صحت

طب یونانی کیلئے یہ موقع غنیمت ہے- فائدہ اٹھائیں

لندن کے سرخ اینٹوں والے ہسپتالوں سے ،بنگلور کے پھونس کے کاٹیج تک، سڈنی کے دھوپ میں نہاتے احاطے سے لے کر نیو یارک میں بجلی کی روشنی میں نہاتے کلینکوں تک، فضامیں عام طور پرایک نیا جملہ گردش کر رہا ہے: ’’مریض کی عزت کریں۔‘‘جب کبھی ہم مغربی ممالک سے شائع ہونے والے میڈیکل جرنلوں میں طبی اخلاقیات سے متعلق اس قسم کی اسٹوریز کا مطالعہ کرتے ہیں تو بے ساختہ یہ سوال ذہن میں گردش کرنے لگتا ہے کہ خود کو سب سے زیادہ مہذب اور انسانی قدروں کا محافظ کہنے والے والے ترقی یافتہ مغربی سماج کے ان اسپتالوں میں آخر ایسی کون سی مجبوری درآ ئی ہے کہ وہاں ’’مریض کی عزت کیجئے‘‘ جیسی مہم چلانے کی ضرورت درپیش آ رہی ہے۔حالاں کہ اسی مغربی طب نے اس عظیم فن کو جسے اس نے اساتذہ عرب سے حاصل کیا ہے ،یا ان کے فنون چوری کرکے علم طب کے سوتے بہائے ہیں وہاں تو طبی اخلاقیات کا دریا موجزن ہے۔پھر کیا وجہ ہے کہ مغرب نے فضلائے عرب سے ان کے قیمتی علوم سے بھرپور اکتساب کیا ۔مگر طبی اخلاقیات کی ان کی تعلیم انہوں نے کیسے نظر انداز کردی۔
یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ طب یونانی میں اخلاقیات کے حوالے سے کیاتعلیمات ہیں اسے گوش گزار کرادیا جائے تا کہ یہ پتہ چل سکے کہ آج کی مادی دنیا میں جب اخلاق کو بھی پیسے پر تولا جاتا ہے۔طب یونانی اس کی نفی کرتے ہوئے طبی اخلاقیات کی تعلیم پیسہ کی بنیاد پر نہیں بلکہ انیسانیت کی بنیاد پر دیتی ہے۔
اخلاقیاتِ طب (medical ethics )
اخلاقیات طب کا ایک اہم شعبہ ہے جو طب اور مذہب و معاشرتی زندگی میں ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔ طبی اخلاقیات سے متعلق یہ علم ان آدابی اقدار ( moral values) سے بحث کرتا ہے جو طب و حکمت کے شعبہ جات پر مذہب و معاشرے کی جانب سے نافذ ہوتی ہیں۔ اخلاقیات طب میں سب سے اہم کردار خود اس پیشے سے تعلق رکھنے والے افراد (طبیب و ممرضات (nurses) وغیرہ) کا ہوتا ہے۔ ان افراد کے آپس میں روابط (طبیب ۔ ممرض و ممرضہ) کی اخلاقیات ، پھر طبیب و مریض کے اخلاقیات اور ان افراد کے اپنے پیشہ ورانہ اجازہ حاصل کرنے سے قبل اٹھائے اپنے حلف (عہد پیشہ وری) کی پاسداری کا مطالعہ شامل ہے۔ دنیا کے قریباً تمام معاشروں میں ہی طب کو ایک اعلٰی اور قابل عزت پیشے کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور اسی وجہ سے اس شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کی اخلاقیات بھی بلند ہونے کی توقع رکھی جاتی ہے۔بلکہ ہمارا ہندوستانی معاشرہ تو معالج کو’’ بھگوان‘‘کا درجہ دیتا ہے۔ طب کا شعبہ محض ظاہری حالتِ مریض تک محدود نہیں ہوتا بلکہ یہ انسان کے جسم اور معالجے و تحقیق کے دوران اس کی روح تک جاتا ہے اور یوں زندگی بنانے والے خالق کی شہادت اور نشانیوں اور اس کے علم سے منسلک ہوجاتا ہے۔ قرآن کی سورت الذاریات کی آیت 21 میں آتا ہے کہ؛
وَفِی اَنفْسِکْم اَفَلَا تْبصِرْونٍَ
اور تمہارے اپنے وجود میں بھی۔ کیا پھر تم کو سوجھتا نہیں؟
ایک مسلم طبیب اور اس کے شفاخانوں اور مطبوں میں کام کرنے والے افراد کے لیے اسلامی عہدِ زریں کے زمانے سے ہی طبی اخلاقیات پر توجہ دی جاتی رہی ہے اور مذکورہ بالا آیت کی روشنی میں طب کے شعبے میں خالق کی نشانیوں کو اشرف المخلوقات میں آشکار کرنے کی وجہ سے طب کوپیشے اور روزگار کے ساتھ ساتھ عبادت کا درجہ بھی حاصل رہاہے اور یوں عمومی اخلاقیات طب ، شفاخانوں میں خصوصی اسلامی اخلاقیات طب کے ماتحت آجاتی ہے۔مگر وائے افسوس کہ جدیدتحقیقات کی تما م تر بلندیا چھو لینے والی مغربی طب آج اس عظیم اخلاقی دولت سے یکسر محروم اور یتیم ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ جدیدطریقہ علاج نے کئی ناقابل علاج بیماریوں کے علاج میں کامیابی حاصل کی ہے۔ شب وروز جاری اس کی تحقیقات اور ریسرچ یقیناًموت کو شکست دے رہی ہیں۔