صحت

سگریٹ نوشی اور تمباکوخوری: عقل ونقل کی روشنی میں

شریعت کا  ایک متعیّن قاعدہ ہےکہ صغیرہ گناہوں  پر اصرار اور مداومت  انہیں کبائر سے قریب کردیتی ہے،  یہاں بھی اسی طرح یہ خوف ہے کہ مکروہ پر اصرارومداومت  اسے حرام سےقریب کردے۔

عبدالعلیم بن عبدالحفیظ سلفی

اسلام نے زندگی کے تمام شعبہ جات میں اپنی بہترین رہنمائی سے ساری دنیا کو عموما اور امت اسلامیہ کو خصوصی طور پرروشناس کرایا ہے، عبادات ومعاملات سے لے کر کھانے پینے تک کے سارے اصول وضوابط قرآن وسنت کے کے اندربیان کردئے گئے ہیں، خاص طورسےاس کے تمام احکام وشرائع میں خورد ونوش کےمسائل کو کافی اہميت دی گئی ہے، اور نہایت ہی خصوصیت کے ساتھ اس کے مسائل کا ذکرکیاگیا ہے، کھانے پينےکےآداب، حرام وحلال کی پوری تفصيل، انہيں حاصل کرنےکےجائز وناجائز وسائل و ذرائع کا بيان اورخرچ کرنے کی راہيں، ان تمام چيزوں کابيان اوران کی پوری تفصيل قرآن وسنت اور کتب فقہ ميں بھری پڑی ہيں۔
حلال وحرام کی پوری تفصيل کےسا تھ ساتھ اللہ رب العزت نےان اشياء کے لئے ايک اصول بھی بناديا ہے، جو مرورِزمانہ کے ساتھ وجود ميں آتی رہتی ہيں، ارشاد فرماتاہے:

وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَآئِثَ ( الأعراف : 157 )

 ( محمد  صلی اللہ عليہ وسلم) ان کے لئے پاکيزہ صاف ستھری چيزيں حلال بتاتے ہيں اورگندی ناپاک چيزيں حرام بتاتے  ہيں ) اور ظاہر ہےکہ يہ  قاعدہ کلّيہ قيامت تک کےلئے، ہرزمانہ میں دنياکےتمام گوشے اورخطّےکے لئےہے لہذادنياکے کسی بھی خطّے اورزمانےميں پائی جانے والی کوئی بھی چيز شريعت کے متعيّن اس اصول سےخارج نہيں ہے، انہيں اشياء ميں سے ايک تمباکو اور اس سے مشتق ديگر اشياء مثلا : سگريٹ، بيڑی، چيلم، زردہ، کھينی، ہيروئن، افيون، بھنگ، گانجہ، ڈرگس اور نشہ آورانجکشن وغيرہ بھی ہيں، جنہيں قرآن وسنت کےنصوص اورشريعت کےتمام اصول وقواعد کے پيشِ نظرعلمائے کرام حرام قراردیتے ہيں، کيونکہ يہ حرام اشياءاللہ کی حدودہيں جن کی پاسداری ہرمومن پر فرض ہے، ارشاد فرماتاہے :

وَمَن يَعْصِ اللّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَاراً خَالِداً فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُّهِينٌ (النساء : 14)

(اورجواللہ اوراسکے رسول کی نافرمانی کرےگااوراس کی مقرّرکردہ حدوں سے آگے  نکلےگا، اسے جمّق  کی آگ ميں ڈال دےگا جس ميں وہ ہميشہ رہےگا اور اس کے لیے رسوا کن عذاب ہوگا )

ذیل میں ہم سگریٹ نوشی اور تمباکو خوری کی حرمت سے متعلق چند دلائل پیش کرتے ہیں، شاید امت کے اس طبقہ کے لئے مفید ہوں جو شعوری یا غیرشعوری طور پر  دنیا وآخرت میں ان  ضررآمیز اشیاء کے استعمال کے مرتکب ہیں۔ اللہ تعالی ہم سب کو صحیح راستے کی توفیق بخشے۔

سگریٹ نوشی اورتمباکوخوری کی حرمت کے چند دلائل:

پہلی دلیل:

  اللہ کےرسول صلی اللہ عليہ وسلمنےارشاد فرمايا:” كل مسكرخمروكل مسكرحرام ” )مسلم: 3/1587 ) "ہرنشہ آورچيزشراب ہے(يعنی شراب کےحکم ميں ہے)اورہرنشہ آورچيزحرام ہے”

مذکورہ حديث نبوی ميں ايک قاعدہ کُلّيہ بيان کردياگياہے، جس کی رو سے ہر وہ شئ جس کے اندرنشہ ہو ياجوعقل ميں خرابی ونشہ کاسبب  بنےحرام ہے، اس کانام چرس، گانجہ، بھنگ، افيون، ہيروئن، کوکنع، نشہ آور انجکشن، زردہ، تمباکو، بيڑی، سگريٹ، گٹُکھاياکچھ  بھی رکھـ ليں، کيوں کہ ان تمام کے اندرنشہ ہے۔

 بعض حضرات کويہ کہتے ہوئے سناجاتاہے کہ ايک عادی آدمی بيڑی  اورسگريٹ وغيرہ کےاستعمال سے اپنے  اندرسکون محسوس کرتاہے، نہ کہ نشہ؟ تويہ اس کی سمجھـ کا پھير اورعقل کی کوتاہی ہے، اگرآدمی اللہ رب العزت کی دی ہوئی ” نعمتِ عُظمی ” يعنی عقل و فکر کا صحيح  استعمال کرے تو اتنی سطحی بات سوچنے سے بھی احتراز کرےگا، ايک عادی شرابی اگرايک متعيّنہ مقدار يا اس سے کم شراب کا استعمال کرتا ہے تو اسے سکون ہی ملتاہے، نشہ نہيں ہوتا، تو کيا ايسےشخص کے لئے شراب حلال ہے ؟

اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم نے واضح طور پر ارشاد فرمايا ہے : "ماأسكر كثيره فقليله حرام ” (أبوداؤد : رقم / 3681) صحيح سنن أبى داود :  رقم /3128)  "جس(نشہ آور) چيز کی زيادہ مقدارنشہ دے اس کی تھوڑی مقداربھی حرام ہے”

عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہےکہ : اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمايا :  ” كل مسكرحرام وما أسكر منه الفرق فملأ الكف منه حرام”( أبوداؤد  : رقم  / 3687 ) ترمذى : رقم  / 1866 ) وأحمد ( 6 /71 , 131 )   شيخ البانى نے غایۃ المرام  رقم  /59)  میں اس کی تصحیح کی ہے )” ہرنشہ آور شئ حرام ہے اورجوچيز ايک  پيالہ کی مقدار ميں نشہ ديتی ہو اس کا ايک چلو بھی حرام ہے ”
يہاں پرايک روايت بيان کردينا زيادہ مناسب ہے جس کے اندر کبھی کبھار نشہ کرنےوالے کے لیے وعيدشديد سنائی گئی ہے، اللہ کےرسول صلی اللہ عليہ وسلم نےارشادفرمايا :

"من شرب الخمر وسكرلم تقبل له صلاةٌ أربعينَ صباحاً  فإن مات دخل النّار, فإن تاب تاب الله عليه  و إن عاد فشرب و سكر لم تقبل له صلاةٌ أربعينَ صباحاً , فإن مات دخل النّار,فإن تاب تاب الله عليه , وإن عادكان حقاًعلى الله أن يسقيه من ردغــة الخبال يوم القيامة ” قالوا: يارسول الله!وما ردغــة الخبال؟قال:”عصارة أهل النار” ( ابن ماجۃ  : رقم /3377 ) صحيح الجامع الصغير للعلاّمۃ الألبانى  : رقم /6313 )

  اس معنی کی روایت جابر  رضی اللہ  عنہ   سے مختصراً  صحیح مسلم کے اندرہے، دیکھئے : ( 3/1587)

