صحت

اقتصادی زبوں حالی سے پیداہونے والے صحت کے مسائل

ڈاکٹر نازش احتشام اعظمی

اس میں شبہ نہیں کہ دنیا کی تمام بیماریوں کا تعلق کہیں نہ کہیں ہمای کھانے پینے کی عادات اور آب و ہوا سے ہے۔کبھی بیش قیمت اور لذیذ کھانے بھی ہماری صحت کے دشمن بن جاتے ہیں تو کبھی وٹامنس اور پروٹین کی قلت کی وجہ سے وہی کھانے ہمیں صحت وتندرست رکھنے میں ناکارہ ثابت ہوتے ہیں۔کچھ امراض ایسے ہیں جو تمام تر اقتصادی اور مالی فراوانی کے باوجود ہمیں صحت افزا کھانے سے روک دیتے ہیں۔مثلا مختلف قسم کی پروٹین اور غذا ئیت سے بھرپورمرغن غذائیں اگرچہ ہمیں صحت وتندرست رکھنے میں اہم کردار کرتے ہیں۔ مگرہم اپنی بے اعتدالیوں اور خوردو نوش میں لاپروائی برتنے کی وجہ سے جب ہائی بلڈ پریشر، شوگر،گردوں میں چربی کی زیادتی سے دوچار ہوجاتے ہیں تو ہمیں ان سبھی مرغن غذائوں اور پروٹین سے بھر پور غذاؤں سے پر ہیز کرنے سخت تاکید کی جا تی ہے۔اسی طرح غذائی قلت پروٹین کی حد درجہ کمی اور ناقابل برداشت کمزور ی جب ہمیں اپنا شکار بنالیتی ہے تو یہی تندرست جسم تپ دق یعنی ٹیوبر کلوسس جیسی مہلک بیماری کا شکار بن جاتا ہے۔خیال رہے کہ ٹیوبر کلوسس کاتعلق صحت افزا غذاسے محرومی سے ہے۔اسی لئے عموماً ٹی بی کو غریبوں کی بیماری بھی کہا جاتا ہے۔عالمی دارۂ صحت نے حال ہی میں شدت اختیار کررہے ٹی بی کے مرض پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دنیا میں ٹی بی کے مریضوں کی تعداد میں نو اور ہلاکتوں میں بیس فیصد اضافہ ہوا ہے، مریضوں میں سے 57 فیصد مردجبکہ34 فیصد خواتین اور 9 فیصد بچے شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق جنگوں فضائی و ماحولیاتی آلودگی اور گندگی کے باعث مرض ختم ہونے کی بجائے مزید بڑھنے لگا ہے اور ایک مریض کم از کم12 سے 15 افراد کو متاثر کر رہا ہے۔عالمی سطح پر مرض کے بڑھنے کا انداز اس امر سے بآسانی لگایا جا سکتا ہے کہ ایک ہی سال میں تپ دق کے مریضوں کی تعداد میں 9 اور مرض سے ہونے والی ہلاکتوں میں 20 فیصد اضافہ ہوا۔2014 کے دوران ٹی بی کے مریضوں کی تعداد 96 لاکھ تھی جو 2015 میں بڑھ کر ایک کڑور 4 لاکھ ہو گئی جبکہ مرض سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 15 لاکھ تھی  جو 2015 میں بڑھ کر18 لاکھ ہو گئی جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہ ہو گا کہ مرض نہ صرف ختم نہیں ہو پا رہا بلکہ پھر سے بڑھنے لگا ہے۔مرض سے متاثرہ ممالک میں ہندوستان سر فہرست ہو چکا ہے، جبکہ انڈونیشیا دوسرے،چین تیسرے،نائیجیریا چوتھے اور پاکستان پانچویں نمبر پر ہے۔جنوبی افریقہ چھٹا متاثرہ ملک ہے۔ اجمالاً اتنا سمجھ لیجئے کہ جن ممالک کے شہری غربت و افلاس اور قلت خوراک کا شکار وہ خطے ٹیوبر کلوسس کو پیر پسارنے کیلئے سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں۔

