شخصیاتصحت

مسیح الملک حکیم اجمل خاں کے مجربات

شمیم ارشاد اعظمی

  مسیح الملک حکیم اجمل خاں کا سلسلہ مطب بہت پھیلا ہوا ہے۔مسیح الملک کو فنی حذاقت کے ساتھ ادویہ کے انتخاب اور ترکیب ادویہ میں بھی خاص ملکہ حاصل تھا۔خاندانی مجربات کے علاوہ  بہت ساری ایسی دوائیں ہیں جنھیں حکیم اجمل خاں نے خود ترتیب دیا ہے۔یہ مرکبات اپنی دوائی منفعت میں نظیر نہیں رکھتی ہیں ۔وہ ادویہ ہیں جو حکیم صاحب کے مطب کا خاص حصہ تھیں ، جن پر انہیں حد درجہ یقین و اعتماد حاصل تھا، ان میں بیشتر دوائیں  ہندستانی دوا خانہ کی تیار کردہ تھیں اور ان کے نسخہ حکیم صاحب اور منیجر دوا خانہ کے علاوہ کسی کو معلوم نہ تھے۔

حکیم صاحب کے مطب میں بھی تیار کی جانے والی دواؤں کے نسخہ جات کے بارے میں میر انور جو مسیح الملک کا خاص دواساز تھا، کسی کو علم نہ تھا۔ان میں بعض ادویہ خاندانی مجربات کا بھی درجہ رکھتی تھیں ۔ان نسخہ جات کو پردہ خفا میں رکھنے کی وجہ صرف یہ تھی کہ چونکہ یہ دوائیں ہندستانی دوا خانہ کی ملکیت تھیں اور اس سے جوآمدنی ہوتی تھی اسے کالج کے  اخراجات پورے کئے جاتے تھے۔بعض لوگوں نے اس سلسلہ میں بہت ہی تلخ باتیں بھی لکھی دی ہیں مگر شاید وہ اس حکمت عملی سے لا علم تھے۔افسو س کہ بیشتر قیمتی اور مجرب و مفید نسخہ جات حکیم صاحب اور ہندستانی دوا خانہ کے ساتھ ہمیشہ کے لئے ختم ہوگئے تاہم کچھ نسخہ جات اور ہندستانی دوا خانہ کی مصنوعات کا علم کسی نہ کسی طرح سے لوگوں کو ہو ہی گیا۔حاذق اور افادات مسیح الملک میں بعض جگہ آپ کو دوا کے نام کے ساتھ کوڈڈ نمبر ملیں گے۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ دوائیں ہندستانی دوا خانہ سے متعلق تھیں یا  ان کی حیثیت حکیم صاحب کے خاندانی مجربات کی تھی۔

بیاض اجمل کے مرتب حکیم بشیر احمد ظفر اور کتاب المرکبات مع علاج الامراض کے مرتب حکیم مظفر حسین اعوان نے بعض مرکبات ونسخہ جات جو حکیم صاحب کے معمولات مطب میں شامل تھے یا ہندستانی دوا خانہ میں تیار کئے جاتے تھے، انہیں اپنی کتابوں میں بیان کیا ہے۔ان کے علاوہ  حکیم کبیر الدین کی’ القرابادین‘ اور حکیم خواجہ رضوان احمد کی ’دہلی کے صحیح  مرکبات ‘میں بھی ان ادویہ کا تذکرہ پایا جاتا ہے۔ذیل میں چند مرکبات کے نام مع مختصر افعال و خواص تحریر کئے جا رہے ہیں ۔امید ہے کہ ان ادویہ سے علاج و معالجہ میں ضرور فائدہ حاصل کیا جائے گا۔مطب اجمل کی یہ وہ خاص دوائیں ہیں جن پر حکیم صا حب اعتماد ہی نہیں فخر حاصل تھا۔در اصل یہ مطب کے وہ تجربات ہیں خاندان عثمانی کی برسہا برس کی کاوشوں اور پریکٹس کا ثمرہ ہیں ۔

٭ سل کے علاج میں وہ کسی چیز پر بھروسہ کرتے تھے وہ صرف حب رال، کافور سیال، طلا سیال،کشتہ طلا ء کلاں تھے۔ حکیم صاحب کا کہنا تھاکہ جب سل و دق میں جب بخار 101سے اوپر چلا جائے تو بالعموم مریض اچھا نہیں ہوتا، اس سے کم درجہ حرارت پر اچھا ہوجاتا ہے۔ بشرطیکہ ادویہ مذکورہ بالا کی بھر مار کی جائے۔ اب یہ چاروں مرکبات حکیم صاحب مرحوم کے مخصوص مجربات کہے جا سکتے ہیں ۔ لیکن اس سے کیا فائدہ ہے کہ میں ان کے ساتھ گوند کتیرا، رب السوس، سرطان الخ اور دوسرے بے شمار نسخوں کا تذکرہ کروں ، جو حکیم اجمل خاں کے مخصوصات نہیں ہیں بلکہ حکیم شریف خاں صاحب کے مطب کے معمولات ہیں ۔

 ٭ باہ کے علاج میں تمام ادویہ میں سب سے زیادہ سانپ کے زہر پر اعتماد کرتے تھے۔اور اسی لئے حب کیمیا یا حب خاص (حب خاص میں سانپ کا زہر شریک نہیں ہے۔) استعمال فرماتے تھے۔ اطلیہ میں سب سے زیادہ قابل اعتماد چیز ان کے نظر میں طلاء الماس ہے۔

  ٭  نزلہ دائمی میں کے لئے حضور والا اکثر حب جدوار تجویز فرماتے تھے۔ اور اس سے یقینا فائدہ ہو جاتھا تھا۔

  ٭ سہاگہ بچوں کے لئے اکثر امراض میں بے حد مفید ہے۔ اکثر بخاروں میں ، غلیان الدم اور سرخبادہ اطفال میں بہت جلد نمایا ں فائدہ ہوتا ہے۔ اسی طرح بچوں کے پیٹ کے امراض میں ایلوہ بالعموم  ان کا اصل علاج ہوتا تھا۔