” جس نے شراب پی  اوراسے نشہ آگيا  اس کی چاليس دن کی نماز قبول نہيں ہوگی، اگر مرگيا توجہنّم ميں داخل ہوگا، اوراگر(مرنے سے پہلے) سچّی توبہ کرلی تو اس کی توبہ  اللہ رب العزّت قبول فرمالے گا اور اگراس نےدوبارہ شراب پی اوراسےنشہ آگيااس کی چاليس دن کی نماز قبول نہيں ہوگی، اگر مرگيا تو واصلِ جہنّم ہوگا، اوراگر (مرنے سے پہلے) سچّی توبہ کرلی تواس کی توبہ اللہ رب العزت قبول فرمالےگا اور اگراس نے پھر دوبارہ  يہی کيا تو اللہ تعالی کےذمّے  يہ برحق وعدہ ہےکہ اسے ” ردغة الخبال ” سے پلائےگا، صحابہ کرام  رضی اللہ عنھم نے عرض کيا :اے اللہ کےرسول ! ” ردغة الخبال ” کياہے؟ آپنے فرمايا:”وہ جہنميوں کےجسم سےخارج ہونے والا گندہ مواد ( خون، پسينہ، پيپ وغيرہ ) ہے  "

  اگر کبھی کبھارنشہ کرنے کايہ انجام ہے توبرابر نشہ کےعادی افرادکا انجام کيا ہوسکتاہے؟ سمجھنا چنداں مشکل نہيں  !

دوسری دلیل:

 انسانی زندگی اللہ تعالی کاعطيہ اوراس کی نعمت ہےجس کی قدروقيمت ہر فردبشر پرعياں ہےاوراس کی حفاظت ہرہوشمند آدمی پرواجب ہے، اگر وہ اس کی ناقدری کرتےہوئےاسےضائع کرتا ہے يااس کی حفاظت سےروگردانی کرتاہے تو يہ اس نعمت کےساتھ ناانصافی اوراللہ تعالی سےبغاوت ہے، کيونکہ اللہ تعالی نے اس کی حفاظت کاحکم دينے کےساتھ ساتھ اس کے زياں پر وعيد شديد سنائی ہے، ارشاد فرماتاہے:  وَلاَ تَقْتُلُواْ أَنفُسَكُمْ إِنَّ اللّهَ كَانَ بِكُمْ  رَحِيماً وَ مَن  يَفْعَلْ ذَلِكَ  عُدْوَاناً وَ ظُلْماً فَسَوْفَ  نُصْلِيهِ نَاراً وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللّهِ يَسِيراً (النساء : 29 ـ30) ( اپنےآپ کوقتل نہ کرو يقينًا اللہ تعالی تم پر نہايت مہربان ہےاور جوشخص يہ( نافرمانياں ) سرکشی اورظلم سےکرےگا تو عنقريب ہم اس کوآگ ميں داخل کريں گے اور يہ اللہ پرآسان ہے)۔ ايک دوسری جگہ ارشاد فرماتاہے :{لاَ تُلْقُواْ بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ} (البقرة : 195) ( ا پنے آپ کو  ہلاکت ميں مت ڈالو )۔

ابوہريرہ رضی اللہ عنہ سے  مروی ہے  کہ  اللہ  کے  رسول  صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمايا :

” من تردى من جبل فقتل نفسه فهوفى نارجهنّم يتردى فيه خالداًمخلداً فيهاأبداًومن تحسى سمّا   فقتل نفسه فسمّه فى يده يتحسّاه فى نارجهنّم خالداً مخلداً فيهاأبداً و من قتل نفسه بحديدة فحديدته فى يده يجأبهافى بطنه فى نارجهنّم خالداً مخلداً فيها أبداً "( مسلم : الإيمان  ( 175 / 109)

 "جس کسی نےپہاڑسےکود کر اپنی جان ديدی وہ جہنّم کی آگ ميں ہوگا، اس کے اندر ہميشہ اپنےآپ کوگراتا رہےگا، اورجس نےزہرکا گھونٹ لےکر خودکشی کی اس کا زہر جہنّم ميں اس کےہاتھـ ميں ہوگا، اوروہ ہميشہ اس سےگھونٹ ليتارہےگا، اورجس نےدھاردار آلہ سے خود کوہلاک کيا تو اس کا آلہ جھنّم ميں اس کےہاتھـ  ميں ہوگا، اور وہ ہميشہ اس سے اپنے پيٹ ميں مارتارہےگا”

 مذکورہ نصوصِ قرآن وسنت کےاندرواضح طورپربيان کردياگياہےکہ کسی بھی چيزکو استعمال کرکےاپنے آپ کوہلاک کرنااللہ تعالی کے نزديک مبغوض اور ناپسنديدہ عمل ہے، جس کےارتکاب پرسخت وعيد سنائی گئی ہے، اسی لئے اللہ تعالی نےانہيں اشياء کوکھانےپينے کاحکم دياہےجوپاک اورطيّب وطاہر ہونےکےساتھ ساتھ ا نسانی جسم واعضاءکے لئے صحت بخش اورمفيدہوں، ارشاد فرماتاہے :{ يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ}(المائدة : 4) ((اے محمد  صلی اللہ عليہ وسلم ) يہ لوگ آپ سےدريافت کرتےہيں کہ کياکچھ ان کےلئے حلال ہے ؟ توآپ کہہ  ديجئے کہ تمام پاک  چيزيں تمہارے لئے  حلال کی گئی ہيں "

ايک دوسری جگہ ارشاد فرماتا ہے:{ يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُواْ مِمَّا فِي الأَرْضِ حَلاَلاًطَيِّباً} (البقرة:168) ( لوگو! زمين ميں جتنی بھی حلال اور پاکيزہ چيزيں ہيں انہيں کھاؤ) اورايک مقام پر نبی اکرم صلی اللہ عليہ وسلم  کا وصف بيان کرتے ہوئے فرماتاہے: {يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ  الْمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَآئِثَ}  ( الأعراف : 157) ( وہ ان کو نيک باتوں کا حکم فرماتےہيں اوربری باتوں سے منع فرماتے ہيں، اور پاکيزہ چيزوں کوحلال بتاتے، ہيں اورگندی چيزوں کوان پرحرام فرماتےہيں )  ابوہريرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمايا : ” إن الله تعالى طيب لايقبل إلاّ طيباً , وإن الله أمر المؤمنين بما أمربه المرسلين  فقال تعالى:  {يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحاً} (المؤمنون : 51) وقال تعالى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ كُلُواْ مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ }(البقرة : 172) ثم ذكرالرجل أشعث أغبريمد يديه إلى السماء, يارب! يارب!ومطعمه حرام و مشـربه حـرام وملـبسـه حـرام  و غذى  بالحـرام  فأنى يستجاب له” (مسلم  :رقم  / 1015)

” اللہ تعالی پاک ہے اورصرف پاک ہی کوپسندکرتا ہے، اس نےجن چيزوں کا حکم انبياء کرام(عليہم السلام) کوديا انہيں چيزوں کاحکم مومنوں کو بھی ديا، فرمايا: ( اے رسولو ! تم  لوگ پاک چيزوں ميں سے کھا ؤ اور نيک اعمال انجام دو) اور(مومنوں کو حکم  ديتے ہوئے ) فرمايا:(مومنو! جوکچھـ  ميں نےتم کو دياہے ان میں سے پاک چيزيں کھاؤ ) پھرآپ صلی اللہ عليہ وسلم نے ايسےآدمی کاذکرکياجو لمبے سفرپرہوتاہے، پراگندہ بال اور گردآلودہوتاہے، پھرآسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کردعاء کرتاہے: يارب ! يارب ! جبکہ اس کاکھاناحرام ہے، پيناحرام ہے، پہننا حرام ہے، اوراس کی پرورش حرام ميں ہوئی ہےتو پھراس کی دعاء کہاں قبول کی جائےگی)۔
بيڑی، سگريٹ، تمباکو، ہيروئن، کوکن، افيون، گانجہ، چرس اوران جيسی ديگر اشياء کيا انہيں چيزوں ميں سے نہيں جن سے انسانی جان کازياں ہوتاہے؟

يہ چيزاتنی واضح ہےکہ ہرخاص و عام اس کی مضرّت رسانی سے واقف ہے، اس کے باوجود ان کا استعمال کرکے اپنی جان کو ہلاکت ميں ڈالنا خودکشی اور ناقابل معافی جرم ہے ۔

تیسری دلیل:

  اللہ رب العزت نے اپنی  پياری مخلوق انسان کو جومال و دولت اور زر و جواہرات عطا کيا ہےوہ يوں ہی بلافا‏ئدہ  ضائع کرنےکےلئےنہيں بلکہ ان کومناسب جگہوں ميں خرچ کرنےکے لئےديا ہے، جن کی وضاحت مکمّل ومفصّل طريقے سے قرآن و سنّت ميں کردی گئی ہے، يہی وجہ ہےکہ بروزِ قيامت  اللہ تبارک و تعالی ہر آدمی سے اپنی دی ہوئی مال ودولت کے بارے ميں سوال کرےگا: "من أين اكتسبه وفيم أنفقه”( ترمذى , صفۃ  القيامۃ : رقم  (2417)  دارمى  : 1 / 131 ) شیخ البانی نے سلسلہ صحيحہ : رقم  (946) میں اس کوصحیح قراردیا ہے .) ” اس نے اس کو کہاں سے کمايا اورکن چيزوں ميں خرچ کيا ؟ ” سگريٹ نوشی اور ديگرنشہ آور اشياء کی خريد و فروخت ميں استعمال  شدہ دولت بھی اسے غير ضروری اورحرام جگہوں ميں خرچ  کرناہے، جب  اللہ تعالی بروزِمحشرسگریٹ  نوشوں اور ديگرنشہ آور چيزوں  کے استعمال کرنے والوں سے سوال کرےگا کہ انہوں نے اپنی مال ودولت کا ايک بڑا حصّہ کہاں خرچ کيا ؟ توکيا وہ اللہ تعالی کےسامنےيہ کہہ  سکتے ہیں کہ حلال و مباح اشياء کی خريداری ميں صرف کياہے، جوان کےاورمعاشرے کےلئے نفع بخش تھا؟ دنياکے چند لمحوں کی آسودگی ( اوروہ بھی سراسرنقصان دہ ) حاصل  کر کے  اپنی آخرت خراب کرنا کہاں کی دانشمندی ہے ؟  واضح رہےکہ اللہ تعالی کی دی ہوئی دولت کوحرام کاموں ميں خرچ کرنا شريعت کی نگاہ ميں ” تبذير” کہلاتاہے، اسے خرچ  کرنے کےچند اصول کو بيان کرتےہوئے اللہ تعالی ارشادفرماتاہے:

 وَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ  وَابْنَ السَّبِيلِ وَلاَ تُبَذِّرْ تَبْذِيراً إِنَّ  الْمُبَذِّرِينَ كَانُواْ  إِخْوَانَ  الشَّيَاطِينِ  وَ كَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُوراً}(الإسراء : 26 ـ 27)

(رشتہ داروں کااورمسکينوں اورمسافروں کاحق ادا کرتے رہواور اسراف اوربيجاخرچ سے بچوبيجاخرچ کرنے والے شيطان کے بھائی ہيں اورشيطان اپنے پروردگارکا بڑا ہی ناشکرا ہے)۔

عبداللہ بن مسعود اورعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنما  ” تبذير” کی تعريف کرتے ہوئے فرماتے  ہيں : "التبذير:الإنفاق فى غيرحق "” تبذير: ناجائز امور ميں خرچ  کرنےکا نام ہے”  مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہيں :” لوأنفق الرجل ماله كله فى حق ماكان مُبذرًاولوأنفق مُدّاً فى غيرحق كان مُبذراً "”  اگرآدمی اپنی پوری دولت حق کی راہ ميں صرف کرديتاہے  تو مبذرنہيں کہلائےگا اور ايک مُدّ بھي ناجائز اور ناحق کاموں ميں خرچ کرتاہے تو وہ  مبذرہے” امام شافعی  رحمہ اللہ  فرماتے ہيں : "التبذير: إنفاق المال فى غيرحقه ” ناحق کاموں میں دولت کو خرچ کردينا  تبذيرکہلاتاہے”

امام مالک رحمہ اللہ فرماتےہيں : ” التبذير:هو أخذ المال من حقه ووضعه فى غيرحقه ” ” مال کو اس کےجائز مقام سے ليکر ناجائز جگہ ميں خرچ کردينے کا نام تبذيرہے ”  امام  زجاج  رحمہ اللہ فرماتے ہيں : "التبذير:النفقة فى غيرطاعة الله ” ” اللہ کی اطاعـت کے علاوہ ميں مال خرچ کرنا تبذيرہے "( دیکھئے :  تفسیرابن کثیر:5/66) زاد المسير لإبن  الجوزى : 5/27ـ 28) و الجامع لأحكام القرآن للقرطبى : 10/247)۔

علمائےکرام کی مذکورہ توضيحات سے واضح ہوجاتاہےکہ مال ودولت کو کسی بھی ناجائز اورناحق امرميں خرچ کرنا تبذيراور اسراف کہلاتاہے، جو اللہ تعالی کے نزديک مبغوض وناپسنديدہ اورشيطانی عمل ہے، اور  بيڑی، سگريٹ، تمباکواوران جيسی ديگر اشياء میں مال کوخرچ کرنا بھی اسی ميں داخل ہے۔

چوتھی دلیل:

 مخدّرات ومنشّيات کامضّرصحت ہوناان کی حرمت کے لئےعلّت اورسبب ہے، اللہ رب العزت نے انہيں چيزوں کوحلال قرارديا ہے جو انسان کےجسم و دماغ کے لئے نفع بخش ہوں اور ان کے نمواور سالميت کاسبب  بنیں، ياجس کامصلحت متقاضی ہواورہراس چیزکوحرام قراردياہےجو صحت وعقل کے لئے مضرّ اوران کی تباہی کا سامان بنے، موجودہ طبّی تحقيقات نےبيڑی، سگريٹ اورتمباکووغيرہ کے نقصانات اورتباہ کاريوں کو واضح کردياہے، جن ميں سےچند مندرجہ ذيل ہيں:

1-  ان کے استعمال سےنظامِ ہضم بےاعتدالی کاشکار ہوجاتاہے، اورگيسٹک جيسی بيماری وجودميں آتی ہے۔

2- ان کااستعمال دل کےنظامِ عمل پراثر اندازہو کراس کےاندر بےترتيبی  پيدا کر ديتاہے جس کی وجہ سے بلڈپريشر اوردل کےمختلف امراض جنم ليتے ہيں اور نتيجتا ہارٹ اٹيک کاخميازہ بھگتنا پڑتاہے۔
سائنس دانوں کےمطابق سگریٹ پینے سےخون میں لوتھڑا بننےکاامکان بڑھ جاتاہےجس سے ہارٹ اٹیک یافالج ہونے سے زندگی ختم ہونےکاخطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔

3 – ہونے والے بچےّپراس کانہايت ہی برا اثر پڑتاہے، بچہ جسمانی اور دماغی اعتبارسےغيرمستحکم ہوتا ہے، حمل کے دوران سگریٹ نوشی سے جنین کے نمو میں کمی آجاتی ہے، اور ولادت کےدوران اس کے مرنے کےزیادہ امکانات ہوتے ہیں، ایک رپورٹ میں کہا گیاہےکہ ترقی پذیر ممالک میں کہیں زیادہ عورتیں اوربچّے اپنےگھروں میں اسموکنگ کےمنفی اثرات کاشکارہوتےہیں، بہت ساری عورتوں نےاس کاتجربہ کیاہےجس سےان کےاوران کےہونےوالے بچوں کا کینسر، دل کی بیماری  اوردیگربیماریوں میں مبتلاہونے کااحتمال بڑھ جاتاہے، اوریہ تجربہ نوملکوں کےدس مقامات پرکئےگئے ہیں جن میں ارجنٹینا، اوروگوای، اکواڈور، برازیل، جیوتیمالا( لاطینی امریکہ ) زامبیا، کونگو (افریقہ) بھارت (دوجگہوں پر) اور پاکستان شامل ہیں ۔

4 ـ  گلے اور خون کی مختلف بيمارياں جنم ليتی ہيں، اوران حسّاس مقامات ميں تھوڑاسا انفکشن بھی کينسر     (Cancer) جيسے موذی مرض کا سبب بنتا ہے، بلکہ نوّےفيصدسےزائد کينسرميں مبتلاافراد انہيں نشہ آوراشياء کےدستِ برد کا شکارہيں،  ((1974 میں جینوامیں ایک کانفرنس ہوئی  تھی جس میں عالمی صحت کے اداروں اور طب وصحت کے ماہرین کی ایک معتدبہ تعداد نے شرکت کی تھی، کانفرنس اس نتیجے پرپہنچی کہ زیادہ ترپھیپھڑے، گلے، زبان، پٹھوں اورمثانہ وغیرہ کےکینسراور پٹھوں اور پھیپھڑوں میں ورم اور سوزش ( T.B.)اوردمہ کاسبب  اسموکنگ ہی ہے .

برطانیہ کے ایک طبّی کالج کی رپورٹ کےمطابق ( 27500 ) برطانوی  سالانہ اسموکنگ کےشکارہوتے ہیں جن کی عمر 34سے65 سال کےدرمیان ہوتی ہے، اور( 80) اسّی کی دہائی میں تقریباً (155) ہزار برطانوی اسی کی  وجہ سےموت کےشکارہوئے ہیں ۔
4 /فروری 2008  ء کو دنیا بھر میں عالمی سرطان دن منایا گیا اس موقع سے اقوامِ متحدہ کے ادارہٴ "صحت "نےجورپورٹ پیش کی اس کے مطابق سگریٹ نوشی کوکینسرکابنیادی سبب قرار دیا گیا، تنظیم کے مطابق سگریٹ نوشی کاموجودہ طریقہ جاری رہاتواس صدی کے پہلے 25 سال میں اس سے 15کروڑ افرادکی اموات کاخدشہ ہے۔

5 ـ جسمانی نظام تباہ و بربادہوجاتاہے، اورچہرے کی رنگت وہيئت ماندپڑجاتی ہے، يہی وجہ ہےکہ زيادہ ترنشہ خوروں کاجسم بدہيئت اور چہرہ بےنورہوجاتاہے۔

6 ـ  تمباکو کے اندرموجود زہريلےمواد ميں سب سےمشہور اورضرررساں ” نيکوٹين "(Nicotine ) ہوتاہے، بعض اطبّاء کاکہناہےکہ ايک سگريٹ میں اس کااتنامادّہ پاياجاتاہےکہ اگرانجکشن کےذريعہ آدمی کےنس (رگ )ميں داخل کردياجائےتواس کی موت کے لئے کافی ہے، اوريہ بات مشہور ہےکہ  ” نيکوٹين” جيسے زہريلےمادّے کی دوبونداگرکسی کتّے کےمنہ ميں ڈال دی جائے تو وہ فوراً مرجائےگااور اس کےپانچ قطرےايک  اونٹ کوقتل کرنے کے لئے کافی ہیں۔

7 – اس سے  دماغ  پرکافی اثرپڑتا ہے نیز بالوں کےجھڑنے اورگنجے  پن کا خطرہ بڑھادیتاہے، سائنس دانوں کی تحقیق کےمطابق سگریٹ پینے سےکچھ لوگوں کے گنجا ہو جانے کاخطرہ بڑھ جاتاہے، تحقیق کاروں کاکہنا ہےکہ وہ ایشیائی مردجو سگریٹ نوشی نہ کرتے ہوں، مغربی مردوں کی نسبت ان کے گنجا ہوجانےکاامکان کم ہوتاہےلیکن یہی اگر ایشیائی مرد سگریٹ نوش ہوں تو ان کے گنجے ہونے کا زیادہ امکان ہوتاہے .  یہ تحقیق امریکن میڈیکل ایسوسیشن سےشائع ہونےوالےمعروف ماہنامہ طبّی میگزین”آرچیوزآف ڈرماٹولوجی” (Archives of Dermatology) میں شائع ہوئی ہے اور اس میں اوسطاً  65 برس  کی عمر کے سات سو چالیس تائیوانی مردوں نےحصہ لیاہے، اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگر کوئی مرد روزانہ بیس سگریٹ  پیئے تواس کےگنجا ہونے کا امکان بڑھ جاتاہے، سائنس دانوں کاخیال ہے کہ سگریٹ نوشی سے بال پیدا کرنے والے خلیوں کونقصان پہنتانہے .

8 ـ  صحت کے عالمی  ادارہ  ( W.H.O. ) نے  اپنی ایک  رپورٹ میں انتباہ کیا ہےکہ تمباکوکے بڑھتے استعمال پر اگرروک نہیں لگی تواکیسویں صدی میں اس کےخطرناک نتائج سامنےآسکتےہیں، اگراس کااستعمال اسی طرح سے ہوتا رہا تو اکیسویں صدی میں اس کےچلتے ایک ارب جانیں جاسکتی ہیں، واضح رہےکہ بیسویں صدی میں اس سے دس کروڑ لوگ موت کےمنہ میں جاچکے  ہیں ۔

9 ـ  سگریٹ کے دھوئیں کے اندر ایک مادہ  ” پولی سائکلک ایرومیٹک  ہائیڈرو کاربنس ”  ( Polycyclic Aromatic Hydrocarbons) نامی ہوتاہےجوبعض کیـمیائی تعمّلات کے ذریعہ ٹیومر بننےکاسبب بنتاہےجس سےکینسرجیساموذی مرض جنم لیتاہے، معلوم ہوا کہ ‎سگریٹ صرف پینے والوں ہی کےلئے نقصان دہ نہیں ہےبلکہ اس  سے نکلنے والا دھواں دوسروں کےلئےبھی حد درجہ نقصان دہ ہے (اس موضوع پر ماہنامہ محدث بنارس ( فروری 2008 ء ) میں ایک نہایت ہی قتیپی اورمعلوماتی مضمون شائع ہوچکاہے۔ )

10– اب تک کی تحقیق کےمطابق تمباکوکے اندر چھ ہزار( 6000 ) سے زائد نقصان دہ مادّے پائے جاتے ہیں جن میں سے (43) کینسرکاسبب بنتے ہیں۔

11 – انگلینڈ سےشائع ہونے والے ایک معروف طبّی میگزین ” لینسٹ ” (Lancet) کے اندر یہ وضاحت کی گئی ہےکہ اسموکنگ کوئی لت اور عادت نہیں، بلکہ بجائےخودایک بیماری ہےجس کے اندرخاندان کے بیشتر افراد مبتلا ہوتے ہیں، اوریہ ایک ایساعمل ہے جو انسان کی کرامت وعزت کو پامال کردیتاہےاورعام موت اورٹریفک حادثات کےمقابلےاسموکنگ کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد کئی گنازیادہ ہوتی ہے ۔

12- "ٹورنٹو” (Toronto) میں ایک عالمی کانفرنس میں یہ تحقیق پیش کی گئی کہ دوسروں کی اسموکنگ سے*”آسٹیوپوروسس”*جیسی بیماری ہو سکتی ہے، اس بیماری سے ہڈیاں کمزورہوجاتی ہیں اوران کےجلدی ٹوٹنے کا خطرہ پیدا ہوجاتاہے۔

13 – "برٹش میڈیکل جرنل” میں چھپنے والی ایک تحقیق کےمطابق  وہ افراد جو تمباکونوشی نہیں کرتےاور تمباکو نوشی کرنےوالوں کےساتھ  رہتے ہیں ان میں موت کا خطرہ پندرہ فیصد (٪ 15) بڑھ جاتاہے۔

14-  آنکھ  اوراس سے متعلق امور پر برطانیہ سے شائع ہونے والے ایک معروف طبیّ میگزین ۔ "برٹش جرنل آف  اوپھتھلمالوجی ” (British  Journal of Ophthalmology     ) کے مطابق  سگریٹ کا دھواں آدمی کی نظرپر اثرانداز ہوکر نظرخراب ہونے کاخطرہ بڑھادیتاہے۔

15 – جدید طبّی تحقیق کے مطابق سر میں مسلسل درد  کی  ایک اہم وجہ سگریٹ نوشی بھی ہوسکتی ہے۔
نیوزی لینڈ میں ہونے والی ایک تحقیق کےدوران سردرد اورسگریٹ نوشی کےعمل کےدرمیان گہرا تعلق دیکھاگیاہے، ماہرین نے اپنی تحقیق میں (980 ) مردوں اورعورتوں کوشامل کیاجنہوں نےبتایاکہ انہیں 11 سے13 سال کی عمر میں سردرد شروع ہوا اوروہ اسی عمرسےسگریٹ نوشی بھی کررہے ہیں۔

گزشتہ   15 سال سےسگریٹ نوشی کرنے والے ایک گروپ میں شامل افرادنے کہاکہ انہیں علم ہے کہ جب وہ زیادہ سگریٹ نوشی کرتے ہیں توسردردبڑھ جاتاہے.

مذکورہ بالاسطورسے يہ بات بالکل عياں ہوگئی کہ يہ اشياء انسان کے لئےسمِّ قاتل ہيں، اگرکوئی شخص ان کے نقصانات کوجانتے ہوئے ان کا استعمال کرتاہے  تويہ خود کشی کے زمرےميں آتا ہے، اور خود کشی کی جو سزا شریعت میں متعیّن کی گئی ہے وہ ہر مسلمان کےلئے ظاہر و باہرہے۔

 یہاں پریہ واضح رہےکہ اگريہ جانتے ہوئے کہ فلاں چیزحلال ہوتےہوئے بھی کسی وجہ سے اس کی موت کاسبب بن سکتی ہے، اس کااستعمال کرتاہے تويہ بھی خودکشی اوراپنےآپ کوہلاکت ميں ڈالنے کے زمرے میں آتاہےجو شريعت کی نگاہ ميں سراسرحرام اور ناقابل معافی جرم ہے، جبکہ تمباکو اوراس جيسی دوسری اشياء حرام  ہونے کے  ساتھ  ساتھ  خطرناک اور ہلاکت خيز بھی ہيں۔ غورکيجئےاور سمجھئے!!!

پانچویں دلیل:

نعمان بن بشيررضی اللہ عنہ فرماتے ہيں کہ : ميں نے رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” إنّ الحلال بيّن وإن الحرام بيّن و بينهما أمورمشتبهات لايعلمهنّ كثيرمن الناس فمن اتّقى الشبهات فقد استبرأ لدينه وعرضه و من وقع في الشبهات وقع  في الحرام كالراعي يرعى حول الحمى يوشك أن يرتع  فيه , ألا و إن لكل ملك حمىً  ألا وإن حمى  الله محارمه , ألا و إن في الجسد مضغة إذاصلحت صلح الجسد كله وإذا فسدت فسد الجسد كله ألا وهي القلب "( البخارى   : رقم /52)  و مسلم   : رقم / 1599)”  یقينًاحلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درميان  شبہے  والی چيزيں ہيں جن کو  بہت سے لوگ نہيں جانتے، توجوشخص شبہےکی چيزوں سےبچاتو اس نےاپنےدين کو بھی پاک کيا اوراپنی آبروکوبھی اورجو شبہے والی چيزوں ميں پڑاوہ حرام ميں پڑگيا، اس کی مثال اس چرواہے کی ہےجومنع کی گئی چراگاہ کے چاروں طرف اپنےجانورچَراتاہے اور ہر وقت يہ خوف رہتاہےکہ کوئی جانوراس چراگاہ ميں گھُس کرچَرنے نہ لگ جائے۔ خبردار! ہربادشاہ کی(چراگاہ کی) ايک حدمقررہے اوراللہ تعالی کی حدحرام چيزيں ہيں جان لوکہ جسم کےاندرايک گوشت کالوتھڑاہےجب وہ ٹھيک رہتاہے تو سارا جسم ٹھيک رہتاہےاورجب وہ خراب  ہوجاتاہے توساراجسم خراب ہوجاتاہے اور وہ (لوتھڑا) دل ہے”۔

يہ روايت اسلام کی ان بنيادی روايتوں ميں سےايک ہےجن پر اسلام کامدارہے، علماء  کی  ايک جماعت کا کہناہےکہ يہ روايت ثلُث اسلام (ایک تہائی اسلام )ہے کيونکہ اس کے اندرعظيم فوائد اور زندگی کی صالحيت کی مکمّل وضاحت موجودہے، علاء رحمہ اللہ فرماتے ہيں: ” اس روايت کی عظمت کاسبب يہ ہے کہ اس کےاندراللہ کےرسول صلی اللہ عليہ وسلم نےکھانے، پينے اور پہننے وغيرہ  جيسے امورکے اصلاح  کی وضاحت فرمادی ہے” (دیکھئے : شرح مسلم للإمام النووى   : 6/32))

مذکورہ بالاروايت کےاندرتمام اسلامی امورسےمتعلق ايک وضاحت موجودہےکہ دنيا کی تمام اشياء کھانے، پينے اور پہننے سےمتعلق ہوں ياديگر امورسےمتعلق اللہ تعالی نےان کی حلت وحرمت کی تعيين کردی ہے۔

 يہاں پراسموکنگ کےعادی افرادکے لئےلمحۂ فکريہ ہے، اگروہ کہتے ہيں کہ يہ حلال ہے تو يہ ايک قبيح، ضرررساں اور قاتلِ انسانيت چیز کوجس کے نقصانات واضح ہيں، حلال قرار ديکرشريعت مطہّرہ پر اتہام باندھنا اور اس  پراپنےمَن کی تھوپنے کے مترادف ہے۔

مذکورہ اشياء کی حرمت ميں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہ ہوتے ہو‏ئے بھی بفرض محال انہيں تيسری قسم يعنی ” مشتبھات” ميں سے مان ليتے ہيں تو بھی ان کی حرمت  ميں  کسی شک و شبہ کی  گنجائش نہيں ہے،  امام نووی رحمہ اللہ "مشتبہات ” کی تعريف کرتے ہوئے فرماتے ہيں :” أماالمشتبهات، فمعناه: أنها ليست بواضحة الحل ولاالحرمة فلهذالايعرفها كثيرمن الناس و لايعلمون حكمها  و أما العلماء فيعرفون حكمها بنص أو قياس أو استصحاب أو غيرذلك  فإذا تردد الشئي بين الحل والحرمة ولم يكن فيه  نص  ولااجماع اجتهد فيه المجتهد فألحقه بأحدهما بالدليل الشرعى”( شرح مسلم للنووى  : 6/32)

” مشتبہات  کامطلب يہ ہےکہ جن کی حلت وحرمت واضح نہ ہوجس کی وجہ سے بہت سارے لوگوں کو ان کی حقيقت وحکم کاپتہ نہ ہو، ليکن علمائےکرام کو کسی نص، قياس يااستصحاب (استصحاب کہتےہیں : کسی چیزپرماضی میں اس کی عدمِ وجودکی وجہ سےکسی تبدیلی کےنہ پائےجانےکی بناء پر ثبوت ونفی کاحکم لگانا) بالفاظِ دیگر: (جب تک کسی چیزمیں کوئی شرعی تبدیلی واقع نہ ہواس کواس کےسابق حکم پربرقراررکھنا ))  وغيرہ سے ان کاحکم معلوم ہو، لہذاجب کو‏ئی چيزحلّت وحرمت کے مابين متردّد ہواوراس میں نص يااجماع مفقودہوتومجتہد اس میں اجتہادکرکے اسےکسی ايک (حکم)سے ملادےگا  "۔

شیخ  صالح الفوزان  سگریٹ کےمشتبہات میں سے ہونے  سےمتعلق ایک سوال کاجواب دیتےہوئے فرماتے  ہیں :” مشتبہ امورجن سے (شریعت) میں بچنا مطلوب ہے سے متعلق وارد دلائل کے  پیشِ نظر اس میں اہلِ علم کا اختلاف ہے، کہ وہ حلال ہیں  یاحرام ؟ اور ان میں کوئی  بھی قول  ایک دوسرے سے راجح نہیں ہے، لہذا احتیاط کےطور پر انہیں چھوڑدینا آدمی کےدین وعزت کےلئےزیادہ مناسب ہے، اور جہاں تک سگریٹ کی بات ہے تو یہ بلاشبہ حرام ہے کیونکہ اس کے اندر بہت زیادہ نقصان ہے اور اس کے اندر کوئی نفع نہیں ہے اورجولوگ اس کےحرام نہ ہونے کے قائل  ہیں ان کے پاس کوئی ایسی دلیل نہیں ہےکہ کہا جائےکہ یہ مختلف فیہ  مسئلہ ہے، بلکہ واضح دلیل ان کے پاس ہے جوتحریم کے قائل ہیں، لہذا (سگریٹ)  مشتبہات میں سےنہیں بلکہ محرمات میں سے ہے، اس لئےایک مسلمان پراس کوچھوڑنا لازم ہے، اور(واضح رہے کہ) ہر ایک اختلاف کی طرف نہیں دیکھا جاتا بلکہ اس اختلاف کی  طرف دیکھا جاتا ہے جس کے لئے شریعت  میں کوئی وجہ  ہوتی ہے، واللہ اعلم "۔

چھٹی دلیل:

سگريٹ نوش اور تمباکوخورافراد کا يہ عمل عقل وفطرت کےخلاف ايک ايسا عمل ہے جس کی قباحت پروہ خودغور کریں توان کا دل اس سےخود متنفّرہوجائےگا، ايک مسلمان کواگرراستے ميں کھانےپينے کی اشياء پڑی ہوئی مل جائيں تووہ فورًاانہيں محفوظ مقام پررکھنے کی کوشش کرےگا تاکہ پاؤں سےکچل کراس رزق اورپاک وطاہرچيز کی بےحرمتی نہ ہو اوراگر اسے راستے سےنہيں بھی ہٹاتاہے تو بھی اپنا پاؤں اس سےبچاکرچلےگا، اسی طرح کسی بھی پاک و حلال چيزکو آدمی حمام وغيرہ میں بيٹھ کر کھانے کا تصوّربھی نہيں کرسکتاہے، اوريہ صرف اس وجہ سے ہے کہ اللہ رب العزت نے فطری طورپرانسان کے دل ميں ان حلال و پاک اشياء اور نعمتِ الہی کی عزت وحرمت اورعظمت ڈال دی ہے، اس کے برخلاف سگريٹ، تمباکواوراس قبيل کی ساری چيزوں کامحل و مقام ليٹرن وحمّام ہوتاہے زيادہ تر لوگوں کوديکھا جاتاہےکہ وہ ان کا استعمال اکثرحمّام میں  قضا‏ئےحاجت سے پہلےيا ساتھ ہی ميں کرتے ہيں اور استعمال کےبعد بچےہوئے حصہ کوگندی جگہوں کی نظر کرتے ہيں، نيز راہ چلتے استعمال کےبعد اوّل تواستعمال کرنےوالاخود ہی اسےاپنےپاؤں سے کچل ڈالتا ہےاورپھرراہ چلتےجتنےلوگ گزرتے ہيں سب کے پاؤں تلے آکراپنےاستعمال کرنے والے کےلئےغير اخلاقی اورغيرفطری وانسانی عمل کااشتہاربن جاتاہے۔

 معلوم ہواکہ ان کااستعمال کرنےوالا خودانہيں غيراخلاقی اورغير انسانی عمل تصوّرکرتاہے جسےغيرشعوری طورپرتسليم بھی کررہاہے اور پھربھی ان کے استعمال پرمُصرہے ؟؟؟؟؟

ساتویں دلیل:

سگريٹ نوشی  ايک موذی عمل  بھی ہے جس سے دوسروں کو کافی تکليف پہنچتی ہے، خاص طورسےان فرشتوں کوجوانسان کےساتھـ ہميشہ لگے  رہتے ہيں جن کے سلسلے میں  اللہ  رب العزت کا ارشاد ہے :{وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ   كِرَاماً كَاتِبِينَ} (الإنفطار : 10ـ11)  ( يقينًا تم پر نگہبان عزت والے لکھنے والے مقرر ہيں )

واضح رہے کہ ان فرشتوں کو بعض ان چيزوں کی بو سے بھی تکليف پہنچتی ہے جو حلال ہيں، مثلا : لہسن اور  پياز وغيرہ، جابر رضی اللہ عنہ سے مروی  ہے، وہ فرماتے ہيں کہ :  اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمايا : ” من أكل ثؤما أو  بصلا ً فليعتزلنا أوفليعتزل مسجدنا ” (البخارى :  رقم / 5452  (10/721) )  "جو لہسن ياپياز کھایا ہو اسے ہم سے یاہماری مسجد سے دور رہنا چاہئے ”  صحیح مسلم کی روایت میں ہے: ” من أكل البصل و الثؤم و الكراث  فلايقربن  مسجدنا,  فإن الملائكة تتأذى مما يتأذى منه بنو آدم”( مسلم  : 1/394  رقم/ 3  )  "جس شخص نے پیاز، لہسن اورگندنا (ایک  بدبودار سبزی جس کی بعض قسمیں پیازاور بعض  لہسن سے مشابہ ہوتی ہیں یاسوسن یاچمیلی کی اقسام  سے ایک نہایت ہی بدبودار لمبی شاخوں والا پودا، دیکھئے: لسان العرب : 2/80 ) مختار الصّحاح للرازی : ص 360 ) القاموس المحیط :ص 223) والمعجم الوسیط :ص 782) ) کھایاہو وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ جن چیزوں سےانسان تکلیف محسوس کرتاہےانہیں بدبودار چیزوں سے فرشتوں کو بھی تکلیف ہوتی ہے "

لہسن اورپیازوغیرہ کی بوسے، جن کا حلال اورفائدہ مندغذاؤں میں شمار ہوتاہے، فرشتوں کوتکلیف پہنچتی ہے توبیڑی، سگریٹ اورتمباکو وغیرہ جو حرام اورضرر رساں بھی ہیں، کی بدبوسے انہیں کتنی تکلیف ہوتی ہوگی ؟

مذکورہ چیزوں کی بدبوسے عام آدمی کو بھی کافی تکلیف ہوتی  ہے جو کہ اسلامی مزاج اورتعلیمات کے یکسر خلاف ہے، کیونکہ  ایک مسلمان صحیح  مسلمان اس وقت  ہوسکتا ہے جب اس کی تکلیف  سے عام مسلمان محفوظ ہوں، اللہ تعالی ارشادفرماتاہے :{وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ  وَالْمُؤْمِنَاتِ  بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ  احْتَمَلُوا  بُهْتَاناً  وَإِثْماً مُّبِيناً} (الأحزاب :  58) (اورجو لوگ مومن مرد اورمومن عورتوں کو ان سے بغیرکسی جرم کےسرزد ہوئے ایذاء دیں وہ (بڑےہی) بہتان اورصریح گناہ کا بوجھ اٹھاتے ہیں )۔

عبداللہ بن عمرو بن العاص  رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ، اللہ کے رسول  صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمايا : "المسلم من سلم المسلمون من لسانه و يده ” ( البخارى :  : 11/316)   و مسلم  : 1/65) رقم / 40)  "صحیح  مسلمان وہ ہے جس کے زبان و ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں ” اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ اللہ کے رسول  صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمايا :”لاضررولا ضرار "( أحمد : 5 /  326 ) و ابن ماجۃ  : رقم /2340) شیخ  البانی رحمہ اللہ  نےاس کی تصحیح کی ہے، دیکھئے : إرواء الغليل: 3 /  408 ) )” نہ نقصان  پہونچائے  اور نہ  ہی  بدلے میں  نقصان پہونچایاجائے "۔ بہت سارے تمباکو خور اور سگریٹ نوش اکثر انہیں استعمال کرنےکے بعد ان کی بدبو کو زائل کئے  بغیرہی نماز کےلئے مسجد  میں چلے جاتے ہیں جس سے نمازیوں کو کافی تکلیف ہوتی ہے، اس  کے علاوہ  اس کے دھوئیں سے پھیلنے والی کینسر کی بیماری کابھی خدشہ ہے، اوریہ دوسروں کوتکیف دیناہے، جیسا کہ پہلے ذکرکیا گیا۔

آٹھویں دلیل:

سگریٹ نوشی کافروں خصوصایہودیوں کےتعاون اوران کی مدد کا ایک اہم ذریعہ ہے، ایک رپورٹ کےمطابق پوری دنیاکی کل آبادی (5 . 6) بلین ہےجس میں مسلم دنیا کی آبادی( 5 .1) بلین ہےجن میں کل سگریٹ پینے والوں کی تعداد ) 15. 1 ) بلین ہے اور ان میں کل مسلم اسموکر دنیابھر میں (400 ) ملین ہیں۔ دنیا میں سگریٹ بنانے  والی سب سےبڑی یہودی کمپنی کا نام فلپ مورس ہے  اور فلپ مورس کے منافع  کا  (12% )  فیصدحصہ اسرائیل کوجاتاہے، فلپ مورس کی فروخت روزانہ  مسلم دنیا میں  (800 ) ملین ڈالرز ہیں  اور (800  ( ملین  ڈالرز کا )10٪ )  فیصد منافع  ( 80 ) ملین ڈالرز بنتاہے، اس طرح مسلم سگریٹ نوشوں سے حاصل شدہ منافع ( 6. 9 ) ملین ڈالرز روزانہ  اسرائیل کوپہنچتے ہیں .

کیا تمباکو نوشی مکروہ ہے ؟

  مکروہ مندوب کی ضدہے، جس کی مختلف الفاظ میں تعریف کی گئی ہے :

ا – جس کے چھوڑنے والے کی تعریف کی گئی ہو اور کرنے والے کی مذمت نہ کی گئی ہو۔

2 – بغیر وعید کے جس کا چھوڑنا کرنے سے راجح ہو۔

3 – جس کا چھوڑنا اس کے کرنے سے بہتر ہو۔
تینوں تعریفیں ہم معنی ہیں اورمکروہ کااطلاق کبھی حرام پر بھی ہوتاہےاس طرح مکروہ کی دو قسمیں ہوئیں :

(1) *مکروہ تنزیہی* (2) *مکروہ تحریمی*  (دیکھئے  : البلبل فى اصول الفقہ ,مختصر روضۃ  الناظر لابن قدامہ اور اصول الفقہ کی دیگرکتابیں  )

  موجودہ مسلم معاشرے ميں خاص طورسےبرّصغيرمیں ايسےفقه کےدعويدار کثرت سے پائےجاتےہيں جوبيڑی، سگريٹ، زردہ اورتمباکو وغيرہ کويہ کہہ کر کہ يہ حرام نہيں بلکہ مکروہ ہيں اپنے لئےجائز و مباح کرنے کی کوشش کرتے ہيں، ان لوگوں نے اس کی کراہت و اباحت کےجودلائل دئے ہیں وہ محلِّ نظرہیں، ذیل میں ہم ان کے دلائل میں سے چند کا ذکر کرکے  ان کاجائزہ لیتے ہیں، اس وضاحت کےساتھ کہ یہ دلائل ماضی میں بھی د‎ئےجاتے رہے ہیں، جن پرعلماءنےبہت کچھ لکھاہے، اوریہ دلائل اس وقت کےہیں جب علمِ طب نے تمباکو کےموجودہ نقصانات کو واضح نہیں کیا تھا  :

1 – کہتےہیں کہ ادلّۂ اصلیہ ( یعنی قرآن، سنت، اجماع اور قیاس ) میں سے کسی میں بھی تمباکو کی حرمت پرکوئی دلیل  ثابت  نہیں ہے۔
مذکورہ دلیل کابطلان پیش کئے گئےحرمت کےدلائل سےثابت ہوچکاہےکیونکہ تمباکو کے دینی، نسلی، بدنی اورمالی نقصانات  کا کوئی بھی فردمنکر نہیں ہو سکتا، نیزعلتِ سُکرونشہ اس کی حرمت کی سب سے بڑی دلیل ہے یہی وجہ ہےکہ محدّثین اورعصرِحاضر کےجیّد اورمعتبر علمائے کرام نے اسےمطلقاًحرام قراردیاہے۔

2 – کہتے ہیں کہ شریعت کا قاعدہ ہے کہ :” أصل الأشياء إباحتها ” یعنی( شریعت میں ) اشیاء کی اصل اس کا مباح وحلال ہوناہے ” لہذا تمباکو وغیرہ بھی اپنی اصل یعنی حلت واباحت پرباقی ہے ۔
بلاشبہ مذکورہ قاعدہ اپنی جگہ پردرست ہے، لیکن یہ قاعدہ اسی وقت لاگو ہوتاہے جب کسی چیزکی حرمت ادلّۂ شرعیہ سےثابت نہ ہوجبکہ تمباکو وغیرہ کے اندر وہ تمام  علتیں موجود ہیں جو انہیں حرام قرار دیتی ہیں جن کا بیان گزر چکاہے۔

3 – کچھـ حضرات کہتے ہیں کہ نفع آورچیزوں کا استعمال شرعاجائز اور ضرر رساں چیزوں کاحرام ہے، اورسگریٹ  نوشی نفع بخش ہے، نقصان دہ نہیں اس لئے یہ اپنی اصل یعنی اباحت  پر باقی ہے اوراسے حرام قرار دینے کے لئے معتبر شرعی دلیل کی ضرورت ہوگی ۔

