شخصیات

حکیم محمد اجمل خان: ایک عبقری شخصیت

انہی اعاظم رجال اور نبیل المرتبت اشخاص میں سے خاندان شریفی کے گل سر سبدمسیح الملک حکیم محمد اجمل خان بھی ہیں جن پر قدرت نے بے پایاں انعام کیا اور اپنے فضل وکرم سے خوب نوازا تھا۔ ان کی شخصیت حشمت وشوکت ،شجاعت وسخاوت، شرافت ونجابت، اعلی اخلاق،عمدہ اوصاف،تحمل مزاج ،وضع دار،حسن کردار، شیریں گفتار، تدبر وتفکر اور تحقیق وتدقیق کے جواہر گراں مایہ سے مزین ہو کر ہماری تاریخ کانقشِ دوام اور بیش قیمت حصہ ہے۔

مزید پڑھیں >>

حضرت مولانا علی میاں ندویؒ : یادوں کے جھروکے سے (قسط: 3)

حضرت مولانا کی شان بے نیازی اسی طرح کی تھی، وہ دنیا سے بقدر ضرورت ہی لیتے تھے، ان کی زندگی سادگی کا نمونہ تھی، معمولی سے معمولی آدمی ہو یا ادنی سے ادنی طالب علم یا پھر کوئی صاحب جاہ و ثروت وہ بڑی آسانی سے سب کو میسر آجاتےھے۔ مولانا کی زندگی میں روز و شب کے معمولات بہت منظم تھے، مطالعہ، خط و کتابت، قومی و ملی مسائل، لوگوں سے ملاقات، طلباء کے ساتھ مجلس،  سب کے اوقات متعین تھے، روز عصر کی نماز کے بعد مہمان خانہ کے باہر مجلس منعقد ہوتی جہاں اساتذہ اور عمائدین شہر آتے، مولانا سے ملاقات کرتے اور مختلف مسائل پر گفتگو کرتے، عشاء کی نماز کے بعد کا وقت طلبہ کے لئے مخصوص ہوتا،  مولانا سے استفادہ کی غرض سے ہم لوگ اس وقت کی تاک میں رہتے۔

مزید پڑھیں >>

حضرت مولانا علی میاں ندویؒ : یادوں کے جھروکے سے (دوسری قسط)

حضرت مولانا اپنی مجلسوں اکثر ملک شام کے مشہور محدث شیخ سعید الحلبی کا واقعہ بڑے والہانہ انداز میں بیان فرماتے واقعہ یوں ہے کہ شام کا آمریت پسند باشاہ ابراہیم باشا ایک دن مسجد اموی میں داخل ہوا جہاں شیخ سعید حلبی طلبہ کو درس دینے میں مشغول تھے، اسی وقت ادھر سے ابراہیم پاشا کا گزر ہوا، اتفاق سے اسوقت شیخ اپنا پاؤں پھیلائے ہوئے تھے لیکن ابراہیم باشا کو دیکھ کر نہ ہی شیخ نے اپنا پاؤں سمیٹا اور نہ ہی بیٹھنے کا انداز تبدیل کیا۔

مزید پڑھیں >>

علامہ اقبال کے اسلامی عقائد کا تنقیدی جائزہ (قسط 2)

اگر خدا ہر شئے میں ہے تو ہر شئے مقدس ہوئی اور اگر خدا کا کامل، مجازی رُوپ انسان ہے تو تمام انسان خدا جتنے واجب الاحترام ہوجائیں گے۔ تاریخ شاہد ہے کہ دینِ اکبری وحدت الوجود کے بدترین نتائج میں سے ایک تھا۔ جس میں خنزیر تک کو اِس لیے قابل ِ احترام گردانا گیا کہ چونکہ خدا ہرشئے میں جاری و ساری ہے فلہذا اِس میں بھی خدا موجود ہے۔ مستی کے اِس عالم تک کا مشاہدہ کیا گیا ہے کہ بعض لوگ کُتوں کے منہ چُومتے پھرتے ہیں کہ یہ بھی محترم ہے کیوں کہ خدا ہرشئے میں جاری و ساری ہے۔

مزید پڑھیں >>

علامہ اقبال کے اسلامی عقائد کا تنقیدی جائزہ (قسط اول)

خیر! تو اِس مضمون میں ہم علامہ اقبال کے اسلامی عقائد پر تنقیدی نگاہ ڈالنے کے لیے صرف میسم نقوی کے سوال یعنی جنت جہنم تک ہی محدود نہیں رہینگے بلکہ مجموعی طور پر تمام بڑے بڑے عقائد پر علامہ اقبال کی گفتگو ملاحظہ کرنے کی کوشش کرینگے جو مذہبی زندگی کے ابتدائی درجہ میں اپنی نہایت سادہ سطح پر موجود ہیں اور اقبال (اپنے ہی بقول مذہبی زندگی کے دوسرے درجہ میں) ان میں اپنی فکر کے ذریعے کیا رنگ بھردیتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

حضرت مولانا علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ: یادوں کے جھروکے سے!(قسط: 1) 

