صحت

حفظان صحت اہم اسلامی فریضہ !

حکیم نازش احتشام اعظمی

ہر جاندار کو زندہ رہنے کے لیے تین چیزوں کی ضرورت ہے( 1) آکسیجن( 2) پانی( 3) غذا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ تین چیزیں ہمیں میسر ہیں اور ان کی کوالٹی کی کیا صورت حال ہے۔سب سے پہلے ہم زندگی کی ہرسانس کیلئے مطلوب آکسیجن کا جائزہ لیتے ہیں، تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ آکسیجن حیوانات و نباتات کیلئے کتنی اہمیت رکھتی ہے۔اس سے سلسلے میں اہم سوال یہ ہے کہ اگر زمین سے پانچ سیکنڈز تک، جی ہاں محض پانچ سیکنڈز تک کے لئے آکسیجن غائب ہوجائے تو کیا ہو گا ؟ہم سب ایک منٹ کے لئے سانس تو روک ہی سکتے ہیں، لیکن یہاں بات ہماری نہیں ہورہی، پوری زمین کی ہورہی ہے۔ پوری زمین سے محض پانچ سیکنڈز تک کے لئے آکسیجن غائب ہوجائے تو ساحل سمندر پر لیٹے لوگوں کی جلد فورا جھلس جائے گی، کیونکہ ہوا میں موجود مالیکیولر آکسیجن ہی ہمیں الٹرا وائلٹ روشنی سے بچاتی ہے۔ دن کے وقت آسمان کالا سیاہ ہوجائے گا، اندھیرا ہوجائے گا، کچھ دکھائی نہیں دے گا۔ دھات سے بنی ہوئی وہ تمام چیزیں جو الگ الگ ہیں، فورا سے پیشتر ویلڈ ہوجائے گی، جڑ جائے گی۔ کیونکہ ہوا میں موجود آکسیڈیشن کی تہہ ہی انہیں آپس میں جڑنے سے روکتی ہے۔ زمین کا پینتالیس فیصد حصہ آکسیجن سے بنا ہے، جیسے ہی آکسیجن غائب ہوگی، ساری زمین کھردری ہوجائے گی، اتھل پتھل ہوجائے گی اور اس پر چلنا اور قدم رکھنا مشکل ہوجائے گا۔ ہم ہوا کا 21 فیصد دباؤ کھو دینگے، لہذا ہمارے کان کے پردے فورا پھٹ جائیں گے۔ کنکریٹ کو زمین پر جمے رہنے میں آکسیجن مدد دیتی ہے۔ آکسیجن غائب ہوتے ہی کنکریٹ سے بنی تمام عمارتیں سیکنڈوں میں زمین بوس ہوجائیں گی، آکسیجن پانی کا ایک تہائی حصہ ہے، جیسے ہی آکسیجن غائب ہوگی، دنیا کے تمام سمندروں کا پانی ، ہائڈروجن گیس بن جائے گا، اس کا والیم بڑھ جائے گا، اور چونکہ ہائڈروجن سب سے ہلکی گیس ہے، اس لئے یہ اڑ کر فضاء میں چلی جائے گی۔ یعنی پوری دنیا میں پانی، سمندر، دریا جیسی کوئی چیز بچے گی ہی نہیں۔
آ کسیجن کی مذکورہ بالا تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ اہم گیس بنی نوع انسان کیلئے ہی نہیں ،بلکہ کرہ ارض کی بقا اورسلامتی کیلئے لازمی اورضروری ہے۔ یہ ذہن نشین رہے کہ جو چیز انسانی حیات کی بقا کیلئے ضروری ہے، اس کی تر سیل کو قدرت نے خود آسان اورعام کیا ہوا ہے،ذرا سوچئے! ہماری زندگی کیلئے لازمی آکسیجن اگر ہمیں خرید حاصل کرنیہوتی تو آج کرہ ٔ ارض پر کتنے فیصد لوگ اس کے متحمل ہوسکتے تھے۔لہذا خالق کائنات نے اس اہم ضرورت کی ڈور یا یوں کہیں کہ اس کی تقسیم کا سارا نظام اپنے دست قدرت میں تھا م رکھا ہے ۔لہذ امیر،غریب ،تونگراورفقیر سبھی کو یہ ہر حالت میں فراہم ہے۔اسی کے ساتھ شریعت اسلامی نے یہ اصول بھی بنا یا ہے کہ جو چیز انسان کی بقا کیلئے جتنی اہم ہوگی اس کی دیکھ ریکھ اور حفاظت کی ذمہ داری بھی اسی کے لحاظ سے کم یا زیادہ ہوگی۔چو نکہ آکسیجن ماحولیات کی قوت و بقا کا کی اسا س ہے ،لہذا اسے آ لودہ کرنا یا کسی بھی طرح سے چاہے مالی منفعت کیلئے ہو یا کسی دوسرے مقصد کیلئے ماحولیا کو نقصان پہنچا قانون فطرت کے منافی ہوگا اوراس کی خلاف ورزی کرنے وا لا اللہ کے نزدیک مجرم قرار پائے گا۔مذکورہ بالا توجیہ سے پتہ چلتا ہے کہ ماحولیات کو صاف ستھرا رکھنا ۔آب و ہوا کو آ لودگی سے بچانا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہی بلکہ یہ دینی فریضہ بھی ہے۔