ہم کہتےہیں کہ مذکورہ استدلال ان کےخلاف ہےنہ کہ ان کےحق میں، کیونکہ تمباکووغیرہ کےنقصانات بلاکسی شک وشبہ کے ثابت  شدہ ہیں جن کابیان ہم نےپہلے ہی کردیا ہے، اگر تھوڑی دیر کے لئے  یہ مان بھی لیاجائےکہ تمباکوکےاستعمال سے چندلمحوں کاذہنی وجسمانی سکون  ملتاہے پھربھی اسے مباح وحلال قرار نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ چندلمحوں کاذہنی وجسمانی سکون  ملنا کسی حرام چیزکوحلال کرنےکےلئےدلیل نہیں ہے، اگر یہ بات ہوتی توشراب، جوا، سود اوراس طرح کی بہت ساری چیزوں کوحلال کرناپڑےگا، کیونکہ ان کےاندربھی  بہت سارےفوائد اورسکون کاسامان ہیں، شراب اور جوا کے سلسلے میں خود اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :{يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِن نَّفْعِهِمَا} (البقرة : 219 )(یہ لوگ آپ سے شراب اور جوئے کےبارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دیجئے کہ ان کے  اندربہت بڑا گناہ ہےاوران کے اندر لوگوں کے لئے نفع بھی ہے، لیکن ان کا گناہ ان کے نفع سے زیادہ ہے )  امام ابن کثیر رحمہ اللہ  فرماتے ہیں :”أمّاإثمهمافهو فى الدين, وأماالمنافع فدنيوية,من حيث إن  فيها نفعاً لبدن , وتهضيم الطعام , و إخراج  الفضلات , و تشحيذ بعض الأذهان , ولذة الشدةالمطربةالتى فيها, وكذا بيعها والانتفاع بثمنها. وما كان يقمشه بعضهم من الميسرفينفقه على نفسه أوعياله.ولكن هذه المصالح لاتوازى مضرته ومفسدته الراجحة ,لتعلقها بالعقل والدين "( دیکھئے : المصباح المنير فى تهذيب تفسير ابن كثير :ص 159))یعنی”  شراب اورجوےکاگناہ دین میں ہےاورمنافع  دنیاوی  ہیں اس اعتبار سےکہ اس کےاندر جسم، غذا کو ہضم کرنے، فضلات کو خارج  کرنے، بعض ذہنوں کوتیزکرنےاور اس کے اندر پائےجانے والے طرب و سرور کی لذت کو محسوس کرنے میں نفع ہے، اسی طرح اسے  بیچ کر اس کی قیمت سےفائدہ اٹھایا جا تاہے۔ اورجُوے سے مال حاصل کرکے بعض لوگ اسے اپنے یابال بچوں پر خرچ کرتے ہیں، لیکن یہ مصلحت اور فائدے ان کے  بڑے  بڑے واضح  نقصانات اور مفاسدکے برابر نہیں ہو سکتے، کیونکہ ان کا تعلق دین اور عقل سے ہے "۔

 معلوم ہواکہ حلت و حرمت کا انحصارصرف چندظاہری نفع و نقصان پرنہیں ہے بلکہ ان کا تعلق اللہ تبارک وتعالی کے امرونہی سےہے، بسا اوقات کسی چیز کی حلت وحرمت میں نفع و نقصان سے قطع  نظر اللہ تبارک وتعالی کی کچھ اورہی حکمت ہوتی ہے مثلاً :

٭ وہ محرمات کے ذریعہ بندوں کی آزمائش کرتاہے اوردیکھنا چاہتاہےکہ کون ان سےبچتاہے اورکون ان کا ارتکاب کرتاہے  ـ

٭  امتحان ہی جنّتی اور جہنّمی میں فرق کرتا ہے کہ، جہنّمی لوگ دنیاوی زندگی کی لذت میں غرق ہوکررہ گئے تھےجبکہ جنّتی لوگوں نےدنیاوی زندگی میں نفسانی خواہشات کا مقابلہ کرتےہوۓ مصیبتوں اورسختیوں پرصبرکیا، اور اگر اللہ تبارک و تعالی کی طرف سے یہ آزمائش نہ ہوتی تو پھر فرمانبردار اور نافرمان بندوں میں فرق کیسے ظاہرہوتا؟

٭ صاحب ایمان اللہ تبارک و تعالی کی طرف سےعائد کردہ پابندیوں کی طرف  ہمیشہ اجروثواب کی نیّت سےدیکھتا ہے، اور منافق ہمیشہ دُکھ، درد، تکلیف  اور محرومی کی نگاہ سے، اوریہیں پرصحیح مومن اور منافق کی پہچان ہوتی  ہے۔ (دیکھئے :  محرمات استھان بھا بعض الناس للشیخ المنجد :ص 10 –  11 ) مختصراً ۔ ) اگربفرض محال تمباکو وغیرہ کو مکروہ مان بھی لیں تو یہ حرمت کےمختلف اور مضبوط دلائل کی بنا پرمکروہ تحریمی ہوگا نہ کہ تنزیہی۔

یہاں پریہ نکتہ قابل ذکر ہےکہ شریعت کا  ایک متعیّن قاعدہ ہےکہ صغیرہ گناہوں  پر اصرار اور مداومت  انہیں کبائر سے قریب کردیتی ہے،  یہاں بھی اسی طرح یہ خوف ہے کہ مکروہ پر اصرارومداومت  اسے حرام سےقریب کردے۔

سگریٹ اور تمباکو میں موجود بعض خطرناک جراثیم  اور مادّے:

 Arsenic :

چوہوں کا زہرہے، یہ زہرسفیدچیونٹی میں بھی پایاجاتاہے، اس مادےکی زیادہ مقدار انسان کوفورًا ہلاک کرڈالتی ہے، اور اگر اس کی تھوڑی مقدار لی جائے  تو یہ موت سے دھیرے دھیرے قریب کردیتی ہے، یا بہت ساری بیماریوں کو جنم دیتی ہے۔
HydrogenCyanide :

نہایت ہی زہریلی گیس۔

Formaldehyde :

ایک خطرناک زہریلا مادّہ جوکینسرکاسبب بنتا ہے، اس مادّےکا استعمال مُردہ جسم کےلیپ کےلئےہوتا ہے۔

 Ammonia Bromide :

لیٹرن کی صفائی میں استعمال ہوتاہے۔

 Acetone :

ایک خوشبودارمادہ جس کااستعمال سیّال کی شکل میں ناخن پالش کو ختم کرنے کے لئے ہوتاہے ۔

 Benzene :

پٹرولیم کا مادہ جس کااستعمال بطورسیّال کیمیاوی میکینیکی میں ہوتاہے، یہ بلڈکینسر Blood Cancer  کے معروف اسباب میں سے  ایک ہے ۔

 Carbon(Monoxid) :

بغیررنگ وبوکی ایک مہلک گیس ہے ۔

 Methanol :

میزائل وراکٹ کے ایندھن میں پایاجاتاہے ۔

 Polonium :

  ایک چمکدارآتشی مادّہ جوحرارت و الکٹرک کے ابلاغ میں کام آتا ہے ۔

 Phenol :

جراثیم کے ازالے کےلیےاستعمال کیاجاتاہے ۔

Tar :

ایک ایسامادہ جو پھیپھڑوں میں داخل ہو کرکثیر تعدادمیں غیرطبعی خلیات کا سبب بنتاہے، جس سے پھیپھڑوں کاکینسر ہوتا ہے ۔

 Nicotine :

کیڑاماردوا‎سگریٹ نوش کوزیادہ تراسی مادے کاشکارہونا پڑتاہے، یہ ایک نہایت ہی خطرناک مادہ اورقاتل زہرہے، اس کےچندقطرے(500 ملیگرام)آدمی کو ہلاک کرنےکےلیےکافی ہیں ۔

 Acetic acid :
اس کااستعمال بالوں کےخضاب کے بطور ہوتاہے  ۔

 Beutene :

اس کا دوسرا نام Butylene ہے، یہ ایک بے رنگ گیس ہے جو خام تیل میں پائی جاتی ہے۔

D.D.T :

کیڑا مار دوا کی شکل میں استعمال ہوتا ہے، نہایت  ہی  خطرناک زہریلا مادہ ہے، جو (Lancet) کی تحقیق کےمطابق  کینسر خاص طور سے سینے کے کینسر( Breast cancer) کاسبب بنتا ہے۔

 Polycyclic Aromatic Hydrocarbons :

سگریٹ کے دھوئیں  میں کثرت سے  پایا جاتا ہے، جو بعض  کیمیاوی  تعمّلات کے ذریعہ ٹیومر کاسبب بنتاہے، جس سےکینسرجیسا موذی مرض جنم لیتاہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close