صحتطب

شیر مادر کی طبی اہمیت و افادیت

حکیم شمیم ارشاد اعظمی

عصر حاضر میں پھر ایک بار ماں کے دودھ کی اہمیت اور اس کے طبی فوائد کو کا فی اہمیت ہے۔ یہ ایک خوش آئند قدم ہے بالخصوص ان ممالک میں جہاںماں کا دودھ پلانا بہت ہی معیوب سمجھا جاتا تھا۔ جدید میڈیکل سائنس کی اس سلسلہ میں جو تحقیقات سامنے آرہی ہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دودھ پلانا جہاں بچے کے لئے نہایت فائدہ مند ہے وہیں اس کی وجہ سے ماں کے اوپر بھی کافی مثبت اثرات مرتب ہو تے ہیں۔ حالانکہ آج سے بہت  پہلے اطباء قدیم نے شیر مادر کی طبی اہمیت و افادیت پر کافی اہم معلومات فراہم کیں ہیں۔ ماں کا دودھ بچے کے لئے بہتر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ طبعی طور پر قدرت کی طرف سے بچہ کے لئے تیار کیا جاتا ہے اور ہر طرح کی آمیزش سے پاک ہو تا ہے۔ اس کا درجہ حرارت بچہ کے لئے موزوں ہو تا ہے۔ ماں کے دودھ میں جراثیم کش صلاحیت بھی موجود ہو تی ہے جو کسی مصنوعی دودھ میں نہیں پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بچہ کے عمر کے ساتھ ساتھ ماں کے دودھ میں مستقل تبدیلیاں بھی ہو تی رہتی ہیں۔ بچے کی عمر اور ضرورت کے اعتبار سے اس کا قوام اور اس میں موجود غذائی اجزاء کا تناسب بھی تبدیل ہو تا رہتاہے۔ اس کے برعکس مصنوعی دودھ میں اس طرح کی کوئی تبدیلی نہیں واقع ہوتی ہے۔

طب یونانی میں رضاعت کا  تصور کافی قدیم ہے۔ اطباء قدیم نے اپنی کتابوں میں شیر مادر، اس کی اقسام، ماہیت، طبی فوائد، نیزدایہ اور اسکے اخلاق وعادات، مزاج، جسمانی و ذہنی حالات اوراس کی غذا سے متعلق جوسائنٹفک نکات بیان کئے ہیں جدید میڈیکل سائنس آج بھی اسی کے ارد گرد گھومتی ہوئی نظر آتی ہے۔ بقراط نے لکھتا ہے کہ دودھ سینے کے پرانے امراض میں مفید ہے۔ دیسقوریدوس کے نزدیک عورت کادودھ سارے دودھوں میں زیادہ مجلی اور تغذیہ بخش ہو تا ہے۔ جالنیوس کا قول ہے کہ بچے کے لئے اس کی ماں کا دودھ سب سے زیادہ مناسب غذا ہے۔ ابن رشد کتاب الکلیات میں لکھتا ہے کہ دانت نکلنے تک بچہ کی غذا صرف دودھ ہے۔ اس طرح کے بے شمار طبی نکات ہیں جنھیں اطباء نے اپنی کتابوں میں بیان فر مائے ہیں۔ سطور ذیل میں گر چہ راقم نے ابن سینا کی القانون حصہ اول کو اپنے مطالعہ کا موضوع بنایا ہے تاہم اس ضمن میں اطباء قدیم کے تجربات و تحقیقات سے بھی فائدہ اٹھایا گیا ہے۔ بہتر معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے دودھ کی ماہیت، خصوصیات اور فوائد سے متعلق ابن سینا اور اطباء قدیم کے تعلیمات کو جان لیں۔