تاہم علاج و معالجہ کی تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ 60 فیصد ڈاکٹر مریضوں کی بات نہیں سنتے۔میڈیکل جرنل میں شایع رپورٹ بتاتی ہے کہ علاج میں کندھے پر پڑنے والے اخراجات کے بوجھ نے بھی جدیدمیڈیکل سیکٹر کو عام آدمی کی جیب سے باہر کر دیا ہے اور لوگ اس مہنگے اور حواس باختہ طریقہ علاج سے جان چھڑاکر متبادل طریقہ علاج کی جانب تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ انہیں حالات کے درمیان ایک عالمی لہر کا آغاز ہو رہا ہے، جس کا مقصد عام آدمی کو بہتر زندگی دینا، ڈاکٹر اور مریض کے درمیان بہتر تعلقات کی بنیاد رکھنا اور کم خرچ میں اچھا علاج مہیا کرانا ہے جو موجودہ میڈیسن نہیں دے رہی ہے۔اس کے برعکس قدیم طریقہ علاج یعنی طب یونانی اور آیور ویدک نہایت مؤثر،غیر مضر اور ہرقسم کے سائڈ افیکٹ سے پاک اور نہایت سستی بھی ہے۔ان حالات کے پیش نظر اس وقت ایلوپیتھک کے پرانے پیروکاروں اورقدیمی فطری طریقہ علاج کے درمیان زبردست رسہ کشی چل رہی ہے۔اس کھینچ تان کی اہم وجہ یہی ہے یونانی اور دیگر دیسی طریقہ علاج کی جانب بڑی تیزی مریضوں کا رخ بڑھتا جارہاہے ۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہ صورت حال ایلوپیتھک شعبہ علاج کیلئے نہایت تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے،اسی وجہ سے جدید ایلوپیتھک شعبے میں اضطراب پیدا ہوگیا ہے۔
دھیان رہے کہ تمام دیسی طریقہ علاج سے وابستہ اداروں ،تعلیم گاہوں ،اطبا ء اور شفاخانوں کیلئے یہ ایک غنیمت موقع ہے ۔اگر ہمارے دیسی علاج کے اسپتالوں نے جدید طریقہ علاج کے نظام سے استفادہ کرکے اپنے یہاں بہتر سے بہتر خدمات اورمفید تر علاج و معالجہ کی سہولیات فراہم کردیں تو یقین جانئے دنیا میں ایک بار پھر یونانی طریقہ علاج کے باوصف تمام دیسی طریقہ ہائے علاج کو عرفیت و مقبولیت حاصل کرنے میں ذرہ برابر دیر نہیں لگے گی۔ حالات ہمارے حق میں ہیں اور ہمیں اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے۔اس وقت دنیا جس متبادل طریقہ علاج کی جانب تیزی سے رخ کررہی ہے ان میں سے لگ بھگ سبھی طبوں کا تعلق راست یا بالواسطہ طورپر ہندوستان سے ہے۔ ان میں زیادہ تر روایتی ادویات ہیں جو ’’القانون‘ ‘ کی شکل میں مدون اور محفوظ ہیں اور صدیوں سے بیماریوں کے علاج میں استعمال ہوتی رہی ہیں،لہذا انہیں آزمودہ اور صد فیصد مجرب کہنے میں کوئی جھجھک بھی نہیں ہونی چاہئے۔
یونانی طریقہ علاج ہندوستان کا سب سے قدیم طریقہ علاج ہے۔اس کے ذریعے بادشاہوں مہاراجاؤں کے زمانے سے ہی ناقابل علاج امراض بھی ٹھیک کئے جا تے رہے ہیں اور آج بھی کئے جارہے ہیں، لیکن آج حکومت کی جانب سے اس کو بڑھانے اور فروغ دینے میں عدم دل چسپی کی وجہ اس کی فادیت کو گھن لگتی جارہی ہے۔ہمیں یہ اعتراف کرنے میں بھی عار نہیں ہونی چاہئے کہ اس کیلئے صرف حکومتیں ہی نہیں بلکہ ہم بھی کم ذمہ دار نہیں ہیں۔خدارا ہم اس کا احساس کریں اور ایک بار پھر خلوص نیت کے ساتھ مستحکم ارادہ لے کر اٹھ کھڑیں ہوں اور موقع کا بھرپورفا ئدہ اٹھائیں،ورنہ بڑ دیر ہوجائے گی اور اس وقت کف افسوس ملنے کے علاوہ ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں بچے گا ’’اب پچھتاوے کا ہوت جب چڑیا چگ گئی کھیت‘‘۔
خداکرے ہمارے ساتھ ایسے افسوسناک حالات پیدا نہ ہوں۔ اس حقیقت کا عتراف موجودہ وقت میں ساری دنیا کررہی ہے کہ ’’ہندوستان اس وقت دنیا میں طب یونانی کے حوالے سے لیڈر‘‘ ہے۔ ملک میں صحت پالیسی کے مطابق ایلوپیتھی سسٹم ان میڈیسن کے علاوہ آیوروید،’’یونانی‘‘ سدھااور ہومیوپتھی کو مساوی طورپر فروغ دیا جارہا ہے اور ایلوپیتھی کے علاوہ چاروں طریقہ ہائے علاج کو انڈین سسٹم ان میڈیسن’’آئی سی ایم ‘‘قرار دیا جاتا ہے ۔حکومت کی جانب سے کاغزی طور پر ہی سہی یہ سارے انتظامات موجود ہیں۔ بس ہمیں متحد ہوکر حکومت سے اپنے حقوق لینے اور طب یونانی کو اس کا آئینی حق دلانے کیساتھ خود بھی ایمانداری کے ساتھ اپنا ایثار پیش کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید دکھائیں

