شخصیات

انور جلال پوری: روشنائی کاسفیر!

جن لوگوں نے انہیں دیکھا ان کی تقریریں سنیں وہ ان جملوں کی تائید کریں گے، البتہ ان کی تقریر کا جو انداز اور تائثر تھا اسے پورے طور سمجھانے کے لئے دامنِ الفاظ تنگ ہے، جن لوگوں نے سنا ہوگا، وہ یقیناً جانتے ہیں، کئی مرتبہ مشاہدہ ہوا، مشاعرہ کی فضا بگڑ رہی ہے، سامعین ہوش کھو بیٹھے ہیں، قوی احساس ہورہا ہیکہ مشاعرہ منزل مقصود حاصل نہیں کرپائیگا، نظام درہم برہم ہوجائیگا، انتظامیہ کو لاٹھیاں اٹھانے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے، فوراً انور جلال پوری کھڑے ہوئے، اور سامعین کو ساکت و جامد کردیا، زبان سے ہوتا لفظوں کا وار اس ہیجان انگیز کیفیت کو شکست فاش دے دیتا،

مزید پڑھیں >>

کیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور

انور مرحوم بڑے فخر سے اپنے کو ڈاکٹر ملک زادہ منظور کا شاگرد کہتے تھے اور یہ حقیقت ہے کہ انہوں نے نظامت میں ملک زادہ کا ہی انداز اختیار کیا۔ انہوں نے کبھی نظامت میں لطیفے نہیں سنائے اور نہ مشاعرہ کو نوٹنکی بننے دیا۔ یہ ضرور ہے کہ انہیں اس کی تکلیف تھی کہ شاعروں کی جو ٹیم نظامت کیلئے ان کے استاذ کو ملی کہ ان کے علم فن اور اشعار کے بارے میں جو بھی کہا جاتا وہ کم تھا وہ ٹیم انور جلال پوری کو نہیں ملی اور خود اُن کے کہنے کے مطابق آدھی رات انہیں جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

مولانا علی میاں ندوی: ہند میں سر مایہ ملت کا نگہبان

عالم انسانی بالخصوص مسلمانوں کی تاریخ میں بیسویں صدی سامراجی طاقتوں کے عروج، مغربیت و مشرقیت کی کشمکش اور عمومی ہیجان و اضمحلال کا شکار تھا، جہاں انقلاب انسانی کی بغاوت سر اٹھاتے تو وہیں فکری و تہذیبی یلغار مشرقی ایوانوں پر دستک دے رہی تھی، جس کے سیل رواں میں اسلامی تہذیب و تمدن اور ملکی حالات و کوائف میں اضطراب و انتشار کی فضاء عام ہو کر افسردگی و ناامیدی کا سایہ فگن ہونے لگا تھا، اس وقت میں ایسے مرد داناں ، دردمند اور سوز دل کے حامل، انسانی ہمدردی اور انسان دوستی سے لبریز، حب الوطنی کے ساتھ اسلامی اقدار واخلاق اور اسلامی غیرت و حمیت بلکہ اس سے بڑھ کر جرات ایمانی اور روح ربانی کے ساتھ ظالمانہ نظام حکومت اور حکمرانوں کو دعوت اسلام کی دعوت دینے والی شخصیت کی  اشدضرورت تھی؛جس کی تکمیل سیدی حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ کی صورت میں ظاہر ہوئی۔

مزید پڑھیں >>

حضرت مولانا علی میاں ندویؒ: یادوں کے جھروکے سے (آخری قسط)

حضرت مولانا کی شہرت ومقبولیت صرف علماء کے درمیان ہی نہیں تھی بلکہ عرب حکام وسلاطین سے بھی مو لانا کے اچھے روابط تھے، مو لانا وہاں بھی اپنے داعیانہ کردار کو نبھاتے اورانھیں بعثت نبوی کے مقاصد اور مسلمانوں کے مسائل سےآگاہ فرماتے اور ’الدین النصیحہ’ کے تقاضے حکمت کے ساتھ پورے کرتے، مو لانا کی باتوں کو حکام بڑی توجہ سے سنتے، مو لانا طلبہ سے بھی یہ بات کہتےکہ اگرآپ کےپاس علم ہےتوبادشاہ وقت بھی آپ کی بات سنے گا اور آپ کی توقیر پر مجبور ہوگا، دراصل مولانا حکمراں طبقہ اور عوام کے درمیان ایک پل کاکام کرتےتھے، ہندستان ایک جمہوری ملک ہے یہاں کی اکثریت ہندو آبادی پرمشتمل ہے لیکن یہاں کے بھی بڑے بڑے سیاسی رہنما مو لاناسے بغرض ملا قات تشریف لاتے، ملک کے وزراء اعظم، وزراء اعلی، گورنرس اور وزراء سبھی حضرت مو لانا کی خدمت میں حاضر ہوتے۔

مزید پڑھیں >>

حضرت مولانا علی میاں ندویؒ: یادوں کے جھروکے سے! (قسط 5)

مو لانا کے مزاج میں درویشی تھی، وہ تصوف بمعنی احسان کےقائل تھے، کچھ لوگوں نے تصوف کو موضوع بناکر جب مولانا پرتنقید کی تو مو لانا نے 'ربانية لا رهبانية ' نامی بڑی معرکۃ الآراء کتاب لکھی اور اس کتاب میں ایک بڑا خوبصوت سا عنوان لگایا ' جناية ا لمصطلحات علی الحقائق والغايات ' مو لا نا نے بتایا کہ آپ اسے جو بھی نام دیں لیکن دین کی اصل غرض وغایت تو احسان ہی ہے، مو لانا نے کبھی بھی کسی پر کھل کر تنقید نہیں کی، البتہ جب کبھی مو لا نا کو یہ محسوس ہوتا کہ شریعت یا فکر اسلامی کی تعبیر وتشریح کے تئیں غلط فہمی پیدا ہورہی ہے یا غلط فہمی پیدا کی جا رہی ہے اور مصلحین امت ومشائخ دین و ملت کی کردارکشی کی دانستہ یا نادانستہ کوشش ہورہی ہے تب مو لانا اس موضوع پر مجبورا قلم اٹھاتے اور بڑے علمی اور مثبت انداز میں اس کا جائزہ لیتے۔

