صحت

دودھ نہیں، سفید زہر

جعلی دوھ کسی جانور سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ یہ مختلف قسم کی مضر چیزوں کوملا کر تیار کیا جاتا ہے۔

امتیازعلی شاکر

   ملک بھر میں چھوٹے بڑے شہروں کی طرح لاہور وگردنواح میں بھی جعلی دودھ مکھن، گھی اوردیگرکھانے پینے کی اشیاء کامکرودھندہ عروج پرہے۔ آج خاص طورپراپنے قارئین کویہ بتاناچاہتاہوں ہوں کہ ہم جسے صحت بخش دودھ سمجھ کرپی رہیں وہ دودھ نہیں سفیدزہرہے۔ آج انتہائی اہم اورخبردارکردینے والے حقائق کے ساتھ تحریرپیش خدمت ہے۔ اُمید ہے اس تحریرکو پڑھ کرآپ جعلی دودھ کے نقصانات سے محفوط رہنے کی کوشش ضرورکریں گے۔ دودھ اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ ایسی نعمت جو امیروغریب، بچوں ، بوڑھوں ، جوانوں اورمردوخواتین میں یکساں طورپرپسندیدہ غذاہے۔

دودھ کے فائدوں کوشمارکرناانتہائی مشکل کام ہے۔ دودھ ایسی غذاہے جسے دنیا بھر میں بہترین اور مکمل غذا سمجھاجاتا ہے۔ ڈاکٹر، حکیم اورشعبہ علاج سے تعلق رکھنے والے تمام ماہرین دودھ کوبے شماربیماریوں کا علاج بتاتے ہیں ۔ دودھ کودنیابھرمیں صحت کیلئے انتہائی مفید ترین غذاتسلیم کیاجاتاہے۔ زیادہ ترعلاقوں میں گائے، بھینس بھیڑ، بکری اُونٹنی کا دودھ استعمال کیا جاتا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق دودھ بیماریوں سے لڑنے کے لئے قوت مدافعت پیداکرتا ہے۔ کئی اقسام کے زہروں کا اثر ختم کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ دودھ میں 3.2 فیصد پروٹین، 4.1 فیصد کولیسٹرول، 8فیصد آیوڈین، 120 ملی گرام کیلشیم، 90 ملی گرام فاسفورس، 2 ملی گرام آئرن اور وٹامن اے، بی، سی پائے جاتے ہیں۔

بکری کے دودھ کو معالج حضرات بہت سی بیماریوں کے لئے شفاء قرارا دیتے ہیں ۔ بکری کا دودھ استعمال کرنے سے جسم کو طاقت ملتی ہے، قوت ہاضمہ تیز ہوتا ہے، بھوک کھل کر لگتی ہے۔ طبی اعتبار سے اُونٹنی کا دودھ بے شمار فوائد کا حامل ہے۔ صحرا میں رہنے والوں کے لئے اونٹنی کادودھ بہت بڑی نعمت ہے۔ رسول اللہ ﷺ بھی اُونٹنی کا دودھ شوق سے استعمال فرماتے۔ اُونٹنی کے دودھ میں وٹامن سی کی خاصی مقدار پائی جاتی ہے۔ ذیا بطیس کے مریضوں کیلئے اُونٹنی کا دودھ قدرت کی جانب سے عطا کردہ بہترین علاج اورمعجزے جیسی حقیقت رکھتاہے۔

 ماہرین صحت کے مطابق اُونٹنی کے دودھ میں انسولین کی خاصی مقدار موجود ہوتی ہے۔ انسولین ایک ہارمون ہے جو ذیابطیس کے مریضوں میں کم مقدار میں بنتا ہے۔ ڈاکٹرزحضرات شوگرکے مریضوں کو یہ ہارمون دوائیوں کی شکل میں دیتے ہیں ۔ اُونٹنی کا دودھ یرقان، دمہ اوربواسیر جیسے تکلف دہ امراض کے علاج میں شفاء یاب سمجھاجاتا ہے۔ گائے، بھینس اوربھیڑکادودھ بھی انسانی صحت کیلئے بے حد مفیدمکمل غذاہے۔

 افسوس کے ساتھ کہناپڑتاہے کہ ایک دودھ کی قسم ایسی بھی ہے جوانسانی صحت کیلئے مفیدنہیں زہرہے۔ یہی وہ جعلی دودھ ہے جسے پینے پرسوفیصد شہری مجبورہوچکے ہیں ۔ ماضی میں دودھ میں پانی کی ملاوٹ کی جاتی تھی جوشائد اس قدر نقصان دہ نہیں ہوگی جتناکہ آج جعلی دودھ نقصان دہ ہے۔ آپ یہ جان کرحیران ہوں گے کہ جعلی دوھ کسی جانورسے حاصل نہیں ہوتابلکہ یہ مختلف قسم کی مضرچیزوں کوملاکرتیارکیاجاتاہے۔ دور کی بات نہیں آج سے دس سال پیچھے چلے جائیں توگرمی شروع ہوتے ہی شہرمیں دودھ اوردودھ سے بنی دیگرغذائیں نایاب ہوجایاکرتیں تھیں ۔