 ٭ قلبی امراض، عام ضعف جمیع قوی، اعصابی امراض، بعض سوداوی امراض میں ’ حب خاص‘ ان کے بھروسہ کی چیز تھی،جو فی الحقیقت جادو کا اثر رکھتی تھی۔حکیم صاحب کا کہنا تھا کہ اگر حب خاص تین عدد پس از غذا کھائی جائیں تو پہلے دن سے فائدہ شروع ہوجاتا ہے۔

  ٭ جوہر منقی ٰ ایک ایسی دوا ہے جس پر انہیں اعتماد ہی نہیں بلکہ فخر تھا۔ اور جس سے انھوں نے اپنی زندگی میں بے شمار کام لئے ہیں ۔ اگرچہ یہ ان کی خاندانی دوا ہے جو صرف آتشک اور سوداوی امراض میں برتی جاتی تھی۔

  ٭ دق کے لئے ان کے تجربہ میں سب سے زیادہ جو شے مفید ثابت ہوئی۔ وہ لہسن کا عرق دو آتشہ ہے۔ باقی اس تجربہ سے پہلے وہ کشتہ طلاء خورد اور حکیم فرید احمد صاحب کی دواء پر اعتماد کرتے تھے۔

  ٭ صابون دیسی وجع المفاصل اور نزول الماء کے علاج میں مخصوص چیز ہے۔

 عورتوں کے اکثر اندرونی امراض میں عموماً اور سیلان رطوبت کے لئے خصوصاً کشتہ مروارید کو بہت زیادہ پسند فرماتے تھے۔حب مرواریدی بھی اکثر استعمال فرماتے تھے۔

 ٭ مالتی بسنت کو مسیح الملک کے مجربات میں درجہ امتیاز حاصل ہے۔اس کو بھی انھوں نے اکثر امراض میں استعمال فرمایا اور فائدہ اٹھایا ہے۔ عام طور پر تو یہ سنگرہنی میں استعمال ہو تا تھا مگر حکیم صاحب نے  اس کو اکثر کہنہ بخاروں میں ، ضعف اعضاء رئیسہ میں استعمال فرمایا مگر سب سے تعجب خیز دمہ میں مالتی بسنت اور کشتہ مروارید کا استعمال تھا جو ضعف قلب واعصاب کیوجہ سے تھا۔

  نسخہ:کہربائے شمعہ50گرام،شنگرف ایک تولہ،مروارید ناسفتہ، ورق طلا ہر ایک6گرام۔تمام دواؤں کا سفوف کریں اور مسکہ گاؤ بقدر ضرورت استعمال کریں ۔60-120 ملی گرام۔

 ٭ قروح امعاء کے لئے حضور مرحوم جس چیز کو سب سے زیادہ ترجیح دیتے تھے وہ قرص راتینج کا وہ حقنہ  ہے جس کا نسخہ علاج الامراض میں مذکور ہے۔

جوہر منقیٰ حکیم صاحب کے مطب کی خاص دوا ؤ میں شامل تھی۔ حکیم صاحب نے اپنے تجربات اور مشاہدات کے بنیاد پر اس کے استعمال کو لا محدود کر دیا تھا۔ قرابادین کا مطالعہ کرتے ہیں ہیں زیادہ تر اس کو سوداوی امراض خصوصاً آتشک میں مفید بتایا جاتا ہے۔جو ہر منقی کی ترکیب ہندی ترکیب ہے۔ اس کا تذکرہ خود حکیم شریف خاں نے بھی نہی کیا ہے۔ قرابادین جدید بقلم عبد الحفیظ میں لکھا ہے کہ  رسکپور، سم الفار، دار چکنا ہر ایک 12گرام۔ تمام ادویہ کو برانڈی میں صبح سے شام تک کھرل کرنے کے بعد اس کا جوہر اڑائیں ۔

  ایک مرتبہ مطب میں ایک مریض آیا جس کو آتشک تھی۔ فساد خون کی شکایت تھی اور دو مہینہ سے اس کو جو ہر منقیٰ استعمال کیا جا رہا تھا۔ حسب امید اس کو فساد خون کی شکایات میں نمایاں فائدہ ہوگیا لیکن ہم لوگوں کو بے حد تعجب تھا جبکہ اس نے یہ بیان کیا کہ میں نے جب سے یہ دوا شروع کیا ہے مجھے قوت باہ شروع ہوگئی ہے جو عرصہ دراز سے جاتی رہی تھی۔چونکہ ہم سب اس وقت تک یہی جانتے تھے کہ جوہر منقی صرف مصفی خون اور دافع آتشک دوا ہے۔ ہم سب کا استعجاب دیکھ کر حکیم صاحب مرحوم نے دوران مطب ہی میں ارشاد فرمایا کہ دیرینہ آتشک کی حالت میں خون کا قوام غلیظ اور دوران خون سست ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے عضو مخصوص کی طرف خون اور ریاح بقدر نعوط کافی ہونے کی قابل نہیں پہونچ سکتے اور قوت باہ خراب ہوجاتی ہے۔ جوہر منقیٰ چونکہ مرقق دم ہے اور ازالہ ٔ سبب کرتا ہے،اس لئے بالواسطہ مقوی باہ ہے۔ میں نے جوہر منقیٰ کے اس سے زیادہ حیرت انگیز متعدد کارنامے دیکھے ہیں ۔ چنانچہ فالج،لقوہ اور اختلاج قلب جیسے امراض کا کا کامیاب علاج میں نے جو ہر منقیٰ سے کیا ہے۔ جوہر منقیٰ سے بواسیر ریحی کے متعدد معالجات میں فائدہ ہوا ہے۔ بعض کہنہ اورام کا علاج بھی جوہر منقی سے کا میاب ہوا ہے۔ خنازیری گلٹیاں جوہر منقیٰ سے اکثر جاتی رہیں ہیں ۔

 حکیم اجمل خاں کے مطب کی ایک اور دوا کافی مشہور تھی جسے ’’ دواء الشفا ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ دوا مسیح الملک کی ایجاد کردہ ہے۔ یہ دوا منوم، مسکن اعصا ب و دماغ ہے۔جنون، مالیخولیا، صرع، اختناق الرحم، بے خوابی ذکاوت حس وغیرہ میں مفید ہے۔جنون و مالیخولیا میں اس کا استعمال تیر بہدف کام کرتا ہے۔

