شخصیات

حضرت مولانا محمد اسلم صاحب قاسمی ؒ کی رحلت

    حضرت مولانا ؒ کی علالت اور بیماری کی خبریں وقتا فوقتاسننے اور پڑھنے کو ملتی تھی اور حسب ِ توفیق دعائے صحت کا اہتمام بھی کیا جاتا رہا لیکن انتقال پُرملال کی خبر صاعقہ اثرنے ایک عظیم شخصیت سے محرومی کے احساس سے مغموم کردیا ہے بلکہ علم سے رشتہ رکھنے والا ہر انسان اس عظیم المرتبت شخصیت کے سانحہ ٔ ارتحال سے رنجیدہ ہے، مدتوں بعد ایسے لوگ پیدا ہوتے ہیں اوریادگار نقوش صفحہ ٔ ہستی پر ثبت کر جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

’ابوالکلامیات‘ کے سرمایے پر ایک اچٹتی نگاہ

مولانا ابوالکلام آزاد سے متعلق تحقیق ، تصنیف ، تالیف اور تنقید کا سلسلہ جاری ہے اور ہر آئے دن کے ساتھ ان کی زندگی اور شخصیت کے تعلق سے کچھ نئے حقائق لوگوں کے سامنے آرہے ہیں۔  ظاہرہے کہ جو شخصیتیں جتنی بڑی ہوتی ہیں ، ان کی ذات و کردار کے گوشے اسی قدر وسیع و عمیق ہوتے ، ان کی زندگی وافکار پر جتنا غور وفکر کیا جائے اورجتنی کھوج بین کی جائے، اسی قدر ہمارے علم و نظر میں اضافے کا سامان ہوتا جاتاہے۔

مزید پڑھیں >>

اردو کے بے غرض مجاہد سکندر احمد !

سکندر احمد نے اردو کو زندہ و پائیندہ زبان کی صف میں لانے، اردو والوں کی گردن سے مغرب کی تھیوری اور تنقید کا قلادہ اتارنے، مابعد جدید یت کی سامراجی سازش کی بخیہ ادھیڑنے اور اردو صوتیات اور تنقید شعر کی مشرقی جڑوں کو تلاش کرنے کے جو کارنامے اپنی مختصر ادبی زندگی میں انجام دیے ہیں وہ اردو زبان و ادب کے موجودہ’ عُسر‘ میں قدرت کے عطا کردہ ’یُسر‘  کا ثبوت ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

 مولانا آزاد کی چائے نوشی

 دوودھ والی چائے سے مولانا کو جو چڑ تھی اس کی شکایت یہیں ختم نہیں ہو جاتی بلکہ وہ اس کے اسباب کا پتہ ڈھونڈ نکلالتے ہیں اور اس تمام ب’بد عمالیوں ‘ کے لیے انگریز کو مورد الزام ٹہراتے ہوئے ان کی چائے نوشی کے مذاق کا کچھ اس اندازمیں مذاق اڑاتے ہیں: ’’انہوں نے چین سے چائے پینا تو سیکھ لیا مگر اور کچھ نہ سیکھ سکے۔ اوّل تو ہندوستان اور سیلون ( سری لنکا) کی سیاہ پتی ان کے ذوق چائے نوشی کا منتہائے کمال ہوا، پھر قیامت یہ کہ اس میں بھی ٹھنڈا دودھ ڈال کر یک قلم گندہ کردیں گے۔

مزید پڑھیں >>

مولانا ابو الکلام آزادؒ  کی صحافت

مولانا ابوالکلام آزاد کی صحافت کے دور ارتقاء کاآغاز الندوہ کی سب ایڈیٹری سے ہوا۔ ’وکیل‘ امرتسر دورثانی پرختم ہوا مولانا کی صحافت دور عروج حقیقت میں الہلال کے اجراء سے شروع ہوا۔ الہلال کا پہلا شمارہ 13؍جولائی 1912 کو نکلا جب مولانا ابوالکلام آزاد کی عمر 24سال سے بھی کم تھی۔یہ محض ایک ہفتہ وار اخبار نہ تھا بلکہ ایک دعوت اور ایک تحریک تھی اسلام کو جس طرح انہوں نے سمجھا اسی رنگ میں اسے پیش کرنا شروع کیا۔

