شخصیات

عشق کی چنگاری

بلاشبہ خالقِ کائنات نے انسان کو شاہکار کے طور پر پیدا کیا ‘انسان کے اندر نیکی و شر کو رکھ دیا ‘انسان جب اچھا ئی پر آتا ہے تو فرشتے محو حیرت ہو جا تے ہیں اور اگر انسان برائی پر اُتر آئے تو شیطان بھی پنا ہ مانگتا ہے۔ ‘خالقِ کائنات نے تخلیق انسان میں بے پنا ہ فیاض کا مظاہرہ کیا ہے۔ انسان کو بے شمار خوبیوں سے نوازا ہے۔ اتنی خوبیوں میں ایک بہت بڑی صفت یا خو بی عشق کی چنگا ری۔

مزید پڑھیں >>

شاہ نعیم اللہ

مولانا شاہ نعیم اللہ کی پیدائش1740ء مطابق 1153ھ میں ہوئی۔ ان کا مقام پیدائش شیخیاپورا نزد ملسری مسجد شہر بہرائچ ہے۔آپ کے والد کا نام غلام قطب الدین تھا۔علوم دینیہ حاصل کرنے کے لیے دہلی اور لکھنؤ کے اسفار کیے۔

مزید پڑھیں >>

امام شافعی رحمۃ ﷲ تعالی علیہ

ایک زمانہ میں امت مسلمہ کے اندر گیارہ یا اس سے بھی زیادہ مکاتب فکر کا رواج تھااور شرق و غرب میں اتنی ہی تعداد کے ائمہ کی پیروی کی جاتی تھی۔وقت کے ساتھ ساتھ کچھ مکاتب فکر معدوم ہوتے گئے اور تاریخ کا حصہ بن گئے،جیسے اندلس میں جب مسلمانوں نے قدم رکھا تو کم و بیش ایک یا ڈیڑھ صدی تک وہاں امام اوزاعی رحمۃ اﷲ علیہ کی فکر غالب رہی لیکن بعد میں فقہ مالکی نے اس کی جگہ لے لی۔یہی صورت حال پوری امت میں رہی کہ ایک جگہ پر کسی ایک فکر نے غلبہ پائے رکھا لیکن کچھ ہی عرصہ بعد اس فکر پر کوئی دیگر مدرسہ غالب آگیا۔اب صدیوں سے پوری امت کے اندر بالاجماع پانچ مکاتب فکر رائج ہیں جنہیں مذاہب خمسہ یا پانچ فقہی مسالک بھی کہتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

ڈاکٹر ذاکر نائک ایک امن پسند شخصیت

میڈیا لگاتار ڈاکٹر ذاکر نائک کو پریشان کرنے کی سازشیں کر رہا ہے- کیا آپ کو پتہ نہیں کہ عراق پر حملہ کرنے کے لئے پوری دنیا کی میڈیا اور اقوامِ متحدہ نے جھوٹ بولا تھا- جب کہ آج پوری دنیا کو پتہ چل گیا کہ عراق میں کوئی خطرناک چیز نہیں تھی- سچ تو یہ ہے کہ پوری دنیا کی میڈیا نے مسلم ممالک ، اسلامی اسکالر اور مسلمانوں کو دہشت گرد ثابت کرنے کی قسم کھا رکھی ہے- اس لئے میں آپ سے پورے یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ میڈیا کی سازشوں میں نہ پڑیں - بلکہ بحیثیتِ مسلمان ہم کسی چیز کو پوری تحقیق کے بعد ہی قبول کریں -

مزید پڑھیں >>

رجب طیب اردوغان :  ایک تعارف

2014 میں ترکی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ صدارتی انتخابات ہوئے ، اس سے پہلے پارلیمانی افراد کو یہ حق تھا کہ وہ ملک کے کے صدر کا انتخاب کریں ،اور اس پہلے ترکی کے صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور اگسٹ 2014 کو ترکی کی قوم نے اپنے ووٹوں سے پہلی مرتبہ رجب طیب اردوغان کو جمہوریہ ترکی کا صدر منتخب کرلیا۔ اور 16اپریل 2017کو ترکی کے تاریخی ریفرنڈم انتخابات میں اکیاون اعشاریہ اکتالیس فیصد 51.41%ووٹ حاصل کرتے ہوئے اپنی زندگی کی ایک اور بڑی کامیابی حاصل کی۔

مزید پڑھیں >>

سلطان الاولیاءحضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ

دورِ حاضر میں بالخصوص ہندوستان کےجاں بہ لب حالات اور فرقہ وارانہ ماحول میں حضرت خواجہ اجمیری رحمة اللہ علیہ کی زندگی کےاس ناقابلِ فراموش اخلاقی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئےکہ اخلاقی قدروں کووسعت دی جائے،کردار کا ہتھیار استعمال کیاجائے،ہندوستانی مسلمانوں خصوصاً علمائے کرام کی ذمہ داری ہے اور دور حاضر اس کا متقاضی ہے کہ عالمی امن کی بقا، عدل ومساوات کا فروغ، مذہب وعقیدہ کی آزادی، رواداری ویکجہتی، باہمی امداد و تعاون، انسانی جذبات و احساسات کا احترام، انسانی ضمیر کی تربیت اور آزادی فکر وخیال کے حوالہ سے اسلام کے اقدار حیات کو اجاگر کریں۔