   اس سے قبل اسرول کا استعمال ط معالجاتی سرمایہ میں نہیں ملتا ہے۔ یہ دوا گرچہ اسرول اور فلفل سیاہ پر مشتمل ہے لیکن اس کے فوائد ہیجانی جنون میں اس قدر ہیں کہ شمار نہیں کیا جا سکتا ہے۔اس مرض میں اس کی حیثیت اکسیر کی ہے۔ حاذق کے مرتب جنون کے علاج میں مرطب دماغ کے بعد لکھتے ہیں کہ:

’’۔ ۔۔۔اور دوا ء الشفا نمبر1285ایک عجیب و غریب دوا جناب مسیح الملک حکیم اجمل خاں کے مجربات میں سے اس بیماری کی ’’ ہندستانی دوا خانہ‘‘ کو ملی ہے۔ یہ اکسیر تو نہیں دوا ہے اور دوا کیا اکسیر ہے۔دنیا میں اس بیماری کی اس سے بہتر دوا نہیں ہے۔ ہزروں مریضان جنون اس دوا سے اچھے ہوگئے۔ شورش انگیز جنون کے لئے تو یہ دوا گویا تیر بہدف ہے۔ فوراً آرام شروع ہوجاتا ہے۔خاموش رہنے والے مجانین کے لئے بھی مفید ہے مگر انہیں زیادہ عرصہ تک اس دوا کو استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔اس کا استعمال بھی عرقیات کی نسبت سے آسان ہے کیونکہ یہ قرصوں کی شکل میں ہے۔ اس کا فوری اثر دماغ پر پڑتا ہے اور بیمار جنھیں نیند نہ آنے کی تکلیف ہوتی ہے گہری اور آرام کی نیند سونا شروع کر دیتے ہیں ، بعض بیمار تو رات کے علاوہ دن کے اکثر حصہ میں بھی اس دوا کے استعمال کے بعد سوتے ہی رہتے ہیں ۔ یقینی طور پر اس دوا کو جنون و مالیخولیا کی بہترین دوا قرار دیا جا سکتا ہے۔ ‘‘

نسخہ: اسرول، فلفل سیاہ ہر ایک 2تولہ کوٹ چھان کر قرص بنائیں ۔

  مقدار خوراک: ایل ماشہ یا دو قرص۔ شدت جنون کی شکل میں اس کی مقدار بڑھا دینی چاہئے اور اس دوا کو قرص یا گولی کی بجائے سفوف کی شکل میں بھی استعمال کر سکتے ہیں ۔اور فلفل سیاہ کے بغیر بھی۔

 جنون کے علاوہ ’دواء الشفا‘ سے صرع میں بھی خاندان شریفی کے اطباء اٹھاتے رہے ہیں ۔حاذق کے مرتب لکھتے ہیں :

  ’’ دواء الشفا ء جو دنیا میں جنون کی بہترین دوا ہے مرگی میں بھی نہایت مفید ثابت ہوئی ہے، لیکن اس کے دوران استعمال میں جب تک آرام نہ ہو گوشت بالکل نہ کھائیں ۔‘‘۔ دونوں وقت کھانا کھانے کے بعد ایک گولی پانی کے ساتھ کھائیں ۔

  حکیم محمد احمد خاں دستور العلاج ( مطب علمی) میں دواء الشفاء کے بارے میں یوں رقم طراز ہیں ۔

   ’’ جنون ہائج یعنی شورش انگیز جنون کے لئے جس میں مریض شور و غل مچاتا اور آدمیوں کو مارتا کاٹتا ہے، دوا لشفاء دوا ہی نہیں بلکہ اکسیر ہے۔اس کے استعمال سے جنون ہائج کے ہزاروں مریض اچھے ہو چلے ہیں ، اس دوا کے متعلق بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کے مقابلہ کی دوا ہندستان تو درکنار اب تک یورپ میں بھی دریافت نہیں ہوئی ہے۔‘‘

حکیم صاحب کے مطب میں مستعمل ادویہ

  وہ ادویہ ہیں جو حکیم صاحب کے مطب کا خاص حصہ تھیں ، جن پر انہیں حد درجہ یقین و اعتماد حاصل تھا۔ ان میں بیشتر دوائیں  ہندستانی دوا خانہ کی تیار کردہ تھیں اور ان کے نسخہ حکیم صاحب اور منیجر دوا خانہ کے علاوہ کسی کو معلوم نہ تھے۔ حکیم صاحب کے مطب میں بھی تیار کی جانے والی دواؤں کے نسخہ جات کے بارے میں میر انور جو مسیح الملک کا خاص دواساز تھا، کسی کو علم نہ تھا۔ان میں بعض ادویہ خاندانی مجربات کا بھی درجہ رکھتی تھیں ۔ان نسخہ جات کو پردہ خفا میں رکھنے کی وجہ صرف یہ تھی کہ چونکہ یہ دوائیں ہندستانی دوا خانہ کی ملکیت تھیں اور اس سے جوآمدنی ہوتی تھی اسے کالج کے  اخراجات پورے کئے جاتے تھے۔بعض لوگوں نے اس سلسلہ میں بہت ہی تلخ باتیں بھی لکھی دی ہیں مگر شاید وہ اس حکمت عملی سے لا علم تھے۔افسو س کہ بیشتر قیمتی اور مجرب و مفید نسخہ جات حکیم صاحب اور ہندستانی دوا خانہ کے ساتھ ہمیشہ کے لئے ختم ہوگئے تاہم کچھ نسخہ جات اور ہندستانی دوا خانہ کی مصنوعات کا علم کسی نہ کسی طرح سے لوگوں کو ہو ہی گیا۔حاذق اور افادات مسیح الملک میں بعض جگہ آپ کو دوا کے نام کے ساتھ کوڈڈ نمبر ملیں گے۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ دوائیں ہندستانی دوا خانہ سے متعلق تھیں یا کی حیثیت حکیم صاحب کے خاندانی مجربات کی تھی۔بیاض اجمل کے مرتب حکیم بشیر احمد ظفر اور کتاب المرکبات مع علاج الامراض کے مرتب حکیم مظفر حسین اعوان نے بعض مرکبات ونسخہ جات جو حکیم صاحب کے معمولات مطب میں شامل تھے یا ہندستانی دوا خانہ میں تیار کئے جاتے تھے، انہیں اپنی کتابوں میں بیان کیا ہے۔ان کے علاوہ  حکیم کبیر الدین کی’ القرابادین‘ اور حکیم خواجہ رضوان احمد کی ’دہلی کے صحیح  مرکبات ‘میں بھی ان ادویہ کا تذکرہ پایا جاتا ہے۔ذیل میں چند مرکبات کے نام مع مختصر افعال و خواص تحریر کئے جا رہے ہیں ۔امید ہے کہ ان ادویہ سے علاج و معالجہ میں ضرور فائدہ حاصل کیا جائے گا۔ اس  فہرست میں جو ہندستانی دوا خانہ کی مصنوعات ہیں انہیں [] میں لکھا گیا ہے۔