دودھ کی ماہیت

دودھ تین جو ہروں سے مرکب ہوتا ہے۔ جبنیت (پنیر)، مائیت (پانی) اور زبدیت (مکھن)۔ جب ان جو ہروں کا الگ الگ کیا جاتا ہے تو ہر قسم کے علاجوں میں ان کے افعال و خواص دوائی و غذائی الگ الگ دکھائی دیتے ہیں۔ بہتر دودھ وہ جو خوب سفید ہو، معتدل گرم ہو، اور جب اسے ناخن پر ٹپکایا جائے تو مجتمع رہے بکھرے نہیں۔ دودھ بہت زیادہ گاڑھا نہ ہو، نہ بہت پانی کی طرح ہو، زیادہ جھاگ دار نہ ہو اور نہ ہی نمکین، کھٹا اور تلخ ہو۔ دودھ کا گاڑھا پن اس طرح دیکھا جاتا ہے کہ اس کو ناخون پر ٹپکا یا جائے اگر جلدی سے بہ جائے تو یہ پانی کی طرح رقیق ہو تا ہے  اور اگر جامد کی طرح ٹہرا رہے تو یہ بہت گاڑھا سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ دودھ نہ بہت زیادہ گاڑھا ہو نہ پتلا بلکہ درمیانی ہو۔

دودھ کے خواص و فوائد

٭ دودھ بچوں کو اس لحاظ سے مفید ہوتا ہے کہ ان کو رطوبات فراہم کرکے ان کی بڑھوتری میں اضافہ کرتا ہے۔

  ٭ عمومی طور پر دودھ عمدہ کیموس پیدا کرتا ہے۔ ملین  بطن اور مغذی ہے۔ معدہ اور آنتوں میں نفخ پیدا کرتا ہے

 ٭ دودھ کی بڑی صفت اس کی سرعت استحالہ ہے جس کے سبب یہ سارے کام انجام دیتی ہے۔

  ٭ بحیثیت مجموعی دودھ کافی غذا دینے والی چیز ہے، جو ملین ہے اور مرطوب گوشت پیداکرتا ہے۔

بقراط دودھ کے طبی فوائد اس طرح بیان کرتا ہے:

’’دودھ پینے سے سینے کے پرانے امراض جیسے کھانسی، پیپ تھوکنا وغیرہ ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ سل کے مریض جنہیں تیز بخار ہو توفائدہ مند ہے۔ اسی طرح ایسے دق کے مریض کو بھی جن کا بدن کمزور ہو گیا ہو مفید ہے۔ ‘‘

روفس لکھتاہے:

’’دودھ زہروں کا تریاق ہے۔ ‘‘

دیسقوریدوس کے نزدیک:

’’ عورت کادودھ سارے دودھوں میں زیادہ مجلی اور تغذیہ بخش ہو تا ہے۔ اس کے پینے سے معدے کی سوزش اور پھیپھڑے کا زخم ٹھیک ہوجاتا ہے۔ نیز بحری خرگوش کے سمی اثرات کو بھی زائل کرتا ہے۔ ‘‘

جالینوس کتاب الکیموس میں لکھتا ہے:

’’ اکثر اطباء قرحہ ریہ کا علاج دودھ سے کرتے ہیں  اور یہ بات ظاہر ہے کہ یہ علاج اسی وقت تک مفید ہے جب کہ قرحہ نہ  بڑا  ہو اور نہ ہی سخت ہوا ہو۔ بہر حال اس علاج میں سب سے بہتر عورت کا دودھ ہے۔ ‘‘

رازی  اپنی کتاب دفع مضار الاغذیہ و الا دویہ میں لکھتا ہے:

’’ دودھ بدن کو فربہ کرتا ہے۔ جلد کی ناہمواری کو دفع کرتا ہے۔ امراض یابسہ جیسے جرب وحکہ، قوبا، دق، سل، جذام میں مفید ہے۔ یہ بدن کی رطوبات کی حفاظت کرتا ہے۔ اور بفضل تعالی طولی العمری میں موید ہے۔ ‘‘

ابن رشد کتاب الکلیات میں لکھتا ہے :

’’اعضاء اصلیہ کی رطوبت کے تحلیل ہو نے کے بدل میں دودھ کی طرح کوئی دوسری چیز نہیں ہے، خصوصا عورتوںکا دودھ، اس کے بعد گدھی کا دودھ پھر بکری کادودھ۔ اسی لئے یہ تمام دودھ سل کے مریضوں کے لئے بہت مفید ہیں، کیونکہ یہ ایسا مادہ ہے جو مادہ اولی کے مانند ہے جس سے رطوبت اصلیہ بنتی ہے۔ اسی لئے پیدائش کے بعد بچوں کی یہ طبعی غذا ہے۔ دودھ کے یہ افعال یعنی تغذیہ، کچھ جلا  اور ترطیب اسی سبب سے ہیں کہ یہ مختلف جوہروں سے مرکب ہے۔ مثلا اس میں ارضی چیز یعنی جبنیت ہوتی ہے، یہ چپکنے والا جز ہے۔ ‘‘

اطہر الہندی لکھتا ہے:

’’دودھ یاد داشت کو بڑھاتا ہے، تکان کو مٹاتا ہے۔ زہروں کا تریاق ہے۔ مسکن عطش ہے۔ ‘‘

ابن بیطار کتاب الجامع لمفردات الادویہ و الااغذیہ میں لکھتا ہے :

’’عمدہ دودھ خون صالح پیدا کرنے میں سب سے عمدہ غذا ہے۔ خراب دودھ جس میں خراب اخلاط شامل ہوں، صالح خون کا مولد نہیں بن سکتا۔ بلکہ بدن کی صالح اخلاط میں بھی فساد پیدا کرتا ہے۔ اور خراب خون پیدا کر سکتا ہے۔ ‘‘

ابن بیطار نے اس سلسلہ میں ایک واقعہ بیان کیا ہے، وہ لکھتا ہے :

’’ چنانچہ میں ایک بچہ کو جانتا ہوںجس کی ماں مر گئی تھی اس کو ایک خراب خلط والی عورت نیدودھ پلایا۔ جس سے اس کے جسم پر بہت سے زخم ابھر آئے۔ وہ عورت بھوک کے سبب صحرائی پتے کھایا کرتی تھی۔ چنانچہ اس کا جسم بھی عورت کے جسم کی طرح زخموں سے بھر گیا تھا۔ وہ ایک ایسے مقام پر رہا کرتی تھی جہاں کے لوگ اسی طرح کی غذا کھایا کرتے تھے۔ چنانچہ اسی طرح اکثر لوگوں کو زخموں کا عارضہ ہو گیا تھا۔ ‘‘

 ابن سینا اپنی مشہور زمانہ کتاب القانون فی الطب جلد اول کے فصل دوم میں رضاع سے متعلق بہت ہی اہم اور کار آمد بحث کی ہے۔ دایہ سے متعلق اس نے جو شرائط بیان کی ہیں نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔ ابن سینا کہتا ہے: ہر ممکن کوشش کی جائے کہ بچہ ماں کا ہی دودھ پئے۔ اس لئے کہ ماں کا دودھ بچہ کہ اس غذا سے بہت مناسب ہے جو قبل ولادت کے رحم میں اس کو پہونچتی تھی۔ کیونکہ بچہ اس کے ہضم کی صلاحیت زیادہ رکھتا ہے اور اس سے مالوف ہوتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ تجربہ سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ جو بچے ماں کا دودھ پیتے ہیں وہ بہت سی اذیتوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں وہ تیسرا نقطہ  بیان کرتا ہے کہ لڑکا اپنی ماں کا دودھ پہلے نہ پئے جب تک کہ ماں کا دودھ معتدل نہ ہو جائے  اور بہتر یہ ہے کہ پہلے ٹھوڑا سا شہد چٹائیں اس کے بعد دودھ پلائیں۔ ابن سینا کا  بتا یا ہوا یہ اصول آج بھی مشرقی گھرانوں میں رائج ہے۔ مگر جدید سائنس اس کی تردید کرتی ہے۔ آج اس بات پر کافی زور دیا جاتا ہے کہ بچے کے پیدائش کے فورا بعد پستان کو صاف کر کے دودھ پلایا جائے۔ یہ دودھ جو رنگت میں پیلا ہو تا ہے طب کی زبان میں کولسٹرم کہتے ہیں طبی اعتبار سے بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ مزید دودھ پلانے کے اوقات اور طریقے کے بارے میں لکھتا ہے : دن بھر میں دو سے تین مرتبہ سے زیادہ دودھ نہ پلانا چاہئے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ جس عورت کادودھ بچہ پئے صبح کے وقت دو یا تین مرتبہ اسے دوہ ڈالے۔ اس کے بعد دودہ پلائیں۔ یہ  طریقہ اس وقت اپنائیں جب دودھ میں کوئی عیب ہو۔ بہت سا دودھ ایک مرتبہ پلانا مناسب نہیں ہے بلکہ مناسب یہ ہے کہ تھوڑ اتھوڑا چند بار کر کے پلائیں۔ ایک ہی مرتبہ پیٹ بھر دودھ پلانے سے بیشتر تمدد، نفخہ اور کثرت ریاح عارض ہوتے ہیں۔ اکثر اولی ایام ولادت میں تین مرتبہ سے زیادہ دودھ نہ پلایا جائے۔ دودھ پینے سے پہلے بچہ کارونا اچھا اور مفید ہے۔ دوددھ پلانے کی مدت طبعی دو سال ہے۔ بچہ کا دودھ چھڑانا یکبارگی مناسب نہیں ہے  بلکہ آہستہ آہستہ چھڑانا چاہئے اور آٹے و شکر کی لانبی اور گول کھجوریں پکا کر چسانا چاہئیے۔ اگر بچہ دودھ چھوڑنے میں تنگ کرے تو ایلوہ اور خرفہ ایک درہم پیس کر پستان پر طلا کریں۔ اس طرح دودھ چھوٹ جائیگا۔

مرضعہ کی خصوصیات ابن سینا کی نظر میں

 ابن سینا کہتا ہے کہ اگر بچہ کو ماں کا دودھ دینا ممکن نہ ہو تو اس کے لئے دایہ کا انتظام کر نا چاہئے۔ پھر وہ دایہ کی شرائط  کے بارے میں لکھتا ہے :

اس کی عمر ۲۵ سے ۳۵ سال کے درمیان ہو نی چاہیئے یعنی وہ سن شباب اور سن صحت وکمال میں ہو۔ اس کا رنگ صاف ہو، گردن مضبوط اور سینہ کشادہ ہو، نہ بہت موٹی ہو نہ بہت پتلی  اور جسم میں بہت زیادہ چربی نہ ہو، اخلاق اچھے ہوں، برے انفعالات نفسانیہ۔ مثلا غم وغصہ اور بزدلی وغیرہ کا اظہار جلد نہ ہو تا ہو، اس لئے کہ یہ چیزیں فساد مزاج پر دلالت کرتی ہیں، اس کے پستان بڑے مگر ڈھیلے نہ ہوں، بلکہ صلابت اور نرمی کے معاملہ میں معتدل ہوں۔ اس کے دودھ کا قوام اور مقدار معتدل ہو اور اس کا رنگ بالکل سفید ہو، مٹیالا، ہرا پیلا اور سرخ نہ ہو۔ اس کی بو اچھی ہو، مزے میں مٹھاس ہو، تلخی  ترشی اور کھارا پن نہ ہو۔ نہ بہت پتلا ہو نہ بہت گاڑھا اورجھاگ دار ہو۔ اس کے قوام کا اندازہ ناخون پر ایک قطرہ ٹپکا کر کیا جائے اگر وہ بہ جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ رقیق ہے اور نہ بہے تو وہ گاڑھا ہے۔

مرضعہ کی غذا

 مرضعہ کی غذ ابہترین اور عمدہ ہو نی چاہئے۔ یعنی بہترین ہلکے گوشت اور عمدہ بنی ہوئی روٹی وغیرہ۔ مرضعہ کو تیز چرپری، نمکین، شدید کھٹی، قابض غذاؤں اور سخت گرم سبزیوں مثلا لہسن، پیاز، ، کراث، جرجیر، کرفس اور پودینہ وغیرہ سے پر ہیز کرنا چاہئے۔

علی بن عباس مجوسی  کامل الصناعۃ  میں لکھتا ہے :

