صحت

منشیات فروش، پولیس اور ہم

ایم شفیع میر گول

جس بھی برے کا م میں عوام کا حصہ صرف مجرمانہ خاموشی ہو وہ کام حد سے زیادہ فروغ پاتا ہے۔ چاہئے وہ کام کتنا ہے عوام دشمن کیوں نہ ہو لیکن عوام کی مجرمانہ خاموشی اُس کام کو فروغ دینے کی پہلی وجہ ہوتی ہے۔ علاقہ گول چونکہ اس وقت منشیات کا ایک اڈہ بن چکا ہے شراب،چرس،افیم، ہیروئین، بوٹ پالش اور نہ جانے کیا کیا یہاں کے نوجوانوں کی خوراک بن چکی ہے، اس خوفناک صورتحال کے ہوتے ہوئے عوام نے چپی سادھ لی ہے۔

 عوام کی خاموشی کا ناجائزہ فائدہ پولیس اٹھا رہی ہے کیونکہ انھوں نے بھی عوامی کی خاموشی پر اکتفا کرتے ہوئے اپنے فرائض منصبی کو صرف دن بھر کے ایف آئی آر کاٹنے اور عدالتوں میں چالان پیش کرنے تک محدود کر دیا ہے۔ قابل ِ غور بات تو یہ ہے کہ منشیات کا یہ ’جن ‘پولیس والوں کو بھی اپنا شکار بنائے بغیرنہ رہ سکا۔ علاقہ کے چند معززین کا کہنا ہے پولیس میں بھی ایسے کچھ اہلکار ہیں جو اس طرح کے نشہ آور چیزوں کا استعمال کر تے ہیں۔ تو ظاہر سی بات ہے کہ اگر بلی کو دودھ کی رکھوالی پر معمور کیا جائے تو پھر اس پر بھروسہ کرناہماری سب سے بڑی بیوقوفی ہے اور کچھ نہیں۔

  منشیات کوکنٹرول کرنے کیلئے سب سے اہم کردار پولیس کا ہوتا ہے اور یہ پولیس کی ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ وہ اس طرحکے حساس معاملات پر اپنی کڑی نگاہ بنائے رکھے۔ پولیس جس طرح عوام کیلئے ایک محافظ کی طرح ہے بالکل اس طرح سے عوام بھی پولیس کے تئیں پر اُمید ہوتی ہے کہپولیس کسی بھی ایسی چیز یا مسئلہ کو علاقہ میں پنپنے نہ دیں جس سے معاشرہ تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے۔ لیکن  عوام جن سے اُمید لگا کر اپنی مجرمانہ خاموشی کا عمل اپنائے ہوئے ہے وہ منشیات فروشی پر قابو پانے کے تئیں مکمل طور سے غیر سنجید ہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علاقہ گول منشیات فروشی کا گڑھ بن چکا ہے۔ علاقہ کے لئے یہ بات قابل ِ رحم ہے کہ ایک طرف سے منشیات کا یہ خاموش قاتل گھر گھر جاکر اپنا دائرہ وسیع کر رہا ہے اور دوسری طرف علاقہ کے معززین  غفلت کی نیند سو رہے ہیں، گھر گھر منشیات پہنچائی جارہی ہے لیکن کوئی کچھ بولتا نہیں، کوئی نہیں سوچتا، کوئی آواز نہیں اٹھاتا، نسل نو تباہی کے دھانے پر ہے، چرس اور شراب بچے بچے کی دسترس میں ہے لیکن کسی کو پرواہ نہیں، باپ کو بیٹے کا پتہ نہیں کہ بیٹا کس راستے پر چل نکلا ہے، استاذ شاگرد کے معاملات سے بے خبر ہے، منشیات کے عادی افراد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے سکول کے بچے تک چرس پی رہے ہیں مگر کسی کو پروا ہ نہیں۔

یوں سمجھ لیجئے علاقہ گول میں منشیات فروشوں کا راج ہے وہ بلا روک ٹوک جہاں چاہے منشیات پہنچاتے ہیں۔ ہماری آنے والی نسل کو منشیات ان کی دہلیز پر دستیاب ہوگی اُس وقت اگر کوئی منشیات سے بچنے کی کوشش کرے گا تو ہمیں کن الفاظ میں یاد کرے گا یہ آپ بخوبی جانتے ہیں۔ ہم آنے والی نسل کو ’’منشیات سے بھرپور گول ‘‘منتقل کرنے کے درپے ہیں جس کی تمام تر ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوگی جو سب کچھ جاننے کے باوجود خاموش ہیں خصوصا ً پولیس، اساتذہ، میڈیااور وہ فلاحی تنظیمیں جن کا معاشرے کے اندر ایک بہتر کردار ہے منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان کا ذمہ دار ہیں۔ ان کو چاہئے تھا کہ وہ منشیات کو ختم کرنے کے لئے آواز اٹھاتے اور پولیس و انتظامیہ کو منشیات فروشوں کے خلاف موثر کاروائی پر مجبور کرتے لیکن بد قسمتی سے قوم کے معمار کچھ تو خواب خرگوش میں مبتلا ہیں اور کچھ سیاسی جشن مناتے  میں مصروف ہیں۔ یہاں عوام گول کی یہ بھی بد نصیبی ہے کہ جو عوام گول کیلئے خود کو اپنا سچا اور پکا قائد گردانتے ہیں اور یہ دعوے کرتے تھکتے نہیں ہیں کہ گول کی سیاسی و سماجی نمائندگی کرنا ہی ہماری زندگی کا مقصد ہے تو جب دیکھا جائے تو اُن قائدین کا اٹھنا بیٹھنا صرف ایسے لوگوں کے ساتھ ہیں جو ماضی کے داغدار لوگ ہیں۔ چوریاں، منشیات فروشی اور ڈکیتیوں کو انجام دینے میں وہ لوگ اپنا خاص تجربہ رکھتے ہیں۔ لہٰذاعوام گول کو سمجھنا چاہیے کہ وہ کن کے ہاتھوں میں آکر خود کو محفوظ سمجھ رہے ہیں۔ یہاں پولیس کو چاہیے کہ ایسے لوگوں پر کڑی نگاہ رکھیں جو ماضی میں ایسے ایسے کارناموں میں ملوث رہے ہیں۔ کافی افسوس ناک ہے کہ یہاں کے سیاسی قائدین دربار لگانے اور وزراء کے جلسہ گاہوں کو سجانے میں ہزاروں روپے خرچ کرتے ہیں لیکن منشیات کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے۔علما ء کرام دن بھر فرقوں کے بحث و مباحثہ میں اپنا وقت ضائع کرتے ہیں لیکن منشیات کی اس بڑھتی ہوئی خطرناک وباء کے تئیں خاموش تماشائی بن کر نسل نو کی تباہی کا تماشہ جاگتی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں لیکن منشیات کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے تیار نہیں۔

منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان کا ذمہ دار وہ علماء بھی ہیں جو سب کچھ جانتے ہوئے بھی خاموش ہیں۔ سکول کے اساتذہ اپنی آنکھوں کے سامنے شاگردوں کو تاریک مستقبل کی طرف رواں دواں دیکھتے ہیں مگر ان کا دل ذرا بھی بے چین نہیں ہوتا میں ان اساتذہ کو بھی منشیات میں اضافے کا ذمہ دار قرار دیتا ہوں۔ وہ قلم کار جو صبح سے شام تک منشیات کا استعمال اور خریدو فروخت دیکھتے ہیں لیکن ان کے قلم میں منشیات کے خلاف جنبش پیدا نہیں ہوتی ان کو اگر میں مجرم نہ ٹھہرائوں تو کس کوٹھہرائوں ……؟؟سیاست دانوں کی چاپلوسی اور بیرو کریٹس کی جی حضوری کیلئے کئی صفحے تحریر کرتے ہیں لیکن منشیات کے خلاف ایک لفظ بھی لکھنے سے معذور ہیں۔ شرم کی بات تو یہ ہے کہ اگر کبھی منشیات میں ملوث لوگوں کا راز افشا ہو بھی جائے تو اِس کی جھوٹی خبر بنا کر اس قدر تشہیر کرتے ہیں گویا انھوں نے کوئی بہت بڑا کام انجام دیا ہے۔ اس طرح کی من گھڑت اور سر اسر جھوٹ پر مبنی کہانیاں شائع کر نا بد بختی ہے۔ میڈیا کا کام ہے کہ وہ سچ کو سامنے لائے لیکن سب کے اِ س کے اُلٹ ہو رہا ہے، سچ تہہ در تہہ پردے کے پیچھے رکھا جا رہا ہے جبکہ جھوٹی خبروں کی تشہیر میڈیا رپورٹروں کا معیار بن چکا ہے۔ جھوٹ کو شائع کرنا اب میڈیا رپورٹرس اپنی ڈیوٹی سمجھتے ہیں۔

  قوم کا مستقبل آئے روز ایک ایک کر کے منشیات کا شکار ہو رہا ہے۔ ذمہ دار ہیں وہ والدین جو اپنے بچوں کو صحیح تربیت دینے میں ناکام ہیں۔ والدین نوجوان کو نشے کی لت میں مبتلا دیکھ کر بھی خاموش ہیں۔ شعرا ء و ادباء بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں جومشاعرے کر کے داد و تحسین تو حاصل کرتے ہیں لیکن بے خبر ہیں اس خوفناک (جن) سے جو ہمارے گھروں میں گھس کر نوجوان نسل کو شکار بنا رہا ہے۔ شعراء و ادباء حضرات کو چاہیے کہ وہ اپنا کلام کے ذریعے لوگوں کو بیدار کرنے کی کوشش کریں، ورنہ وہ دن دور نہیں جب آپ کا کلام کوئی سننے والا ہی نہیں ہوگا، پھر کس سے داد و تحسین حاصل کریں گے۔لہٰذا مشاعروں کے ذریعے ہی اس وباء کے خلاف ایک مہم شروع کی جائے۔

  منشات فروشی کے بڑھتے رجحان کو لیکر والدین، پولیس، اساتذہ، سیاسی قائدین، میڈیا، معزز شہری، علمائے کرام اور فلاحی تنظیمیں خاموش ہیں یوں لگتا ہے کہ سب ملکر کسی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نسل نو کو بربادی کی طرف دھکیل رہے ہیں آنے والی نسل شاید یہ جرم ہمیں معاف نہ کر دے اس سے قبل ہمیں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اب بھی وقت ہے جاگنے کا۔منشیات کے خلاف آواز اٹھانا آپ سب کی  ذمہ داری ہے اور میری بھی !!اس لئے آگے بڑھئے اور ہاتھ ہاتھ ملا کر اس خوفناک ج(جن)منشیات کے خلاف آواز اُٹھایئیاور منشیات کے خلاف ہر پوسٹ کو آگے بڑھائے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close