اب ذرا اب ملک میں معاشی طور پر نابرابری کو دیکھ لیجئے، جس سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجائے گی جہاں عام آدمی کو دوجون کی روٹی کے لالے پڑے ہوں وہاں اگر کوئی بدنصیب کسی ایسے مہلک مرض کا نوالہ بن جائے جس میں مہنگے علاج کے ساتھ کھانے پینے میں پروٹین اور حیاتین کی بڑی مقدار لینی ضروری ہوجائے تو وہ مریض کیا کرے گا۔اگر علاج کی طرف توجہ دیتا ہے تو مہنگا علاج، مہنگی دوائیں اور ڈاکٹرو اسپتال بھاری بھرکم فیس اداکرے یا پھر اپنی صحت کی بحالی کیلئے اپنے کھانے میں غذائیت کا انتظام کرے۔جس ملک کا عام آدمی یومیہ32سے 20روپے یومیہ پر زندگی گزارنے پر مجبور ہو وہ ٹیوبر کلوسس جیسی مہلک بیماری تو دور اس کو تو معمولی بخار بھی موت کے منہ میں دھکیل سکتا ہے۔یہ بات ہر کس وناکس کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ہمارے یہاں صحت خدمات حد سے زیاد ہ مہنگی ہے جو لگ بھگ غریب عوام کی پہنچ سے کافی دور ہو چکا ہے۔ایک طرف آزادی کے بعد مرتب کئے گئے ہمارے آ ئین میں واضح طور پر ہدایات دی گئی تھیں کہ صحت، تعلیم، خوراک، رہائش زندگی کی بنیادی ضروریات ہیں۔اوران سبھی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا وفاقی اور ریاستی حکومتوں کی ذمہ داری ہوگی اور غریبوں کے حقوق کی پاسداری کرنا اور ملک کے ضرورت مندوں تک راحت اور رفاہی اسکیموں کا پہنچا نا حکومتوں کے فرائض کا حصہ ہوگا۔مگرغریبوں کے حقوق میں لوٹ کھسوٹ، خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور شہریوں کیلئے حکومت کے ذریعہ چلائے جانے والے منصوبوں میںنیچے سے اوپر تک بندر بانٹ اور سسٹم کی عدم مستعدی کی وجہ سے غریب اور امیر کے درمیان خلا  وسیع ترہو جا رہا ہے۔المیہ تو یہ ہے کہ حکومت سے لے کر انتظامیہ کے اعلیٰ افسران تک خاص طورپر انسداد غربت کے محکموں میں تعینات سرکاری افسرشاہان بھی اس خلا کو پاٹنے میں ایماندارانہ کوشش کرتے ہوئے دکھا ئی نہیں دیتے۔ قابل ذکر ہے اقتصادی اور سماجی نابرابری کی یہی خلیج صحت کے غیر مساوی حالات کو جنم دیتی ہے۔

آئین میں دیے گئے صحت کے مساوی حقوق سب کو میسر نہیں ہوتے، بلکہ اس اہم ترین منصوبے کے نفاذمیں بھی امیر غریب کا فاصلہ دنیا کی نظروں میں ہمارے سسٹم کو شرمسار کرتا رہتا ہے۔ہم نے اوپر عرض کیا ہے کہ کسی بھی معاشرہ کی صحت وتندرستی کیلئے غذائیت کا حصول ایک بڑا مسئلہ ہے۔لیکن بڑھتی ہوئی مہنگائی عام انسانوں کی پہنچ سے دور ہوتے وسا ئل، بڑھتی ہوئی بے روز گاری اورمٹھی بھر دھنا سیٹھوں کا اپنے ملک کے اثاثوں اور70فیصد وسائل پر قبضہ کر لینا وہ دھماکہ خیز سچائی جس کا انکار کوئی بے حس ہی کرسکتا ہے۔آج ہمارے ملک کی تقریبا آدھی آبادی 20 سے 32 روپے یومیہ میں گزر بسر کرنے پر مجبور ہے، لیکن دوسری طرف چند ہزار افرادجنہیں انگلیوں پرگنا جاسکتا ہے، انہیں 5 سے 6 کروڑ روپے کا پیکیج دیا جاتا ہے۔المیہ یہ ہے کہ عدم مساوات کا یہ فرق کم ہونے کے بجائے روزانہ بڑھ رہا ہے۔ملک کے انسانیت نواز آئین میں دیے گئے اختیارات کے باوجودعام شہریوں کو صحت اور تعلیم فراہم کرنے کی ذمہ داری پوری کرنے میںحکومتیں مستعد اوردیانتداری کا مظاہرہ نہیں کررہی ہیں۔صحت خدمات  میں عدم توجہ اورمجرمانہ غفلت کا سلسلہ جاری ہے تاکہ عام لوگ اسی طرح مسائل کا سامنا کرتے رہیں۔ آج عام لوگ جہاں بنیادی صحت سہولیات کی کمی کا شکار ہیں تودوسری طرف ہمارا ملک میڈیکل ٹورزم کی شکل میں نمایاں طورپر سامنے آ رہا ہے۔یہ کیسی بد نصیبی ہے کہ جس ملک کے72فیصد شہریوں کو صحت خدمات دستیاب نہیں ہے وہی ملک بیرونی مریضوں کیلئے علاج و معالجہ کی جنت بن کر ابھر رہا ہے۔ جب ہم دیگر ممالک سے صحت کے شعبے میں دیے جانے والے بجٹ کا موازنہ کرتے ہیں تو ہمارا ملک کا مقام چھٹے سے بھی نیچے  چلا جاتا ہے۔