  الاحمر[ہندستانی] ( تقویت باہ کے لئے)، تکمید مجلوق مسیح الملک والا( استرخاء قضیب کے لئے)،جواہر مہرہ( حرارت غریزی کو بر انگیختہ کرنے اور تقویت اعضاء رئیسہ کے لئے)،جوہر منقیٰ( سوداوی بیماریوں کے لئے)،چکنی دوا(نزول الماء کے لئے)، حب خاص( کمزوری دور کر نے اور تقویت باہ کے لئے)، حب کچلہ(تقویت اعصاب کے لئے)،حب نشاط[ہندستانی] (امساک کے لئے)،حلوہ سپاری پاک( سیلان الرحم اور سرعت جریان کے لئے)،دواء الشفا،( مالیخولیا و دیوانگی کے لئے)،دواء دق[دود ھ والی دوا]( تپ دق اور کہنہ بخار کے لئے)، انتصابی[ہندستانی] ( دمہ کے لئے)، سفوف فولادی( بواسیر دموی اور فربہی بدن کے لئے)،سفوف قلعی کشتہ( سوزاک کے لئے)،سفوف نانخواہ[ہندستانی](بھوک، تحلیل ریاح اور بواسیر ریحی کے لئے)، سفوف نعناع[ہندستانی]( بھوک، تکسیر ریاح اور درد شکم کے لئے)،شربت بادیان(سی کو)[ہندستانی](امراض جگر، معدہ و امعاء جیسے قبض، نفخ، درد شکم، بد ہضمی، بخار کے لئے)،شربت صدر( کھانسی، نزلہ، ضیق النفس اور سل و دق کے لئے )،شربت مصفی،[مصفی:ہندستانی](امراض فساد خون جیسے خارش، داد، پھوڑے پھنسیوں کے لئے)،ضماد جوز السرو[ہندستانی](فتق کے کئے)،ضماد خنازیر(خنازیری گلٹیوں کو تحلیل کر نے کے لئے)، ضماد خواب آور[ہندستانی]( ترطیب دماغ اور نیند کے لئے)،ضماد سنبل الطب (ورم جگرو طحال کے لئے)،ضماد شیر شتر والا (ورم رحم کے لئے)، ضماد طحال(ورم طحال کے لئے)،ضماد قیصوم (ورم خصیہ کے لئے)،طلاء جدید( مجلوق و ضعف باہ کے لئے)،طلاء دار چینی مشک والا ( لاغری عضو مخصوص کے لئے)،طلاء سرخ ( مجلوق کے لئے)،سیال کافور(ہیضہ،بدہضمی، جریان دم، بواسیر کے لئے)،عرق ہرا بھرا[ہندستانی](خاص سل و دق کے لئے)،سیال فولاد[ہندستانی] ( تقویت معدہ و جگر اور خون کی کمی دور کرنے کے لئے)،قرص مثلث[ہندستانی](عصبی درد بالخصوص شقیقہ کے لئے)،سیال کبریت( ضعف ہضم اور فساد خون دور کرنے کے لئے)،کشتہ ابرک سیاہ( جریان منی، سیلان رطوبت اور کھانسی، دمہ و کہنہ بخار کے لئے)،کشتہ زمرد( تقویت جگر  وگردہ اور سلسل البول کے لئے)،کشتہ طلاء کلاں [ہندستانی]( عام جسمانی کمزور ی دور کرنے کے لئے)،کشتہ قلعی( جریان، سرعت، رقت اور کثرت احتلام کے لئے)،کشتہ نقرہ( تقویت قلب، دماغ، جگر و معدہ کے لئے)،لعوق آب نیشکر والا( نزلہ، خشک کھانسی اور سل کے لئے)،ماء الذھب (عام جسمانی کمزوری اور سل و دق کے لئے )،مرہم بواسیر[ہندستانی]( بواسیری مسوں کی سوزش و جلن دور کرنے کے لئے)،مطبوخ قرطم (احتباس طمث کے لئے)،معجون جلالی[ہندستانی]( تقویت باہ کے لئے)،معجون خبث الحدید[ہندستانی]( بواسیر ی خون کو روکنے کے لئے)،معجون فلک سیر ( تقویت باہ و امساک کے لئے)،معجون نجاح[ہندستانی]( مالیخولیا، صرع اور اختناق الرحم کے لئے)،نمک بواسیر[ہندستانی] ( جریان دم کی مخصوص دوا)،نمک مرگانگ( اشتہا، گرانی شکم اور نفخ کے لئے)،سیا ل نوشادر( عظم طحال اور اصلاح جگر کے لئے)۔

 مضمون  اس بات کی اجازت نہیں دیتا ہے مسیح الملک حکیم اجمل خاں کے  تمام مجربات اور مخصوص ادویہ کی تفصیلات بیان کی جائے تاہم چند ادویہ مرکبہ اور ان کے افعال و خواص کی تفصیل ذیل میں لکھی جا رہی ہے۔

تکمید مجلوق مسیح الملک:جلق و اغلام سے قضیب میں استرخاء پیدا ہوجاتا ہے تو طلاء کی مالش سے قبل اس کا استعمال کرتے ہیں تاکہ طلاء کے اثر کو قبول کرنے کی صلاحیت پیدا ہوجائے۔

  نسخہ:آنبہ ہلدی،مغز جمال گوٹہ، مال کنگنی،برادہ دندان فیل ہر ایک 9گرام۔تمام ادویہ کوٹ کر تین پوٹلیاں بنائیں ۔بوقت ضرورت ایک پوٹلی بھیڑ کے دودھ میں جوش دے کر بیس منٹ تک عضو مخصوص پر ٹکور کریں ۔

جوارش مہرہ: اس کا شمار حکیم اجمل خاں کی خاص الخاص دوا میں ہوتا ہے۔ حرارت غریزی کو بر انگیختہ کرتا ہے۔مقوی اعضائے رئیسہ ہے۔عام جسمانی کمزوری،ضعف قلب،اور مرگی کے دوروں کو مفید ہے۔

  نسخہ: جواہر مہرہ خطائی17گرام،مروارید ناسفتہ،بسد احمر،کہربائے شمعی، یاقوت کبود،یاقوت اصفر،لاجورد مغسول،یشب سبز،زمرد سبز، عقیق سرخ،مصطگی،ورق نقرہ ہر ایک 7گرام،جدوار بنفشی، نارجیل دریائی، مکو خشک،مشک مومیائی،ورق طلا ہر ایک 3گرام۔تمام ادویہ کو عرق گلاب میں میں دو ہفتہ کھرل کرکے محفوظ کر لیں ۔2چاول خمیرہ گاؤزبان 5گرام کے ہمراہ استعمال کریں ۔

حب خاص: حکیم اجمل خاں کا خاندانی اور مخصوص نسخہ ہے۔ مقوی عام  و مقوی باہ ہے،مرض کے بعد کی کمزوری کو دور کرتا ہے۔

  نسخہ:اذراقی مدبر، بہمن سفید،جدوار، جند بیدستر، زعفران، عنبر اشہب، کشتہ طلاء، کشتہ فولاد، مشک خالص۔تمام ادویہ ہم وزن لے کر عرق پان میں کھرل کر کے بقدر مونگ گولیاں بنائیں ۔1سے 2گولی  بعد غذاء ہمراہ پانی استعمال کریں ۔

حب کچلہ: بیاض شریفی سے منقول ہے اور حکیم اجمل خاں کے معمولات مطب میں سے ہے۔ مقوی اعصاب، مجفف رطوبات اور امساک پیدا کرتی ہے۔

 نسخہ: کچلہ35گرام کو دودھ میں اس قدر جوش دیں کہ اس کا چھلکا اتر جائے، اس کے بعد فلفل سیاہ، فلفل دراز ہر ایک 15گرام، عنبر سائیدہ3.5گرام،تمام ادویہ کوٹ چھان کر جنگلی بیر کے برابر گولیاں بنائیں ۔ایک گولی صبح و شام کھلائیں ۔

حب نشاط: مسیح الملک کے مطب کی خاص دوا ہے۔نہایت ممسک ہے۔اس میں کوئی نشہ آور دوا بھی شامل نہیں ہے۔ یہ ہندستانی دوا خانہ کا مشہور پروڈکٹ ہے۔

  نسخہ: کشتہ چاندی5گرام،جاوتری،ریگ ماہی، زعفران ہر ایک15گرام،جوز بوا، سمندر سوکھ ہر ایک9گرام، زہر مہرہ،مشک ہر ایک1گرام۔تمام ادویہ کوٹ چھان کر آب برگ پان میں کھرل کرکے جنگلی بیر کے برابر گولیاں بنائیں ۔ ایک گولی ہمراہ دودھ قبل جماع ایک گھنٹہ کھائیں ۔

دوائے دق:یہ دوا حکیم اجمل خاں کے مطب میں دودھ والی دوا کے نام سے مشہور تھی۔ تپ دق اور حمی مزمنہ میں مستعمل ہے۔

 نسخہ: فلفل سیاہ، ایلا ئچی خورد، طباشیر، بلادر مدبر، ست گلو۔ تمام ادویہ ہم وزن لے کر ان کا سفوف بنائیں ۔125ملی گرام آدھ پاؤ بکری کے دودھ کے ساتھ استعمال کریں ۔

انتصابی : ہندستانی دوا خانہ میں تیار کی جاتی تھی۔ دمہ میں نہایت مفید ہے اور سستی دوا ہے۔

 نسخہ: اجوائن خرسانی،اجوائن دیسی، نمک لاہوری ہر ایک50گرام، سم الفار2گرام، کبوتر صحرائی1عدد۔ ادویہ کو باریک پیس لیں اور کبوتر کو ذبح کر کے آلائش وغیرہ صاف کر لیں اور پسی ہوئی ادویہ اس میں بھر کر مٹی کے برتن میں رکھ کر گل حکمت کرکے دس کلواپلوں کی آگ دیں ۔آگ سرد ہونے پر ادویہ کو بارک کرکے محفوظ کر لیں ۔30ملی گرام شہد میں ملا کر رات کو کھائیں ۔

سفوف کشتہ قلعی : مسیح الملک کے معمولات میں سے ہے۔ سوزاک میں نہایت مفید ہے نیز سوزاک کی وجہ سے جریان میں خاص طور سے مفید ہے۔

 نسخہ: ست سلاجیت، ست گلو، ایلائچی خورد، طباشیر، اصل السوس مقشر، تالمکھانہ، پکھان بید، کشتہ قلعی۔ تمام ادویہ ہم وزن لے کر ان کو سفوف بنائیں اور کل ادویہ کے ہمو زن مصری ملا کر محفوظ کر لیں ۔ 9گرام لسی کے ہمراہ استعمال کریں ۔

سفوف نانخواہ: ہندستانی دوا خانہ کا مشہور نسخہ ہے۔ مشہی اور محلل ریاح ہے۔ بواسیر ریحی میں خا ص طور سے مفید ہے۔