مزید پڑھیں >>

مولانا ابولکلام آزاد کی صحافتی بصیرت   

  مولانا آزاد نے صرف چوبیس، پچیس سال کی عمر میں صحافت کا جو اعلٰی معیار قائم کیا تھا، اور جس طرح کے  لب و لہجہ اور اسلوب سے روشناس کرایا تھا، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ معیار، لب و لہجہ اور اسلوب اپنے ساتھ لیتے گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا آزاد اگر سیاست کی دنیا میں داخل نہیں ہوتے، تو بھی وہ صحافت کے مرد آہن کے طور پر ہمیشہ یاد کئے جاتے۔ اردو کی صحافت مولانا آزاد کی صلاحیتوں کی ہمیشہ مقروض رہے گی۔

مزید پڑھیں >>

حیات ِ ٹیپو سلطان شہیدؒ کے تابندہ نقوش

    ٹیپو بچپن سے بڑے ذہین اور تیز دماغ والے تھے ،آپ کے والد حیدر علی نے اپنی خصوصی نگرانی میں ماہر اساتذہ کے ذریعہ آپ کو تعلیم دلوائی اور تربیت کا خاص انتظام فرما۔تقریبا 5سال کی عمرسے19تک ٹیپو نے مختلف علوم وفنون سیکھے۔زمانہ کے لحاظ سے شہسواری ،تیر اندازی ،سپہ گری کی تربیت بھی دی گئی۔

مزید پڑھیں >>

اقبال، اقبالیات اور دو اہم اقبال شناس

اقبالیات کے ماہرین کی صف میں ایک اورنام غیرمعمولی اہمیت رکھتاہے، اگرچہ ہماری نسل مختلف وجوہ کی بناپر اسے اس حوالے سے تقریباً نہیں جانتی...... یہ نام آغاشورش کاشمیری کاہے،جنھوں نے اقبالیات کی تشریح کے ساتھ تیس چالیس سال کے دوران اقبالیات پر تصنیف کی جانے والی اہم کتابوں کا بے لاگ و حقیقت افروز جائزہ پیش کیا۔

مزید پڑھیں >>

خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

علامہ محمد اقبال، دورغلامی کے لق و دق ریگستان میں لالہ صحرائی کی مانند ایک کھلتاہوا پھول ہے۔ علامہ نے اس وقت امت کی قیادت کا سامان فراہم کیاجب چاروں طرف اندھیراگھپ تھاازشرق تا غرب امید کی کوئی کرن باقی نہ تھی۔ کل امت غلامی کے مہیب غارمیں شب تاریک کے لمحات گزاررہی تھی اورعلامہ محمداقبال اس بدترین دورمیں قندیل راہبانی ثابت ہوئے اور اپنے شعری و خطاباتی کلام سے امت مسلمہ کے تن مردہ میں ایک نئی روح پھونک دی۔

مزید پڑھیں >>

علامہ اقبال کی سیرت وشخصیت ان کے خطوط کے آئینہ میں

علامہ اقبال نے جو کچھ کہا اور لکھا وہ پورے یقین کے ساتھ ایک مرد مومن کی حیثیت سے مگر جو لوگ مسلمانوں میں بے عملی اور گمراہی پیدا کرناچاہتے تھے وہ ہر زمانے کی طرح ان کے زمانے میں بھی ان کی راہ کا روڑابنے ہوئے تھے اقبال نے ہرطرح سے ان کا مقابلہ کیا۔ ایک خط میں عرض کیا کہ’’ آپ میری نسبت بدگمانی کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی، اور اگر کسی وجہ سے بدگمانی ہوبھی گئی ہو توآپ مجھ سے براہ راست دریافت کرسکتے تھے۔لوگ تو اس قسم کی باتیں اڑایا ہی کرتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>