شخصیات

مولانا احتشام الدین اصلاحی: فکر ِ فراہی کے امین

 حکیم وسیم احمد اعظمی

مولانا احتشام الدین اصلاحی مرحوم کو میں نے نہیں دیکھا،لیکن اُن کے کچھ نامور شاگردوں کی صحبتیں اُٹھائی ہیں۔ اُن کے دو فرزندوں، ڈاکٹر نعمان احمد اعظمی اور ڈاکٹر نازش احتشام اعظمی سے رسم وراہ بھی دہائیوں پُرانی ہے۔ سماجی زندگی میں اوّل الذکر کی حیثیت بڑے بھائی کی ہے اور ثانی الذکر چھوٹے بھائی ہیں۔ میری بڑی بیٹی ڈاکٹر بشریٰ نے تو ڈاکٹرنعمان احمد اعظمی کے سایۂ عاطفت میں تعلیم بھی پائی ہے۔میرے بیٹے ڈاکٹر محمد کامران رشدی نے پہلی بار جب ڈاکٹر نازش احتشام اعظمی کو ’ماموں جان‘ کہا تو میں نے اصلاح کی کہ ’ماموں جان‘ نہیں ’چچا جان‘ کہئے۔بعد میں علم ہوا کہ وہ ’ماموں ‘کہنے میں حق بجانب ہیں اور زیادہ ’مامون‘ بھی۔ وجہ یہ کہ عزیزی ڈاکٹر نازش  کے بھانجے ڈاکٹر فہد جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ان کے ہم جماعت اور رفیق رہے ہیں۔ ان تمام قربتوں کے باوجود مولانا احتشام الدین اصلاحی ؒ سے میری بالمشافہہ ملاقات نہیں ہوئی۔لیکن اُن کے شب وروز کی مصروفیات اور صحت وسلامتی کے بارے میں آگہی ملتی رہی۔پھر اطلاع آئی کہ اب بیمار رہنے لگے ہیں اور مدرسۃالاصلاح  کی جملہ خدمات سے حسب ِ ضابطہ سبک دوش ہوگئے ہیں۔ مولانا مرحوم کو جو بیماری تھی، وہ دراصل پیرانہ سالی کا لازمی نتیجہ تھی۔پھر ۳/مئی ۲۰۱۶ء کو روز منگل صبح ساڑھے نو بجے ان کے انتقال کی خبر آئی کہ’ والد ِ محترم اس دنیا میں نہیں رہے‘۔میں اُن دِنوں لکھنؤ میں تھا، ڈاکٹر نعمان اعظمی سے بات ہوئی، تدفین میں شرکت کی بات کی، لیکن جب عزیزی ڈاکٹر نازش کو میرے آنے کی اطلاع ہوئی تو اُنہوں نے مجھے منع کر دیا کہ آپ نہ آئیں۔ آپ کی بھی طبیعت اِن دنوں ٹھیک نہیں ہے۔اس طرح مولانا اصلاحی مرحوم کی زیارت کا یہ آخری موقع بھی جاتا رہا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ مولانا علیہ الرحمہ کا تار ِ نفس صبح ۹ بجے ٹوٹا تھا،نماز ِ جنازہ ان کے عزیز شاگرد مولانا سر فراز احمد اصلاحی نے بعد نماز ِ عصر پزاروں سوگوروں کی موجودگی میں پڑھائی اور وہ مونڈیار میں آسودۂ خاک ہوئے۔ انا للہ انا الیہ راجعون۔

     مولانااحتشام الدین اصلاحی ابن شیخ جنید احمد کی ولادت اعظم گڑھ کے ایک موضع مونڈیار میں اپریل ۱۹۲۶ء میں ہوئی۔ان کا اصل وطن قصبہ پھول پور،ضلع اعظم گڑھ سے چند میل کے فاصلے پر واقع موضع پورہ نورم بیساں تھا۔ان کے والد شیخ جنید احمدؒ نے رشتہ اور ترکہ کی وجہ سے ۱۹۲۰ء کے آس پاس یہاں نقل ِ مکانی کرلی تھی۔مولانا احتشام الدین اصلاحی،ان کے جڑواں [ایک گھنٹہ بڑ ے ]بھائی سید محمد اور ان کے چھوٹے بھائیوں ماسٹر لئیق احمد [وفات:۲۰۱۶ء] اور خلیق احمد صاحب سابق سیل ٹیکس آفیسر کا مسقط الراس یہی موضع ہے۔ بہت کم لوگ واقف ہوں گے کہ شیخ جنید احمد ؒ شعری مذاق بھی رکھتے تھے اور کبھی کبھار مشق ِ سخن بھی فرمالیا کرتے تھے۔وہ مستقبل بیں تھے، علم کی اہمیت سے واقف تھے،اسی لیے انہوں نے اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت میں کوئی دقیقہ نہیں اُٹھارکھا تھا، چاروں فرزندوں کو اُس دور کے لحاظ سے بہتر تعلیم دلائی تھی۔ آج یہ موضع نے علم وادب کے اُفق پر بڑی تیزی سے اُبھرا ہے اوریہ میری پیش قیاسی ہے کہ بہت جلد اس کو نہ صرف خطۂ اعظم گڑھ، بلکہ ہنداور بیرون ِ ہندمیں بھی مینارۂ نور کی حیثیت حاصل ہوگی۔