علماء ومحققین طب نے اس با بت صفائی اور طہارت پر خصوصی توجہ فرمائی ہے اور بتا یا ہے غلاظت و گندگی اور کثافت و آ لود گی کے ساتھ ہم اچھی صحت کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔اس لئے کہ صفائی اورآکسیجن کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔چناں چہ مذہب اسلام اپنے ماننے والوں کو خاص طور پر پاکیزگی وصفائی اور طہارت کی طرف لازماً متوجہ کرتا ہے ،جو اصول طب کے لحاظ سے حفظان صحت کی بنیادی اینٹ بھی ہے۔ اِسلام علاج سے زیادہ حفظانِ صحت اور اِحتیاطی طبی تدابیر پر زور دیتا ہے۔ اِسلام کی جملہ تعلیمات کا آغاز طہارت سے ہوتا ہے اور حفظانِ صحت کے اْصولوں کا پہلا قدم اور پہلا اْصول بھی طہارت ہے۔ طہارت کے بارے میں حضور نبی اکرم کا فرمان ہے : صفائی اِیمان کا لازمی جزو ہے۔
(الصحیح لمسلم،ج1:ص 811)
اِسلامی تعلیمات میں طہارت کا باب اْن مقامات کی طہارت سے شروع ہوتا ہے جہاں سے فضلات خارج ہوتے ہیں۔ یہ طہارت کا پہلا اْصول ہے اور مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہر شخص سمجھتا ہے کہ اس کے بغیر طہارت کا کوئی تصور مکمل نہیں ہوتا۔حضرت انس بن مالک ؓسے روایت ہے کہ جب نبی اکرم ؐ رفعِ حاجت کے لئے تشریف لے جاتے تو میں اور ایک لڑکا پانی کا برتن لے کر حاضرِ بارگاہ ہوتے تاکہ آپ اس سے اِستنجاء فرما لیں۔
(صحیح البخاری، ج1:ص 72)
آج عالمِ مغرب میں پانی سے طہارت کے اس فطری طریقہ کو چھوڑ کر کاغذ وغیرہ کے استعمال کو رواج مل چکا ہے اور ہمارے ہاں بھی یہ طریقہ پروان چڑھ رہا ہے۔ حالانکہ اِس سے کئی خرابیاں اور قسم قسم کی بیماریاں بھی دَر آئی ہیں۔ عافیت درحقیقت اِسلام ہی کے بیان کردہ اْصولوں میں ہے۔ طبِ جدید کے مطابق جو لوگ رفعِ حاجت کے بعد طہارت کے لئے پانی کی بجائے فقط کاغذ استعمال کرتے ہیں اْنہیں متعدامراض خبیثہ کا شکار ہونا پڑسکتا ہے۔
مذہب اسلام کی اس تعلیم پر غور کیجئے اوردنیامیں مہلک صورت اختیار کرنے والی کریہہ بیماری بواسیر (Piles) کے پھیلنے کا جائزہ لیجئے۔ آ پ اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ یہ مکروہ مرض اس طبقہ میں زیادہ ہے جو پانی کے ذریعہ طہارت حاصل کرنے کی اسلامی تعلیمات کو پیروں تلے روند کر اپنے انگریزی اور ماڈرن آ قاؤں کی دیکھا دیکھی ٹشو پیپرز کا استعمال کرتا ہے۔اگر امت اسلامیہ نے طہارت کی نبوی تعلیم پر عمل کیا ہوتا تو وہ بیشتر موذی اور وبائی امراض سے کافی حد تک محفوظ رہ سکتی تھی۔مگر مغرب کی اندھی تقلید اور ماڈرن بننے کی اللہ مخالف فکر نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔
ایک طہارت و پاکیزگی سے بیزارگی نے ہمیں کئی گناہوں کا مرتکب بنادیا ہے جوہمیں دنیا اور آ خرت دونوں میں رسواو ذلیل کرنے کیلئے کا فی ہے۔میں نے اوپر طبی اور فقہی اصول بیان کرتے ہوئے ذکر کیا ہے کہ جو شئے بقائے کائنات کیلئے لازم ہے، اس کی حفاظت کا فریضہ ہمارے کندھوں پر زیادہ ہے۔ دنیا بھر میں اور خاص کر تیسری دنیا کے ممالک میں ہوا آلود ہ ہے ،جس سے پھیپھڑوں کی بیماری عام ہو رہی ہے ۔وائے افسوس! انسان نے کیا کیا نہیں کیا فضا کو آلود ہ کرنے میں وطن عزیز میں جو کچھ جس کا دل چاہتا ہے کر رہا ہے سب سے زیادہ خرابی کا سبب گاڑیاں اور فیکٹریاں ہیں۔ گاڑیاں اتنا دھواں چھوڑ رہی ہیں کہ روڈ پر نکلنا بہت مشکل نظر آتا ہے۔فیکٹریوں میں نہ جانے کیا کیا جلا جاتا ہے، لیکن ان پر کوئی پابندی نہیں اور تو اور کسی نے آج تک قوم کو یہ بتانے کی کوشش ہی نہیں کی کہ یہا ںسے اٹھنے والادھواں ہمارے لیے کتنا نقصان دہ ہے، یہ ایک زہر ہے جو ہمیں آہستہ آہستہ چاٹ رہا ہے۔کوئی کچھ بتانے یا ٹوکنے والا نہیںہے ۔ہم جہاں چاہتے ہیں کوڑے کو آگ لگا دیتے ہیں ۔حالانکہ یہ بہت نقصان دہ ہے۔ سب سے زیادہ نقصان دہ پلاسٹک ہے۔ پابندی ہونے کے باوجود پلاسٹک کاا ستعمال ختم نہیں ہواہے۔ پلاسٹک کے شاپر میں تیار کھانا بھی خراب ہو جاتا ہے اور جلنے پر انسان کو کینسرمیںمبتلا بھی کردیتا ہے۔درخت جو ہوا کو فلٹر کرتے ہیں ان کو بے دردی سے کاٹا جا رہا ہے۔ کوٰئی بھی پوچھنے والا نہیں۔ عوام تو عوام یہاں تک کہ حکومت خود درختوں کیلئے تباہی لا رہی ہے۔ آپ ہر طرف دیکھ سکتے ہیں کیسے درخت کاٹے جاتے ہیں ۔بقائے زندگی اورصحت کیلئے پانی بھی ایک لازمی سیال ہے ،جس کی آ لودگی کے نتیجے میں ہمارا جسم تمام بیماریوں کا اڈا بن جاتا ہے۔مگر اس پر غور کرنے اوراس کی حفاظت کیلئے سماج کو بیدار کرنے کی ساری ذمہ داری ہم نے بھلادی ہے،جس کی اللہ کے یہاں یقینا پرشش ہوگی۔ہماری عدم توجہ اور غفلت کے نتیجے میں صاف پینے کا پانی ملنا محال ہو گیا ہے۔ پہلے ہر طرف میٹھا پانی پایا جاتا تھا، آج صورت حال بہت خراب ہے پانی اتنا گندہ ہے کہ پینے کے کیا کپڑے دھونے کے قابل بھی نہیں ہے۔ اس کی کی وجوہات ہیں یہاں ہمارے شہر میں ہر طرف فیکٹریاں ہیں جہاں سے نکلنے والے زہریلے کچڑے ندیوں کے صحتمند پانی کو زہر میں تبدیل کررہے ہیں۔زہریلے کچڑوں کی کی نکاسی کا کوئی پروگرام نہیں ہونے کی وجہ سے علاقوں میں یہ پانی گلیوں محلوں میں پھر رہا ہے ۔مٹی جو پانی کو جذب کرتی ہے اور ساتھ ساتھ فلٹر بھی کرتی ہے اب وہ آلودہ پانی فلٹر کرنے سے قاصر ہے۔یاد رکھئے ! حفظان صحت کے یہ تمام اصول کی دیکھ بھال اورعمل آوری معاشرہ کو صحتمند بنانے میں مفید ہوگا اوراس کا بہتر اجر بھی ہمیں عطا کیا جائے گا۔مگر ہماری غفلت سے پورا معاشرہ بیماریوں کی آ ماجگا بن جائے گا ،جس سے ہم خود بھی بچ نہیں سکتے اور اللہ کے نزدیک سوال جواب کے بعد ہمیں اس کی سزا بھی مل سکتی ہے۔

مزید دکھائیں

حکیم نازش احتشام اعظمی

ڈاکٹرنازش اصلاحی ضلع اعظم گڈھ کےعلمی خانوادے سےتعلق رکھتےہیں۔ مدرستہ الاصلاح کےفاضل، جامعہ ملیہ اسلامیہ کےخوشہ چیں، ہمدرددیونیورسٹی سےبی یو ایم ایس ڈگری یافتہ ہیں۔ آپ بنیادی طورسےطبیب ہیں تاہم تصنیف وتالیف سےحددرجہ شغف رکھتے ہیں۔ کئی کتابوں کےمصنف ومؤلف ہیں۔ موصوف 'ترجمان اصلاح' اور 'فیملی ہیلتھ' میگزین کےایڈیٹر، صحت سےمتعلق ایک NGO اصلاحی ہیلتھ کیئر کےبانی بھی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close