صحت

موسم سرما کا تباہ کن مرض نزلہ اور صحت کاضامن دیسی قہوہ

حکیم نازش احتشام اعظمی
یوں تو حد اعتدال سے بڑھا ہوا سبھی موسم اورانسان کی اپنی لاپروائی کی وجہ موسمی تبدیلی کے وقت حملہ آور ہونے والی بیشتر بیماریا ں حملہ آور ہونے میں کامیاب ہوجاتی ہیں۔مگر چونکہ موسم سرما کا استقبال کررہے ہیں لہذا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ زیر نظر مضمون میں اس مرض پر بات چیت کی جائے جس سے بلا تخصیص ہر آ دمی کسی نہ کسی حد تک ضرور متاثر ہوتا ہے تو آ ئیے ! ہم بات کرتے ہیں سردی کھانسی اورسانس وگلے کے ان عوارض کی جسے عموماً موسم سرما کا تحفہ کہاجاتا ہے،طبی اصطلاح یہ تمام چیزیں نزلہ زکام کی اخوات یا اساس ہیں۔نزلہ و زکام یہ دولفظ ایسے ہیں جن سے ہر انسان صرف آشنا ہی نہیں بلکہ کبھی نہ کبھی ضرور اس کی گرفت میں آچکا ہو گا۔ہمارے ہاں صحت کا مناسب شعورنہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کی اکثریت نزلے و زکام کو معمولی بیماری سمجھ کر نظر انداز کردیتی ہے اور اگر کچھ لوگ اس طرف دھیان بھی دیں تو ایک جوشاندہ پی کر یہ باور کر لیتے ہیں کہ انہوں نے موسمی تبدیلی کے اس عارضہ کا مکمل علاج کرلیا۔قابل ذکر ہے کہ صحت کا مناسب شعور نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کی اکثریت نزلے و زکام کو معمولی بیماری سمجھ کر نظر انداز کردیتی ہے اور اگر کچھ لوگ اس طرف دھیان بھی دیں تو ایک جوشاندہ پی لینے یا کوئی ایلوپیتھک گولی کھا لینے کو کافی خیال کرلیتے ہیں۔حالاں کہ یہ مرض اتنا غیر اہم بھی نہیں جتنا کہ ہم تصور کرتے ہیں، اور اس کے علاج پر توجہ نہیں دیتے۔ اگر نزلہ زکام کو موجودہ دور کی سب سے نقصان دہ بیماری کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہوگا کیوں کہ طبی ماہرین کے نزدیک اگر نزلے کا بر وقت اور مناسب سدِ باب نہ کیا جائے تو یہ کئی موذی اور تکلیف دہ عوارض کو بدنِ انسانی پر مسلط کرنے کا ذریعہ بن کر تندرستی اور صحت مندی کو کھا جاتا ہے۔ذیل میں ہم نہایت اختصار کے ساتھ نزلے کا اثرات اور علامات کا ذکر کرتے ہوئے اس کی کچھ احتیا طی تدابیر آپ کے سامنے رکھیں گے تاکہ آپ خود اور اپنے رشتہ داروں و ماتحتوں کو اس مرض سے محفوظ رکھنے میں تعاون کر سکیں۔
نزلے کے اثرات: مسلسل نزلہ رہنے سے قبل از وقت بالوں کا سفید ہونا عام دیکھا جا سکتا ہے۔ قوتِ بصارت میں کمی کا سبب بن کر زندگی کی رنگینیوں اور رونقوں کو مدھم کر دیتا ہے۔ دماغی صلاحیتوں اور قابلیتوں پر اثرانداز ہوکر کامیابیوں کے حصول کو مشکل تر کردیتا ہے۔ متواتر گلے میں لیس دار رطوبتوں کے گرتے رہنے سے آواز کی خوب صورتی میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔ آدمی کسی محفل میں پر سکون ہو کر بات کرنے سے قاصر رہنے لگتا ہے۔ ہر وقت کھنگارے مارنے کی عادت اسے نفسیاتی مریض بنا دیتی ہے۔ اعصابی و عضلاتی ضعف لاحق ہو کر انسان کو وقت سے پہلے بڑھاپے کی دہلیز پر لاکھڑا کرتا ہے۔اسی کے ساتھ دانتوں کا پیلا پن ،دانتوں میں کھوڑ پیدا ہو نا، ورمِ حلق،کانوں کے امراض پیدا ہونا، ناک کے افعال میں نقص واقع ہونا جیسے ناک کے نتھنے بند ہونا، ناک کے ذریعے سانس لینے میں دقت ہونا وغیرہ جیسے مسائل کا باعث بھی دائمی نزلہ ہی بنتا ہے۔ علاوہ ازیں Maxillary sinucitis جیسا موذی اور تکلیف دہ عارضہ بھی اسی مرض کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے ۔ تنفسی امراض میں سے سانس کی نالیوں کا انفیکشن بھی گلے میں بلغمی رطوبتوں کے گرتے رہنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ بلغمی رطوبت کی وجہ سے معدہ بھی کمزوری کا شکار ہو جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ بھو ک میں کمی واقع ہونے لگتی ہے۔ جس کے نتیجے میں پورا بدنِ انسانی کمزوری کی گرفت میں آجاتا ہے۔
نزلے کی اقسام: نزلے کی کئی اقسام ہوتی ہیں۔ نزلہ بارد، یعنی سردی کی زیادتی سے ہونے والا نزلہ۔ نزلہ حار، یعنی مزاج میں گرمی بڑھ جانے کی وجہ سے نزلے کا لاحق ہونا۔ دائمی یا مستقل رہنے والا نزلہ سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ وبائی نزلہ زکام اکثرو بیشتر موسم بدلتے ہی حملہ آور ہوتا ہے اور اس کی زد سے کوئی خوش نصیب ہی بچ پاتا ہے۔ وبائی زکام جسے عرفِ عام میں فلو بھی کہا جاتا ہے، ایک وائرل مرض ہے جو چھوت کی شکل میں ایک فرد سے دوسرے کو منتقل ہو تا ہے۔ وبائی زکام یا نزلے کو ہم میعادی بھی کہہ سکتے ہیں اور یہ عام طور پر 10 سے 15 دنوں میں خود بخود ہی ٹھیک ہو جاتا ہے۔ زیرِ نظر تحریر میں ہم وبائی زکام اور نزلہ حار سے بچنے کی تراکیب ، گھریلو علاج اور غذائی تدابیر کا ذکر کررہے ہیں۔
علامات: جب زکام حملہ آور ہو تا ہے تو جسم میں ہلکے ہلکے درد کا احساس ہو نے لگتا ہے۔ آنکھوں میں سرخی ظاہر ہو نے لگتی ہے۔ سر میں بھاری پن اور درد محسوس ہوتا ہے۔ جسم میں سستی اور کمزوری کا غلبہ بڑھنے سے کسی کام کا جی نہیں چاہتا۔ بخار بھی ہو جاتا ہے۔ بھوک نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔ پانی کی بار بار طلب تو ہو تی ہے مگر پینے کو جی نہیں چاہتا۔ ناک اور آنکھوں سے پتلی اور خراش دار رطوبت بہتی رہتی ہے۔ بار بار پونچھنے کی وجہ سے ناک سرخ ہو جاتی ہے۔ چہرے کی رنگت میں بھی سرخی در آ تی ہے۔
وجوہات: جب جسم موسمی تبدیلی کو قبول نہ کرسکے تو ردعمل کے طور پر بعض اوقات زکام کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ متواتر تیز دھوپ اور گرمی میں کام کرنے سے بھی انسان نزلہ و زکام کی لپیٹ میں آجاتا ہے۔ گرم و خشک اور مرغن ،تلی اور بھینی ہوئی غذاؤں کا زیادہ استعمال بھی اس بیماری کو دعوت دیتا ہے۔ علاوہ ازیں بڑا گوشت، بینگن، دال مسور ، چاول ،بریانی ،پلاؤ، چاکلیٹ، آملیٹ، بیکری کی مصنوعات ، بازاری مشروبات اور تیز مسالے والی غذاؤں کا خوراک میں شامل کرنا بھی گرمی کے نزلے اور وبائی زکام کا باعث بنتا ہے۔ سگریٹ نوشی بھی نزلہ و زکام کے حملے کی راہ ہموار کرتی ہے۔ گرمیوں میں گرم کھانے کے ساتھ ٹھنڈا یخ پانی پینا، ٹھنڈا پانی پی کر گرم چائے یا کافی و قہوہ وغیرہ کا استعمال کرنا، دھوپ میں سے آتے ہی ٹھنڈے پانی سے نہانا ،زیادہ دیر تک ننگے سر دھوپ میں پھرنے سے بھی نزلہ زکام کا مرض لاحق ہوجاتا ہے۔
عمومی احتیاط: ’’احتیاط بہتر ہے علاج سے‘‘ کے عالمگیر کلیے پر عمل کرتے ہوئے ہم خاطر خواہ حد تک نزلہ و زکام سمیت کئی دیگر موسمی اور وبائی بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ موسم کی تبدیلی کے مخصوص وقت سے چند روز قبل ہی اس کی مناسبت سے اپنی غذا، لباس اور رہن سہن میں تبدیلی کرلینی چاہیے۔ شہد، قادرِمطلق کی ایک نعمتِ بے بہا ہے۔ اس میں حکیمِ کائنات نے کمال قوتِ شفا یابی رکھی ہے۔