   شیخ جنید احمد نے اپنے بچوں کو علم کی دولت سے سرفراز کرانے میں ہر ممکن کوششیں کیتھیں۔ مولانا احتشام الدین اصلاحی کو مڈل تک تعلیم دلانے کے بعد ۱۳؍ جولائی ۱۹۳۸ء کو ۱۶ سال کی عمر میں مدرسۃ الاصلاح کے درجہ فارسی میں داخل کرایا تھا،جو اس دور کے لحاظ سے ایک بڑا فیصلہ تھا۔مولانا اصلاحیؒ نے جولائی ۱۹۴۶ء میں مدرسہ سے فراغت حاصل کی۔ وہ دور مدرسۃ الاصلاح کا زریں دور تھا۔مولانا ؒ کا شمار مدرسۃ الاصلاح کے ہونہار فرزندوں میں ہوتا تھا،مولانا اختر احسن اصلاحی[وفات:۱۹۵۸ء] کی ان پرخاص نظر ِ عنایت تھی اور اُنہوں نے مولانا حمید الدین فراہی [وفات:۱۹۳۰ء] کی فکریات اور منہج ِ تعلیم کی توسیع و تشہیر کے لیے انہیں بطور خاص منتخب اورصیقل کیا تھا۔ بعد کے ادوار نے مولانا اختر احسن اصلاحی کے اس انتخاب پرصاد کی مہر ثبت کردی۔

    مدرسۃ الاصلاح سے فراغت کے بعدمولاناؒ نے ایک سال تک اپنے اساتذہ کی نگرانی میں مدرسہ میں پر رہ کر مزید اکتساب ِ فیض کرتے رہے اور پھر باضابطہ ۱۹۴۷ء میں مدرسہ میں فارسی زبان وادب کے استاذ مقرر ہو ئے اور غالباً ایک سال بعد ان کی خدمات شعبۂ عربی کے ابتدائی درجات کے لیے منتقل کردی گئیں اورنحو و صرف کی تدریس تفویض ہوئی۔ایک دور میں نحو و صرف میں مہارت اور اختصاص فرزندان ِ مدرسۃ الاصلاح کا مابہ الامتیاز ہوا کرتا تھا۔قرآن فہمی کے لیے عربی نحو وصرف میں مہارت لازمی تصور کی جاتی ہے۔ مولانا حمید الدین فراہی نے ’قرآن فہمی‘ کی جو مہم چلائی تھی اور کے لیے جو منہج ِ تعلیم مرتب کیا تھا، اس میں اِن ہر دو علوم میں دست گاہ ضروری تھی۔اسی مقصد سے انہوں نے ’اسباق النحو‘ اور ’اسباق الصرف‘ نام سے دو مختصرکتابیں اور ایک منظوم رسالہ ’تحفۃ الاعراب‘ تالیف کیا تھا۔ مولانا اختر احسن اصلاحی نے نحو وصرف میں اپنے اس چہیتے شاگرد مولوی احتشام الدین اصلاحی کو اس قدر صیقل کیا کہ بعد میں وہ ان علوم کے یگانۂ روزگار قرار پائے اوران کا طرز ِ تدریس سکۂ رائج الوقت ٹھہرا اور انہیں ’ سیبویہ ِہند‘ کہا جانے لگا۔ ان کی علمی مہارت اورطرز ِتدریس میں ندرت کی وجہ سے ایک دور میں ندوۃ العلماء، لکھنؤنے ایک معقول مشاہرے پر ان کی خدمات حاصل کرنا چاہیں، تومولانا اصلاحی ؒکی مزاجی قناعت پسندی اور فکر ِ فراہی سے ان کے روحانی تعلق نے مدرسۃ الاصلاح کے اس قلیل مشاہرے کوبیش قدر تصور کیا اور اس پیش کش کو درخور اعتنا نہ سمجھا اور اُسی اخلاص اور اصلاحی حمیّت کے ساتھ نحو و صرف کے حوالہ سے منیج ِ فراہی کی توسیع و تشہیر میں مصروف اوراپنے استاذ اور مربی مولانا اختر احسن اصلاحی کی روح کو شاد کام کرتے رہے۔

    مولانا احتشام الدین اصلاحی کو نحو اور صرف سے اس قدر شغف اور مولانا حمید الدین فراہی سے اس درجہ محبت تھی کہ ان کی ’النحو الجدید‘کے دونوں حصّوں اسباق النحو،حصّہ اوّل،جس میں اسم کا بیان ہے اور اسباق النحو،حصّۂ دوم،جس میں فعل کا بیان ہے، پر حاشیہ بھی لکھا اور الفیہ ابن مالک کے طرزپراردو زبان میں ۸ ۱۲؍ اشعارپر مشتمل منظوم رسالہ تحفت الاعراب پر بہت سلیس اور عام فہم انداز میں شرح لکھی۔ جو عزیزی ڈاکٹر نازش احتشام اعظمی کی مساعی سے دائرہ حمیدیہ سرائے میر، اعظم گڑھ سے طبع ہوئی۔

     ایک دور میں ذمہ داران ِ مدرسۃ الاصلاح کو احساس ہوا کہ مولانا احتشام الدین اصلاحی کی ذات ِ گرامی کو غنیمت جانتے ہوئے اور علمی صلاحیتوں سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اُن کی فنّی ہنر مندیوں کے رموزو نکات منضبط کرا ئے جائیں۔ اس کام میں مدد کے لیے مدرسۃ الاصلاح کے ایک ہونہار استاذ کو ان کی معاونت اور تسوید ِمتن کے لیے مقرر کیا گیا،لیکن یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی،اس کی وجہ جو میری سمجھ میں آئی،وہ یہ کہ مولانا اصلاحی علیہ الرحمہ کی ترجیحات اور توجہات میں اتنی بوقلمونی تھی کہ تصنیف وتالیف جیسا عمل اس کا متحمل ہوہی نہیں ہوسکتاتھا۔در اصل لکھنے لکھانے کا شغل جس ذہنی انہماک اور فکری ارتکاز کا مطالبہ کرتا ہے،بے حد صلاحیتوں کے باوجودمولانا اصلاحیؒ کے پاس اس کے لیے وقت نہیں تھا۔ان کی اوّلین ترجیحات میں درس وتدریس اور توجہات میں مدرسۃ الاصلاح کا نظم وضبط تھا۔سچ تو یہ ہے کہ اگر ان کی ترجیحات میں تصنیف وتالیف راہ پاگئی ہوتی تو آج صورت ِ حال بالکل مختلف ہوتی۔اللہ تعالیٰ نے انہیں اختراعی ذہن عطا کیا تھا،علم اور دانشوری کی دولت بخشی کی تھی، ان کے وجود میں تواضع کے ساتھ قیادت کے عناصر بھی بھرے تھے۔اگروہ اس راہ پر چلتے تو بلا شبہہ نئی جہتیں نکال سکتے تھے۔ لیکن ان کی اوّلین ترجیحات میں تصنیف وتالیف شامل نہ تھیں، تاہم انہوں نے علامہ فراہیؒ کے نحوی اور صرفی کاموں پر جوکچھ لکھا ہے، وہ ان کے قلم کے مرتبہ کومتعین اور ان کے فن کی توقیت کے لیے کافی ہے۔

     مولانا احتشام الدین اصلاحی کثیر المطالعہ تھے۔نحو اور صرف کے جملہ قدیم وجدید مصادرمآخذ پر اُن کی نظر تھی۔حد تو یہ کہ ان علوم کے بعض مطوّلات انہیں ازبر تھے۔ ان کے علاوہ دیگر علوم و فنون پر بھی اُن کی نظر تھی۔کتابوں کے درمیان وہ ایک کونہ پکڑ لیتے تھے اور پھر دنیا وما فیہا سے بے خبری کی حد تک بے نیاز ہوجاتے تھے۔ دیکھنے والے

