ ختم کرکے نماز پڑھائی اور اسی دوران اصلی امام بھی صف میں لگ گئے۔ نماز کے بعد امام نے ہماری کسی غلطی کو پکڑا لیکن دیہات والوں نے کہاارے یہ شہر کا عالم ہے، تم سے زیادہ جانتاہے۔ بس شبیر اس دن سے شیروانی چھوڑی تو کئی برس تک ہمت نہیں کی۔

  سہیل صاحب اعلیٰ علمی اور ادبی ذوق رکھتے تھے۔ جہاں کہیں علمی وادبی کتاب شائع ہوتی وہ خرید کر اپنی ذاتی لائبریری میں رکھتے اور اپنی گوناں گوں سماجی سرگرمیوں کے باوجود یہاں وہاں سے ہر کتاب کا مطالعہ کرلیتے۔ معیاری اور نادر کتابیں خود بھی خریدتے اور دوسروں کو بھی خریدواتے۔ نقوش کا سیرت نمبر ۱۳۔۱۲ جلدوں میں ہندوستان میں چھپا تو مجھے اور ارشد صاحب اور دیگر کئی لوگوں کو مرکز جماعت میں پبلشر کو بلواکر رعایتی قیمت پر دلوایا۔ تحریکی لٹریچر کے علاوہ صوفیانہ ملفوظات خاص طورپر شیخ یحییٰ منیریؒ اور شیخ احمد سرہندیؒ کی تصنیفات سے خاص شغف تھا اور بہت سارے اقتباسات از بر تھے۔

   سہیل صاحب نہیں رہے۔ کتنے ہی عزیز از جاں تھے جو گزرگئے، سہیل صاحب عزیزجہاں بھی تھے جن کا گزر نا کتنے بے نوائوں کو رلوائے گا، کتنی ہی انجمنوں ، تنظیموں کو سونا کرجائے گا اور ان کے رشتہ داروں اور وسیع حلقۂ احباب کو تڑپائے گا۔ بس اللہ سے یہی دعا ہے کہ وہ ان کی کوتاہیوں سے درگزر فرمائے، ان کی نیکیوں کو قبول فرمائے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔



⋆ محمد شبیرعالم خاں

مدیر

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

زندگی کے اس موڑ پر

کتابوں میں لکھا ہے ،سب سے سنا ہے کہ بیٹیاں پرائی ہوتیں ہیں اور انہیں ایک نہ ایک دن اپنے بابل کا گھر چھوڑ کر جانا ہی پڑتا ہے۔ اور یہ سچ بھی ہے۔ بیٹیاں اپنے ماں باپ کے گھر جتنا بھی رہیں یہ مسکراتی کھلکھلاتی پریاں اپنے بابل کے گھرسے نکل کر اپنے ساجن کا گھر بسا دیتی ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے