شوگر میں زیتون کے تیل کی حیرت انگیز افادیت

محمد سليم

1951 میں شام کے شہر حمص میں پیدا ہونے ڈاکٹر حسان شمسی پاشا 1988 سے جدہ شہر کے ہسپتال (مستشفى الملك فهد للقوات المسلحة) میں دل کے امراض کے سپیشلسٹ کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ ان کی کارکردگی، لیکچرز، لکھی ہوئی کتابوں اور حاصل ہونے والے انعامات اور اعزازات کی فہرست بہت لمبی ہے مگر اختصار کے ساتھ ویکیپییڈیا پر دیکھی جا سکتی ہے۔ آپ نے طب نبوی، دل کے امراض اور عام صحت کے مسائل پر پر بھی خوب تحقیق کی ہے اور بیسیوں کتابیں لکھی ہیں۔ آپ کی ہی ایک کتاب (زيت الزيتون بين الطب والقرآن) اپنے انداز کی ایک اچھوتی کتاب ہے۔

زیر نظر مضمون ان کے دیئے ہوئے ایک درس کا خلاصہ ہے جو آپ نے ایک کانفرنس میں پیش کیا: عوام الناس کے استفادہ کیلئے اس کا ترجمہ پیش خدمت ہے:

جب مجھ پر یہ بھید کھلا کہ مجھے شوگر ہو گئی ہے اور اس کا لیول 500 تک پہنچا ہوا ہے تو میرے پیروں کے تلے سے زمین ہی نکل گئی۔ لوگوں کے مشورے ایسے آنے لگے گویا ہر دوسرا شخص حکیم ہو اور اس دوائی کا خود تجربہ کر چکا ہو۔

بس مختصراً یوں سمجھیئے کہ ایک مہینے کی سخت جدوجہد اور ورزشی و محنت اور مشقت اٹھا کر شوگر نہار منہ 200 اور ناشتے کے بعد 300 تک پہنچ سکی۔ دیسی دوائیوں کا بھی کوئی حیلہ نا چھوڑا مگر کوئی خاص افاقہ نا ہو سکا۔ اس مرحلے پر میں نے طے کیا کہ اپنے آپ کو ہلکان کرنے والی بھاگ دوڑ چھوڑ کر اپنا علاج خود شروع کرتا ہوں۔ اور میں نے یہ تین ممکنہ طریقے سوچے:

نمر1: سخت ورزش اور کھانے پینے میں انتہائی پرہیز۔
نمر 2: زیتون کے تیل کا استعمال۔
نمبر 3: کسی باقاعدہ ہسپتال سے علاج کا شروع کرانا۔

ہر طرح کے علاج کا فائدہ دیکھنے کیلئے میں نے ایک ایک ہفتہ ان تینوں پروگرام پر عمل کرنا شروع کیا تو نتائج کچھ یوں نکلے:

پہلے ہفتے میں پروگرام نمبر 1 پر عمل کرنا: سخت اور کھٹن ورزش اور انتہائی پرہیزی کھانا پینا۔ (اس عمل میں پورا ہفتہ گزر گیا مگر افاقہ اتنا معمولی تھا جس کا ذکر بھی نہیں کیا جا سکتا۔ دوسرے ہفتے میں پروگرام نمبر 2 پر عمل کرنا اور زیتون کے تیل کا استعمال کرنا۔ اس ہفتے بہت ہی حیرت ناک تبدیلیاں پیش آئیں۔ ہفتے کے ابتدائی تین دنوں میں ہی شوگر ناشتہ کر چکنے کے بعد 180 درجے پر اور نہار منہ 100 درجے پر جا پہنچی۔ جبکہ ہفتے کے باقی دن کے عمل کے بعد شوگر کا لیول ناشتہ کر چکنے کے بعد 93 درجے تھا۔ (ناشتہ کر چکنے کے بعد، نہار منہ نہیں)۔

اس ہفتے بھر کے علاج کے بعد، میرے دل میں کئی سوچیں آئیں۔
کیا زیتون کا تیل ایک وقتی علاج ہے، بعد میں کیا ہوگا؟
کوئی بھی مریض اس پر عمل جاری رکھے یا چھوڑ دے؟ کیا انسان کبھیئ کبھار ایسا کر لیا کرے اور پھر چھوڑ دیا کرے؟
کیا زیتون کا تیل انسانی پتے کو دوبارہ کام کرنے کے قابل بنا دیتا ہے؟
کیا زیتون کا تیل انسانی خون میں شامل زیادہ شوگر کو چوس لیتا ہے؟
کیا زیتون کا تیل جسم میں انسولین کی پیداوار کو بہتر بناتا ہے؟

ہوسکتا ہے میری ان ساری باتوں میں دلچسپی لینے والے سامعین اب میرا جواب جاننے کے منتظر ہوں۔ میرے پاس بھی واضح جواب موجود نہیں ہے مگر مجھے بس اس سے غرض ہے کہ زیتون کے تیل کے استعمال سے میرے خون میں پائی جانے والی شوگر کا لیول بتدریج گھٹتا گیا اور شوگر سے پیداے ہونے والے اعراض جاتے رہے۔ باقی کی ساری باتیں غیر ضروری ہیں۔

زیتون کے تیل کو میں جس طرح استعمال کرتا تھا وہ یوں تھا کہ:
دو یا دو سے زیادہ چمچ زیتون کا تیل سونے سے پہلے پی لینا۔
اور اتنی ہی مقدار صبح نہارمنہ (کلی کیئے بغیر) پی لینا۔

اس میں سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ میں نے رات کو پی جانے والی تیل کی خوراک بس ایک ہفتے ہی استعمال کی، تاہم صبح نہارمنہ پینے والی خوراک کو میں نے اب تک برقرار رکھا ہوا ہے۔ یہاں میں ایک سوال کا مبہم سا جواب دینا چاہتا ہوں کہ: کیا شوگر میں کمی اور شوگر سے پیدا ہونے والے اعراض کا خاتمہ واقعی زیتون کے تیل کے استعمال سے ہی تھا؟ میرا جواب یہ ہے کہ مجھ پر تو یہی اشکار ہوا اور میرے ساتھ ساتھ ان تمام لوگوں پر بھی جنہوں نے میرے مشورے پر عمل کیا اور اس طریقے سے اپنا علاج کیا۔

میں یہاں ایک بات ضرور بتانا چاہونگا جو کہ میں نے خود محسوس کی اور وہ بہت ضروری بھی ہے کہ: صبح نہارمنہ زیتون کا تیل پی چکنے کے بعد اور ناشتہ کرنے کا درمیانہ وقفہ جتنا زیادہ ہوگا افاقہ اتنا ہی زیادہ ہوگا۔ تاہم اتنا ضرور یاد رکھیئے کہ یہ مدت کم از کم ایک گھنٹہ ضرور ہو۔

مجھے زیتون کا تیل استعمال کرتے ہوئے آج ایک سال ہو چکا ہے اور مجھے یہ بتاتے ہوئے بہت فخر محسوس ہو رہا ہے کہ اللہ پاک کے کرم سے میری شوگر بہت ہی کنٹرول میں ہے۔ میرے اس بتائے ہوئے علاج سے لوگوں کے تاثرات (مختصراً) کچھ یوں رہے:

لوگوں پر ان کی جسمانی ساخت کے لحاظ سے اثرات مرتب ہوئے۔ کچھ نے پہلے دن ہی شوگر کا لیول 100 درجے گھٹ جانے کا بتایا تو کچھ نے یہ تبدیلی چار پانچ دنوں کے استعمال کے بعد مرتب ہوتی ہوئی بتائی۔

اکثر لوگوں نے پیروں کے ٹھنڈے یا گرم ہو جانے کی شکایت کا ازالہ ہو جانے کا بتایا، کچھ نے کہا کہ ان کے پیٹ سے متعلق کئی شکایتیں جاتی رہی تھیں۔

کچھ لوگوں نے تو یہاں تک بھی بتایا کہ اب انہوں نے شوگر کی دوائی کھانے کے معمول میں بھی تبدیلی کرنا شروع کر دی ہے۔

شوگر کا ٹیکہ لگوانے والوں نے بتایا کہ انہوں ہی یہ مقدار اب آدھی کر لی ہے اور اسے بھی ختم کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ اکثریت نے بتایا کہ اب ان کے پیروں یا گھٹنوں کا درد جاتا رہا ہے۔



⋆ محمد سليم

مضامین ڈیسک

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

شاعر، ادیب، ناقد، محقق ،معلم: پروفیسر نازؔ قادری

نازقادری کو ان کی کتابوں پر بہار ، اترپردیش اور مغربی بنگال اردو اکادمیوں نے انعامات دیے ہیں ۔ انہیں آل انڈیا میر اکادمی لکھنؤ کے امتیاز میر ایوارڈ (1993)، آئی آئی ایف ایس نئی دہلی کے وجے شری ایوارڈ ( 2006) آئی آئی ایف ایس کے شکشا رتن ایوارڈ (2008)یو نی ورسٹی گرانٹس کمیشن کے ایوارڈ آف امیرٹس فیلو شپ (2010)، بہار اردو اکادمی کے وقاری حسن عسکری ایوارڈ (2013)سے سرفراز کیا جا چکا ہے۔