شخصیات

 سر سید احمد خاں: شخصیت,عقائد اور نظریات!

سر سید احمد خاں کی علمی خدمات کا اعتراف کیے بنا ہندوستان کی علمی تاریخ ادھوری ہے اس لیے کہ سر سید احمد خاں نےجو کچھ ہندوستانی سماج کو دیا ہے اسے بھلانا آسان نہیں ہے انکی کاوش اور خدمات کا قائل ہر شخص ہے ہاں خامیاں بھی تھیں انکے اندر مگر اسکی وجہ سے انکی علمی کارناموں کا انکار نہیں کیا سکتا_

مزید پڑھیں >>

سر سید نے ایک نیا ‘علم کلام‘ ایجاد کیا

مذہبی معاملات میں سر سید کا رویہ اس حقیقت کی طرف واضح اشارہ ہے کہ روایت سے جذباتی وابستگی کے سبب تاریخ کے مطالبات سے صرف ِ نظر کرنا اور اندھی تقلید اور پیرویِ محض میں وقت کے تقاضوں کو دَر خورِ اِعتِنا نہ سمجھنا خود فریبی اور ہلاکت کے سوا اور کچھ نہیں ۔  ان کی تحریروں میں ’’خالص اسلام ‘‘اور ’’ ٹھیٹھ اسلام ‘‘ جیسے لفظوں کی پیہم تکرار در اصل اسی حقیقت پر اصرار ہے کہ مروّجہ اسلامی عقائد اور خالص اسلامی تصورات دو الگ الگ حقیقتیں ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

کلیم عاجز: ہمارے مطالعہ کی روشنی میں

 کلیم عاجز کی شاعری اور ان کی نثر میں تہذیب و تمدن بھی ہے، تاریخ و فلسفہ بھی ہے، درد و کرب بھی ہے، اقدار و روایات بھی ہیں، شعری اور نثری سرمایہ میں کہیں بھی سطحیت نہیں پائی جاتی، ان کی تحریروں کو پڑھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ بلا شبہ کلیم عاجزؔ آسمان شعر و ادب پر نہ صرف یہ کہ روشن ستارہ ہیں بلکہ ان کی حیثیت بدر کامل اور ماہ تمام کی ہے۔

مزید پڑھیں >>

کیا وہ اللہ کی زبردست نشانی نہیں تھے!

پھر کیا وہ اللہ کی زبردست نشانی نہیں تھے، کہ حکومت مصر تو انہیں امریکہ بھیجتی ہے، کہ وہاں کے تعلیمی نظام اور تعلیمی نظریات کا گہرا مطالعہ کریں پھر مصر واپس آکر انہیں مدارس اور مصری جامعات میں نافذ کریں۔ مگر وہاں پہنچ کر وہ امریکہ ہی سے متنفر ہوجاتے ہیں۔ وہاں کی معاشرت، وہاں کے ماحول، وہاں کے نظام اور وہاں کی بے کردار مشینی زندگی، غرض وہاں کی ایک ایک چیز سے سخت بیزار ہوجاتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

پنڈت برج ناراین چکبست

اردو دنیا  اپنے ماضی کے اعتبار سے کافی خوش قسمت ثابت ہوئی ہے، اس کی تاریخ میں ایسے ایسے لعل پیدا ہوئے ہیں کی اردو ادب ان پہ پھولے نہیں سماتا، ولی دکنی کے عہد  سے پرورش پانے والی زبان نے اب تک کئی دور دیکھے ہیں.  غالب ؔو میر، سودا  سب نے اردو کو سر ماتھے پہ بٹھا کر رکھا، نئے دور میں  احمد فراز،  فیض احمد فیض یا دوسرے شعراء  نے اردو زبان کو ایک نئی جہت دی۔

