شخصیات

سر سید کو خراج تحسین کیسے پیش کیا جاسکتا ہے؟

  سرسید کے مطالعہ میں اب تک جو رویے سمانے آئے ہیں ان میں ایک طرح کی انتہا پسندی ملتی ہے۔ مثبت اور منفی دونوں طرح کی۔ سرسید احمد خاں کے تصورات کی تشکیل میں جن عناصر کا عمل دخل رہا ہے۔ بے شک ان کی نوعیتیں کثیر ہیں ۔ ان میں ایک ساتھ معنی کی مختلف سطحیں تلاش کی جاسکتی ہیں ۔ اس لئے سرسید کی بہت سی باتوں کو متنازعہ بھی سمجھ لیا گیا۔

مزید پڑھیں >>

کیا سرسید احمد خاں کے خوابوں کا چمن اپنی معنویت کھو رہاہے؟

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہندستانی مسلمانوں کے لئے سرمایہ افتخار تھی، اسے تعلیم گاہ سے زیا دہ تربیت گاہ تصور کیاجاتا  تھا، ڈگریوں کے حصول کے لئے ملک میں بہت سارے ادارے ہیں جہاں مسلمان اپنے بچوں کوتعلیم دلا سکتے ہیں ۔مگر وہ تربیت کو بھی لازمی جزخیا ل کر تے ہوئے بچوں کو یہاں داخل کرواتے تھے مگر افسوس یہ تربیت گاہ اب اجاڑی جاچکی ہے۔ مادہ پرست افراد کی تیاری ہی اس کا نصب العین بن گیا ہے۔

مزید پڑھیں >>

سرسید احمد بحیثیت صحافی ایک جائزہ 

سرسید اعلی درجی کے صحافی ہیں، انکی صحافتی خدمات آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں، اور انہوں نے صحافت کے طرز و انداز کو بدلا، صحافت کے لئے ایسی بنیاد ڈالی جن پر آج تک صحافت کا ڈھانچہ کھڑا ہوا ہے،اور اپنی صالح فکر اور اخلاص کے ذریعہ امت مرحومہ میں نئ روح پھونکنے کی کوشش کی اور کسی حدتک وہ کامیاب بھی رہے

مزید پڑھیں >>

سر سید احمد خاں کا 200واں یوم پیدائش: ہم اور ہمارا عمل

سر سید احمد خاں نے ایک اجلاس میں طلبہ کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا جس کی اہمیت آج بھی مسلم ہے کہ ’’ اگر تم اپنے دین پر قائم نہ رہے اور سب کچھ ہوگئے اور اگر آسمان کے تارے ہوکر چمکے تو کیا ؟ تم ہم میں سے نہ رہے، میں چاہتا ہوں کہ تمہارے ایک ہاتھ میں قرآن ہو اور دوسرے میں علوم جدیدہ ہوں اور سر پر لا الہ الا اللہ کا تاج ہو۔

مزید پڑھیں >>

سرسید احمد خان: مصلح قوم، دانشور اور فروغ اردو کے عظیم محرک

 سرسید احمدخان نے مدرسۃ العلوم (محمڈن اینگلو اورینٹل کالج) کے نام سے ایک کالج قائم کیاتھا پہلے یہ ادارہ صرف اسکول کی جماعتوں تک محدود تھا اور پھر بعد میں اسی کالج نے ایک مستقل یونیورسٹی کی شکل اختیار کرلی اور آج بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نام سے مشہور ہے۔ سرسید احمد خاں نے علی گڑھ تحریک کے ذریعہ ہندوستانی مسلمانوں کو زندہ قوموں کی طرح زندگی گذارنے اور سربلند ہوکر جینے کا سلیقہ سکھایا ہے۔

مزید پڑھیں >>

 سر سید احمد خاں: شخصیت,عقائد اور نظریات!

سر سید احمد خاں کی علمی خدمات کا اعتراف کیے بنا ہندوستان کی علمی تاریخ ادھوری ہے اس لیے کہ سر سید احمد خاں نےجو کچھ ہندوستانی سماج کو دیا ہے اسے بھلانا آسان نہیں ہے انکی کاوش اور خدمات کا قائل ہر شخص ہے ہاں خامیاں بھی تھیں انکے اندر مگر اسکی وجہ سے انکی علمی کارناموں کا انکار نہیں کیا سکتا_

مزید پڑھیں >>

سر سید نے ایک نیا ‘علم کلام‘ ایجاد کیا

مذہبی معاملات میں سر سید کا رویہ اس حقیقت کی طرف واضح اشارہ ہے کہ روایت سے جذباتی وابستگی کے سبب تاریخ کے مطالبات سے صرف ِ نظر کرنا اور اندھی تقلید اور پیرویِ محض میں وقت کے تقاضوں کو دَر خورِ اِعتِنا نہ سمجھنا خود فریبی اور ہلاکت کے سوا اور کچھ نہیں ۔  ان کی تحریروں میں ’’خالص اسلام ‘‘اور ’’ ٹھیٹھ اسلام ‘‘ جیسے لفظوں کی پیہم تکرار در اصل اسی حقیقت پر اصرار ہے کہ مروّجہ اسلامی عقائد اور خالص اسلامی تصورات دو الگ الگ حقیقتیں ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

کلیم عاجز: ہمارے مطالعہ کی روشنی میں

 کلیم عاجز کی شاعری اور ان کی نثر میں تہذیب و تمدن بھی ہے، تاریخ و فلسفہ بھی ہے، درد و کرب بھی ہے، اقدار و روایات بھی ہیں، شعری اور نثری سرمایہ میں کہیں بھی سطحیت نہیں پائی جاتی، ان کی تحریروں کو پڑھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ بلا شبہ کلیم عاجزؔ آسمان شعر و ادب پر نہ صرف یہ کہ روشن ستارہ ہیں بلکہ ان کی حیثیت بدر کامل اور ماہ تمام کی ہے۔

مزید پڑھیں >>

کیا وہ اللہ کی زبردست نشانی نہیں تھے!

پھر کیا وہ اللہ کی زبردست نشانی نہیں تھے، کہ حکومت مصر تو انہیں امریکہ بھیجتی ہے، کہ وہاں کے تعلیمی نظام اور تعلیمی نظریات کا گہرا مطالعہ کریں پھر مصر واپس آکر انہیں مدارس اور مصری جامعات میں نافذ کریں۔ مگر وہاں پہنچ کر وہ امریکہ ہی سے متنفر ہوجاتے ہیں۔ وہاں کی معاشرت، وہاں کے ماحول، وہاں کے نظام اور وہاں کی بے کردار مشینی زندگی، غرض وہاں کی ایک ایک چیز سے سخت بیزار ہوجاتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

پنڈت برج ناراین چکبست

اردو دنیا  اپنے ماضی کے اعتبار سے کافی خوش قسمت ثابت ہوئی ہے، اس کی تاریخ میں ایسے ایسے لعل پیدا ہوئے ہیں کی اردو ادب ان پہ پھولے نہیں سماتا، ولی دکنی کے عہد  سے پرورش پانے والی زبان نے اب تک کئی دور دیکھے ہیں.  غالب ؔو میر، سودا  سب نے اردو کو سر ماتھے پہ بٹھا کر رکھا، نئے دور میں  احمد فراز،  فیض احمد فیض یا دوسرے شعراء  نے اردو زبان کو ایک نئی جہت دی۔

مزید پڑھیں >>