اوپر ہم نے غربت کی وجہ سے جان لیوا بننے والی بیماری ٹیوبر کلوسس کاتذکرہ کیا ہے،جس کے بارے میں عالمی دارۂ صحت نے کہا ہے کہ غربت و افلاس ہی ٹی بی جیسے قابل علاج مرض کو سنگین بنا دیتا ہے۔ادارہ کا کہنا ہے کہ غربت، تنگ دستی، تنگ و تاریک ماحول، غذائیت و پروٹین کی کمی اور خصوصاً سگریٹ نوشی جلتی پر تیل کا کام دیتی ہے۔زیادہ تر معاملوں میںغربت کی وجہ سے عموماً مرض کی تشخیص اس وقت ہوتی ہے جب یہ بہت بڑھ چکا ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹی بی اگرچہ سو فیصد قابل علاج ہے تاہم ادویات کی کمی اورمہنگائی کے باعث مریضوں کی بہت بڑی تعداد علاج سے محروم رہ جاتی ہے۔ ایک امریکی رپورٹ غذائی پالیسی کے بارے اسی سال ماہ اکتوبر میں سامنے آ ئی ہے اس دعویٰ کیا گیا ہے ہند و ستا ن  اس وقت غذائی قلت اور بھوک کے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ یہاں کے حالات کی ابتری کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ شمالی کوریا اور عراق کی صورت حال بھی ہمارے عزیز ملک ہندوستان  سے بہتر ہے۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق دنیا کے 119 ترقی پذیر ملکوں کی فہرست میں ہندوستان  100ویں مقام پر ہے۔ یہاں تک کہ ہمسایہ ملکوں کی کارکردگی بھی اس سے کافی اچھی ہے۔13اکتوبر2017کو جاری کی جانے والی رپورٹ کے مطابق، نیپال 72ویں، میانمار 77 ویں، بنگلہ دیش 88 ویں، سری لنکا 84 ویں اور چین 29 ویں مقام پر ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جبوتی اور یوگنڈا جیسے افریقی ممالک کے حالات بھی ہندوستان سے اچھے ہیں۔ مذکورہ ادارے کے مطالعے سے ہندوستان میں بچوں کی انتہائی ابتر صورت حال سامنے آتی ہے۔ہندوستان میں پانچ سال تک کے 21 فیصد بچے کم وزن اور ناقص غذائیت کے شکار ہیں۔ ان کے قد کے تناسب میں ان کا وزن نہیں ہے۔ ایک تہائی آبادی یا 38.4 فیصد بچے ایسے ہیں جن کا جسمانی فروغ عمر کے تناسب میں نہیں ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھوک سے متاثر ملکوں کی عالمی فہرست میں اس مقام پر ہے جسے سنگین قرار دیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ اس سچائی کو واضح کررہی ہے کہ جس سرزمین کے عام باشندے قلت خوراک کے اس شدید بحران سے گزر رہے ہوں، وہاں صحت مند معاشرہ کی تعمیر کیسے ممکن ہوسکے گی؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حکیم نازش احتشام اعظمی

ڈاکٹرنازش اصلاحی ضلع اعظم گڈھ کےعلمی خانوادے سےتعلق رکھتےہیں۔ مدرستہ الاصلاح کےفاضل، جامعہ ملیہ اسلامیہ کےخوشہ چیں، ہمدرددیونیورسٹی سےبی یو ایم ایس ڈگری یافتہ ہیں۔ آپ بنیادی طورسےطبیب ہیں تاہم تصنیف وتالیف سےحددرجہ شغف رکھتے ہیں۔ کئی کتابوں کےمصنف ومؤلف ہیں۔ موصوف 'ترجمان اصلاح' اور 'فیملی ہیلتھ' میگزین کےایڈیٹر، صحت سےمتعلق ایک NGO اصلاحی ہیلتھ کیئر کےبانی بھی ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close