یعنی گرمی کے موسم میں جانورکم دودھ دیتے تھے اورطلب میں اضافہ کے باعث دودھ کی شاٹج رہتی تھی۔ ماضی کے مقابلے میں آج آبادی میں سوگنااضافہ ہوچکاہے اورجانوربھی کم پالے جاتے ہیں پھربھی شہرکی تمام ملک شاپزپردودھ وافرمقدارمیں دستیاب رہتاہے۔ مجھے یہ کہنے میں شرم بھی محسوس ہورہی ہے کہ ہم جودودھ صحت بخش سمجھ کرپی رہے وہ سفیدزہرہے جسے ہم خوشی کے ساتھ خودخریدکرپی رہے ہیں ۔ جعلی دودھ کامعاملہ کسی سے ڈھکاچھپانہیں ۔ کئی جعلی دودھ سازکمپنیاں پکڑی جاچکی ہیں ۔ پنجاب فوڈاتھارٹی جعلی دودھ کے متعلق تمام حقائق سے آگاہ ہے۔ جعلی دودھ میں جوخطرناک اجزاء استعمال کئے جاتے ہیں اُن میں یوریا، کپڑے دھونے والاسَرف، ہائیڈروجن، فارمولین، نشاستہ مایا، کوکنگ آئل یا ڈالڈا گھی، میگنیشیئم سلفیٹ، ملک پوڈر، دودھ کی پی ایچ۔ اساس اورتیزاب میں توازن برقرار رکھنا۔ گاڑھا پن بڑھانے کیلئے بال صفا پوڈر استعمال کیا جاتا ہے، بورک ایسڈ اور عام سادہ پانی، پسے سنگھاڑے، کیلشیم ہائڈرو آکسائڈ، سکم ملک پاؤڈراورپینٹ بھی ڈالاجاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جعلی دودھ سے بہت سارے موذی امراض میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہورہاہے۔

ماہرین صحت کے مطابق جعلی دودھ پینے سے ابتدائی طورپرپیٹ کی تمام بیماریاں ، تیزابیت، قے، پیچش، فوڈ پوائزننگ، بچوں کے دانتوں کا خراب ہونا، گروتھ کم ہونا، نظر کا کمزور ہونا اور دیگر ایسی بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں جو جعلی دودھ کے مسلسل استعمال سے آگے بڑھ کر کینسر، ہائیپر ٹینشن، کڈنی، لیور، شوگر، لبلبے کی بیماریاں پیدا کرتا ہے۔ قارئین محترم اپنے اردگردکاجائزہ لیں آپ کوفوری علم ہوجائے گاکہ آج انسانی معاشرہ ایسے ہی امراض کاتیزی کے ساتھ شکارہوچکاہے۔

راقم کے خیال میں جعلی دودھ بنانے والے مافیاکوپکڑناہمارے اداروں کے بس کی بات نہیں لہٰذاجعلی دودھ کی پیدوارروکنے اوراپنی صحت کواس سفید زہرسے محفوظ رکھنے کاصرف ایک ہی طریقہ ہے کہ شہری دودھ کااستعمال کم سے کم کریں اوردودھ خریدتے وقت اچھی طرح تسلی کرلیں کہ دودھ گائے، بھینس، بھیڑ، بکری یااُونٹنی کاہوناکہ کسی مشین میں تیارکردہ۔ جعلی دودھ کودوکاندارایسے برتن میں رکھتے ہیں جس کے نیچے چھوٹی سی موٹرنصب ہوتی ہے یادکانداردودھ کوباربارہلاتے رہتے ہیں اس کے علاوہ اس برتن میں ایک عدد ٹمپریچربتانے والامیٹربھی نصب ہوتاہے۔ فریج کے اندرمحفوظ دودھ بھی دکاندارکسٹمرکودیتے وقت خوب ہلاکردیتے ہیں۔ جعلی دودھ تمام بڑے شہروں میں سرعام فروخت ہورہاہے اوراس سفید زہرکوفروخت کرکے انسانی جانوں سے کھیلنے والے مافیاکے گریبان میں ہاتھ ڈالنے کی طاقت ہمارے کسی ادارے میں نہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close