مزید پڑھیں >>

شیرشاہ آبادی کا  مسیحا اور بے لوث خادم نہ رہا

مولانا اخترعالم سلفی رحمہ اللہ نے دینی اور سماجی خدمات کے لئے ہمہ جہت کوشش کی یہی وجہ ہے کہ لڑکوں کے لئے جامعہ اسلامیہ ریاض العلوم کا قیا م عمل میں لایا، لڑکیوں کے لئے مستقل ادارہ جامعۃ البنات الاسلامیہ قائم کیا، بچوں کے لئے فیصل اکیڈمی، ترجمہ وتالیف کے لئے مرکزسموالامیرصباح الصباح للترجمہ والتالیف والتحقیق اور یتیموں کے لئے دار الایتام قائم کیا۔

مزید پڑھیں >>

خواجۂ اجمیر کا پیغام: عہدِحاضر کے نام

قدرت الٰہی کے کرشمے بھی عجیب ہیں ۔ حکمت خداوندی کب کس چیز کا فیصلہ فرمادے، کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ یہ حکمت الٰہی کا کرشمہ نہیں تو اور کیا ہے کہ ساتویں صدی ہجری میں خراسان کا ایک شخص ہندستان پہنچا اور اپنے علوم و معارف سے پورے ملک کو ایسا مسخر کیا کہ صدیاں گزرنے کے باوجود بھی اس کا نام سکۂ رائج الوقت کی طرح چلتا ہے۔ یہ صرف سرزمین ہند پر اﷲ تعالیٰ کی نظرعنایت کا نتیجہ تھا کہ ایک طرف شہاب الدین محمد غوری (متوفی 602ھ) نے ہندستان میں حکومت اسلامی کا قیام کیا تو دوسری طرف شیخ الاسلام حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری (ولادت 537ھ، وفات 633ھ) نے دعوتی جدوجہد اور اصلاح و تربیت کے ذریعہ ہندستان میں روحانی سلطنت کی بنیاد رکھی۔

مزید پڑھیں >>

احمد جاوید: ہمیں سو گئے داستاں  کہتے کہتے 

اردو افسانے کی ایک بڑی آواز خاموش ہو گیی .احمد جاوید چلےگئے --.فکشن کی ایک مضبوط کڑی ٹوٹ گیی .انیس سو ستر کے عشرے میں جدیدیت کے خیمے سے جو معتبر آوازیں گونجیں ،ان میں ایک بہت اہم نام احمد جاوید کا تھا .آھستہ آھستہ اپنے دلچسپ اسلوب ،فکری روش ،ایک عجیب سا تیکھا پن ،سدھے ہوئے خوبصورت جملوں اور اسکے ساتھ انکے مخصوص بیانیہ نے میرے جیسے قاری کا دل جیت لیا .

مزید پڑھیں >>

ڈاکٹراورنگ زیب اعظمی اورشبلیات کی تعریب و توسیع (آخری قسط)

تاریخ اور نامورانِ اسلام سیریزکی شبلی نعمانی کی یہ پہلی باقاعدہ تصنیف ہے ،جو علی گڑھ میں ملازت کے ابتدائی دنوں میں لکھی گئی ۔اردومیں بھی اس کانام ’’المامون‘‘ہے اور ڈاکٹر اورنگ زیب اعظمی کاعربی ترجمہ بھی ’’المامون‘‘ہی کے نام سے طبع ہواہے۔یہ کتاب دوحصوں میں منقسم ہے ،پہلے حصے میں انہی احوال وواقعات کاذکرہے ،جوعموماً اس قسم کی کتا بوں میں بیان کیے جاتے ہیں ،مامون کی زندگی کے تمام ترسانحات کونہایت ہی حزم و احتیاط سے بیان کیاگیاہے اوراس سلسلے میں شبلی نے ابن جریرطبری،مسعودی،واقدی،ابن الاثیرجزری،ابن خلدون،ابوالفداء،ذہبی،ابن قتیبہ اور بلاذری وسیوطی وغیرہ عرب مؤرخین کی کتابوں کے ساتھ مغربی مصنفین میں گبن،کارلائل،بکل اورہیگل وغیرہ کی تصانیف کوبھی پوری باریک بینی سے پڑھا ہے،ہرتالیف میں ان کایہ طریقہ رہاہے،جس کی وجہ سے ان کی تحریروں میں مستندمعلومات اور جدیدطریقۂ استنتاج وطرزِنگارش کے بہترین نمونوں کے ساتھ مغربی مؤرخین کے سہووتعصبات پرمعقول گرفت بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔

مزید پڑھیں >>