میں نے آج تک ندوہ کی تین شخصیات کے بارے میں ان کے کسی بھی ادنی سے ادنی شاگرد کو نکتہ چینی کرتے ہوئے نہیں پایا، ان میں ایک شخصیت مولانا ابو العرفان صاحب رحمہ اللہ کی تھی، دوسری شخصیت مولانا نور عظیم ندوی مرحوم کی تھی اور تیسری شخصیت جو ان دونوں شخصیات کی بھی مربی و محسن تھی وہ حضرت مولاناعلی میاں رحمہ اللہ کی تھی اور یہ کسی بھی مربی کی کامیابی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

مزید پڑھیں >>

پروفیسر غفور احمدؒ: پاکستانی سیاست کا ایک عہد ساز باب

پروفیسرغفوراحمدکی شخصیت کے علاوہ سب کچھ پردہ اخفامیں ہی ہے۔ یہ ایک حقیقی راہنماکی نشانی ہے کہ اس کاسب کچھ اس کی قوم کے لیے ہی ہوتاہے، حتی کہ اس کے مناصب ومقامات بھی اس کے بعد اہل تر لوگوں کے حصے میں آتے ہیں بجائے اقرباوخواص کے۔ یہ لوگ ہیں جن کے لیے ان کے رب کے سچے وعدے موجود ہیں وہ لوگوں سے اپنے کیے کابدلہ نہیں مانگتے اور نہ ہی اپنی خدمات کاکوئی صلہ چاہتے ہیں بلکہ ان کا بدلہ ان کے رب کے ہاں محفوظ ہوتاہے۔

مزید پڑھیں >>

شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ کا خصوصی انٹرویو

فراغت کے بعد دہلی پھر ایک سال بعد وہاں سے واپسی کے بعد نیپال میں دینی خدمات انجام دینے لگا، برسرے روزگار ہونے کی وجہ سے جلد ہی گاؤں سے ایک رشتہ آگیا۔ میرے علم کی حد تک اس سے پہلے کوئی رشتہ نہیں  آیاتھا، لڑکی شریف النفس اور گھرانہ  دیوبندی مگرنہایت ہی شریف ہونے کی وجہ سے والد صاحب نے شادی کی بات پکی کرلی اور شادی ہوگئی۔ اس نکاح کا ایک واقعہ یوں ہوا کہ گاؤں کے دیوبندی امام صاحب نے میرا نکاح پڑھایا، پہلے اردو زبان میں ایجاب وقبول کروایا پھر عربی الفاظ نکحت، زوجت اور قبلت مجھے کہنے کو کہا ۔ میں نے کہا نکاح ہوگیا خواہ کسی زبان میں ایجاب وقبول ہو۔ اگر عربی کے الفاظ مجھ سے کہلوانا تھا  تو نکاح عربی میں پڑھانا تھا۔ بس  وہ حیران وششدر ہوگئےاور کہنے لگے ٹھیک ہے نکاح ہوگیا کوئی بات نہیں۔  

مزید پڑھیں >>

سید مودودی کا اصل کارنامہ اور ان کے مخالفین

سید مودودی کا منہج کسی فرقہ، کسی متعصب گروہ اور کسی متکبر لیڈر کا نام نہیں بلکہ یہ قرآن و سنت سے ٹوٹا ہوا تعلق بحال کرنے، ایمان، عبادت، معیشت، معاشرت اور سیاست کو قرآن و سنت کی روشنی میں استوار کرنے اور مسلمانوں میں افتراق کی بجائے اتحاد و اتفاق کا عنوان ہے۔ سید مودودی باطل کے آگے جھکنے کا نہیں بلکہ باطل کو حق کے آگے جھکانے کے لیے سردھڑ کی بازی لگادینے کا نام ہے۔ سید مودودی مغربی تہذیب کی اندھی نقالی کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ اسلامی روایات و اخلاق کے تواترکے تحفظ و احیاء کے لیے ڈٹ جانے اور مغربی تہذیب کی باطل بنیادوں کو نیست و نابود کردینے کا نام ہے۔ اور آخری بات یہ کہ سید مودودی کا منہج غلطیوں پر اصرار کا نہیں بلکہ غلطیوں کا احتساب اور ان پر توبہ کرنے کا نام ہے.

مزید پڑھیں >>

حکیم محمد حسن قرشیؒ: ایک عظیم شخصیت

 شفاء الملک حکیم محمد حسن قرشی  ؒ 27دسمبر1896؁ء کو قاضی فضل الدین کے ہاں گجرات شہر میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم گجرات سے حاصل کی۔ بعد ازاں 1911؁ء میں ایف اے اسلامیہ کالج لاہور کیا۔ آ پ فارغ التحصیل درس نظامی کے ساتھ ساتھ ادیب فاضل، منشی فاضل اور عربی فاضل بھی تھے۔ آپ طبیہ کالج بمبئی کے پرنسپل کے ساتھ ساتھ 26سال تک طیبہ کالج لاہور کے پرنسپل بھی رہے۔ آپ کی ازواجی زندگی کا آغاز1922؁ء میں محترمہ بلقیس بیگم گجرات میں ہوا۔ آپ کے 4بیٹے اور 3بیٹیاں جن میں 1۔ آفتاب احمد قرشی  2۔حکیم ریاض احمد قرشی  3۔ثریا بی بی  4۔ خالدہ بی بی  5۔ حکیم سعید قرشی   6۔ساجدہ بی بی اور حکیم اقبال احمد قرشی شامل تھے۔

مزید پڑھیں >>