 نسخہ: بادیان، نانخواہ، زنجبیل، پودینہ، نمک سیاہ  ہر ایک10گرام، فلفل سیاہ 6گرام۔ تمام ادویہ کوٹ چھان کر سفوف تیار کریں ۔3گرام کھانا کھانے کے بعد استعمال کریں ۔

سفوف نعناع: ہندستانی دوا خانہ کا مشہور نسخہ ہے جو قرص نعناع کے نام سے مشہور تھا۔ بھوک بڑھاتا ہے،درد شکم  دور کرتا ہے نیز ریاح خارج کرتا ہے۔

  نسخہ: نعناع خشک30گرام، نمک سیاہ، سماق15گرام، فلفل سیاہ7گرام۔تمام ادویہ کوٹ چھان کر سفوف تیار کریں ۔1-3گرام قبل غذا یا بعد غذا جب چاہیں استعمال کریں ۔

سنون فولادی: مسیح الملک کا خاندانی نسخہ ہے۔ ہلتے ہوئے دانت کو مضبوط کرتا ہے اوراس کے متواتر استعمال سے بڑھاپے میں بھی دانت نہیں ہلتے  ہیں ۔

  نسخہ: فلفل سیاہ، زنجبیل3گرام، چھالیہ،سنگ جراحت ہر ایک30گرام، ببول کی چھال120گرام۔ تمام ادویہ باریک پیس لیں ۔ حسب معمول دانتوں پر ملیں ۔

شربت بادیان: یہ ہندستانی دوا خانہ کا مشہور مرکب ہے جو’ سی کو‘ کے نام سے تیار ہوتا تھا۔ معدہ، جگر اور آنتوں کی بیماریاں قبض، نفخ، درد شکم، بد ہضمی  اور تمام بخار جس کا سبب معدہ  ہو، میں مفید ہے۔ضعف جگر و عظم جگر میں مفید ہے۔

 نسخہ: بیخ بادیان،بیخ کاسنی، بیخ کرفس، بیخ اذخر، زنجیر زرد  ہر ایک750گرام،عناب، بہدانہ، گاؤزبان،اصل السوس، مویز منقی،گل سرخ، سناء مکی، تمر ہندی ہر ایک1250گرام، سپستان، بادیان، پرسیاؤشاں ہر ایک2کلو 250گرام، ریشہ خطمی250گرام۔ تمام ادویہ کو آٹھ گھنٹے پانی میں جوش دیں جب تہائی پانی رہ جائے تو 40کلو گڑ کا اضافہ کرکے قوام تیار کریں ۔20ملی لیٹر ہمراہ آب صبح شام استعمال کریں ۔

شربت صدر: مسیح الملک کے معمولات میں سے ہے۔سل و دق، کھانسی، نزلہ ضیق النفس کے لئے مجرب ہے۔

 نسخہ: گل گاؤزبان27گرام، آبریشم خام، گاؤزبان، تخم کتان،پرسیاؤشاں ، اصل السوس، اجوائن دیسی، بادیان ہر ایک13گرام، عناب37گرام، پوست خشخاش، تخم خطمی  ہر ایک23گرام، سپستاں 33گرام، بہدانہ10گرام۔تمام ادویہ کو آٹھ گنا پانی میں جوش دیں ۔جب تہائی پانی رہ جائے تو تین گنا شکر ملا کر شربت تیار کریں ۔20ملی لیٹر ہمراہ عرق گاؤزبان50ملی لیٹر صبح و شام خالی شکم نیم گرم استعمال کریں ۔

شربت مصفی: ہندستانی دوا خانہ ’مصفی‘ کے نام سے تیار ہوتا تھا۔خون کو صاف کرتا ہے۔خارش، داد پھوڑے پھنسیوں کو زائل کرتا ہے۔

  نسخہ: عناب 50گرام، صندل سرخ، صندل سفید، سرپھوکہ، برگ مہندی، شاہترہ، گل نیلوفر، مکو خشک، تخم کاسنی، برادہ شیشم، گل منڈی ہر ایک15گرام۔تمام ادویہ کو آٹھ گنا پانی میں رات کو بھگو دیں ، صبح جوش دیں جب تہائی وزن پانی باقی رہ جائے تو اس میں تین گنا شکر ملا کر شربت تیار کریں ۔ 20ملی لیٹر صبح و شام استعمال کریں ۔

ضماد جو زالسرو: ہندستانی دوا خانہ کی مشہور دوا ہے مرض فتق یعنی آنت اترنے میں نہایت مفید ہے۔

  نسخہ: جو زالسرو، کندر، مصطگی رومی، سریشم ماہی۔تمام ادویہ ہم وزن لیں ۔سریشم ماہی کو سر کہ انگوری میں پگھلا کر باقی ادویہ سفوف کر کے اس میں ملا لیں ۔ مقام مرض پر روز آنہ لگائیں ۔

ضماد خواب آور: حکیم شریف خاں کی ایجاد ہے اور ہندستانی دوا خانہ میں تیار ہوتا تھا۔ دماغ میں تری پہونچا کر اچھی نیند لا تا ہے۔

  نسخہ: گل نیلوفر، تخم کاہو،تخم خرفہ، صندل ہر ایک3گرامکافور 1گرام، افیون، زعفران ہر ایک500ملی گرام۔ تمام ادویہ پیس کر سرکہ خالص 5ملی لیٹر اور آب کشنیز سبز 20ملی لیٹر، روغن گل10ملی لیٹر کا اضافہ کرکے لیپ تیار کریں ۔آب کشنیز مین ملا کر پیشانی و سر پر لیپ کریں ۔

ضماد خنازیر: مسیح الملک کے معمولات میں سے ہے۔ خنازیری گلٹیوں کو تحلیل کرنے میں خصوصیت سے مفید ہے۔

 نسخہ:مرمکی،صبر زرد، اجوائن دیسی، السی ہر ایک2گرام، زراوند مدحرج، فلفل سیاہ، فلفلمویہ، چرائتہ شیریں ، اشق، مقل،حلتیت، فرفیون، قنہ، راتینج ہر ایک1گرام، میتھی نصف گرام۔ تمام ادویہ کوٹ چھان کر مکو سبز کے پانی میں ضماد تیار کریں ۔معمولی گرم کرکے صبح شام گلٹیوں پر لگائیں ۔