’’ مرضعہ کی غذا اچھی دینی چاہیے، جو اچھاخون پیدا کر ے، جو معتدل ہو، جیسے خسکاری یعنی صا ف گندم کی روٹی ایک سال کے گائے کا گوشت، بکری کا گوشت، چھوٹی مچھلی، اچھی قسم کی چڑیوں کا گوشت، معتدل اقسام کے گوشت، اسفیداج اور زیرباج  اور بریاں گوشت کا قورمہ، چاول، گیہوں، تازہ گوشت اور شکر سے تیار حریرہ اور شکر و روغن بادام سے بنایا ہوااسمید کھلائیں۔ فواکہ میں انگور، کیلے اور بادام شیریں قند کے ہمراہ  جو دودھ کو بہت زیادہ کرتی ہے۔ خون کو صاف کرتی ہے اور اچھا خون پیدا کرتی ہے کھلائیں۔ ‘‘

ابن ہبل بغدادی کتاب المختارات میں لکھتے ہیں :

’’ مرضعہ کی غذا بہتر ہو نی ضروری ہے۔ مثلا بہتر ہلکے گوشت، عمدہ بنی ہوئی روٹی وغیرہ۔ اس کے علاوہ مرضعہ کو تیز، چرپری، نمکین، شدید کھٹی  اور قابض غذاؤں اور سخت گرم سبزیوں مثلا لہسن پیاز، کراث، جرجیر، کرفس اور پودینہ وغیرہ سے پر ہیز کر نا چاہئے۔ ‘‘

 تدابیر مزید لبن

جب مرضعہ کے دودھ میں کمی آجائے تو اس کی غذا بڑھا دی جائے  اور ریاضت میں کمی کر دی جائے اور ایسے سوپ پینے کو دیئے جائیں جو باقلا، جو، چاول، اور ماء نخالہ (بھوسی)سے شکر کے ساتھ بنائے گئے ہوں۔ بادام کا شیرہ جس میں سونف کی جڑ اور تخم سویا پکایا گیا ہو  مفید ہے۔ بھیڑ اور بکری کے تھن بھی دودھ کی کمی میں مفید ہو تے ہیں کیونکہ ان میں دودھ ہو تا ہے۔ نمکین مچھلی کے سروں کا شوربہ بھی مفید ہے۔

نسخہ:

تخم سویا ۱۰۰ گرام، تخم میتھی و تخم رچبہ ہر ایک ۷۰ گرام، تخم کرنب اور بسکھپرا ہر ایک ۳۵ گرام۔ سب کو باریک کوٹ لیا جائے۔ پھرتازہ سونف کو کوٹ کر نچوڑ لیا جائے  اور اس میں گھی اور شہد ملا کر معجون بنا لیا جائے۔ مقدار :بمقدار ایک اخروٹ راز آنہ

نسخہ دیگر:خراطین یا دیمک کو خشک کر کے باریک پیس کر ماء الشعیر کے ساتھ پینے سے دودھ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

شیر مادر کا کیمیائی جائزہ

مبدافیاض نے شیر مادر میںتغذیہ سے متعلق ساری چیزیں رکھ دی ہیں۔ اگر ہم اس کا کیمیائی تجزیہ دیکھیں تو اس کا بیشتر حصہ پانی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں شحمیات(Fat)، لحمیات (Protein)، نشاستہ جات(Carbohydrates) اورکچھ مقدارمعدنیات (Minerals)کی بھی ہوتی  ہے۔ ان کے الگ الگ طبی خواص اوع فوائد ہیں۔ ۱۰۰ملی لیٹر میں کل ستر کیلوری پائی جاتی ہیں۔ اس میں پانی کی مقدار۸۹۔ ۹۷ گرام ہوتی ہے۔ شحمیات ۲ء۴ گرام، لحمیات۳ء۱ گرام، نشاستہ جات ۴ء۷ گرام  اور معدنیات کی ان کے عناصر کے لحاظ سے الگ الگ مقدار ہوتی ہے۔

شحمیات : (g100ml)

,Polyunsaturated fatty acids 14% Trace Fatty acids – length 8C (% )

لحمیات: (g/100ml)