مزید پڑھیں >>

علامہ اقبال کے اسلامی عقائد کا تنقیدی جائزہ (آخری قسط)

افلاطون کو تو حواسِ خمسہ سے حاصل ہونے والے علم سے نفرت ہے اور ان کی پیروی میں  ساری یونان کی علمی تاریخ کو عالم ِمحسوس سے نفرت ہے۔ وہ صرف استخراجی عقل کے قائل ہیں ۔ دوجمع دو چارہوتاہے جیسے پختہ اصولوں  کی روشنی میں  حاصل ہونے والے علم کو علم مانتے ہیں ۔ وہ تو ستاروں ، سیاروں ، پھولوں ، پودوں ، درختوں  اور پہاڑوں  کے علم کو علم نہیں  مانتے۔ قران بہ اصرار یہ منواتاہے کہ حسی تجربے سے حاصل ہونے والا علم بھی علم ہے۔ حسی تجربے سے حاصل ہونے والی علم کی بنیاد ’’شک‘‘ پر ہے۔

مزید پڑھیں >>

حضرت مولانا علی میاں ندویؒ: یادوں کے جھروکے سے! (قسط 4)

ابتدائی زمانہ میں کافی دنوں تک مولانا کو تنگ دستی کا سامنا کرنا پڑا تھا، ایک دن کا واقعہ مجلس میں یوں بیان فرمانے لگے کہ میں صبح دارالعلوم میں گھنٹہ پڑھا کر آیا، ناشتہ کا وقت تھا، بڑی بھوک لگی ہوئی تھی اور جیب میں ایک پیسہ بھی نہیں تھا، میں اسی فکر میں کھویا ہوا تھا کہ اچانک دو طالب علم میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہم نے سوچا کہ کیوں نا آج کا ناشتہ مولانا علی میاں کے ساتھ کیا جائے۔ میری ذاتی سمجھ یہ ہے کہ مولانا اس قسم کی باتیں طلبہ کے درمیان اس غرض سے بیان فرماتے تھے تاکہ غربت و مفلسی ان کی ہمت کو کمزور نہ کردے اور نتیجتا علم سے دور ہو کر تلاش معاش میں لگ جائیں، وہ بتانا چاہتے تھے کہ اگر ان تمام مشقتوں کے باوجود آپ علم کی راہ میں انہماک اور ایثار سے کام لیں گے تو تابناک مستقبل آپ کے انتظار میں ہاتھ پھیلائے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیں >>

کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے

مرزا اسد اللہ خاں غالب ؔ کے شعر کا یہ مصرعہ بہت مفہوم خیز ہے، غالبؔ نے اپنے عہد میں مسلمانوں کی ذہنی پسماندگی اور اہل مغرب کی علمی و سائینسی ایجادات اور ان کی سیاسی دور اندیشی کے ساتھ ان کی معاشرتی تہذیب کا پھیلاؤ ایک رجحان کی شکل میں تما م شرق و غرب میں پھیلے ہوئے دیگر ادیان عالم کو صر ف متوجہ ہی نہیں کررکھا تھا بلکہ اسے رفتہ رفتہ اپنے حلقہ اثر میں لینا شروع کردیا تھا۔ دنیا کا ہر پڑھا لکھا شخص اہل مغرب کی تہذیب کو دنیا کی بہترین تہذیب تصور کرنے لگا( آج بھی روشن خیالی کا یہ چلن عام ہے)۔ لہذا غالب نے اپنے اس شعر میں اہل کلیسا کی انھیں ترقیات کے پیش نظر یہ شعر تخلیق کیا۔

مزید پڑھیں >>

کیا امام غزالی اسلام کے سائنسی زوال کے ذمہ دار ہیں؟ 

لبرل،سیکولر اور الحادی طبقے کا اعتراض ہے کہ امام غزالی نے ریاضی اور سائنس کو کافرانہ علم قرار دیا اور اسائنس میں ریاضی کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی جس سے اسلام کے سائنسی زوال کا آغاز ہوا۔یہ بات بھی مکمل طور پہ جھوٹ اور تاریخی جہالت پہ مبنی ہے۔غزالی نے فلکیات پر بحث کرتے ہوئے عملی مظاہروں اور ریاضی پر مبنی سائنسی طریقہ کار کے لیے دلیل مہیا کی۔ چاند کے زمین اور سوج کے درمیان آنے سے ہونے والے سورج گرہن اور زمین کے چاند اور سورج سے درمیان آنے سے ہونے والے چاند گرہن کے سائنسی حقائق بیان کرنے کے بعد وہ لکھتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

علامہ اقبال کے اسلامی عقائد کا تنقیدی جائزہ (قسط سوم)

دراصل اقبال کو کائنات میں وحدت ہی وحدت نظر آتی ہے چنانچہ وہ یہ گوارا نہیں کرتا کہ رسول کی وحی کو تو خارج سے وارد ہونے والی واردات کہا جائے جیسا کہ وحی کو عام عقیدے کی رُو سے سمجھا جاتاہے۔۔۔۔۔۔۔۔جبکہ ایک معمولی ولی کے کشف والہام کو اس کے اندرونِ ذات کی کوئی گہری واردات قراردیا جائے۔

مزید پڑھیں >>