شخصیات

نوم چومسکی: حیات کے چند گوشے

چومسکی کا شمار ان ممتاز ادیبوں اور مورخین میں ہوتا ہے جن کا سب سے زیادہ حوالہ دیا جاتا ہے۔اپنے ہاتھ میں سونے کا قلم تھام کر افلاس کے عقدے حل کرنے والے اس دانش ور نے بڑے ٹھاٹ اور کروفر سے زندگی بسر کی ہے۔دنیا بھر کے مفلس و قلاش، محکوم،مظلوم و محروم طبقوں اور پس ماندہ اقوام کے غم میں درد انگیز نالوں سے لبریز تصانیف پیش کرنے والے اس مصنف نے مسلسل سات عشروں سے دکھی انسانیت کے ساتھ جو عہدِ وفا استوار کر رکھا ہے اسی کو حصول رزق بسیار کا موثر ترین وسیلہ بھی سمجھ رکھا ہے۔اس نے بلاشبہ اپنی تحریروں سے اپنے قارئین کو ایک ولولۂ تازہ عطا کیا لیکن اس کی نجی زندگی کے شب و روزاور شاہانہ انداز کو دیکھ کر لوگ ششدر رہ جاتے ہیں۔آخر سب اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ کواکب کی تابانی اور چکا چوند اپنی جگہ مگر ان کی اصلیت کچھ اورہوتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار: ٹیپو سلطانؒ

آج ہمارے برادران وطن کو ٹیپو کے تعلق سے جو غلط فہمیاں ہیں وہ انگریزوں کے ٹیپو اور اس کی جراء ت وہمت اور اس کی مذہبی رواداری اور ہندو مسلم اتحاد سے بعض وعناد اور اس کی وجہ سے اپنی حکومت سازی میں جو رکاوٹیں در پیش ہورہی تھیں ان کا سب کا نتیجہ تھا، جس کی رو میں بہہ کر اس عظیم مسلمان حکمراں اور سامراج کو ناکوں چنے چبوانے والے ملک کے سپوت کے تعلق زبان درازی کی کوشش یا تو یہ تاریخی حقائق سے عدم واقفیت یاتعصب ذہنی کی علامت ہے۔

مزید پڑھیں >>

سرسید احمد بحیثیت صحافی: ایک جائزہ 

سرسید کو قوم کی حالت زار کا احساس تھا،اور وہ ہر حال مین قوم کی اصلاح چاہتے تھے، انہیں مغربی علوم وفنون سے لیس کرنا، زمانے کی اقدار اور معیار کے قابل بنانا سرسید کا حسین خواب تھا،اسی خواب کی تکمیل لئے سرسید نے تہذیب الاخلاق کا اجراء کیا، اور قوم و ملت کی بگڑی بنانے کی کوشش کی، اور انہوں نے اس طرز اور نوعیت کے مضامین لکھے جو قوم کی اصلاح کے لئے مفید ثابت ہوں، سرسید نے اس رسالہ کے ذریعہ نا صرف قوم بلکہ صحافت کے بھی مصلح کا کردار انجام دیا اور ایک ایسا لب و لہجہ اور اسلوب اختیار کیا جس کی عام آدمی تک رسائی ممکن ہو، جس مین متن کی خوبصورتی میں آدمی گم ہوکر نا رہے۔

مزید پڑھیں >>

مہدی عاکف شہید!

