شخصیات

سیدنا شیخ محی الدین عبد القادر جیلانی اور تحریک احیائے دین

سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی کے اقوال اور ارشادات سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ نے اسلام کی اعتدال کی راہ کو اپنایا اور بندگانِ خدا کو اس کی تعلیم دی۔ دولت، انسان کے اعمال کی بہتری، خدمت خلق، ایثار قربانی اور رضائے الٰہی کے حصول میں معاون بھی رہتی ہے پھر حکماء کے بقول یہی دولت انسان کی کمزوری اوربے راہ روی، ظلم و زیادتی کا ذریعہ بھی ثابت ہوتی ہے۔ یہ ایک انتہائی حساس اور نازک پہلو ہے جس کی وجہ سے اسلام نے اعتدال پر زور دیا ہے تاکہ کوئی بشر کسی بشر کا حق چھین نہ سکے۔

مزید پڑھیں >>

بڑی مدت سے جاگے ہوئے کو نیند آئی

حضرت شیخ کے سانحہ ارتحال سےتدریس حدیث،تبلیغ دین،اشاعت اسلام اوروعظ و تذکیر کے میدانوں میں جو زبردست خلا پیدا ہوا؛ کم از کم ماضی قریب میں اس کی مثال ملنی مشکل ہے اور مستقبل قریب تک بہ ظاھر اس کی بھر پائی کے بھی کوئی آثار نظر نہیں آتے ۔

مزید پڑھیں >>

محدث کبیر حضرت مولانا شیخ عبد الحق صاحب

شیخ عبد الحق صاحب جو تقریباً نصف صدی سے دارالعلوم دیوبند میں علم حدیث کی خدمات انجام دے رہے تھے، زبردست علمی صلاحیتوں کے مالک ہونے کے ساتھ علم حدیث میں بے پناہ مہارت رکھتے تھے اور ادارہ کے انتہائی مقبول ترین اساتذہ میں ان کاشمار ہوتاتھا۔ شیخ عبدالحق اعظمی کو گزشتہ روز سانس اور پیٹ میں انفیکشن کی شکایت ہوئی تھی۔ جس کے سبب انہیں دیوبند کے ریلوے روڈ پر واقع ڈاکٹر ڈی کے جین کے اسپتال میں داخل کرایا گیا،جہاں آج عشا ء کی اذان اور نماز کے درمیانی وقفہ میں مرحوم نے آخری سانس لی

مزید پڑھیں >>

خدمتِ دینِ احمد ﷺکرکے ہم چلے

آپ یقیناًاسلاف واکابر کے علوم اور نسبتوں کے امین اور فکر وتڑپ کے پاسدار تھے ۔اللہ تعالی نے آپ کو جہاں تبحر علمی سے نوازاتھا وہیں سوزِجگر اور خلوص وللہیت کی دولت بیش بہابھی عطا کیاتھا ،مزاج میں غیر معمولی سادگی اور بے تکفی تھی ۔دارالعلوم دیوبند جیسے عظیم ادارہ میں عرصۂ دراز سے بخاری شریف پڑھانا اور دل وجان سے اس کے تدریسی فرائض کو انجام دینا یقیناًآپ کے لئے ایک امتیاز رہا

مزید پڑھیں >>

ملیشیا کے سابق وزیر اعظم مآثر محمد سے ایک انٹرویو

ملیشیا کے سابق وزیر اعظم ’’مہاتیر محمد‘‘ نے کویت کے مشہور میگزین’’ المجتمع‘‘ کے چیف ایڈیٹر محمد سالم الراشد کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور ٹکراؤ سے گریز کی پالیسی کو ملیشیا کی ترقی اور خوشحالی کی بنیادی وجہ قرار دیا ، انہوں نے عرب ممالک کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر عرب ممالک اپنے معاشروں میں باہمی تعاون، برداشت اور ایک دوسرے سے کے ساتھ مل جل کررہنے کی فضا کو فروغ دیں اور اور قربانی کا ایسا جذبہ پیدا کریں جس سے سیاسی مفاہمت پیدا کی جاسکے تو خطے میں امن و استحکام اور ترقی ناممکن نہیں۔

مزید پڑھیں >>