 بتاتے ہیں کہ مدرسۃ الاصلاح میں اُنہیں جو کمرہ ملا تھا، اس پر بھی کتابوں کا قبضہ تھا اور کچھ یہی حال ان کے گھر منڈیارمیں مختص اُن کے کمرے کا بھی تھا اوراللہ تعالیٰ نے  ان کواولادیں بھی علم دوست عطا کی تھیں کہ کسی کتاب کے لیے بس ذرا اشارہ پایا کہ اس کے حصول کے جتن میں لگ جاتے اور اگر آس پاس نہ مل پا تیں تو دیار غیر سے نظم کرادیتے۔مجھے اس کا احساس تو تھا کہ مولانا اصلاحی علیہ الرحمہ اولاد اور کتابوں میں معاملے میں بڑے آسودہ حال ہیں، لیکن آخر الذکر کے بارے میں توثیق ِ مزید ۱۳فروری۲۰۱۸ء کودہلی میں عزیزی ڈاکٹر نازش کی رہائش گاہ پر ہوئی، جب برادر ِ عزیز ڈاکٹر اورنگ زیب اعظمی نے اپنے بڑے ابّا مولانااصلاحیؒکی کتابوں کی صورتِ حال سے واقفیت چاہی تھی اور عزیزی ڈاکٹر نازش نے اُنہیں مطمئن کردیا تھا۔ڈاکٹر اورنگ زیب اعظمی نے بتایا کہ اُنہوں نے مولانا ؒ کے گھر کی ایک ایک کتاب پڑھ ڈالی ہے اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں یہ بھی بتا سکتا ہوں کی کون سی کتاب کہاں رکھی ہے۔علمی دنیا واقف ہے کہ ڈاکٹر اورنگ زیب اعظمی، مولانا اصلاحیؒ کے شاگرد رشید اوربرادر زادہ ہیں۔

    مولانا احتشام الدین اصلاحی نے اپنا سب کچھ مدرسۃ الاصلاح کے لیے تج دیا تھا، لوگ بتاتے ہیں وہاں کی شجر کاری میں مولانا ؒ کی رہین ِ منت ہے، لوگوں نے انہیں اس بے آب و گیاہ میدا ن میں پھاؤڑہ چلاتے اور پسینے میں نہائے ہوئے دیکھا ہے اور پھر انہیں آنکھوں نے اُسے گلزار بنتے اور مولاناؒ کو اس میں چہل قدمی کرتے دیکھنے کی بھی گواہی دی ہے۔ مولانا اصلاحی ؒنے وہاں ۱۹۴۷ء میں فارسی کے استاذ کی حیثیت سے اپنی تدریسی زندگی کا آغاز کیا تھا اور ترقی کرکے صدر المدرسین کے عہدے تک کا سفر طے کیا تھا۔ کبھی ایسا بھی ہوا کہ صدارت کا منصب کسی اور استاذ کو تفویض کردیا گیا،ان حالات میں بھی وہ اُس وقت کے صدر مدرس کے دست راست بن کر مدرسۃ الاصلاح کو مقام ِ بلند تک لے جانے میں مصروف رہتے۔ در اصل مولانا اصلاحیؒکو سروکار صرف اس سے تھا کہ مدرسۃ الاصلاح عالم میں انتخاب بنا رہے۔

    مولانا احتشام الدین اصلاحی علم،عمل،دانائی اور وجاہت کا پیکر تھے، گویاان عناصر ِ اربعہ سے ان کی تجسیم ہوئی تھی۔اُن میں مسائل کے فہم اور اُن کے حل کی غیر معمولی صلاحیت تھی۔ اِصابت ِ رائے کے ساتھ ہی حسب ِ ضرورت صلابت ِ رائے بھی تھی۔شخصیت میں عفو ودرگزر کے ساتھ ہی کسی بھی طرح کے دباؤ کے سامنے سینہ سپر ہوجا نے کا بھی مزاج تھا۔طلبہ کی فلاح و بہبود کے لیے ہمہ دم پیش پیش رہتے،بعد کے دنوں میں تو وہ سب کے ’داداجان‘ ہوگئے تھے۔ اپنے شاگردوں کو بچوں کی طرح عزیز رکھتے اور ان کی ہر طرح کی بہتری کی تدبیریں کرتے، اُس وقت تو حد ہی ہوگئی، جب ایک استاذ نے مغضوب الغضب ہوکر کلاس میں اپنے ایک شاگردپر ہاتھ اُٹھا دیا تھا،اُس وقت مولانا کی بے چینی دیدنی تھی۔ مولانا اصلاحی علیہ الرحمہ یہ منظر دیکھ کر مضطرب ہوگئے اور اس استاذ سے کہا:

    ’’ اسے چھوڑ دیجئے! مارنا ہو تو مجھے مار لیجئے‘‘

     اس جملے میں مولانا علیہ الرحمہ کا کرب دیکھئے !وہ استاذ یقینا مولانا علیہ الرحمہ کے شاگردبھی رہے ہوں گے،یہ سن کر ان پر کیا بیتی ہوگی،کس قدر نادم ہوئے ہوں گے،اس کابھی تصور کیجئے۔

     مولانا احتشام الدین اصلاحی نے مدرسۃ الاصلاح کو شعور کی آنکھوں سے۱۹۳۸ء سے ۲۰۱۶ء تک دیکھا ہے۔و ہ مختلف حیثیتوں سے اس ادارہ سے وابستہ رہے ہیں، اُنہوں نے وہاں شجر کاری کی، مطبخ بھی سنبھالا، مدرس بھی رہے اور صدر مدرس بھی۔مدرسۃ الاصلاح کی تاریخ میں سب سے زیادہ طویل عرصہ تک صدر مدرس کے منصب پر فائز رہنے والے وہ پہلے شخص تھے۔ بالآخر انہوں نے ۲۰۰۹ء میں اپنی پیرانہ سالی، جسمانی نقاہت اور اضمحلال قویٰ کے باعث باقاعدہ تدریسی خدمات جاری رکھنے سے معذرت کرلی۔ مجلس ِ انتظامیہ نے ان کی خدماتِ جلیلہ کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی معذرت قبول کرلی اوراس طرح اس عظیم ادارہ سے مولانا اصلاحی علیہ الرحمہ کی فعال وابستگی کے ایک زرّیں دور کا خاتمہ ہوگیا۔

   مولانا احتشام الدین اصلاحی اس اعتبار سے بہت خوش قسمت تھے کہ اللہ نے اُنہیں انتہائی نیک اوربے حد سعادت مند بچے اور اولاد ِ معنوی کے نام پر صالح، نیک نام اور نیک کام شاگردوں کی ایک ایسی کہکشاں عطا کی تھی،جو آج آسمان ِ علم ودانش میں مدرسۃ الاصلاح، فکر فراہی اور اپنے استاذ کا نام روشن کیے ہوئے ہے۔اللہ تعالیٰ مولانا اصلاحی مرحوم کی قبر کو انوار سے بھردے۔آمین۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

ایک تبصرہ

  1. جزاک اللہ خیر.حکیم صاحب نےاستادمحترم پربہت ہی جامعیت کےساتھ روشنی ڈالی ہے.
    مجھےفخرہےکہ میں مولانامحترم کاادنی شاگردرہاہوں.عربی دوم میں تحفتہ الاعراب,اسباق النحوکےدونوں حصےاورعربی صرف ونحوپرعربی زبان میں ایک کتاب کادرس لیا.
    آج یہ مضمون پڑھ کربلااختیارحضرت استادالاساتذہ کی یادآگئی،ان کی نستعلیق شخصیت،ان کاپڑھانےکادل چسپ انداز،ایک جملہ سمجھانےکےکےلیےدنیاجہان کی مثالیں پیش کرنا،ایک لفظ کی تشریح کےلیےکئی لغات کاحوالہ دینا،زبان اتنی سلیس شگفتہ اوررواں استعمال کرتےتھےکہ طبیعت عش عش کراٹھتی تھی کہ وہ بولاکریں اورلوگ سناکریں.ہزارہااشعارعربی فارسی اردوکےیادتھےجن کابرمحل استعمال ان کی تدریس کوخوب سےخوب تربنادیتاتھا.مزاحیہ اندازمیں تادیب، جوچھڑی کی مارسےبھی زیادہ چبھتی تھی.سب کچھ یادآرہاہے.٫کتنی یادیں ہیں چلی آتی ہیں کمزور ونڈھال،
    ان شاءاللہ وقت ملاتواسادالاساتذہ مولانااحتشام صاحب نوراللہ مرقدہ پرتفصیل سےلکھونگا.تاکہ کچھ توحق شاگردی اداہوجائے.اللہ تعالی سےدعاہےکہ استادمرحوم کواپنےجواررحمت میں رکھے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close