ضما د سنبل الطیب: مسیح الملک کے مطب کی مشہور دوا ہے۔ تمام اندرونی اعضاء کے اورام جیسے ورم جگر، ورم طحال، ورم رحم کو تحلیل کرتا ہے۔ نیز خناق میں بھی مفید ہے۔

نسخہ: سنبل الطیب، تگر، مصطگی ہر ایک7گرام، بادام تلخ، کرفس، اجوائن ہر ایک9گرام، اکلیل الملک، برنجاسف 30گرام۔تمام ادویہ کو آب بادیان سبز یا جوشاندہ بادیان میں پیس کر روغن گل20گرام، سرکہ10گرام کا اضافہ کرکے لیپ تیار کریں ۔مقام مرض پر نیم گرم لیپ کریں ۔

طلائے جدید: مسیح الملک کے مطب کے اسرار میں سے ہے۔ مجلو ق اور ضعف باہ کے مریضوں کے لئے اکسیر ی حیثیت کا حامل ہے۔

  نسخہ: سم الفار2.5گرام کو مدار کے دودھ میں کھرل کریں ۔اس کے بعد بیر بہوٹی، جاوتری، لونگ، عاقرقرحا، جائفل ہر ایک60گرام ملا کر کھرل کریں ،پھر زعفران، مشک ہر ایک10گرام کھرل کریں اور آخر میں گائے کا گھی ایک کلو ملا کر کھرل کریں ۔ جب تمام اجزاء بخوبی مل جائیں تو استعمال میں لائیں ۔

طلاء ماہی: ہندستانی دوا خانہ کا مشہور مرکب ہے۔بیاض خاص سے منقول ہے۔قضیب کی سستی و کمزوری دور کرتا ہے اور اس کو سخت بناتا ہے۔

 نسخہ:  ماہی سیاہ، ماہی سفید، ماہی سرخ ہر ایک1عدد، کچلہ، بیر بہوٹی ہر ایک20گرام۔ تمام ادویہ کو شراب خالص میں تین دن بھگونے کے بعد کھرل کریں ۔اور عاقر قرحا، قرنفل، اسگند، سلاجیت، افیون، جو زبوا ہر ایک 6گرام خوب باریک کرکے شیر کی شربی میں پکا کر تمام ادویہ ملا کر محفوظ کر لیں ۔چند قطرے قضیب پر لگائیں ۔

عرق ہرا بھرا: مسیح الملک کا خاص نسخہ ہے۔دق و سل کے لئے مخصوص ہے۔سوزش بول سوزاک اور خفقان میں بھی مفید ہے۔

 نسخہ:صندل سفید، صندل سرخ، پدماکھ، ناگر موتھا،گل سبز، شاہترہ، پوست نیم، گل نیلوفر، تخم کاسنی، بادیان، تخم کدو، اسارون، کشنیز ہر ایک 100گرام، تخم تلسی، ایلائچی خرد، کوکنار ہر ایک20گرام، بیخ نیشکر، بیخ جوانسہ، دھمایا، منڈی، ملیٹھی ہر ایک50گرام۔تمام ادویہ کو رات میں سولہ گنا پانی میں بھگوئیں اور صبح کو ایک تہائی عرق کشید کریں ۔ 60ملی لیٹر  عرق میں مصری  یا شربت نیلوفر20ملی لیٹر کا اضافہ کرکے استعمال کریں ۔

فولاد سیال: مسیح الملک کی اختراع میں سے ہے۔ ہندستانی داخانہ میں تیار ہوتا تھا۔ مقوی معدہ و جگر ہے نیز خون کی کمی کو دور کرتا ہے۔

  نسخہ:  برادہ فولاد 10گرام، تیزاب شورہ30 ملی لیٹر، پانی ۱۰ ملی لیٹر ملا کر آگ پر رکھیں ۔ فولاد حل ہونے پرپانی100 ملی لیٹر ملا کر کچھ دیر رکھیں ، بعد میں زلال نتھاریں ۔4قطرہ پانی میں ملا کر کھانے کے بعد استعمال کریں ۔

کبریت سیال:  یہ بھی  ہندستانی دوا خانہ کا مشہور مرکب ہے۔ ہاضم طعام اور دافع فساد خون ہے۔

نسخہ:  گندھک آملہ سار50 گرام، کشتہ صدف 100 گرام باریک کرکے 2 لیٹر پانی میں حل کریں ۔ پھر آتشی شیشی میں ڈال کر نرم آنچ پر رکھیں ۔ جب پانی 250ملی لیٹر رہ جائے تو نتھار کر چھان لیں ۔ 3-5 قطرے پانی میں ملا کر استعمال کریں

کشتہ زمرد: مفرح قلب ہے، ۔جگر و گردہ کو قوت بخشتا ہے۔پیشاب کی زیادتی کو روکتا ہے۔خاندان شریفی کا مایہ ناز نسخہ ہے۔

  نسخہ:  زمرد  حسب ضرورت لے کر عرق بید مشک یا عرق گلاب میں کھرل کرلیں اور بوتہ میں ڈال کر 10کلو اپلوں کی آنچ دے کر کشتہ تیا رکریں ۔30ملی گرام  ہمراہ آب تازہ استعمال کریں ۔

کشتہ طلاء کلاں : مسیح الملک کا خاندانی نسخہ اور بے مثال ہے۔ عام جسمانی کمزوری دور کرتا ہے۔

  نسخہ: ورق طلا شہد خالص بقدر حاجت میں حل کرکے پانی سے دھو ڈالیں ، بس کشتہ طلا تیار ہے۔ 60گرام ہمراہ دواء المسک معتدل کے ہمراہ استعمال کریں ۔

کشتہ نقرہ: مسیح الملک کے معمولات میں سے ہے۔ دل و دماغ، معدہ اور جگر کو قوی کرتا ہے۔