اخوان ہمارے بھائی ہیں۔ اسلام کے جو شیدائی ہیں۔ اس دین کے دشمن قرنوں سے صہیونی اور عیسائی ہیں۔ اراکان سے نیل کے ساحل تک۔ سب مسلم بھائی بھائی ہیں۔ اے خون شہیداں تیری قسم۔ ہر ظلم کا بدلہ لیں گے ہم۔ باطل کو مٹاکر دم لیں گے پیچھے نہ ہٹے گا کوئی قدم۔ اخوان کی صف آرائی ہے۔ طاغوت پہ ہیبت چھائی ہے۔ ۔اس لیے کہ۔ ۔اب  چشم مسلماں پہ ہے واضح یہ حقیقت۔ دیں ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملت۔ ہے ایسی تجارت میں مسلماں کا خسارہ۔ ۔ فھل من مدکر ؟    

مزید پڑھیں >>

مولانا سلطان احمد اصلاحیؒ کی علمی وفکری جہات پر دو روزہ سیمینار کا انعقاد

انجمن طلبہ قدیم شاخ علی گڑھ کے ذریعہ منعقدہ دو روزہ سیمینار میں حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر اشتیاق احمد ظلی نے فرمایا کہ موضوع کے انتخاب میں جدت وندرت مولانا سلطان احمد اصلاحی کے ابتکاری ذہن کا غماز ہیں ۔ آپ نے ادارہ علوم القرآن سے مولانا کے تعلق پر جذباتی انداز میں روشنی ڈالی۔

مزید پڑھیں >>

صنفی توازن کی اسلامی تشریح: مولانا سلطان احمد اصلاحی کے حوالے سے

   مولانا سلطان احمد اصلاحی نے ا پنی تحریروں کے ذریعہ ہر طرح صنفی عدم  توازن کے خلاف آواز بلند کی اور معاشرے کے اس اہم مسئلے کا اسلامی حل پیش کیا،یہ بات دیگر ہے کہ بعض اوقات ان کے یہاں فکری توسع کے عناصر کچھ زیادہ ہی ہوجاتے ہیں ،جس سے ان کا قاری کچھ دیر کے لیے حیرتی ہوجاتا ہے۔  

مزید پڑھیں >>

سلطان العلماء کے خاندانی اور شخصی حالات و واقعات

مولانا کے آخری سفر کی کہانی بمشکل گھنٹے سوا گھنٹے کی ہوگی۔ لیکن آخری دن کی جو روداد بیان کی گئی ہے کم و بیش زندگی بھر وہی ان کا معمول تھی۔ یعنی عبادت و ریاضت، تحقیقی و تصنیفی مشاغل یا پھر کارِ انسانیت۔ دوسرے دن تقریباً دس بجے سرسید نگر کی جامع مسجد کے احاطہ میں نماز جنازہ ہوئی اور سرسید نگر کی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔

مزید پڑھیں >>

نوّے سال کے عظیم جوان محمد مہدی عاکف

زندگی کا ایک بڑا حصہ دنیا بھر میں تحریکی نوجوانوں کی ہمہ جہت تربیت کرتے ہوئے گزارا، اور ایک بڑا حصہ مصر کے ظالم حکمرانوں کی جیلوں میں خود اپنی تربیت کرتے ہوئے گزارا۔ ملک میں رہے تو ملک کے نوجوانوں کی تربیت کرتے رہے، اور جلا وطن ہوئے تو بہت سے ملکوں میں اپنے تربیتی کیمپوں کے نقش قائم کردئے۔

مزید پڑھیں >>

مھدی عاکف: قائد اور قیادت ساز

کہا جاتا ہے کہ مہدی عاکف کے اندر پچھلے تمام ہی مرشدین کی نمایاں صفات موجودہیں، ان کے اندر امام حسن البنا کا شباب اور ان کی جرأت ہے، تو حسن ہضیبی کی حکمت۔ عمر تلمسانی کی جیسی رواداری اور کھلاپن ہے، توحامد ابو النصر کے جیسا زہد اور دلکشی۔ مصطفی مشہور کی خودداری اور بڑائی، تو مامون ہضیبی کاجوش اور ولولہ۔ قصہ مختصر یہ کہ وہ ایک بے مثال شخصیت کے حامل ہیں ، یہی وجہ ہے کہ وہ آج بھی اخوان کے دلوں کی دھڑکن ہیں۔

مزید پڑھیں >>