شخصیات

اقبال اور عشق رسولﷺ

 دعویٔ عشق اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک اتباع و اطاعت محبوب نہ ہو۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین آپﷺ کے ہر فعل و عمل پر نظر رکھتے اور دل و جان سے ان کی تقلید کرتے۔حضرت عبد اللہ ابن عمرؓ جب حج کو جاتے تو بلا کسی ظاہری سبب کے جا بجا رکتے یا اٹھتے، بیٹھتے جاتے۔کسی نے اس کی وجہ دریافت کی تو آپؓ نے جواب دیا کہ میں نے حضورﷺ کو سفر حج میں جس جگہ جس حالت اور جس انداز میں دیکھا، میں چاہتا ہوں کہ ان طریقوں پر جوں کا توں عمل کروں ۔

مزید پڑھیں >>

اقبال کی شاعری کاموضوع انسان ہے!

اقبال زندگی میں ہی موت کو شکست خوردہ بنادیتا ہے اور جب موت اسے بلانے آتی ہے تو مسکراتے ہوئے اس کا خیر مقدم کرتا ہے کہ اب تو اس کی دلی مراد پوری ہونے والی ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ خود کو اوردوسروں کو زندگی سے لڑتے رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔ نہ روتا ہوا نظرآتا ہے اور نہ ہی اپنی زندگی کے پاس ناامیدی اور مایوسی جیسی لعنتوں کو پھڑکنے کی اجازت دیتا ہے بلکہ زندگی کا گیت گاتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

غزل کا نسوانی رباب

 فوزیہ رباب کا اسلوب کلاسیکی بھی ہے اور جدید بھی۔ کبھی کبھی ان کی آواز گیتوں سے قریب ہوجاتی ہے۔ ان کی غزلوں میں تلازموں اور علامتوں کی موٹی پرتیں تو نہیں لیکن الفاظ کو شعری قالب میں ڈھالنے کا سلیقہ ضرور ہے۔چند مخصوص الفاظ جیسے کہ شہزادہ، سانولا، پاگل، گوزہ گر، پیا، سنگھار اور مکھ وغیرہ ان کے اسلوب کی انفرادیت کا اشاریہ ہیں ۔ انہوں نے اکثر غزلیں لمبی اور مسلسل کہی ہیں ، لیکن لفظ و معنی کا ایسا جادو جگایا ہے کہ اس کی سحر انگیزی سے قاری کا بچ نکلنا مشکل ہے۔

مزید پڑھیں >>

حضرت شاہ ولی اللہؒ : آغوش موج کا ایک درِ تابندہ 

شاہ صاحب کی زندگی کا ایک ایک لمحہ متاثرکن اور سحر انگیز ہے۔شاہ صاحب نے اکیلے منزل کی طرف چلنا شروع کیا تھا لیکن ان کے تجدیدی کارناموں سے متاثر ہوکرراہ رو آتے گئے اور کارواں بنتا چلا گیا۔ آج ایک بار پھر شاہ ولی اللہ ثانی کی ضرورت ہے جو مسلم سماج میں بڑھتی بدعات و خرافات پر لگام لگاسکے۔ آج پھر سے اسی طرح کے حالات پیدا ہوتے جارہے ہیں اور امت مسلمہ کاشیرازہ منتشر ہوتا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں >>

احمد علی برقیؔ اعظمی کی غزلیہ شاعری: ایک جائزہ

 برقیؔ صاحب کے یہاں اچھے اشعار کی کمی نہیں ہے۔ ان سے موصوف کی شاعری کا حسن مزید بڑھ گیا ہے۔ اگر وہ اپنے کلام کے حق میں جذباتیت سے کام نہ لیتے تو اس حسن و قیمت میں اور بھی اضافہ ہوتا۔ بایں ہمہ برقیؔ ؔ صاحب کی شاعری ایک حساس صاحب دل اور ماہر فن کی شاعری ہے۔ اُردو شاعری میں  برقیؔ صاحب نے اب تک جو مقام حاصل کیا ہے مستقبل میں اس میں ترقی یقینی ہے۔

مزید پڑھیں >>

صوفی ابو محمد واصلؔ بہرائچی: ایک نظر

صوفی ابو محمد واصل ؔ موجودہ وقت 2017ء میں ضلع اور شہر بہرائچ کے سب سے بزرگ شاعر اور مصنف ہیں۔ آپ کا سلسلہ تلمذہ حضرت داغ دہلوی تک جاتا ہے۔ مشہور شاعر جگر  ؔبسوانی کے ایک شاگر د  واحد علی واحدؔ بلگرامی  آپ کے استاد تھے۔واحد علی واحد ؔبلگرامی ایک اعلیٰ درجہ کے شاعر تھے۔ داغ اور امیر مینائی کی غزل گوئی کی صالح روایات کے امین تھے۔

مزید پڑھیں >>

تفہیمِ سرسید: کیا صحیح، کیاغلط؟

 ایم اے او کالج کی اساس گزاری کے اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے سرسید نے کہا تھا:’’اگر کوئی یہ کہے کہ اس کالج کی بنیاد ملک کے ہندومسلم طبقات کے درمیان تفریق کے جذبے سے رکھی گئی ہے، تو مجھے یہ سن کر افسوس ہوگا،اس کالج کے قیام کی بنیادی وجہ ملک کے مسلمانوں کی مایوس کن صورتِ حال تھی،اپنی مذہبی عصبیت کی وجہ سے وہ حکومت کے ذریعے فراہم کردہ تعلیمی اداروں کا رخ بھی نہیں کررہے تھے،اسی وجہ سے ان کی تعلیم کے لیے خصوصی انتظام کرنا ضروری تھا‘‘۔

مزید پڑھیں >>

سرسید تحریک ’تہذیب الاخلاق‘ کے آئینہ میں

اردو کے حلقے کو وسیع ہی نہیں اُسے اس جانب راغب بھی کرنا ہے اور پھر اُن تک مؤثِر انداز میں سرسید اور رفقائے سرسید کی بات بھی پہنچانی ہے۔ کام مشکل ہے ناممکن نہیں۔ اس توقع کے ساتھ کہ موجودہ تعلیمی، تہذیبی اور ثقافتی مسائل کا حل سرسید تحریک ہی سے ممکن ہے کیوں کہ اِس کا نظامِ تعلیم مثبت فکر میں ممدومعاون رہا ہے۔

مزید پڑھیں >>

 بارے ’سید‘ کا پھر بیاں ہو جائے !

 اب سر سید کی اہمیت کو اس طرح سمجھیے کہ اگر سقوط ہسپانیہ کے وقت یا پندرہویں صدی عیسوی کے آغاز میں کوئی ’سید احمد ‘ہوتا تو آج امت مسلمہ کی تاریخ کچھ اور ہی  ہوتی !اگر پانچ سو سال پہلے بھی کوئی  سید احمد  پیدا ہو گئے ہوتے تو آج  دہلی، لاہور، قسطنطنیہ، بغداد اور قاہرہ میں بھی اوکسفورڈ اور کیمرج جیسی عظیم یونیورسٹیاں ہوتیں اور شاید علی گڑھ مسلم یونیورسٹی  کی عمر بھی ایک سو سال  نہیں پانچ سو سال ہوتی !

مزید پڑھیں >>