Casein 0.4g، 0.3g a-lactalbumin، 0.2g Lactoferrin، Immunoglobulin A(IgA) 0.1g،

ImmunoglobulinG (IgG)0.001g، lysozyme 0.05g، serumalbumin 0.05g،

 ß-lactoglobulin

نشاستہ جات:(g/100ml)

lactose 7، 0.5  oligosaccharides

معدنیات:(g/100ml)

Calcium 0.03، Phospohorus 0.014،  Sodium 0.015، Potassium 0.055، Cholorine 0.043

جیسا کہ ہم سبھی جانتے ہیں کہ شیر مادر کے اندر وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی پیدا ہوتی رہتی ہے۔ شروع کیتین دنوں کا دودھ جو گاڑھا پیلے رنگ کا ہوتا ہے اس کو کولسڑم (Colostrum) کہتے ہیں۔ غذائیت کے ساتھ ساتھ اس میں  امراض سے مقابلہ کر نے کی صلاحیت بھی ہوتی ہے۔ اس میں لحمیات کی وافر مقدار ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ جراثیم کش بھی ہوتا ہے۔ یہ بچوں کے اندر قوت مناعت پیدا کرتا ہے۔ ہاضمہ درست رکھتا ہے۔ جسمانی ساخت کو پروان چڑھاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں مختلف قسم  کے انزائم، حیاتین اور مانع تعدیہ عوامل پائے جاتے ہیں۔

کولسٹرم کی طرح  عام دنوں میں بھی ماں کے دودھ میں کافی مفید، صحت بخش، غذائیت سے بھر پور  چیزیں پائی جاتی ہیں۔ جیسے

Immunoglobulin Antibodies : پائے جاتے ہیں جو بچے کو Porta-E coli  اور  Polivirous سے محفوظ رکھتے ہیں

Lactoferrin  اور  Lypase Amylase یہ بچے کے نظام ہضم میں معاون ہو تے ہیں۔

Poly unsaturated fat (LCPs) : یہ بچے کو امراض قلب سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ یہ دماغ کے نشو نما میں اہم رول ادا کرتا ہے۔

Milk lactose: دیگر دودھ کی بہ نسبت ماں کے دودھ میں اس کی مقدا ر  ابتدائی چھ ماہ میں نسبتا زیادہ ہوتی ہے۔ یہ بچے کو امراض معدہ اور فنگل انفکشن سے محفوظ رکھتے ہیں۔

اس کے علاوہ  دودھ میں پائے جانے والے مختلف قسم کی حیاتین اور معدنیات وغیرہ مانع تعدیہ اثرات کے حامل ہو تے ہیں۔

اب یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ بچوں کے لئے ماں کا دودھ ایک امرت ہے جو بچوں کو تغذیہ فراہم کر کے ان کے جسم کے نشونما میں اہم رول ادا کرتا ہے۔ اس  کے ساتھ ساتھ ان کے اندر قوت مناعت کو بڑھاتاہے اور مختلف قسم کے جراثیم  اور وائرس سے بھر پور مقابلہ بھی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بچے مختلف قسم کے امراض سے محفوظ رہتے ہیں۔ جو بچے ماں کا دودھ پیتے ہیں وہ ان بچوں سے جو مصنوعی دودھ استعمال کرتے ہیں زیادہ خوشحال اور صحت مند رہتے ہیں۔ ابھی حالیہ دنوں میں ٹائمس آف انڈیا میں ایک رپوٹ شائع ہوئی تھی کہ جو بچے ماں کا دودھ استعمال کرت ہیں وہ مختلف قسم کے کینسر سے محفوظ رہتے ہیں۔

مزید دکھائیں

شمیم ارشاد اعظمی

مضمون نگار الہ آباد میں اسٹیٹ یونانی میڈیکل کالج کے شعبہ علم الادویہ میں ریڈر ہیں۔ طب کی نو کتابوں کے مصنف ہیں اور ان کے درجنوں وقیع تحقیقی و علمی مضامین قومی اور بین الاقوامی طبی جرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔ آپ کو طب میں مختلف ایوارڈوں سے بھی سرفراز کیا جاچکا ہے۔

متعلقہ

Close