صحتطب

دودھ کی غذائی و طبی افادیت

 شمیم ارشاد اعظمی

دودھ مبدأ فیاض کی طرف سے حضرت انسان کے لئے ایک عظیم نعمت ہے۔ یہ ایک سفیدسیال ہے جو قدر شیریں ہوتا ہے۔ دودھ میں غذائی اجزاء کے ساتھ ساتھ دوائیت کا عنصر بھی موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دودھ جہاں ایک طرف جسم انسانی کے لئے تغذیہ فراہم کر کے اسکی نشو و نما میں اہم رول اداکرتا ہے وہیں یہ اپنے اندر دوائی تاثیر بھی رکھتا ہے جس کی مدد سے یہ مختلف اقسام کے امراض سے لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دودھ(شیرمادر) بچوں کے لیے فطری اور سب سے زیادہ مناسب غذا ہے۔ وہ بچے جو دودھ پینے کے عادی ہوتے ہیں ان کی ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں کیونکہ دودھ کے اندر کیلشیم کا عنصرپایا جاتا ہے جو ہڈیوں کو مضبوط رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں بھاری مقدار میں پروٹین، شکری مادے اوشحمیات  پائے جاتے ہیں ۔ جو جسم کی نشو ونما میں اہم رول ادا کرتے ہیں ۔

دودھ کے اندر غلظت، رقت، مائیت اور افادیت مختلف قسم کے جانور، عمر، ماحول و علاقہ، صحت اور چراگاہ پر منحصر ہے۔ وہ جانور جو جوان اور صحتمند ہوتے ہیں ان کا دودھ عمدہ ہوتا ہے۔ بہار کے موسم کا دودھ گرمی کے موسم  کے بالمقابل میں پتلا ہوتا ہے۔ اسی طرح وہ جانور جو ہری بھری چراگاہوں میں چرتے ہیں ان کا دودھ مرطوب ہوتا ہے اور جو جانور پہاڑوں میں چرنے والے ہیں ان کا دودھ گرم خشک ہوتا ہے۔ دودھ تین جوہر سے مرکب ہوتا ہے۔ اول جبنیت (پنیر)، دوسری مائیت(پانی) اور تیسری چیززبدیت (مکھن) ہے۔ جب ان چیزوں کو دودھ سے علاحدہ کر لیا جاتا ہے تو ان کے افعال و خواص دوائی وغذائی بھی الگ الگ ظاہر ہوتے ہیں ۔ یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیئے کہ دودھ استحالہ کے اعتبار سے بہت جلد تغیر پذییر ہوتا ہے یعنی جب اس کے اندر ہوا اور ماحول کی حرارت پہونچتی ہے تو اس کی کیفیت اصل کیفیت سے ہٹ جاتی ہے۔ اسلئے اطباء کا کہنا ہے کہ دددھ نکالنے کے فورا بعد ہی استعمال کیا جائے۔ جس دودھ میں مائیت زیاد ہ ہوگی وہ کم نقصان کرتا ہے۔ کیونکہ یہ جلد ہضم ہو جاتا ہے۔ سب سے عمدہ دودھ عورت کا ہوتا ہے، کیونکہ یہ سب سے زیادہ لطیف ہوتا ہے۔ اس لئے بچوں کہ یہ سب سے عمدہ غذا ہے۔

مزاج

دودھ مزاج کے اعتبار سے حرارت اور برودت میں معتدل اور رطب ہوتاہے ۔

اقسام و خصوصیات

٭مختلف جانوروں کا دودھ خصوصیات کے لحاظ سے جدا جدا ہوتا ہے۔

٭سفید جانور کا دودھ قوت کے اعتبار سے ضعیف ہوتا ہے کیونکہ سفید جانور خود ضعیف ہوتا ہے۔

٭کمسن جانوروں کو دودھ زیادہ مرطوب ہے اور بوڑھے جانوروں کا دودھ خشک ہے۔

٭اونٹنی کا دودھ سب سے زیادہ مرطوب ہے اور چکنائی میں سب سے کم ہے۔ یہ ایسے حیض کو جاری کرتا ہے جو حرارت اور خشکی کے باعث رک گیا ہو۔ اس کے پینے سے رحم کے  اورام کھل جاتے ہیں ۔

٭بکری کادودھ رقت اور غلظت  کے اعتبار سے معتدل ہے۔  یہی وجہ ہے کہ جو لوگ گائے کا دودھ ہضم نہیں کر پاتے ہیں وہ بآسانی بکری کا دودھ ہضم کر لیتے ہیں ۔ یہ ترطیب، بدن کی شادابی، خارش اور جذام میں موافق و مفید ہے۔ نیز یہ نفث الدم اور پھیپھڑے کے زخم میں فائدہ دیتا ہے۔