مزید پڑھیں >>

نوم چومسکی: حیات کے چند گوشے

چومسکی کا شمار ان ممتاز ادیبوں اور مورخین میں ہوتا ہے جن کا سب سے زیادہ حوالہ دیا جاتا ہے۔اپنے ہاتھ میں سونے کا قلم تھام کر افلاس کے عقدے حل کرنے والے اس دانش ور نے بڑے ٹھاٹ اور کروفر سے زندگی بسر کی ہے۔دنیا بھر کے مفلس و قلاش، محکوم،مظلوم و محروم طبقوں اور پس ماندہ اقوام کے غم میں درد انگیز نالوں سے لبریز تصانیف پیش کرنے والے اس مصنف نے مسلسل سات عشروں سے دکھی انسانیت کے ساتھ جو عہدِ وفا استوار کر رکھا ہے اسی کو حصول رزق بسیار کا موثر ترین وسیلہ بھی سمجھ رکھا ہے۔اس نے بلاشبہ اپنی تحریروں سے اپنے قارئین کو ایک ولولۂ تازہ عطا کیا لیکن اس کی نجی زندگی کے شب و روزاور شاہانہ انداز کو دیکھ کر لوگ ششدر رہ جاتے ہیں۔آخر سب اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ کواکب کی تابانی اور چکا چوند اپنی جگہ مگر ان کی اصلیت کچھ اورہوتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار: ٹیپو سلطانؒ

آج ہمارے برادران وطن کو ٹیپو کے تعلق سے جو غلط فہمیاں ہیں وہ انگریزوں کے ٹیپو اور اس کی جراء ت وہمت اور اس کی مذہبی رواداری اور ہندو مسلم اتحاد سے بعض وعناد اور اس کی وجہ سے اپنی حکومت سازی میں جو رکاوٹیں در پیش ہورہی تھیں ان کا سب کا نتیجہ تھا، جس کی رو میں بہہ کر اس عظیم مسلمان حکمراں اور سامراج کو ناکوں چنے چبوانے والے ملک کے سپوت کے تعلق زبان درازی کی کوشش یا تو یہ تاریخی حقائق سے عدم واقفیت یاتعصب ذہنی کی علامت ہے۔

مزید پڑھیں >>

سرسید احمد بحیثیت صحافی: ایک جائزہ 

سرسید کو قوم کی حالت زار کا احساس تھا،اور وہ ہر حال مین قوم کی اصلاح چاہتے تھے، انہیں مغربی علوم وفنون سے لیس کرنا، زمانے کی اقدار اور معیار کے قابل بنانا سرسید کا حسین خواب تھا،اسی خواب کی تکمیل لئے سرسید نے تہذیب الاخلاق کا اجراء کیا، اور قوم و ملت کی بگڑی بنانے کی کوشش کی، اور انہوں نے اس طرز اور نوعیت کے مضامین لکھے جو قوم کی اصلاح کے لئے مفید ثابت ہوں، سرسید نے اس رسالہ کے ذریعہ نا صرف قوم بلکہ صحافت کے بھی مصلح کا کردار انجام دیا اور ایک ایسا لب و لہجہ اور اسلوب اختیار کیا جس کی عام آدمی تک رسائی ممکن ہو، جس مین متن کی خوبصورتی میں آدمی گم ہوکر نا رہے۔

مزید پڑھیں >>

مہدی عاکف شہید!

اخوان ہمارے بھائی ہیں۔ اسلام کے جو شیدائی ہیں۔ اس دین کے دشمن قرنوں سے صہیونی اور عیسائی ہیں۔ اراکان سے نیل کے ساحل تک۔ سب مسلم بھائی بھائی ہیں۔ اے خون شہیداں تیری قسم۔ ہر ظلم کا بدلہ لیں گے ہم۔ باطل کو مٹاکر دم لیں گے پیچھے نہ ہٹے گا کوئی قدم۔ اخوان کی صف آرائی ہے۔ طاغوت پہ ہیبت چھائی ہے۔ ۔اس لیے کہ۔ ۔اب  چشم مسلماں پہ ہے واضح یہ حقیقت۔ دیں ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملت۔ ہے ایسی تجارت میں مسلماں کا خسارہ۔ ۔ فھل من مدکر ؟    

مزید پڑھیں >>