ذیل میں ہم ایک مخصوص قہوہ کی ترکیب پیش کررہے ہیں ،جس کامتواتر استعمال ہمیں موسم سرما میں حملہ آور ہونے نزلہ زکام اور اس قبیل کی دو سری بیماریوں سے محفوظ رکھ کر ہمیشہ نئی تازگی اور توانا ئی بھی حاصل کرسکتے ہیں۔جڑی بوٹیوں کا ایسا قہوہ جو آپ کی صحت،تندرستی، نشوونما، فٹنس، جوانی، دل ودماغ، اعصاب، پٹھے ان تمام کیلئے ایک روشن اور لاجواب چمکدار گھونٹ ہو جس کا ہر گھونٹ آپ کے جسم کو نئی زندگی دے۔یہ جڑی بوٹیوں کے وہ گھونٹ ہیں جو ان سب بیماریوں سے آپ کو بچائیں گے، ان سب تکلیفوں سے آپ کو نجات دیں گے اور یہ ساری چیزیں ایسی ہوں گی جن سے آپ کو فٹنس بھی ملے اور نقصانات سے بھی بچیں گے۔آئیے! ہم آپ کوایک ایسے قدرتی جڑی بوٹیوں کے بے ضرر اور نقصان سے پاک قہوہ کی طرف متوجہ کرتے ہیں اور اس قہوہ کا تعارف کراتے ہیں۔یہ قہوہ دل، گردوں اور معدے کے مسائل سے بچانے کے علاوہ چڑچڑاپن، ڈپریشن، ٹینشن ،ایگزائٹی، اسٹریس کو دور بھگاتا ہے اور جوڑوں کے درد، کمر کے درد اور جوڑوں میں موجود گریس (جس سے جوڑ چٹختے نہیں درد نہیں کرتے) کو خشک نہیں ہونے دیتا۔یہ قہوہ زندگی ہے، جان ہے، صحت ہے، تندرستی ہے اور کمال ہے۔
قہوہ بنانے کی ترکیب : سبز چائے، سبز (چھوٹی)الائچی، سونف،پودینہ خشک یا سبز، تھوڑی تھوڑی مقدار میں اگر قہوہ زیادہ بنانا ہو تو زیادہ مقدار میں لیکراس کو ہلکی آنچ پر ابالیں بہتر یہی ہے کہ چینی نہ ڈالیں ،البتہ اگر چٹوری زبان بغیر چینی والے قہوے کوحلق میں اتار نے سے گریز کرتی ہوتو معمولی مقدار میں چینی ڈال کر چسکی چسکی پئیں۔ ٹھنڈا کرکے بھی پی سکتے ہیں اور گرما گرم بھی نوش جان کیا جا سکتا ہے ۔
اجزاء کے خواص
الائچی : دراصل الائچی کو برصغیر کے بادشاہوں نے متعارف کروایا اور آج پوری دنیا میں یہ جہاں دواؤں میں استعمال ہوتی ہے وہاں غذاؤں کا جزو جان ہے۔ اس میں عورت کے پوشیدہ اعضا کی تقویت، تندرستی اور صحت موجود ہے اور مرد کے پوشیدہ اعضاء کی تقویت، تندرستی اور صحت بہت زیادہ ہے۔
پودینہ : پودینہ آپ کی موجودہ کھاد،زہریلے پانی اور آلودگی سے پلی غذاؤں پھلوں اور سبزیوں کا ایک بہترین اینٹی بائیوٹک اور اینٹی سیپٹک یعنی تریاق ہے جس معدہ میں پودینہ یا پودینے کا عرق ہوگا (یعنی قہوہ) وہ معدہ بیماریاں پیدا نہیں کرے گا وہ معدہ روگ نہیں بنائے گا اور وہ معدہ بڑھے گا نہیں یعنی پیٹ کا بڑھنا موٹاپے کا ہونا، چربی کا بڑھنا، کولیسٹرول یوریا، یورک ایسڈ، وغیرہ اس جسم میں پیدا نہیں ہوں گے۔
سونف : سونف کے’س‘ سے سدا بہار، صحت تندرستی’و‘ سے والہانہ فٹنس اور تندرستی کا راز، ’ن‘ سے ہربیماری کی نفی اور’ ف‘ سے بڑے بڑے سائنسدانوں کا فلسفہ کہ انہوں نے اس دوائی سے کیا پایا ۔ آئیے! اس قہوہ کو اپنے لیے،بچوں اور نسلوں کیلئے اور آنے والے مہمانوں کی تواضع کیلئے زندگی کا ساتھی بنائیں۔اس قہوہ کا لطف لے کر قدرتی طریقہ خوردونو ش سے خود کو اپنے اپنے وطن کوتندرست بنانے میں ہم اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔

مزید دکھائیں

حکیم نازش احتشام اعظمی

ڈاکٹرنازش اصلاحی ضلع اعظم گڈھ کےعلمی خانوادے سےتعلق رکھتےہیں۔ مدرستہ الاصلاح کےفاضل، جامعہ ملیہ اسلامیہ کےخوشہ چیں، ہمدرددیونیورسٹی سےبی یو ایم ایس ڈگری یافتہ ہیں۔ آپ بنیادی طورسےطبیب ہیں تاہم تصنیف وتالیف سےحددرجہ شغف رکھتے ہیں۔ کئی کتابوں کےمصنف ومؤلف ہیں۔ موصوف 'ترجمان اصلاح' اور 'فیملی ہیلتھ' میگزین کےایڈیٹر، صحت سےمتعلق ایک NGO اصلاحی ہیلتھ کیئر کےبانی بھی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close