٭ جامعہ طبیہ دیو بند، دیو بند، سہا رنپور، اتر پردیش۔

٭٭ نیشنل انسٹی ٹیوت آف یو نانی میڈیسن، بنگلور۔

٭٭٭ اجمل خان طبیہ کالج، مسلم یو نیور سٹی، علیگڈھ۔

٭بکری کا دودھ گائے کے دودھ سے کم مسہل ہے اور ہر حال میں اس کی منفعت معتدل ہے۔ یہ غذائیت زیادہ ہوتی ہے اور تمام دودھ میں کم نقصان دہ ہے۔

٭بھیڑ کا دودھ گاڑھا، میٹھا اور چکنا ہوتا ہے۔ یہ کھانسی، دمہ کے لئے مفید ہے اور دماغ اور نخاع میں صحتمند افزائش کرتا ہے۔

٭گائے کا دودھ سب سے بہتر اور عمدہ ہوتا ہے۔ یہ مقوی اور جسم کو تغذ یہ فراہم کرتا ہے۔ اس کے استعمال سے بڑھاپا دیر سے آتا ہے۔ اس کے علاوہ سل و دق، نقرس اور پرانے بخاروں میں مفید ہے۔ نیز گائے کی چھاچھ سل کے لئے مفید ہے۔

٭گدھی کے دودھ میں جبنیت نہیں ہوتی ہے اس لئے یہ جلد ہضم ہوجاتا ہے اور اس سے نفخ بھی نہیں ہوتا۔ یہ التہاب قلب و ریہ، پیچس اور خونی دستوں میں مفید ہے۔ امراض صدر میں بالخصوص سل و دق  کے زخموں میں بے حد مفید ہے۔ نیز یہ سمی اثرات کو زائل کرتا ہے۔

افعال و خواص

٭دودھ خشک مزاج والوں کے لئے عمدہ غذا ہے۔ کیونکہ یہ ان میں رطوبت اور شادابی پیدا کرتا ہے۔

٭ دودھ مرطب ہونے کی وجہ سے سل و دق، خشک کھانسی اور پیشاب کی جلن میں مفید ہے۔

٭ دودھ دماغ کی خشکی کو دور کرتا ہے اور نیند لاتا ہے۔

٭امراض قلب، غم و وسوا س ا ورحشت کو دور کرتا ہے۔

٭پیشاب آور ہے اس لئے اس کا استعمال پیشاب کی جلن میں مفید ہے۔

٭باہ کی قوت میں اضافہ کرتا ہے۔

٭دودھ کا پینا منھ سے خون، کھانسی، سل اور پھیپھڑے کے زخم، مثانے کے زخم اور خناق میں مفید ہے۔

٭یہ حلق، تالو، کوؤں  کے ورم میں مفید ہے۔ اگر اس میں مغزاملتاس شامل کر کے غرغرہ کریں تو زیادہ مفید ہے۔

٭تمام اقسام کے دودھ آشوب چشم (آنکھ سرخ ہونا و دکھنا )میں مفید ہے۔

٭اگر دودھ کے ساتھ روغن گلاب اور تھوڑی انڈے کی سفیدی کا اضافہ کر لیں اور پپوٹوں پر لگائیں تو ورم اجفان میں مفید ہے۔

٭دودھ ملین شکم اور مقوی جسم ہے۔

٭عمدہ دودھ صالح خون پیدا کر نے میں سب سے اچھی غذا ہے۔

٭یہ قروح معدہ، بواسیر اور ورم انثیین میں مفید ہے۔

٭دودھ سوداوی امراض میں ایک بہتریں غذا ہے۔

٭دودھ بدن کو فربہ کرتا ہے نیز جلد کو نکھارتا ہے۔

٭دودھ امراض یابسہ جیسے کھجلی، قوبا اور جذام میں مفید ہے۔

٭دودھ نسیان کو ختم کرتا ہے اور یاد داشت کو بڑھاتا ہے۔

٭دودھ بدن کی رطوبت اصلیہ (باڈی فلوئیڈ)کی حفاظت کرتا ہے۔

٭دودھ تکان کو دور کرتا ہے۔

طریقہ استعمال

٭دودھ تازہ پیا جائے۔

 وہ اشخاص جو دودھ ہضم نہیں کر پارہے ہیں تھوڑی مقدار میں شہد ملا لیں تو وہ قابل ہضم  ہو جائے گا۔ بہتر یہ کہ جس جانور کا دودھ ہضم نہیں ہو رہا ہے اس کا استعمال ہی ترک کر دیا جائے اور اس کی جگہ دوسرے جانور کا دودھ استعمال کیا جائے۔

٭صبح و شام کبھی بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، مگر اس کے استعمال کے بعد کوئی دوسری چیز کھانے سے احتراز کیا جائے تا وقتیکہ دودھ ہضم ہو کر معدہ سے نیچے اتر جائے۔

٭ ایک گلاس دودھ روزآنہ کافی ہے۔

پر ہیز 

٭دودھ گرم مزاج اور گرم ملکوں والے باشندے، یا جن کی تلی اور جگر میں خرابی ہو ان کے لئے نقصان دہ ہے۔