 نسخہ: چاندی کے برادہ کو آب ادرک میں دو تین دن کھرل کرکر قرص بنالیں اور گھیکور کے مغز میں رکھ کر گل حکمت کرکے 5کلو اپلوں کی آنچ میں کشتہ تیار کریں ۔ 30-60ملی گرام ہمراہ مکھن استعمال کریں ۔

ماء الذھب: مقوی اعضاء رئیسہ و مقوی باہ ہے۔ حرارت غریزی بر انگیختہ کرتا ہے۔ سل، دق اور عام ضعف میں مفید ہے۔حکیم اجمل خاں کے قیمتی سرمایہ میں اس کا شمار ہوتا  ہے۔

  نسخہ:  سونا۱گرام، تیزاب شورہ 30 ملی لیٹر، تیزاب نمک40 ملی لیٹر ملا کر شیشی میں ڈالیں ، کچھ دن بعد سونا حل ہو جائے گا۔ پھر اس میں 40 ملی لیٹر پانی شامل کرکے بوتل میں محفوظ کریں ۔ 3-5 قطرے ہمراہ ماء اللحم یا ہمراہ آب

مرہم بواسیر: خاندان مسیح الملک کا مشہور نسخہ ہے، اس کو مرہم چوب نیم سائیدہ سے بھی شہرت حاصل ہے۔ بواسیری مسوں کی سوزش اور جلن کو فوری تسکین دیتا ہے۔

  نسخہ: چوب نیم 40گرام، مکھن40گرام، سہاگہ بریاں 30گرام۔پہلے نیم کی لکری کو پیس کر مکھن میں ملائیں اس کے بعد اس میں سہاگہ بریاں ڈل کر خوب ملائیں کہ رنگ سیاہ ہوجائے۔ روئی میں لتھوڑ کر مسوں پر رکھیں ۔

معجون جلالی: مسیح الملک کے مخصوص مجربات میں سے ہے۔ مقوی باہ اور ممسک ہے۔

   نسخہ: مشک ایک گرام، عنبر4.5گرام، زعفران، کبابہ، بزر البنج، سنبل الطیب، عود خام، تج، دار چینی، چھڑیلہ ہر ایک9گرام، اندر جو شیریں ، جو زبوا ہر ایک13.5گرام، پنیر مایہ،خصی الثعلب ہر ایک15گرام، پوست خشخاش، مغز سر کنجشک ہر ایک17گرام، حب النیل400عدد۔تمام ادویہ کوٹ چھان کر سہ چند شہد کے قوام میں معجون تیار کریں ۔ 7گرام بوقت صبح دودھ کے ساتھ استعمال کریں ۔

نمک بواسیر: ہندستانی دوا خانہ کی مشہور دوا ہے۔ جریان خون کی تمام صورتوں میں مفید ہے، خصوصاً بواسیری خون کو روکنے میں بہت مفید ہے۔

 نسخہ: نوشادر50گرام  کو مٹی کے پیالہ میں  رکھ  کر اوپر نیچے نمک سانبھر 10گرام  لگا دیں  اور دوسرا پیالہ اوندھا کرکے حسب دستور جو ہر اڑائیں ۔125ملی گرام نمک دہی بالائی میں ملا کر کھائیں ۔

نمک مرگانگ:  ہندستانی دوا خانہ کی مخصوص دوا ہے۔ بھوک لگاتا ہے، شکم کی گرانی اور نفخ دور کرتا ہے۔

 نسخہ: یہ در اصل کشتہ مرگانگ کا فضلہ ہے۔ 30-60ملی گرام جوارش بسباسہ میں کے ساتھ استعمال کریں ۔

نوشادر سیال: عظم جگر و طحال میں مفید ہے۔ بھوک لگاتا ہے۔ہندستانی دوا خانہ کی مخصوص دوا ہے۔

  نسخہ: بغیر بجھا چونا4 کلو لیں اور مٹی کی ہانڈی میں نصف چونا نیچے بچھا کر نوشادر250گرام درمیان میں کرکے نصف چونا اوپر رکھیں اور ہانڈی کو بند کرکے گل حکمت کریں اور بارہ گھنٹہ آگ پر رکھیں ۔ جب پانی خشک ہو جائے اور نوشاد رباقی رہ جائے تو نوشادر کو چینی کے برتن میں ڈال کر رکھیں ۔نوشادر سیال ہو جائے گا۔ 5 قطرے پانی میں ملا کربعد طعام استعمال کریں ۔

ماخذ

 بیاض اجمل، مرتب، حکیم بشیر احمد ظفر،فیصل پریس،دیوبند،2003

 تذکرہ مسیح الملک،حکیم محمد حسن قرشی،کریمی پریس لاہور،سن ندارد

  حاذق، حکیم اجمل خاں ، اسٹار آفسیٹ پریس،دہلی،1987

 حکیم اجمل خاں ، سید ظل الرحمن،نیشنل بک ٹرسٹ، دہلی، 2004

  حیات اجمل، شفاء الملک حکیم رشید احمد خاں ،ایچ ایس، آفسیٹ پریس، نئی دہلی،اشاعت دوم،2002

   دستور العلاج ( مطب علمی)، حکیم محمد احمد خاں ،بھارت آفسیٹ، دہلی،1996

 رموز الاطباء،جلد اول، حکیم محمد فیروز الدین، ندیم یونس پرنٹرز، لاہور، سن ندارد

  کتاب المرکبات مع علاج الامراض،حکیم مظفر حسین اعوان،غلام علی پرنٹرز،لاہور،سن ندارد

  مطب عملی، حکیم محمد احمد خاں ، بھارت آفسیٹ دہلی، 1996

مزید دکھائیں

شمیم ارشاد اعظمی

مضمون نگار الہ آباد میں اسٹیٹ یونانی میڈیکل کالج کے شعبہ علم الادویہ میں ریڈر ہیں۔ طب کی نو کتابوں کے مصنف ہیں اور ان کے درجنوں وقیع تحقیقی و علمی مضامین قومی اور بین الاقوامی طبی جرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔ آپ کو طب میں مختلف ایوارڈوں سے بھی سرفراز کیا جاچکا ہے۔

متعلقہ

Close