مولانا اسلم قاسمی کا انتقال ملک و قوم کا عظیم نقصان

جاوید رحمانی

دارالعلوم وقف دیوبند کے صدر مدرس مولانا محمد اسلم قاسمی کے سانحۂ ارتحال پر انجمن اتحاد وارثیہ لال کنواں دہلی میں ایک تعزیتی نشست کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر انجمن اتحاد وارثیہ کے سیکریٹری انیس احمد وارثی نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ پورا ملک اس وقت غمگین ہے اور حضرت کے انتقال سے ملّت کا عظیم خسارہ ہوا ہے ۔

اللہ نے ان کو سیرت نگاری کا ملکہ عطا کیا تھا، مرحوم بڑے منکسرالمزاج اور ملنسار انسان تھے۔ ان کا انتقال علمی دنیا کے لیے بڑا خسارہ ہے۔ میں دعاء کرتا ہوں کہ اللہ رب العزت مرحوم کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور جملہ متعلقین کو صبر جمیل عطا کرے۔

انجمن اتحاد وارثیہ کے پریس سیکریرٹی جاوید رحمانی نے کہا کہ مولانا کے انتقال سے نہ صرف اہل دیوبند اور جماعت دیوبند کا نقصان ہوا ہے بلکہ یہ ادب، درس و تدریس، تحریر و تقریر اور پوری ملت اسلامیہ کا بھی عظیم خسارہ ہے۔آپ کی شخصیت ان خصوصیات کی بہ نسبت ممتاز رہی اور اس ملکہ خاصہ کے ذریعہ مولانا مرحوم نے عالم اسلام میں نمایاں خدمات انجام دیں ۔ ان کے انتقال سے ایک علمی خلا پیدا ہوگیا ہے جس کی تلافی ممکن نہیں ہے۔

اس تعزیتی نشست میں ثاقب صدیقی، مولانا جاوید قاسمی، ڈاکٹر تنویر عالم،محمد ساجد، مولانا افروز عالم قاسمی، جاوید اختر وارثی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔



⋆ جاوید رحمانی

جاوید رحمانی

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

ممتاز شاعر اور ناظمِ مشاعرہ انور جلال پوری کی وفات

 انور جلال پوری 6؍جولائی 1947 کو پیدا ہوئے تھے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انھوں نے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے ایم اے (انگریزی) اور اودھ یونی ورسٹی فیض آباد سے ایم اے (اردو) کی ڈگریاں حاصل کیں۔ انور جلال پوری کی ایک درجن سے زائد مطبوعات ہیں جن میں کھارے پانیوں کا سلسلہ، خوشبو کی رشتہ داری، جاگتی آنکھیں، جمالِ محمد  ﷺ، ضربِ لاالٰہ، بعد از خدا، حرفِ ابجد، روشنائی کے سفیر، اپنی دھرتی اپنے لوگ، راہرو سے رہنما تک، اردو شاعری میں گیتا اور رابندر ناتھ ٹیگور کی گیتانجلی کا اردو ترجمہ قابلِ ذکر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے