شخصیات

مصر میں احیائے اسلام کے بانی: امام حسن البنا شہیدؒ

امام حسن البنا شہیدؒ کو حکومت براہ راست تو کچھ نہ کہ سکی لیکن انکی مسلسل نگرانی کی جانے لگی اور بالآخر12فروری 1949ء کو خفیہ پولیس اہلکاروں نے اس وقت امام کو گولی کا نشانہ بنایاجب وہ اخوان المسلمون کے شعبہ نوجوانان’’شبان المسلمون‘‘کے دفتر سے باہر نکل رہے تھے۔ امام حسن البنا شہیدؒ اپنے رب سے جاملے اور ہمیشہ زندہ رہنے کے منصب پر سرفراز ہو گئے۔ سلام ہو اس تنظیم پر اور اسکی قیادت پر کہ جس نے اپنے خون سے امت مسلمہ کے شجر سایہ دار کی آبیاری کی۔ اﷲ تعالی امام حسن البنا شہیدؒ سمیت امت کے کل شہدا کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے، آمین۔

مزید پڑھیں >>

علامہ اقبال سے متعلق منفی انکشافات: ’اپنا گریباں چاک‘ کے حوالے سے

ڈاکٹر جاوید اقبال کا ہائی کورٹ لاہور کے چیف جسٹس کے عہدے سے باسٹھ برس کی عمر میں 1986ء میں ریٹائر منٹ ہوتے ہی اسی روز سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے تقرر عمل میں آیا۔ انھوں نے ملک اور بیرون ملک کئی سمیناروں میں حصہ لیا۔ اتنے ممالک کا سرکاری سطح پر دورہ کیا کہ اقبال سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔

مزید پڑھیں >>

شیخ سید احمد کبیر رفاعی: سوانح اور تعلیمات

چھٹی صدی ہجری میں جن نفوس قدسیہ نے اپنے وجود مسعود سے ایک جہان کو فیضیاب کیا، اُن میں ایک اہم نام شیخ کبیر سیداحمد کبیررفاعی قدس سرہٗ کا ہے۔ شیخ کبیر کی پوری زندگی خدمت خلق اورمخلوق کو بہرصورت فائدہ پہنچانے سے عبارت ہے۔ اُن کا اصل نام احمد، کنیت ابوالعباس، اورلقب محی الدین ہے۔ جدامجدسید حسن اصغر ہاشمی مکی معروف بہ رفاعہ قدس سرہٗ کی مناسبت سے رفاعی کہلاتے ہیں ، اورچوں کہ امام موسیٰ کاظم اور شہیداعظم سیدناامام حسین رضی اللہ عنہماکی اولاد سے ہیں ، اس لیے موسوی اور حسینی بھی کہلاتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

علامہ عبدالرشید داؤدی

بہت ہی محنت اور لگن کے ساتھ داوئودی صاحب دینی کام میں مصروف ہیں ابھی انہوں نے  اپنے ادارے کے ساتھ مسجد بنا ئی ہے جس کی لمبائی 100فٹ اور چوڑائی 80فٹ ہے اور ابھی تیسری منزل کا کام زیر تعمیر ہے موئے مقدس کے لئے تیسری منزل پر نور خانہ تیار کیا جا رہا ہے امیر اعلیٰ تحریک صوت لاولیاء کو اللہ تعالیٰ مزید دینی کام کرنے کی توفیق عطافرمائے آمین۔ اور مجھ جیسے ناچیز کو ایک عالم دین کی حیات پر لکھنے کا موقعہ ملا۔ اللہ تعالیٰ مجھے ایسے باعمل پرہیزگار اور عاشق رسولﷺ کی صحبت میں ہر گھڑ ی رکھے آمین۔

مزید پڑھیں >>

مرزا اسداللہ خان غالب (قسط اول)

مرزا غالب اردو زبان کے سب سے بڑے شاعر سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے۔ ان کاا صل کمال یہ ہے کہ وہ ز ندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جاکر سمجھتے تھے اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کردیتے تھے۔ غالب جس پر آشوب دور میں پیدا ہوئے اس میں انہوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھاتے ہوئے دیکھا۔غالباً ً یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی۔              

مزید پڑھیں >>

مجاہد آزادی کرنل نظام الدین: سبھاش چندر بوس کے نجی محافظ

کرنل نظام الدین کے مطابق نیتا جی نے اپنا انٹیلی جنس گروپ بنا یا تھااور ان کا خفیہ محکمہ بھی تھا، جس کے وہ سربراہ افسر تھے۔ خفیہ محکمہ کا نام ’’ بہادر گروپ‘‘ تھا۔ اس میں بہت کم اہلکار اور فوجی تھے۔ خفیہ محکمہ سب سے زیادہ فعال برطانوی معلومات کو جمع کرنے میں رہتا تھا۔ اس کا نیٹ ورک چند ماہ میں ہی ملک کے کئی علاقوں تک پھیل گیا۔ نیتا جی کئی بار آبدوز سے سراغ رساں کو سنگاپور اور بینکاک بھی بھیجتے تھے۔

مزید پڑھیں >>

مبلغِ اسلام ڈاکٹر فضل الرحمٰن انصاری القادری

آپ کو علم القرآن، علم الحدیث، علم الفقہ، علم الکلام، علم قراء ت وتجویداورعلمِ تصوف سمیت متعدد جدید علوم یعنی علم معاشیات (Economics)، علم عمرانیات، علم تاریخ، علمِ قانون، علم طب، علم ریاضی، علم نفسیات، طبیعیات، میتھالوجی اور تاریخ وغیرہ میں بھی کامل مہارت حاصل تھی۔ تقابل ادیان اور فلسفہ آپ کے سب سے پسندیدہ موضوعات تھے۔، الغرض علم حاصل کرنے کی پیاس تمام زندگی آپ کے ساتھ رہی۔ علیگڑھ میں قیام کے دوران آپ نے طب کے متعلق بھی پڑھا، خاص طور پر آپ ہومیو پیتھک میں بہت دلچسپی لیتے تھے۔

مزید پڑھیں >>

ایک مسافر کاروانِ زندگی کا

وہ ایک معلم تھا، مفکر تھا، مؤرخ تھا، مصنف تھا، داعی تھا۔ وہ کاروان سلف کا ایک پس ماندہ راہی تھا جو وقت اور مسافت کے لحاظ سے اس کارواں سے پیچھے تھا۔ وہ جب اپنے علم و عمل کی ضیا پاشی کرتا تو کیا عالم و داعی، کیا مفکر و مؤرخ، کیا ادیب و نقاد، کیا صوفی و بزرگ سب اس کے علم و عمل سے خوشہ چینی کے لیے ہمہ تن منتظر رہتے۔

مزید پڑھیں >>

سہیل احمد خاں: غم گسار ملت اک چل بسا

سہیل صاحب کا حلقۂ ربط وتعلق صدہزاررنگوں کا حامل تھا۔ ان کے روابط ٹھیٹھ دیہاتیوں ، عظیم آباد ی رئوسا، بریلوی، دیوبندی اہل حدیث، امارت شرعیہ، جماعت اسلامی ہند، خانقاہوں کے سجادگان ومشائخ،ہر سطح کے افسران، وزراء اور وزیراعلیٰ تک دراز تھے لیکن اس وسیع حلقۂ تعارف وتعلق کو شاذ ونادرہی اپنے ذاتی مسائل کے حل کا ذریعہ بنایا۔ سارے تعلقات صرف دوسروں کی مدد کے لئے بروئے کارلائے۔

مزید پڑھیں >>

سید فخر الدین بَلّے: حرف سے لفظ تک

 سید فخرا لدین بلّے کاحرف سے لفظ تک کا سفر عدم سے وجود کے منطقی جواز کا ایک ایسا اعلامیہ ہے، جس کے بغیر کسی تخلیق کار کے فنی مبادیات کی تکمیل کی مسافت قطی ممکن نہیں، اس کے لۓ ایک تخلیق کار کو بہت سے مراحل و مدارج سے گزرنا پڑتاہے۔ تب جاکر اس کے تخلیقی فن پاروں کو دوامیت کا درجہ استناد حاصل ہوتا ہے۔علامہ اقبال کا یہ شعر اسی نکتے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

مزید پڑھیں >>