اسلم جاوید

1967ڈاکٹر اسلم جاوید نے ہاپوڑکے ایک معززخاندان میں ڈاکٹرالحاج نصیراحمد صاحب کے گھرمیں آنکھیں کھو لیں ۔ 1989میں آیوروید اینڈ یونانی طبیہ کالج قرول باغ دہلی سے بی یوایم ایس کی تعلیم مکمل کی۔ مسیح الملک حکیم اجمل خان میموریل سوسائٹی کے بانی وجنرل سکریٹری ہیں۔ ملک وبیرون ملک معیاری روزناموں، ماہنامو ں اوردیگر طبی رسالوں میں کاوش قلم شائع ہوتی رہی ہیں۔ 2012 سے ماہنامہ ’ریکس طبی میگزین ‘کے مدیراعلی کے طورپرتحریری خدمات انجام دے رہے ہیں۔ میگزین کی اشاعت عالمی شہرت یافتہ یونانی دواساز کمپنی ریکس ریمیڈیزپرائیویٹ لمیٹیڈ کے کلی تعاون سے ہورہی ہے۔ علاوہ ازیں سوسائٹی کے زیراہتمام منعقد ہونے والے سیمیناروں اورتقسیم ایوارڈ تقاریب کے موقع پرایک معیاری اور مفید ترین سووینرکی اشاعت بھی ان کے زیرادارت ہی ہوتی ہے۔ طبی خدمات کی تائید و اعتراف میں سری لنکاکی کولمبو یونیورسٹی کی جانب سے جنوری2012میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازاگیا۔

متعلقہ

Close