٭تاریکی چشم، گنجے پن اور کچی ڈکار کی صورت میں دودھ کا استعمال نہ کیا جائے۔

٭دودھ درد سر، بخار، پیاس اور صفراویت کے غلبہ کی صورت میں دودھ نقصان دہ ہے۔ اسی طرح دودھ قولنج، بہق اور ضعف معدہ والے اشخاص کے لئے ضرر رساں ہے۔

٭دودھ کے ساتھ ترشی، مچھلی، مولی، پیاز، پان، سپاری اور نمکین اشیاء کا استعمال نہ کریں ۔

جدید تحقیقات  

عام طور سے دودھ میں پروٹین، کاربو ہائیڈریٹ(شکری مادے)، فاسفورس، رائیبوفلوون(Vit.B 12)، کیلشیم، پوٹیشیم، آیوڈین، میگنیشیم، تھیامین، وٹامن A,D,K) (اچھی مقدار میں پائے جاتے ہیں ۔ یہ وہ عناصر ہیں جو ہمارے جسم کی نشو ونما اور اس کی بقاو تحفظ میں اہم رول ادا کرتے ہیں ۔ بالخصوص کیلشیم اور فاسفورس ہڈیوں کاتحفظ اور انہیں مضبوط کرتے ہیں ۔ کیلشیم خلیات قولون کوان کیمیائی مادے سے محفوظ رکھتا ہے جو کینسر کا باعث ہوتے ہیں نیز یہ شقیقہ (Migraine) میں مفید ہے۔ پوٹیشیم بلڈپریسر اور قلب کے افعال کو نارمل رکھتا ہے۔ دودھ امراض قلب جیسے عروقی ہائیپرٹینشن اورکورونری ہرٹ کی بیماریوں میں تحفظ فراہم کرتا ہے ا ور یہ موٹاپا کی وجہ سے پیدا ہونے والے ذیابطیس سے بھی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ میڈیکل تحقیقات بتاتی ہے کہ دودھ میں پایا جانے والا (CLA ( Conjugated linoleic acid   جلدی کینسر اور پستان کے کینسر کو ختم کرتا ہے اور کولسٹرول لیول کو کم کر نے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

کتابیات

۱۔ ابولحسن علی بن سہل ربن الطبری، فردوس الحکمۃ (مترجم:حکیم محمد اول شاہ سنبھلی)، فیصل پبلیکیشنز، دیو بند، ۲۰۰۲، صفحہ ۲۵۱

۲۔ ابی بکر محمد بن زکریا رازی الطبیب، الحاوی فی الطب، المجلد السابع، دار الکتب العلمیہ، بیروت، لبنان، ۲۰۰۰، صفحہ ۳۲۹۹۔ ۳۳۲۰

۳۔  الشیخ الرئیس  ابو علی  الحسین بن عبد اللہ بن سینا، القانون فی الطب، جلد دوم، انسٹی ٹیوٹ آف ہستری آف میڈیسن اینڈ میڈیکل ریسرچ، جامعہ ہمدرد، نیودہلی۔ ۱۹۸۷، ۳۵۶۔ ۲۳۶۰

۴۔ ابن بیطار، الجامع لمفردات الادویہ و الاغذیہ، جلد چہارم، سی۔ سی۔ آر۔ یو۔ ایم، ۲۰۰۳، صفحہ: ۲۲۲۔ ۲۳۴

۵۔ داؤد بن عمر الانطاکی، تذکرہ اولی الالباب وا لجامع للعجب العجاب، المجلد الاول، دار الکتب العلمیہ، بیروت، لبنان، ۱۹۹۸، صفحہ ۶۲۵۔ ۶۲۷

۶۔ مہذب الدین  ابولحسن علی بن احمد بن علی بن ہبل البغدادی، کتاب المختار فی الطب، حصہ اول،  سی۔ سی۔ آر۔ یو۔ ایم، ۲۰۰۵، صفحہ :۲۳۶

۷۔ محمد بن زکریا رازی، کتاب المنصوری، سی۔ سی۔ آر۔ یو۔ ایم، ۱۹۹۱، ۱۰۸

۸۔ ابو الو محمد ابن رشد، کتاب الکلیات، سی۔ سی۔ آر۔ یو۔ ایم، بار دوم:  ۱۹۸۷، ۳۱۵

۹۔ حکیم نجم الغنی، خزائن الادویہ، اعجاز پبلشنگ ہاوس، نئی دہلی، سال ندارد، صفحہ:۶۹۵۔ ۶۹۷

  1. http://www.dairyforall.com/goatmilk-composition.php
  2. http://en.wikipedia.org/wiki/Milk
  3. http://www.whfoods.com/genpage.php?tname=foodspice&dbid=131
مزید دکھائیں

شمیم ارشاد اعظمی

مضمون نگار الہ آباد میں اسٹیٹ یونانی میڈیکل کالج کے شعبہ علم الادویہ میں ریڈر ہیں۔ طب کی نو کتابوں کے مصنف ہیں اور ان کے درجنوں وقیع تحقیقی و علمی مضامین قومی اور بین الاقوامی طبی جرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔ آپ کو طب میں مختلف ایوارڈوں سے بھی سرفراز کیا جاچکا ہے۔

متعلقہ

Close